ذکر الٰہی

آدم علی ندوی

 

ذکر الٰہی کی فضیلت اور فوائد
ذکر الٰہی دل کا اطمینان اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔

انسان کی زندگی کا اصل سرمایہ اس کا دل ہے۔ دل درست ہو تو زندگی کی سمت درست رہتی ہے اور دل غفلت میں پڑ جائے تو بظاہر زندگی کے سارے اسباب موجود ہونے کے باوجود انسان اندر سے ویران ہوجاتا ہے۔ جس طرح جسم کو زندہ رکھنے کے لیے غذا، پانی اور ہوا ضروری ہیں، اسی طرح دل کی زندگی بھی غذا چاہتی ہے، اور اس کی غذا ذکر الٰہی ہے۔
دل کے لیے مال و دولت غذا نہیں، آسائش و راحت غذا نہیں، عزت و جاہ غذا نہیں، حکومت و اقتدار غذا نہیں۔ یہ چیزیں جسم اور زندگی کے ظاہری اسباب تو ہوسکتی ہیں، مگر دل کا اطمینان ان کے ہاتھ میں نہیں۔ دل کی آبادی اپنے رب کی یاد سے ہے۔ جس دل کا تعلق اپنے رب حقیقی سے قائم ہے، وہ زندہ بھی ہے اور آباد بھی، اور جس دل سے اللہ کی یاد رخصت ہوگئی، اس میں غفلت اور ویرانی نے جگہ بنالی۔


اسی حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا کہ اللہ کو یاد کرنے والے اور اللہ کو یاد نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الدعوات، حدیث: 6407)قرآن مجید بھی دل کے اسی اطمینان کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(الرعد: 28)جو لوگ ایمان لائے، ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں۔ یاد رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

ذکر کیا ہے؟

ذکر کیا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف چند تسبیحات اور وظائف گن دینے سے مکمل نہیں ہوتا۔ بلاشبہ ذکر کی اعلیٰ اور افضل صورت یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول مسنون اذکار پڑھے جائیں، زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھا جائے اور صبح و شام کے اذکار کا اہتمام کیا جائے، لیکن ذکر کا مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کو یاد کرنا اور ان کے ذریعہ اس کی حمد و ثنا بیان کرنا بھی ذکر ہے۔

اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا، اس کی بڑائی کا اقرار کرنا، اس کی وحدانیت کو ماننا اور اس کی حمد بجا لانا،یہ سب ذکر ہے۔

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرنا بھی ذکر ہے۔ انسان اپنے رب کی عطا کردہ نعمتوں پر نگاہ ڈالے، زندگی، صحت، رزق، اہل و عیال، امن اور سب سے بڑھ کر ایمان جیسی نعمتوں کو یاد کرے اور اپنے منعم حقیقی کا شکر ادا کرے، یہ بھی ذکر ہی کی ایک صورت ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کو یاد رکھنا، اس کے اوامر و نواہی کا تذکرہ کرنا اور پھر ان کے مطابق عمل کرنا بھی ذکر میں شامل ہے۔ اللہ نے کسی کام کا حکم دیا تو بندہ اس کی طرف لپکے اور کسی کام سے روکا تو اس سے بچ جائے۔ اس اعتبار سے ذکر صرف زبان کا عمل نہیں رہتا بلکہ انسان کے عمل اور کردار میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔(الوابل الصیب:ابن قیم)

ذکر ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے، اللہ کو اس کے ناموں اور صفات سے یاد کرنا، اس کی حمد و تسبیح بیان کرنا، اس کی نعمتوں کو یاد کرنا، اس کے احکام کو سامنے رکھنا اور اس کی اطاعت اختیار کرنا۔یہ سب ذکر کے دائرے میں آتا ہے۔

ذکر کا طریقہ 

ذکر کے جو مختلف طریقے اہلِ علم نے قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیے ہیں، ان کی اپنی اہمیت اور افادیت ہے۔ صرف زبان سے اللہ کا ذکر کرنا بھی بے فائدہ نہیں، اللہ کا نام لینا، تسبیح و تحمید کرنا اور استغفار کرتے رہنا بڑی سعادت ہے۔ لیکن ذکر کی بہتر اور کامل صورت یہ ہے کہ زبان کے ساتھ دل بھی اللہ کی طرف متوجہ ہو۔

ذکر کی کیفیت کو تین درجوں میں سمجھا جاسکتا ہے:

1. زبان اور دل دونوں سے اللہ کا ذکر کرنا۔
2. صرف دل میں اللہ کو یاد کرنا۔
3. صرف زبان سے اللہ کا ذکر کرنا۔

ان میں سب سے بہتر ذکر وہ ہے جس میں زبان بھی اللہ کو یاد کرے اور دل بھی اسی کی طرف متوجہ ہو۔ زبان پر اللہ کا نام ہو، دل اس کی عظمت سے معمور ہو اور انسان کے اعضاء اس کے حکم کے تابع ہوں۔(الوابل الصیب:ابن قیم)

حقیقت یہی ہے کہ ذکر کا اصل اور کامل طریقہ یہ ہے کہ زبان پر اللہ کا ذکر ہو، دل میں اس کی عظمت و محبت ہو اور زندگی اس کی اطاعت میں بسر ہو۔ ایسا ذکر انسان کی پوری زندگی پر اثر ڈالتا ہے اور اسے غفلت سے نکال کر اپنے رب کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

ذکر کی فضیلت

ذکر الٰہی کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہترین اعمال میں شمار فرمایا۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا عمل بتایا جو اللہ کے نزدیک پاکیزہ، درجات میں بلند اور سونا چاندی خرچ کرنے بلکہ جہاد سے بھی افضل ہے، اور وہ اللہ کا ذکر ہے۔(جامع الترمذی، کتاب الدعوات، حدیث: 3377)

ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ شریعت کے احکام بہت زیادہ ہیں اور عمر بھی ڈھل چکی ہے، کوئی ایسا عمل بتادیجیے جسے مضبوطی سے پکڑ لوں۔ آپ نے اسے زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھنے کی نصیحت فرمائی۔(جامع الترمذی، حدیث: 3375)

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ذکر سے معمور تھی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ہر حال میں اللہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔(صحیح مسلم، حدیث: 373)

ذکر کی مجلس کی بھی بڑی فضیلت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کچھ لوگ اللہ کے ذکر کے لیے جمع ہوتے ہیں تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کے درمیان ان کا ذکر فرماتا ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، حدیث:

2700)

ذکر سے غفلت

جس طرح ذکر دل کو زندگی عطا کرتا ہے، اسی طرح ذکر سے غفلت انسان کو اندر سے کمزور کرتی چلی جاتی ہے۔ شیطان انسان کو غفلت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب بندہ اللہ کو یاد کرتا ہے تو اس کے اندر بیداری پیدا ہوتی ہے، اور جب وہ غافل ہوجاتا ہے تو خواہشات اور وسوسوں کے لیے راستہ کھل جاتا ہے۔اسی لیے قرآن مجید نے غفلت سے بار بار خبردار کیا ہے۔وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ(الأعراف: 205)اور غافل لوگوں میں سے نہ ہونا۔

قرآن ایک دوسرے مقام پر ایسے شخص کی پیروی سے روکتا ہے جس کا دل اللہ کی یاد سے غافل ہوگیا ہو۔وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا(الکہف: 28)اور اس شخص کی بات نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے، جو اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور جس کا معاملہ حد سے گزرا ہوا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی مجلس سے بھی خبردار فرمایا جس میں اللہ کا ذکر نہ ہو۔ ایسی مجلس انسان کے لیے قیامت کے دن حسرت اور نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔(جامع الترمذی، حدیث: 3380)

حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا ہر لمحہ ایک سرمایہ ہے۔ جو وقت اللہ کی یاد میں گزرا، وہ ضائع نہیں ہوا، اور جو وقت غفلت میں گزر گیا، وہ واپس آنے والا نہیں۔ اسی لیے مومن کی شان یہ ہے کہ اس کی زبان ذکر سے تر، دل اپنے رب کی طرف متوجہ اور زندگی اس کی اطاعت سے وابستہ ہو۔

