مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات اور دارالعلوم دیوبند کی نظامت

مفتی ابو القاسم نعمانی برصغیر کے معروف عالمِ دین، مفتی، محدث اور دارالعلوم دیوبند کے موجودہ مہتمم و شیخ الحدیث ہیں۔ ان کی شخصیت میں علمی تبحر، تدریسی تجربہ، فقہی بصیرت، روحانی تربیت اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے سے دینی تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں اور جیسے تاریخی اور عالمی شہرت یافتہ دینی ادارے کی انتظامی و علمی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند
مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند

مفتی ابو القاسم نعمانی کا تعارف

مفتی ابو القاسم نعمانی کی پیدائش 14 جنوری 1947ء کو بنارس، موجودہ وارانسی، اتر پردیش میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے مختلف دینی اداروں میں عربی، فارسی اور دینی علوم کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں کا رخ کیا۔ انہوں نے 1967ء میں دارالعلوم دیوبند سے دورۂ حدیث مکمل کیا۔ دستیاب سوانحی مواد کے مطابق ان کے اساتذہ میں دارالعلوم دیوبند کے متعدد ممتاز اہلِ علم شامل تھے۔

دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد انہوں نے علمِ فقہ اور افتاء کی عملی تربیت بھی حاصل کی۔ اس سلسلے میں مفتی محمود حسن گنگوہی اور دیگر اہلِ علم سے استفادہ کا ذکر ملتا ہے۔ بعد میں یہی علمی بنیاد ان کی تدریسی، افتائی اور انتظامی زندگی میں نمایاں طور پر سامنے آئی۔

تعلیم و تربیت اور علمی پس منظر

مفتی ابو القاسم نعمانی کی علمی زندگی کا ایک اہم امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے مختلف مراحل میں مختلف علمی مراکز سے استفادہ کیا۔ بنارس اور مؤ کے تعلیمی مراحل کے بعد وہ دارالعلوم دیوبند پہنچے، جہاں انہوں نے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی۔

1967ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد ان کی عملی علمی زندگی کا آغاز ہوا۔ وہ تدریس، افتاء اور دینی رہنمائی کے میدان میں سرگرم رہے۔ اس طویل تجربے نے ان کی شخصیت میں ایک ایسے عالم کا رنگ پیدا کیا جس کے پاس درس و تدریس کے ساتھ ساتھ ادارہ چلانے اور علمی معاملات کو سمجھنے کا وسیع تجربہ بھی ہے۔

بنارس میں طویل تدریسی خدمات

دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مفتی ابو القاسم نعمانی نے جامعہ اسلامیہ، ریوری تالاب، بنارس میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق انہوں نے وہاں کئی دہائیوں تک تدریس کی اور شیخ الحدیث اور مفتی جیسے اہم مناصب پر بھی فائز رہے۔ اس دوران وہ دینی تعلیم، حدیث اور فقہ کی تدریس کے ساتھ علمی و دینی رہنمائی کا کام انجام دیتے رہے۔

یہ طویل تدریسی دور ان کی علمی شخصیت کی تشکیل میں نہایت اہم سمجھا جاسکتا ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے دینی مدرسے کی قیادت کے لیے صرف انتظامی صلاحیت کافی نہیں ہوتی بلکہ تدریس، طلبہ کی نفسیات، نصاب، اساتذہ اور علمی ماحول کا عملی تجربہ بھی ضروری ہوتا ہے۔

دارالعلوم دیوبند کی مجلسِ شوریٰ سے وابستگی

مفتی ابو القاسم نعمانی کا دارالعلوم دیوبند سے تعلق صرف طالب علمی تک محدود نہیں رہا۔ وہ بعد میں ادارے کی مجلسِ شوریٰ سے بھی وابستہ ہوئے اور 1992ء میں مجلسِ شوریٰ کے رکن بنے۔ اس طرح انہیں دارالعلوم دیوبند کے انتظامی اور ادارہ جاتی معاملات کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔

یہ تجربہ بعد میں ان کی انتظامی زندگی میں بہت مفید ثابت ہوا، کیونکہ کسی تاریخی دینی ادارے کی نظامت میں تعلیمی امور کے ساتھ ساتھ انتظامی، مالی، تعمیری اور ادارہ جاتی معاملات بھی شامل ہوتے ہیں۔

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم

مفتی ابو القاسم نعمانی کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ اس وقت آیا جب انہیں دارالعلوم دیوبند کا مہتمم مقرر کیا گیا۔ دستیاب ماخذ کے مطابق انہوں نے 2011ء میں اس منصب کی ذمہ داری سنبھالی اور تب سے ادارے کی انتظامی قیادت سے وابستہ ہیں۔

دارالعلوم دیوبند برصغیر کے معروف دینی مدارس میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے اور اس کے علمی اثرات ہندوستان سے باہر بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے ادارے کی نظامت ایک بڑی علمی و انتظامی ذمہ داری ہے۔ مفتی ابو القاسم نعمانی کی ذمہ داری میں ادارے کے تعلیمی و انتظامی نظام کی نگرانی، مختلف شعبوں کی سرپرستی اور ادارے کے مجموعی نظم کو برقرار رکھنا شامل ہے۔

The Muslim 500 کے پروفائل میں بھی انہیں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور شیخ الحدیث کے طور پر ذکر کیا گیا ہے اور ان کی اثر پذیری کا تعلق دینی امور کی انتظامی قیادت سے بیان کیا گیا ہے۔

شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند

مفتی ابو القاسم نعمانی کی علمی زندگی میں ایک اور اہم پیش رفت 2020ء میں ہوئی، جب انہیں دارالعلوم دیوبند میں شیخ الحدیث کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 14 اکتوبر 2020ء کی رپورٹس میں ان کی شیخ الحدیث کے منصب پر تقرری کا ذکر موجود ہے۔

شیخ الحدیث کا منصب دارالعلوم دیوبند کی علمی روایت میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس منصب کے ذریعے حدیث کی تدریس اور طلبہ کی علمی تربیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یوں مفتی ابو القاسم نعمانی کی شخصیت میں انتظامی قیادت کے ساتھ براہِ راست تدریسی و حدیثی خدمت کا پہلو بھی نمایاں ہوگیا۔

فقہ، حدیث اور افتاء سے تعلق

مفتی ابو القاسم نعمانی کی علمی شناخت میں فقہ، افتاء اور حدیث تینوں پہلو نمایاں ہیں۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد افتاء کی تربیت، طویل تدریسی تجربہ اور بعد میں شیخ الحدیث کا منصب ان کے علمی سفر کے مختلف مراحل کی نمائندگی کرتا ہے۔

ان کی علمی زندگی کو صرف ایک منصب یا ادارے کے ساتھ محدود کرکے دیکھنا مناسب نہیں؛ ان کا طویل تدریسی پس منظر، فقہی مشغولیت، حدیث سے وابستگی اور دارالعلوم دیوبند کی انتظامی ذمہ داری سب مل کر ان کی شخصیت کا مجموعی تعارف پیش کرتے ہیں۔

روحانی تربیت اور تصوف

مفتی ابو القاسم نعمانی کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی روحانی وابستگی بھی ہے۔ دستیاب ماخذ میں ان کی نسبت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی سے بیان کی گئی ہے۔ The Muslim 500 بھی انہیں حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی کا روحانی جانشین قرار دینے والی معلومات نقل کرتا ہے۔

علمی زندگی کے ساتھ روحانی تربیت کی یہ نسبت ان کی شخصیت کے اس پہلو کو واضح کرتی ہے جس میں ظاہری علوم کے ساتھ اصلاحِ باطن اور تزکیۂ نفس کی اہمیت بھی شامل ہے۔

علمی و دینی خدمات کا مجموعی جائزہ

مفتی ابو القاسم نعمانی کی خدمات کو چند بنیادی دائروں میں دیکھا جاسکتا ہے:

اول: تدریسی خدمات — انہوں نے اپنی عملی زندگی کا ایک بڑا حصہ دینی علوم کی تدریس میں گزارا۔

دوم: افتاء و فقہ — فقہی مسائل اور افتاء کے میدان میں تربیت اور عملی تجربہ ان کی علمی شناخت کا اہم حصہ ہے۔

سوم: حدیث کی تدریس — 2020ء سے دارالعلوم دیوبند میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے ان کی علمی ذمہ داری مزید نمایاں ہوئی۔

چہارم: ادارہ جاتی خدمات — مجلسِ شوریٰ سے وابستگی کے بعد دارالعلوم دیوبند کی نظامت نے ان کی زندگی کو ایک وسیع انتظامی ذمہ داری سے جوڑ دیا۔

پنجم: روحانی و اصلاحی پہلو — اکابر اہلِ علم سے روحانی تعلق اور اصلاحی تربیت بھی ان کی شخصیت کا نمایاں حصہ ہے۔

مفتی ابو القاسم نعمانی کی شخصیت کا امتیاز

مفتی ابو القاسم نعمانی کی شخصیت کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کی زندگی میں علم، تدریس، افتاء، حدیث، روحانی تربیت اور ادارہ جاتی ذمہ داری ایک دوسرے سے مربوط نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ایک طالب علم کی حیثیت سے دارالعلوم دیوبند سے علمی فیض حاصل کیا، پھر تدریس کے میدان میں طویل خدمات انجام دیں، ادارے کی مجلسِ شوریٰ میں ذمہ داری نبھائی اور بالآخر اسی تاریخی ادارے کے مہتمم اور شیخ الحدیث کی حیثیت سے خدمات انجام دینے لگے۔

ان کی زندگی کا یہ سفر اس اعتبار سے بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایک طالب علم کا کسی ادارے سے وابستہ ہونا، پھر اسی ادارے کے علمی و انتظامی نظام کا حصہ بننا اور بعد میں اس کی قیادت کرنا ایک طویل علمی و عملی سفر کی عکاسی کرتا ہے۔

اختتامیہ

مفتی ابو القاسم نعمانی کی حیات و خدمات برصغیر کی معاصر دینی علمی روایت کا ایک اہم باب ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک مدرس، مفتی، محدث، روحانی شخصیت اور ادارہ جاتی ذمہ دار کے مختلف پہلو جمع ہیں۔ دارالعلوم دیوبند سے ان کا تعلق طالب علمی کے زمانے سے قائم ہوا اور وقت کے ساتھ یہ تعلق تدریس، شوریٰ، نظامت اور شیخ الحدیث کے منصب تک پہنچا۔

آج مفتی ابو القاسم نعمانی، مہتمم دارالعلوم دیوبند اور شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کے عنوان سے علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ ان کی زندگی کا مطالعہ دینی تعلیم، تدریس، افتاء، حدیث اور ادارہ جاتی خدمت کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔


ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات


حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت