سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

🖊️ شعیب حسینی ندوی

 سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

استاد محترم حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی گوناگوں خصوصیات، کمالات اور امتیازات اہل قلم پیش کرتے رہیں گے اور ان کی نجی زندگی، انتظامی زندگی، تدریسی و ادبی خدمات، تعلق مع القرآن، ندوے کی آبیاری و ندوی روایت کی پاسداری، عصری دانشگاہ انٹیگرل یونیورسٹی کا قیام، زبان و ادب اور علم و فن میں ان کے کارہائے نمایاں جیسے گوشوں پر روشنی ڈالی جاتی رہے گی، ان کی زندگی ایک ورق نہیں ہے جسے پلٹ کر گزر جایا جائے بلکہ وہ کتاب ہے جس کا ہر صفحہ تابندہ نقوش رکھتا ہے، ان سب پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا جائے گا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر متعدد کتابیں بھی تیار کی جائیں تو بھی حضرت استاد کا حق ادا نہیں ہو سکتا ہے، میں سر دست جس پہلو کو اپنے اس مختصر مضمون میں اجاگر کرنا چاہتا ہوں وہ ان سے زبان و ادب کی چاشنی کو حاصل کرنے سے متعلق ہے، میں نے حضرت سے بہت کچھ سیکھا، ایک عرصے تک ان کی صحبت پائی ہے، اور آپ کی خاص شفقتوں اور عنایتوں کے سایہ میں ایک عرصہ گزرا ہے۔ میں نے سب سے زیادہ حضرت استاد کی زبان کی سلامت روی کو پایا ہے، لفظوں کا انتخاب، تعبیرات کو ڈھالنے کا انداز، اسلوب بیان، طرز تدریس، اس میں تو استاد سب سے نمایاں تھے کبھی کسی لفظ پر رک کر دو تین دفعہ اس کو دہرانا پڑتا تھا لیکن مجال ہے کہ کوئی جملہ غلط تلفظ کے ساتھ پورا ہو جائے، عربی زبان کی چاشنی حضرت سے ہم کو ملی ہے، زبان بولنے میں جو ادائیگی کی لطافت تھی وہ آپ کا خاصہ تھی ہم کلاس میں بیٹھتے تھے اور حضرت جب الشعر العربی کے دروس دیا کرتے تھے تو اس میں جہاں الفاظ کی نوک پلک سمجھاتے تھے، تعبیرات کی ادائیگی کا سلیقہ بھی دیتے تھے، وہیں اپنی زبان سے موتیوں کی طرح جھڑتے ہوئے الفاظ سے ہمارے کام و دہن میں رس گھول دیا کرتے تھے، اگر کبھی خفگی کا اظہار ہوتا یا کسی ساتھی کی سرزنش کرتے تو بھی الفاظ کو چننے اور طنز کرنے یا عتاب کرنے میں جو زبان ہوتی اس سے بھی آپ محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہتے، آپ کبھی کبھی موج میں ہوتے تو ظریفانہ گفتگو اور لطیف مزاح بھی فرماتے، خاص طور پر جب اپنے دفتر میں ہوں اور کسی اہم مصروفیت میں نہ ہوں تو شائستہ فنجان میں لبدوز سبز چائے کسی میخانے کے جام و صبو سے کم نہیں تھی۔

ایک چائے کی پیالی اور تمہاری یادیں
دونوں ملیں تو موسم کمال ہوتا ہے
کبھی مخصوص حال میں ہوتے تو پرانی یادیں اور ندوہ کے پرانے قصے سناتے، اپنے شیخ حضرت علی میاںؒ کا لہک لہک کر تذکرہ کرتے اور کبھی آبدیدہ بھی ہوجاتے۔
میں فضیلت سال دوم میں چونکہ النادی العربی کا امین عام متعین ہوا تھا اور حضرت استاد کی خاص نظر عنایت و کرم بھی تھی اس لیے بارہا ملنے اور مجلس میں بیٹھنے کا اتفاق ہوتا تھا۔

