نوجوان) (Gen-z:ملت اسلامیہ کااہم ترین سرمایہ
از : مولانا محمد زین الحق صاحب ندوی
شعبہ دعوت و ارشاد دار العلوم ندوہ العلماء لکھنؤ
نوجوان) (Gen-z،یہ لفظ آج کا ایک ٹرینڈنگ ٹرم (Trending Term)ہے، ہر عام اور خاص محفل میں اس اصطلاح پر گفتگو ہو رہی ہے، الکٹرانک میڈیا،پرنٹ میڈیا ،دوستوں کی محفل ،یہاں تک کہ گھروں میں بھی جین زی پر بہت گفتگو ہو رہی ہے،کہ یہ بہت حساس نسل ہے، یہ بہت سوالات کرنے والی نسل ہے ،یہ روایات کو چیلنج کر رہی ہے،یہ بڑوں کی بات کم مانتی ہے، ڈیجیٹل ورلڈ میں یہ بہت منہمک رہتی ہے ،اس لیے معاشرہ کی ایک تعداد جین زی کو ایک چیلنج سمجھ رہی ہے ۔

جین زی کیاہے ؟
یہ ایک نفسیاتی صفت (Trends Psychology) نہیں ہے ،یہ ایک مخصوص نسل کی شناخت(Generational label) ہے، یہ ایک زمانی لقب ہے، جو بچے ١٩٩٧ءسے ٢٠١٢ءکے درمیان پیدا ہوئے، انہیں جین زی کہا جاتا ہے، اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت ہمارے درمیان جو جین زی ہے ان میں دو خوبیوں کا امتزاج پایا جاتا ہے ،وہ جین زی بھی ہے ،وہ نوجوان بھی ہے۔ چند سال پہلے جب یہ ہائی اسکول میں پڑھتے تھے تو جین زی تھے نوجوان نہیں تھے ،آئندہ 20 سال کے بعد جب یہ بڑھاپے کی چوکھٹ پر قدم رکھیں گے تب بھی یہ جین زی رہیں گے، لیکن جوانی باقی نہیں رہے گی،وہ جو ہیجانی اثر (Bubbling effect) ہے ،وہ باقی نہیں رہے گا، اس وقت ہمارے گھروں میں جو نسل پرورش پا رہی ہے ،اگر ان کی عمر ١٦ سال سے ٣٠سال ہے تو ہم انہیں جین زی کہتے ہیں۔
ہر انسان اپنی زندگی میں فطری طور پر بچپن، لڑکپن،جوانی اور ادھیڑ عمر کے مراحل سے گزر کر بڑھاپے کو پہنچتا ہے،اللہ کی جانب سے ملی ہوئی مدتِ زیست کو مکمل کرکے بحکمِ خداوندی اس دنیا سے عالمِ برزخ کے لیے منتقل ہوجاتا ہے۔ زندگی کے ہر مرحلہ کی کچھ خاصیت ہوتی ہے، کچھ کر گزرنے کاجذبہ،جوش ،امنگ اور حوصلہ نوجوانی کی عمر میں نسبتاً زیادہ ہوتا ہے،اسی بات کو شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے،
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
تاریخ انسانی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انقلابی امور سب سے زیادہ اسی عہد ِشباب میں انجام پائے ،ملک و ملت کے لیے،انسانیت کے لیے اسی مرحلہ میں سب سے زیادہ کام کیے گئے۔واضح رہے کہ ہر دور کے نوجوانوں میں کچھ خوبیاں ہوتی ہیں ، اور اِس زمانہ کے نوجوانوں میں بھی خوبیاں ہیں، بہت تیزی سے سیکھتے ہیں ، گلو بلائزیشن کے اس دور میں ان کی دنیا سےواقفیت بہت تیزہے،عرف کی لینگویج بن چکی انگریزی زبان جاننے کے سبب ہر خبر کو جلد معلوم کرلیتے ہے،اسی کے ساتھ ساتھ ہر زمانے کے نوجوانوں کے کچھ مسائل (Problems) ہوا کرتے ہیں جیسے ان کی بڑھی ہوئی جذباتیت،تجربات کی کمی وغیرہ ،آج جین زی کے اندر یہ اور اس جیسے دیگر ایشوز ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہمیں قرآن کیا سکھاتا ہے کیا ان اشوز پر ہم فوکس کریں؟کیا نئی نسل کی صرف خامیوں پر نگاہ رکھیں؟ہماری نگاہ کہاں ہو ؟
قرآن کریم ہمیں یہ تعلیم دیتاہے کہ نوجواں نسل کی خوبیوں پر ہماری نگاہ ہو ،ان کی نفسیات کو سمجھیں،ان کی خوابیدہ صلاحیت کو پہچانیں،ان کی صحیح رخ پر رہنمائی کریں۔ زمانہ کے تقاضوں کے مطابق ان کی صحیح تربیت کریں، اور انہیں دین وملت کا خادم بنائیں۔ قرآن کریم میں ہمیں حضرت ابراہیمؑ کا ذکر ملتا ہے وہ نوجوان تھے،سلیم الفطرت نوجوان تھے،نوجوانوں کی جو خوبیاں اور جذبات ہوتے ہیں وہ ان کے اندر موجود تھے،وہ سوالات کرتے تھے، حقیقت تک پہنچنے کے آرزو مند تھے،، سماج سے پوچھتے تھے، کہ یہ بُت کیسے تمہارے خدا ہو سکتے ہیں؟ یہ جو بُت بنا کر تم نے رکھے ہیں کیا یہ سنتے ہیں ؟ کیا یہ بولتے ہیں؟ کیا تمہاری دعاؤں کوسن سکتے ہیں؟
ہر زمانہ کا نوجوان سوالات کرتا رہا ہے ، اس زمانہ کا نوجوان بھی سوالات کر رہا ہے، اگر ہمارے بچے صحیح سوالات کر رہے ہیں تو بہت اچھا ، ہمیں خوش ہونا چاہیے، صحیح جواب ہمیں معلوم ہے تو بتائیں ورنہ تو کہیں کہ ان سوالات سے متعلق فلاں صاحب سے رجوع کریں۔اور اگر بر وقت یہ صحیح رہنمائی نہیں کی گئی تو وہ لازماً الکٹرانک میڈیا سے سوال حل کرے گا،اور پھر اس کے بعد بچنے سے زیادہ بہکنے کے امکان ہیں۔
قرآنی اسوہ:
قرآن کریم میں مذکور انبیاء کرامؑ کے سن شعور اور عہدِ شباب کے واقعات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں،حضرت ابراہیمؑ کا مشرکین سے سوالات کرنے اور دعوت ِتوحید پیش کرنے کا واقعہ،حضرت یوسفؑ کا بھائیوں کے حسد پر صبر کرنا اور مصر کے محل میں شدید تقاضے کے باوجود اپنے نفس پر قابو رکھنا،حضرت اسماعیل ؑ کا حکم کی تعمیل میں اپنی جاں نثار کرنا،اور حضرت موسیٰؑ کا مدین پہنچتے ہی خدمت ِانسانیت کا واقعہ، اصحاب کہف کا واقعہ اور حضرت لقمان ؑ کا مشفقانہ و منطقانہ اسلوب میں اپنے بیٹوں کو نصیحت کرنے کا واقعہ عہد ِشباب کی تربیت کیے لیے ایک شاہکار نمونہ ہے۔
نبوی اسوہ:
عہد نبوی ﷺ کے نوجوانوں نے علوم وفنون کی نشر و اشاعت میں ، اسلام کی دعوت و تبلیغ میں، دینِ حق کی سربلندی میں ، ملکی سلامتی کے قیام میں، کسبِ معاش میں ، خدمتِ خلق میں، انفاق فی سبیل اللہ میں جو کردار ادا کیا ہے، کتب احادیث اور سیرت و تاریخ کا مطالعہ کرنے والے اس سے نا آشنا نہیں ہوں گے۔نوجوان صحابہ کرام ؓنے ہر شعبہ میں نہایت اہم کردار ادا کیا، ہر دور کے نوجوانوں کے لیے بہترین اسوہ اور نمونہ چھوڑا،حضرت علی ؓ بن ابی طالب،حضرت مصعب بن عمیر ؓ ،حضرت ارقم ؓ ،حضرت زبیر بن عوام ؓ ،حضرت سلمہ بن اکوع ؓ ،حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ وغیرہم اسماء کرام کی ایک طویل فہرست ہے۔
سننا اور دلائل کے ساتھ اصلاح کرنا:
جب نوجوان اپنی بات یا شک و شبہ کا اظہار کرتے یا بے تکلفی میں ناشائستہ سوال کرتے تو انہیں بذریعہ رعب خاموش کرانے کے بجائے ہمارے نبی ﷺ ان کی پوری بات سنتے اور اس کی مناسب ِحال اصلاح فرماتے۔ مثلاً ایک نوجوان نے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر گناہ کی اجازت طلب کی تھی۔ لیکن آپؐ نے اس کی بات پر غصہ نہیں کیا بلکہ اس کی نفسیات کے مطابق معقول سوالات و جوابات سے اس کا ذہن بدلا اور اس کو برائی سے روکا اور آخر میں اس کیلئے دعا فرمائی۔
صلاحیتوں کا اعتراف اور اعتماد :
نبی کریم ﷺ نے نو عمر صحابہ ؓ کو ان کی استعداد اور ذوق کے مطابق بڑی بڑی ذمّہ داریاں دیں تاکہ ان میں قیادت اور خود اعتمادی کی صلاحیتیں ابھر سکیں، ایک موقع پر آپ ؐ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو محض اٹھارہ برس کی عمر میں ایک عظیم لشکر کا سپہ سالار بنایا، اسی طرح چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ اولوالعزم نوجوان افراد سے پُر ہے مثلاً محمد بن قاسمؒ، محمد الفاتحؒ،اورنگ زیبؒ وغیرہم
موجودہ صورتِ حال:
ماہرین نفسیات کا تجزیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ اس جین زی کے اندر نمایاں طور پر دو خوبیاں عموماً پائی جاتی ہیں۔ (١ ) سیکھنے کی اہلیت (Ability to learn) نئی نئی چیزیں یہ سیکھتے رہتے ہیں ،آج ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے سیکھنا ان کے لیے آسان اور سہل ہوچکا ہے،بے شمار صلاحیتیں (Skills)اور زبانیں(Language) وغیرہ سیکھتے ہیں،سیکھنے کا بہترین جذبہ ان کے اندر پایا جاتا ہے،فی الواقع اگر ہم اس خوبی پر نگاہ رکھیں ،ان کے ذوق و طبیعت کے مطابق صحیح رہنمائی کریں تو ان کی صلاحیت سے ملت کو خوب فائدہ پہنچے گا۔ (٢ ) درستگی کی اہلیت (Ability to change)سائنٹیفک ماحول میں پروان چڑھی یہ نسل کسی بھی حکم کا پہلے منطقی جواب طلب کرتی ہے، جب ان کے سامنے دلیل آ جاتی ہے، کام کے فوائد معلوم ہو جاتے ہیں تو فورا ً بات قبول کر لیتے ہیں ، اورپھر صرف وہ خود ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی درست (Change) کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں،لیکن اگر بات سمجھ میں نہیں آئی تو آپ خواہ کتنا ناراضگی کا اظہار کریں،یہ نسل بات نہیں مانتی ہے اور اگر تنقیدی (Criticism)اسلوب اختیار کیا تو یہ نسل اور زیادہ ضدی ہو جاتی ہے۔
جین زی میں بھی کچھ کمیاں پائی جاتی ہیں،اور یہ کمیاں ہر زمانہ کی نئی نسل میں کم و بیش رہی ہیں،عموماً چار خامیاں اس نسل میں پائی جارہی ہیں،اور یہ ایسی خامیاں ہیں جن پر تھوڑی سی توجہ دے کر درست کیا جاسکتا ہے۔
(١ ) بے مقصدیت (Purposeless) اکثر و
بیشتر اس نسل کی نگاہوں سے زندگی کا اعلیٰ مقصد محو ہے،اس لیے ایک بڑی تعداد موبائل اسکرولنگ (Mobile scrolling)کرتی رہتی ہے، کوئی بڑی امنگ، کوئی بڑا حوصلہ نہیں ہوتا،کثرت سے ریل(Short Reels) دیکھنے کے سبب ان کے سامنے بہت سے ماڈل ہیں ،اور اب وہ کنفیوز ہیں کہ وہ کیا کریں،کنفیوزن سے نکالنا،مشفقانہ اسلوب میں ان کے ذوق و استعداد کے مطابق صحیح رہنمائی کرنا وقت کااہم تقاضہ ہے۔
(٢ ) غیر ضروری اور غیر مرتب معلومات
(Information overload) بہت زیادہ ہے،لیکن یہ حقیقت ہے کہ کوئی آدمی صرف انفارمیشن سے کامیاب نہیں ہوتا اور نہ کوئی مفید بنتا ہے، فنی معلومات ہونی چاہیے،حکمت پائی جانی چاہیے،لہٰذا اس نسل کی کاؤنسلنگ کی ضرورت ہےکہ انفارمیشن کے لوڈ کو کم کریں، نیک دوستوں کی محفل میں بیٹھیں،مقصدیت پر گفتگو کریں ۔
موازنہ کا مزاج (٣ )
موازنہ (Comparison ) کا جو مزاج ہے وہ بہت بڑھا ہوا ہے، کوئی دولت مند ، کوئی صحت مند،کوئی عمدہ لباس میں اور کوئی عمدہ گاڑی میں نظر آگیا تو بس فورا ًموازنہ کرنا شروع کردیا ،جس کے سبب پہلے احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں ،پھر جائز و ناجائز طریقہ سے مطلوبہ چیز حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ کیا کیا قدم نہیں اٹھاتے ۔
(٤ ) سماجی زندگی سے لاتعلقی:
اس نسل کے اندر سوشل میڈیا سے وابستگی Digital activity)) بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہے،روحانیت (Spirituality) بہت کم ہوتی جارہی ہے، نتیجتاً یہ نسل جتنی محدود زندگی میں جی رہی ہے اتنا ہی وہ دنیا کو محدود سمجھ رہی ہے،حالانکہ جب سماج سے ہم آہنگ ہوں گے تبھی حقیقت حال سے صحیح واقفیت ہوگی۔
مسئلہ کا حل :
جین زی کے اندر پائی جانے والی مذکورہ خوبیوں اور خامیوں سے واقفیت کے بعد اس کی اصلاح کی تدابیر ،اس کی افادیت و نافعیت کے طریقوں کا صحیح ادراک کیا جا سکتا ہے،اور ملی تقاضوں کے لیے اس کی صلاحیتوں کو مفید بنایا جا سکتا ہے۔اور کچھ بعید نہیں کہ انہیں میں سے کوئی آگے بڑھے اور ملت ہندیہ کی نشاۃ ثانیہ کا سبب بن جائے۔
لہٰذاجین زی کی تعلیم ،تربیت اور کاؤنسلنگ کی ذمہ داری بالخصوص جن افراد پر ہے وہ والدین(Parents)،اساتذہ(Teachers) اور مربی و رہنما(Mentors)ہیں،جتنا صحیح جین زی کی نفسیات کو سمجھ کر ان کی تربیت اور رہنمائی کی جائے گی،اتنا ہی ملک وملت کے لیے یہ نسل مؤثر ثابت ہوگی۔بس درج ذیل چار نکاتی کاوشوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
(الف)تعلق مع اللہ:
ایسی ذہن سازی کی جائے کہ اس نسل کا تعلق اللہ سے مضبوط ہو،نماز کی پابندی کے ذریعہ ،عمل صالح کے ذریعہ،اور کثرتِ استغفار کے ذریعہ ۔
(ب) صحبتِ صالح:
یہ زمانہ اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہوا ہے،ہاں کم ضرور ہیں،بس صالح و نافع افراد سے جوڑدیں تو ان کی صلاحیتیں مؤثر و مفید ہوں گی۔
(ج)بتدریج رہنمائی:
ڈیجیٹل زمانہ میں پروان چڑھی اس نسل کو بتدریج سوشل میڈیا سے ہٹا کر مفید کاموں میں مصروف کریں،ان کی صلاحیت کو صحیح میدانِ عمل فراہم کریں،ان کی خوبیوں کو سراہتے ہوے کاموں پر حوصلہ افزائی کریں۔
(د)تربیتی نشست:
تعلیمی اداروں میں ماہانہ یا سہ ماہی نشست برائے والدین (Parents)ضرور منعقد کی جائے،جس میں عظیم نعمت ِ خداوندی "اولاد” کی صحیح تربیت کے اصول و آداب سے واقف کرایا جائے،عدم تربیت کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔تاکہ کوئی بھی والدین بے شعوری میں بھی صحیح تربیت سے غافل نہ رہنے پائیں۔
بلا شبہ یہ نسل ملت کا عظیم سرمایہ ہے،معاشرتی بہتری،علمی ترقی،اور قومی فلاح کا یہ اہم ستون ہے،ان کی صلاحیت کو مثبت رخ دینااور ان کو ملک و ملت کی قیادت کے لیے تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،لہٰذا مذکورہ خطوط پرسنجیدہ کوشش کی جائے توان شاءاللہ بہت جلد مثبت نتائج نظرآئیں گے اور یہ نسل بے راہ روی سے بچ کر آئندہ نسل کی صحیح تربیت کرنے والی بنے گی ۔
مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی

