عورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائل
از قلم: اسجد حسن ندوی
عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟

عورتوں کے لیے سونا پہننا شریعتِ اسلامیہ میں جائز اور حلال ہے۔ سونے کے زیورات عورتوں کی فطری زینت میں شامل ہیں اور اسلام نے عورتوں کو اپنی جائز زینت اختیار کرنے کی اجازت دی ہے۔
سونے کی انگوٹھی، چین، کنگن، بالیاں، ہار اور دیگر زیورات عورتیں استعمال کرسکتی ہیں، البتہ زینت کے معاملے میں بھی اسلامی آداب اور شرعی حدود کی رعایت ضروری ہے۔
اسلام نے مرد اور عورت کے بعض احکام میں فرق رکھا ہے۔ سونا اور ریشم ان چیزوں میں سے ہیں جنہیں مردوں کے لیے ممنوع قرار دیا گیا، جبکہ عورتوں کے لیے ان کا استعمال جائز رکھا گیا ہے۔
عورتوں کے لیے سونا پہننے کی شرعی دلیل
رسول اللہ ﷺ نے سونے اور ریشم کے بارے میں فرمایا:
«”سونا اور ریشم میری امت کے مردوں پر حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہیں۔”»
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کے لیے سونے کے زیورات کا استعمال شرعاً جائز ہے، جبکہ مردوں کے لیے سونے کا استعمال ممنوع ہے۔
یہ فرق اسلام کے احکام میں کوئی تضاد نہیں بلکہ مرد و عورت کی فطری ساخت، زینت اور معاشرتی ذمہ داریوں کے اعتبار سے شریعت کے مختلف احکام کی ایک مثال ہے۔
نبی کریم ﷺ کے زمانے میں عورتوں کا زیورات استعمال کرنا
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خواتین زیورات استعمال کرتی تھیں اور آپ ﷺ نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔
ایک موقع پر شاہِ حبشہ نجاشی کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ تحائف بھیجے گئے۔ ان تحائف میں سونے کی ایک انگوٹھی بھی تھی۔ آپ ﷺ نے اسے اپنی نواسی کو دے دیا اور اسے پہننے کی اجازت دی۔
اس واقعے سے بھی عورت کے لیے سونے کے زیورات کے جواز کی تائید ہوتی ہے۔
یہاں سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ عورت کے لیے سونے کا زیور محض مباح چیز ہی نہیں بلکہ اسلامی معاشرت میں خواتین کی جائز زینت کا حصہ رہا ہے۔
صحابیات کا زیورات استعمال کرنا
رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں صحابیات رضی اللہ عنہن سونے اور دوسرے زیورات استعمال کرتی تھیں۔
احادیث میں عید کے موقع پر خواتین کے زیورات کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کے لیے زیورات کا استعمال اسلامی معاشرت میں معروف اور جائز عمل تھا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی اپنے اہلِ خانہ کے لیے زیورات کا انتظام کرتے تھے۔ اس سے عورتوں کے لیے سونے کی زینت کے جواز کی مزید تائید ہوتی ہے۔
عورت کون کون سے سونے کے زیورات پہن سکتی ہے؟
شرعی اعتبار سے عورت کے لیے مختلف قسم کے سونے کے زیورات پہننا جائز ہے، مثلاً:
1. سونے کی انگوٹھی
عورت سونے کی انگوٹھی پہن سکتی ہے۔ اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں، بشرطیکہ اس میں کوئی ناجائز نقش، علامت یا ایسا مقصد نہ ہو جو شریعت کے خلاف ہو۔
2. سونے کی چین اور ہار
عورت سونے کی چین، ہار اور دیگر گلے کے زیورات استعمال کرسکتی ہے۔ یہ سب عورت کی جائز زینت میں شامل ہیں۔
3. سونے کے کنگن اور چوڑیاں
سونے کے کنگن، چوڑیاں اور دیگر ہاتھ کے زیورات بھی عورت کے لیے جائز ہیں۔
4. سونے کی بالیاں
عورت کے لیے سونے کی بالیاں پہننا بھی جائز ہے اور یہ عام طور پر خواتین کی زینت کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
5. دیگر سونے کے زیورات
اس کے علاوہ سونے کے ہار، پازیب اور دیگر ایسے زیورات جو شرعی طور پر جائز ہوں، عورت استعمال کرسکتی ہے۔
کیا عورت کے لیے ہر طرح کا سونا جائز ہے؟
بنیادی حکم یہ ہے کہ عورت کے لیے سونے کا زیور پہننا جائز ہے، لیکن کسی بھی جائز چیز کے استعمال میں شریعت کی دوسری حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
مثلاً زیور پہننے کا مقصد نامحرموں کے سامنے نمائش، فخر و تکبر یا فضول خرچی نہ ہو۔ اسی طرح لباس اور زینت کے معاملے میں اسلامی حیا اور پردے کے احکام کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔
یعنی سونے کا زیور بذاتِ خود جائز ہے، لیکن اسے استعمال کرنے کا طریقہ بعض حالات میں شرعی اعتبار سے مختلف ہوسکتا ہے۔۔
کیا عورت سونا پہن کر نماز پڑھ سکتی ہے؟
عورت کے لیے سونا پہننا جائز ہے، اس لیے سونے کے زیورات پہن کر نماز ادا کرنے میں فی نفسہٖ کوئی حرج نہیں۔
البتہ نماز کے دیگر شرائط اور ستر و حجاب کے احکام کی پابندی ضروری ہے۔ اگر زیور یا اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز ہو جو نماز کے کسی شرعی تقاضے کو متاثر کرے تو اس کا الگ حکم ہوگا۔
لہٰذا سونے کے زیور کو نماز کے لیے اتارنا ضروری نہیں، بشرطیکہ دیگر شرائطِ نماز پوری ہوں۔
کیا عورت کے لیے سونا پہننا اسراف ہے؟
صرف سونا پہن لینا اسراف نہیں ہے۔ عورت کے لیے جائز زینت اختیار کرنا شرعاً مباح ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص اپنی استطاعت سے بڑھ کر صرف دکھاوے، فخر یا دوسروں پر برتری ظاہر کرنے کے لیے دولت خرچ کرے تو یہ اسراف اور تکبر کے دائرے میں داخل ہوسکتا ہے۔
اسلام نے مال خرچ کرنے میں اعتدال کی تعلیم دی ہے۔ اس لیے زیورات کے استعمال میں بھی اپنی مالی استطاعت اور معاشرتی حالات کو سامنے رکھنا چاہیے۔
عورتوں کی زینت اور اسلامی تعلیمات
اسلام عورت کو زینت سے منع نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے زینت کے جائز راستے متعین کرتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ
ترجمہ: "آپ کہہ دیجیے: اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے؟”
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ جائز زینت کو بلا دلیل حرام قرار دینا درست نہیں۔
البتہ اسلام نے زینت کے ساتھ حیا، پردہ اور اعتدال کی بھی تعلیم دی ہے۔ چنانچہ عورت اپنے شوہر اور محرم رشتہ داروں کے سامنے جائز زینت اختیار کرسکتی ہے، جبکہ نامحرموں کے سامنے اسلامی پردے کے احکام کی پابندی ضروری ہے۔
مردوں اور عورتوں کے لیے سونے کے حکم میں فرق
اسلام میں بعض احکام مرد و عورت کے لیے یکساں ہیں اور بعض میں فرق ہے۔
سونے کے استعمال کا حکم بھی اسی طرح مختلف ہے۔ عورت کے لیے سونے کا زیور جائز ہے، جبکہ مرد کے لیے سونا پہننا شرعی طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
یہ حکم نبی کریم ﷺ کی احادیث سے ثابت ہے اور فقہائے امت نے بھی اس کی تفصیل بیان کی ہے۔
اس لیے عورت کے سونے کے زیورات کو مردوں کے سونے کے حکم پر قیاس کرنا درست نہیں۔
زینت کے ساتھ حیا اور پردے کا خیال
عورت کے لیے سونا پہننے کی اجازت کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہر جگہ اپنی زینت کی نمائش کی اجازت ہے۔
اسلامی شریعت نے زینت کے ساتھ حیا اور پردے کی تعلیم بھی دی ہے۔ اس لیے اگر عورت سونے کے زیورات پہنتی ہے تو اسے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ نامحرم مردوں کے سامنے اپنی زینت کی غیر ضروری نمائش نہ کرے۔
اسلام کا مقصد زینت کی فطری خواہش کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے پاکیزہ اور محفوظ دائرے میں رکھنا ہے۔
اہم شرعی باتیں ایک نظر میں
- عورتوں کے لیے سونا پہننا: جائز اور حلال ہے۔
- سونے کی انگوٹھی: عورت کے لیے جائز ہے۔
- سونے کی چین اور ہار: جائز ہے۔
- سونے کے کنگن اور چوڑیاں: جائز ہیں۔
- سونے کی بالیاں: جائز ہیں۔
- سونا پہن کر نماز: فی نفسہٖ جائز ہے۔
- سونے کے زیورات کی نامحرموں کے سامنے نمائش: اسلامی پردے کے احکام کے خلاف ہونے کی صورت میں درست نہیں۔۔
خلاصہ اور شرعی حکم
خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کے لیے سونا پہننا شرعاً جائز ہے۔ عورت سونے کی انگوٹھی، چین، ہار، کنگن، چوڑیاں، بالیاں اور دیگر جائز زیورات استعمال کرسکتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے سونے کو عورتوں کے لیے حلال قرار دیا ہے اور عہدِ نبوی میں خواتین کے زیورات استعمال کرنے کے شواہد بھی موجود ہیں۔
البتہ زینت کے ساتھ اسلامی حیا، پردہ اور اعتدال کی پابندی ضروری ہے۔ اسی طرح سونے کے زیورات کی زکوٰۃ کا مسئلہ الگ ہے، جس میں فقہی تفصیل پائی جاتی ہے۔
لہٰذا عورتوں کے لیے سونا پہننا جائز ہے، لیکن زینت کے استعمال میں شریعت کی دیگر حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
واللہ اعلم باالصواب
از قلم: اسجد حسن ندوی
کرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
سب سے زیادہ افضل درود کون ہے ؟ درودِ ابراہیمی میں سلام کیوں نہیں ہے ؟