دارالعلوم کی جامع مسجد میں بہت لمبی مدت امامت و خطابت کے فرائض آپ نے انجام دیے، نماز میں ‘اللہ اکبر’ کی پر زور آواز سے ہی الگ ماحول بن جاتا تھا، جمعہ اور عیدین کے خطبات جو وہ دیا کرتے وہ زبان اور ادب کے اعتبار سے بڑے بلیغ ہوا کرتے اور گفتار میں خوب سلیس ہوتے، اسی طرح البعث الاسلامی کے افتتاحیات جو ان کے رشحات قلم سے نکلے ہیں وہ زبان و ادب میں بہت اعلی درجے کے اور بہت بلند پایہ ہیں۔ حضرت کو ایک ادیب کے طور پر سب جانتے ہیں اور ایک خطیب کے طور پر بھی سب پہچانتے ہیں لیکن ان کے ادب کا جو امتیاز تھا وہ زبان کی بے ساختگی، عجمیت اور تصنع سے پاک کلام، الفاظ کا خوبصورت انتخاب اور تعبیرات کی بلاغت، شستہ اسلوب، شگفتہ لہجہ اور دلآویز طرز بیان ہے، ان کے قلم سے جو مضمون ڈھلتا تھا وہ دل میں اترتا تھا، ذہن کو متاثر کرتا تھا اور ساتھ ہی ساتھ ذوق لطیف کو مہمیز کرتا تھا، بولنے والے بولتے ہیں، لکھنے والے لکھتے ہیں، لیکن ذوق لطیف کو چھونے والی زبان اور قلم کم لوگوں کے پاس ہوتا ہے وہ حضرت استاد کے پاس خوب خوب موجود تھا۔

آپ نے متعدد کتابیں لکھیں اور عربی و اردو میں علم و ادب کا خوب سرمایہ چھوڑا ہے۔
حضرت مولانا علی میاں رحمہ اللہ سے جو والہانہ تعلق اور وابستگی رہی ہے اس کو جس خوبصورت اور ادیبانہ رنگ میں آپ نے اپنی کتاب ‘اڑتالیس سال شفقوں کے سایے میں’ جس طرح بیان کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، عربی میں ساعۃ مع العارفین بڑی اثر انگیز اور اہل دل کی صحبت کی تاثیر پیدا کرنے والی کتاب ہے، لسانی اور فنی لحاظ سے شعراء الرسول شاندار ادبی کارنامہ ہے اسی پر ان کو ڈاکٹریٹ کی اسناد تفویض کی گئی تھی۔

استاد کے احسانات اور کمالات شمار کرنے لگیں گے تو قلم نہ رک سکے گا، ایک آخری بات ذکر کر کے قلم کو روکتا ہوں، ندوہ سے میری فراغت کے بعد حضرت استاد کی خواہش تھی کہ میں دار العلوم میں ہی تدریسی خدمات انجام دوں، میری درخواست کے بغیر ہی انہوں نے اس بات کا اظہار کیا اور تاکید سے کیا، لیکن میں کیا ہی کہتا، حیران تھا کہ استاد کا حسن ظن ہے شاید تشجیعی مقصد سے کہہ رہے ہوں، لیکن وہ سنجیدہ تھے اور پھر کہنے لگے میں بڑوں سے بات کروں گا اور مجھے بخوبی علم ہوا کہ بڑوں سے میرے سلسلہ میں بات کی اور سفارش رکھی، لیکن اللہ کی تقدیر کے فیصلہ کے آگے کس کی چلتی ہے، اسباب نہیں بنے اور حالات موافق نہیں ہوئے اور استاد کی یہ خواہش شرمندہ تعبیر نہیں ہوئی۔
اللہ استاد کو کروٹ کروٹ چین نصیب فرمائے اور ہمیں ان کے ساتھ جنت میں جمع کرے۔
8/10/2026


ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی


مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف