HIRA ONLINE / حرا آن لائن
سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت

سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت 🖋️ احمد نور عینی آخری نبی ﷺ کی سیرت مبارکہ زندگی کے ہر میدان میں ہماری رہنمائی کرتی ہے، زندگی کے میدانوں میں ایک اہم میدان کسب معاش کا ہے، سیرت کی رہنمائی اس پہلو سے بھی کامل، متوازن اور جامع ہے ، یہ رہنمائی اتنی ہمہ گیر اور ہمہ پہلو ہے کہ اس کی بنیاد پر مکمل اقتصادی نظام وجود میں آتا ہے، جسے نبوی اقتصادی نظام کہا جا سکتا ہے، اس نظام میں قانونی اصول بھی ہے اور اخلاقی اقدار بھی، انفرادی ملکیت بھی ہے اور اجتماعی مفاد بھی، جمع دولت کی اجازت بھی ہے اور ارتکاز دولت کی ممانعت بھی، زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کی آزادی بھی ہے اور زیادہ سے زیادہ دولت کو گردش میں رکھنے کی پابندی بھی، دنیوی نفع ونقصان کا محرک بھی ہے اور اخروی نجات وفلاح کا داعیہ بھی، کسب معاش کی حوصلہ افزائی بھی ہے اور انفاق کی ترغیب بھی، ملکیت میں تصرف کا حق بھی ہے اور ملکیت کے ساتھ معاشرتی ذمہ داری بھی، مالی مشکلات کا علاج بھی ہے اور معاشی بحرانوں کا حل بھی۔ معاشی میدان میں کسب معاش کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے، نبوی اقتصادی نظام میں اس سلسلہ میں ہمیں واضح رہنمائی ملتی ہے، اس سلسلہ میں خود آپ ﷺ کا عمل موجود ہے، چنانچہ یہ بات ملتی ہے کہ نبی ﷺ اہلِ مکہ کے لیے چند قیراط کے عوض بکریاں چرایا کرتے تھے، پھر آپ ﷺ نے تجارت کی، اور تجارت میں اپنی سچائی اور امانت داری کی وجہ سے صادق و امین کے طور پر مشہور ہوئے۔ مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد آپ ﷺ نے مسلمانوں کے لیے خصوصی بازار قائم فرمایا۔ نبی ﷺ بیکاری کو پسند نہیں فرماتے تھے؛ آپ ﷺ مال طلب کرنے، حلال روزی کمانے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کھانے کی ترغیب دیتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’حلال کمائی فرض کے بعد ایک فرض ہے‘‘۔(مسند الشہاب، حدیث ۱۲۱)۔ نیز فرمایا: ’’تم میں سے کسی کا لکڑیوں کا ایک گٹھا اپنی پشت پر اٹھا کر لانا…

Read more

اسلامی معیشت کے بنیادی اصول

اسلامی معیشت کے بنیادی اصول محمد قمر الزماں ندوی اسلام نے زندگی کے تمام شعبوں میں بھر پور رہنمائی کی ہے اور کسی گوشہ کو تشنہ اور نامکمل نہیں چھوڑا ہے ، عقیدہ ، ایمان ،عبادت ،معاشرت، سیاست ،معاملات ،اخلاقیات اور معاشیات نیز تدبیر منزل ہر باب میں کامل رہنمائی موجود ہے ۔ اسلامی معیشت یا یہ کہئیے کہ اسلامی کا معاشی نظام ایک مکمل نظام ہے ،قرآن و حدیث میں اس کی تفصیلات موجود ہیں فقہ کی کتابوں میں اس کی تمام تفصیلات موجود ہیں اور اس کے کلیات و جزئیات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے کہ مال کس طرح حاصل کیا جائے اور اس کو کہاں اور کس طرح خرچ کیا جائے ۔ یہ ایک مستقل موضوع ہے ، جس پر قدیم و جدید علماء کی علمی اور تحقیقی کاوشیں موجود ہیں اور جدید معاشی نظام پر بھی کتابیں آرہی ہیں ۔ راقم الحروف یہاں اسلامی نظام معیشت کے بنیادی اصول پر ایک مختصر تحریر پیش کر رہا ہے ، امید کہ قارئین اس سے استفادہ کریں گے ۔ م۔ ق ۔نآج سے تقریبا 25 سال پہلے اسلام آباد میں تبلیغی اجتماع ھو رھا تھا جس میں تبلیغی جماعت کے ایک بہت بڑے عالم اور بزرگ شخصیت حضرت مولانا محمد احمد بہاولپوری صاحب رح نے ایک واقعہ سنایا تھاکہ میرا کوئی عزیز میرے پاس آیا کہ حضرت مجھے اسلام آباد میں معیشت کے بارے میں کے بارے ایک کانفرنس میں مدعو کیا گیا ھے اور مجھے اس کانفرنس میں معیشت کے بارے میں اسلام نے جو ھدایات دی ہیں اس پر روشنی ڈالنے کو کہا گیا ھے لہذا اس بارے میں آپکی رہنمائی درکار ھےتو حضرت نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ اسلامی معیشت کا خلاصہ تو میں بتا دوں گا اور انتہائی مختصر انداز صرف 3 ہی جملوں میں ہی ساری اسلامی معیشت سمجھا دوں گالیکن خیال کرنا میری یہ باتیں سن کر وہاں پر موجود اشرافیہ کی طرف سے کہیں جوتے نہ پڑ جائیں آپ کواس نے کہا کہ حضرت ان کے جوتوں سے خود کو کسی طرح بچا…

Read more