ذکر کے فوائد

ذکر دل کو زندہ کرتا ہے

ذکر الٰہی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ دل کو زندہ کرتا ہے۔ دل بھی جسم کی طرح کبھی صحت مند اور کبھی بیمار ہوتا ہے، اس میں بھی سختی اور نرمی آتی ہے، اس پر بھی غفلت اور خواہشات کی گرد بیٹھتی ہے۔ ذکر اس گرد کو صاف کرتا، دل کی سختی کو دور کرتا اور اسے دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذکر کو دل اور روح کی غذا اور اس کی بیماریوں کا علاج کہا گیا ہے۔ جب بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو دل میں معرفت پیدا ہوتی ہے، اللہ کی محبت بڑھتی ہے، اس کی عظمت اور ہیبت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور بندہ اپنے رب کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔

ذکر دل میں ایک ایسی کیفیت پیدا کرتا ہے جس سے بندہ ہر وقت اپنے رب کی نگرانی محسوس کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے، اس کے ظاہر و باطن سے واقف ہے اور اس کے کسی عمل سے بے خبر نہیں۔ یہی احساس اسے گناہوں سے روکتا اور نیکیوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف بار بار رجوع کرتا ہے، اس سے تعلق مضبوط کرتا ہے اور اس کے سامنے جھکنے کی عادت پیدا کرتا ہے۔

ذکر شیطان کے وسوسوں سے حفاظت کا ذریعہ ہے

ذکر شیطان کے مقابلہ میں بھی ایک مضبوط حصار ہے۔ شیطان انسان کو غفلت میں ڈال کر اپنا اثر قائم کرتا ہے، لیکن جب بندہ اللہ کو یاد کرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ ذکر دل کو غفلت سے بیدار رکھتا اور شیطانی وسوسوں کے اثر کو کم کرتا ہے۔

اس طرح انسان کے دل میں پیدا ہونے والے بے شمار خوف بھی دور ہونے لگتے ہیں۔ اسے یقین رہتا ہے کہ میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ میرے حال سے باخبر ہے اور ہر مشکل پر قادر ہے۔اسی لیے ذکر غم اور پریشانی کو کم کرکے دل میں خوشی، فرحت اور اطمینان پیدا کرتا ہے۔

ذکر انسان کے اندر ایک خاص روحانی قوت بھی پیدا کرتا ہے۔ وہ مشکل کاموں کو آسان سمجھنے لگتا ہے، عبادت کی مشقت برداشت کرنے کی ہمت پاتا ہے اور اللہ کی اطاعت میں آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔

ذکر اللہ کی اطاعت میں سب سے بڑے معاون میں سے ہے۔ جتنا دل اللہ کی یاد سے مضبوط ہوگا، اتنا ہی انسان کے لیے نیکی پر قائم رہنا اور گناہ سے بچنا آسان ہوگا۔ اسی لیے ذکر بظاہر آسان ترین عبادت ہے، لیکن اپنے اثر اور مقام کے اعتبار سے بڑی عظیم عبادت ہے۔

ذکر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرنے اور ان پر شکر ادا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ انسان جب اپنی زندگی، صحت، رزق، اہل و عیال، امن، صلاحیتوں اور سب سے بڑھ کر ایمان جیسی نعمتوں کو یاد کرتا ہے تو دل میں شکر پیدا ہوتا ہے۔ یوں ذکر شکر کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرنے سے بندہ نعمت سے آگے بڑھ کر منعم کو پہچانتا ہے اور اس کے سامنے جھک جاتا ہے۔

ذکر کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں حاصل ہوتی اور اس کی ناراضی اور مصیبتیں دور ہوتی ہیں۔ اللہ کے ذکر میں مشغول رہنے والا بندہ اللہ کی رحمت کا مستحق بنتا ہے۔ وہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد فرماتا ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا:فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ(البقرۃ: 152)تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔

یہ کتنی بڑی سعادت ہے کہ بندہ زمین پر اپنے رب کو یاد کرے اور اس کا ذکر آسمانوں میں ہو۔ احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ذکر کا فرشتوں کے درمیان ذکر فرماتا ہے۔(صحیح مسلم، حدیث: 2700)

ذکر زبان کی حفاظت کرتا ہے

ذکر زبان کو بھی پاکیزہ رکھتا ہے۔ انسان کی زبان اگر اللہ کے ذکر میں مصروف رہے تو غیبت، چغلی، جھوٹ، فضول گوئی اور بے فائدہ باتوں کے لیے اس کے پاس وقت اور رغبت کم رہ جاتی ہے۔ اس لیے ذکر صرف دل کی اصلاح نہیں کرتا بلکہ زبان کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ جو زبان اپنے رب کے ذکر سے تر رہتی ہے، اس کے لیے لغو اور باطل گفتگو سے بچنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔

ذکر آخرت کا سرمایہ ہے

ذکر کی مجالس کی اپنی ایک خاص برکت ہے۔ ایسی مجالس میں بیٹھنے والا خود بھی ذکر کی برکت پاتا ہے اور اس کے ساتھ بیٹھنے والے بھی اس خیر سے محروم نہیں رہتے۔ اسی لیے اگر کوئی شخص دنیا ہی میں جنت کی سی راحت اور پاکیزہ ماحول چاہتا ہے تو اسے اہلِ ذکر کی مجالس اختیار کرنی چاہییں۔ ذکر کی مجلس گویا ایسی جگہ ہے جہاں دل کو دنیا کی پراگندگی سے کچھ دیر کے لیے نجات ملتی اور روح اپنے اصل مرکز کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے۔

ذکر جنت کی تیاری کا ذریعہ ہے

ذکر انسان کے لیے آخرت کا سرمایہ بھی ہے۔ اس سے گناہ مٹتے ہیں، خطائیں کم ہوتی ہیں اور اللہ کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی لیے ذکر کو معمول بنانا ایسا عمل ہے جس میں تھوڑی محنت سے بہت بڑا سرمایہ جمع کیا جاسکتا ہے۔

ذکر جنت کی تعمیر کا ذریعہ بھی ہے۔ احادیث میں تسبیح و تہلیل کو جنت کے درختوں اور اس کی نعمتوں سے جوڑا گیا ہے۔(جامع الترمذی، حدیث: 3464)

جو شخص اپنی زندگی میں ذکر کو لازم پکڑتا ہے، اس کے لیے آخرت کی تیاری کا یہ ایک نہایت آسان راستہ ہے۔ انسان چلتے پھرتے، بیٹھتے اٹھتے، سفر میں اور حضر میں، گھر میں اور باہر، تنہائی میں اور لوگوں کے درمیان اللہ کو یاد کرسکتا ہے۔ اس کے لیے کسی خاص جگہ یا وقت کا انتظار ضروری نہیں۔

ذکر کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کو قیامت کی حسرت سے بچاتا ہے۔ دنیا میں بہت سے اوقات ایسے گزرتے ہیں جو غفلت، فضول گفتگو اور بے فائدہ مشغولیات میں صرف ہوجاتے ہیں۔ قیامت کے دن انسان کو ان اوقات پر افسوس ہوگا جو اللہ کی یاد سے خالی گزر گئے۔ اس کے مقابلے میں وہ وقت جو اللہ کے ذکر میں گزرا، اس کے لیے سرمایہ اور نفع کا سبب بنے گا۔

ذکر انسان کو تنہائی میں بھی سنبھالے رکھتا ہے۔ جب بندہ خلوت میں اللہ کو یاد کرتا ہے، اس کے خوف سے آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور دل اس کے سامنے جھک جاتا ہے تو یہ اس کے لیے اللہ کی خصوصی رحمت کا سبب بنتا ہے۔ اسی طرح ذکر کی کثرت انسان کے لیے دنیا، قبر اور آخرت کے سفر میں نور کا ذریعہ بنتی ہے۔

ذکر کی ایک عجیب برکت یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو اللہ کی یاد بھولنے سے محفوظ رکھتا ہے۔ جو شخص مسلسل اپنے رب کو یاد کرتا رہتا ہے، اس کا دل غفلت میں زیادہ دیر نہیں پڑا رہتا۔ وہ دنیا کے ہجوم میں بھی اپنے رب کو نہیں بھولتا۔ راستے، گھر، سفر، حضر اور مختلف مقامات پر اللہ کا ذکر کرتے رہنے سے انسان کے اعمال کے گواہ بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ قیامت کے دن وہ مقامات اس کے حق میں گواہی دے سکتے ہیں جہاں اس نے اللہ کا نام لیا تھا۔

ذکر انسان کے اندر اللہ سے ایسی محبت پیدا کرتا ہے کہ اسے اپنے رب کی یاد میں ایک خاص لذت محسوس ہونے لگتی ہے۔ ابتدا میں ذکر شاید ایک معمول محسوس ہو، لیکن جب دل اس سے مانوس ہوجاتا ہے تو اللہ کی یاد ہی اس کے لیے راحت بن جاتی ہے۔ پھر جس طرح دنیا کا آدمی اپنے محبوب کی بات سن کر خوش ہوتا ہے، اسی طرح اہلِ ذکر اپنے رب کی یاد سے خوش ہوتے ہیں۔ یہی ذکر کی وہ لذت ہے جس کا بدل دنیا کی کسی نعمت میں نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ذکر اللہ کے ساتھ تعلق کی بنیاد اور اس تعلق کی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ تمام عبادات کا مقصد بھی کسی نہ کسی درجہ میں اللہ کی یاد کو قائم کرنا ہے۔ نماز، روزہ، حج اور دوسری عبادات انسان کو اپنے رب کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اسی لیے جس عمل میں اللہ کی یاد زیادہ ہو، اس میں روح بھی زیادہ ہوتی ہے۔ آخرت کے میدان میں سبقت لے جانے والے وہی لوگ ہیں جو اپنے اوقات کو اللہ کی یاد سے آباد رکھتے ہیں۔

اہم اذکار اور ان کی فضیلت و ثواب

ذکر الٰہی کی مختلف صورتیں ہیں اور ہر ذکر اپنے اندر ایک خاص معنی اور برکت رکھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض کلمات کی خصوصی فضیلت بیان فرمائی اور صحابۂ کرام کو ان کی کثرت کی ترغیب دی۔ اس لیے مومن کو چاہیے کہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں ان اذکار کو معمول بنائے۔

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ

ان تمام اذکار میں لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے افضل ترین ذکر قرار دیا ہے۔(جامع الترمذی، کتاب الدعوات، حدیث: 3383)

سو مرتبہ لا إله إلا الله پڑھنے کی فضیلت

اسی طرح یہ جامع ذکر "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ”اسے سو مرتبہ پڑھنے والے کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں، سو گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، دس غلام آزاد کرنے کے برابر اجر ملتا ہے اور اس دن شیطان سے حفاظت رہتی ہے۔(صحیح البخاری، حدیث: 6403)

سبحان الله والحمد لله والله أكبر

سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کلمات کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین کلمات میں شمار فرمایا۔(صحیح مسلم، حدیث: 2137)

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ

ان کلمات کے ساتھ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ بھی نہایت عظیم ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ قرار دیا۔(صحیح البخاری، حدیث: 6384)

 

سبحان الله وبحمده

"سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ” جو شخص اسے ایک دن میں سو مرتبہ پڑھتا ہے، اس کے گناہوں کی مغفرت کی بشارت آئی ہے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔(صحیح البخاری، حدیث: 6405)

سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم

اسی طرح "سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ” دو ایسے کلمات ہیں جو زبان پر نہایت ہلکے، میزان میں بہت بھاری اور اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب ہیں۔(صحیح البخاری، حدیث: 6682)

الحمد لله

"الحمدللہ” بھی نہایت عظیم ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ الحمدللہ میزان کو بھر دیتا ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الطہارة، حدیث: 223)

نماز کے بعد کے اذکار

احادیث میں نماز کے بعد سبحان اللہ اور الحمدللہ تینتیس تینتیس مرتبہ اور اللہ اکبر تینتیس مرتبہ پڑھنے، پھر سو کی تکمیل کے لیے کلمۂ توحید پڑھنے کی فضیلت آئی ہے۔ ایک دوسری صحیح روایت میں سبحان اللہ اور الحمدللہ تینتیس تینتیس مرتبہ اور اللہ اکبر چونتیس مرتبہ پڑھنے کا طریقہ بھی منقول ہے۔(صحیح مسلم، حدیث: 597)

استغفار کی فضیلت

ذکر میں استغفار کا بھی ایک بلند مقام ہے۔ بندہ جب أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ کہتا ہے تو وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے اپنے رب سے مغفرت اور رجوع کا اعلان کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کثرت سے استغفار فرماتے تھے، ایک روایت میں ایک مجلس میں ستر سے زیادہ مرتبہ استغفار کرنے کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں سو مرتبہ استغفار کرنے کا۔(صحیح البخاری، حدیث: 6307)

درود شریف کی فضیلت

ذکر میں درود شریف بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اہلِ ایمان کو نبی کریم پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔(الأحزاب: 56)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ درود بھیجنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دس رحمتوں کی بشارت دی ہے۔(صحیح مسلم، حدیث: 408)

 

صبح و شام کے مسنون اذکار

صبح و شام کے اذکار میں آیت الکرسی اور سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی بھی خاص اہمیت ہے۔ آیت الکرسی کو سونے سے پہلے پڑھنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبح تک حفاظت کی بشارت آئی ہے۔(صحیح البخاری، حدیث: 2311)

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معوذتین اور سورۂ اخلاص کو صبح و شام پڑھنے کی ترغیب دی ہے، اور ان کے ذریعہ حفاظت کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔(سنن ابی داود، حدیث: 5082)

سونے سے پہلے بھی کچھ اذکار مسنون ہیں۔ ان میں سبحان اللہ تینتیس مرتبہ، الحمدللہ تینتیس مرتبہ اور اللہ اکبر چونتیس مرتبہ پڑھنا شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ ذکر سونے سے پہلے سکھایا اور اسے خادم رکھنے سے بہتر قرار دیا۔(صحیح البخاری، حدیث: 6318)

پریشانی اور مصیبت کے وقت ذکر

پریشانی اور مصیبت کے وقت بھی مومن کو اللہ کے ذکر سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ مصیبت کے وقت إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہنا قرآن سے ثابت ہے۔(البقرۃ: 156-157)

 

کرب اور شدید پریشانی کی دعا

اسی طرح کرب اور شدید پریشانی کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا منقول ہے۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ(صحیح البخاری، حدیث: 6346)

کفارۂ مجلس کیا ہے؟

مجلس کے اختتام پر بھی ایک مسنون ذکر ہے جسے کفارۂ مجلس کہا جاتا ہے۔ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ۔اسے مجلس کے اختتام پر پڑھنے سے مجلس میں ہونے والی لغزشوں کے لیے کفارے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔(جامع الترمذی، حدیث: 3433)

یہ چند اذکار ایسے ہیں جنہیں ہر مسلمان اپنی زندگی کا حصہ بنا سکتا ہے۔ ان میں بعض صبح و شام کے لیے ہیں، بعض نماز کے بعد کے لیے، بعض سونے سے پہلے کے لیے، بعض پریشانی اور مصیبت کے وقت کے لیے، اور بعض ایسے ہیں جنہیں انسان ہر وقت پڑھ سکتا ہے۔ اصل مطلوب یہ ہے کہ ذکر کسی ایک وقت یا موقع تک محدود نہ رہے، بلکہ مومن کی زبان ذکر سے تر اور دل اپنے رب کی طرف متوجہ رہے۔


سب سے بہتر ذکر کیا ہے ؟؟


دعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقات


قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں