مولانا محمد سلمان بجنوری: سوانح، تعلیم و تدریسی خدمات

مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات
مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات

برصغیر کی دینی و علمی تاریخ میں دار العلوم دیوبند کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس عظیم علمی ادارے نے مختلف ادوار میں ایسے اہلِ علم پیدا کیے ہیں جنہوں نے تدریس، تحقیق، تصنیف، تالیف اور دینی رہنمائی کے میدانوں میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اسی علمی روایت سے وابستہ ممتاز شخصیات میں مولانا محمد سلمان بجنوری کا نام بھی شامل ہے، جو دار العلوم دیوبند کے استاذِ حدیث اور اس کے علمی ترجمان ماہنامہ دار العلوم کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے معروف ہیں۔

مولانا سلمان بجنوری کی شخصیت میں درس و تدریس سے وابستگی، عربی زبان و ادب سے شغف، حدیث نبوی کی تعلیم اور دینی صحافت کی خدمت جیسے متعدد پہلو جمع ہیں۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی میں مختلف اساتذہ سے استفادہ کیا اور پھر درس و تدریس کے ذریعے طلبۂ علومِ دینیہ کی علمی و فکری تربیت میں حصہ لیا۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

مولانا محمد سلمان بجنوری 14 اپریل 1969ء کو سہسپور، ضلع بجنور، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی خاندان سے ہے، جس میں دینی تعلیم و تربیت کو خاص اہمیت حاصل تھی۔

ان کے والد مولانا سعید احمد قاسمی سہسپوری دار العلوم دیوبند کے فاضل تھے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ اس علمی و دینی ماحول نے مولانا سلمان بجنوری کی ابتدائی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

بچپن ہی سے انہیں قرآن کریم کی تعلیم اور دینی علوم کے حصول کی طرف متوجہ کیا گیا۔ انہوں نے تقریباً سات سال کی عمر میں اپنے والد کی نگرانی میں قرآن کریم حفظ کیا۔ اس کے بعد عربی زبان اور اسلامی علوم کی ابتدائی تعلیم بھی گھر ہی پر حاصل کی۔

یہ ابتدائی تربیت ان کی آئندہ علمی زندگی کی بنیاد ثابت ہوئی اور اسی کے نتیجے میں انہوں نے باقاعدہ دینی تعلیم کے مراحل طے کیے۔

دینی تعلیم اور علمی سفر

مولانا محمد سلمان بجنوری نے اپنی باقاعدہ دینی تعلیم کے لیے 1981ء میں جامعہ اشرف العلوم، گنگوہ میں داخلہ لیا۔ یہ ادارہ دینی علوم کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے معروف ہے۔ یہاں انہوں نے متعدد سال تک تعلیم حاصل کی اور 1987ء میں فراغت پائی۔

جامعہ اشرف العلوم سے فراغت کے بعد انہوں نے 1987ء ہی میں دار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا، جہاں 1988ء میں دورۂ حدیث مکمل کیا۔

دار العلوم دیوبند میں تعلیم کے دوران انہیں اپنے وقت کے متعدد ممتاز اہلِ علم سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ ان کے اساتذۂ حدیث میں حضرت مولانا نصیر احمد خان بلند شہریؒ، حضرت مولانا عبد الحق اعظمیؒ، حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی، حضرت مولانا قمر الدین احمد گورکھپوری، حضرت مولانا سعید احمد پالنپوریؒ، حضرت مولانا محمد حسین بہاری، حضرت مولانا ارشد مدنی، حضرت مولانا ریاست علی ظفر بجنوریؒ اور حضرت مولانا زبیر احمد دیوبندی کے نام شامل ہیں۔

ان بزرگ اساتذہ کی علمی رہنمائی میں انہوں نے حدیث اور دیگر دینی علوم کی تحصیل کی۔ مختلف علمی شخصیات سے استفادے نے ان کے علمی ذوق اور تدریسی صلاحیتوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کیا۔

عربی ادب میں اختصاص

درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد مولانا سلمان بجنوری نے دار العلوم دیوبند ہی میں عربی ادب کی تعلیم حاصل کی۔ عربی زبان و ادب کے اس مرحلے میں انہیں متعدد ممتاز اساتذہ سے استفادے کا موقع ملا۔

ان کے ادبی اساتذہ میں حضرت مولانا وحید الزماں کیرانویؒ، حضرت مولانا عثمان منصورپوریؒ اور مولانا نور عالم خلیل امینیؒ کے نام خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔

یہ حضرات عربی زبان، ادب، انشا اور تحریر کے میدان میں اپنی علمی خدمات کے لیے معروف تھے۔ مولانا سلمان بجنوری نے ان سے بھرپور استفادہ کیا اور عربی ادب کے امتحانات میں اول پوزیشن حاصل کی۔

عربی ادب کی اس خصوصی تعلیم نے ان کے اندر زبان و بیان کی باریکیوں کو سمجھنے، ادبی متون کے مطالعے اور علمی مضامین سے استفادے کی صلاحیت کو مزید نکھارا۔

تدریسی زندگی کا آغاز

مولانا محمد سلمان بجنوری کی تدریسی زندگی کا باقاعدہ آغاز جون 1989ء میں ہوا، جب ان کا تقرر دار العلوم دیوبند میں معاون مدرس کی حیثیت سے کیا گیا۔ انہوں نے تقریباً دو سال تک اس منصب پر خدمات انجام دیں۔

بعد ازاں وہ مدرسہ فیضِ ہدایت رحیمی، رائے پور، ضلع سہارنپور تشریف لے گئے، جہاں اپریل 1991ء سے فروری 1992ء تک تدریسی فرائض انجام دیے۔

اس کے بعد اپریل 1992ء میں مدرسہ شاہی، مرادآباد سے وابستہ ہوئے اور جنوری 1994ء تک وہاں عربی زبان و ادب کی تدریس کی۔

مدرسہ شاہی میں تدریس کے دوران طلبۂ عربی ادب کی جانب سے شائع ہونے والے دیواری جریدے ’’البلاغ‘‘ کی نگرانی بھی ان کے سپرد رہی۔ یہ ذمہ داری ان کی تدریسی صلاحیتوں کے ساتھ ادبی سرگرمیوں سے دلچسپی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

ان مختلف اداروں میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد 1994ء میں ان کا تقرر دوبارہ دار العلوم دیوبند میں بحیثیت استاذ ہوا۔ اس طرح دار العلوم دیوبند کے ساتھ ان کی طویل تدریسی وابستگی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔

دار العلوم دیوبند میں تدریسی خدمات

دار العلوم دیوبند میں مولانا سلمان بجنوری کی تدریسی خدمات کو ان کی علمی زندگی کا اہم حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کئی سال تک اس ادارے میں تدریسی فرائض انجام دیے اور طلبۂ علومِ دینیہ کو مختلف اہم کتابیں پڑھانے کی ذمہ داری نبھائی۔

ان کی تدریسی خدمات کے اعتراف میں 1440ھ، مطابق 2019ء میں انہیں درجۂ علیا کے استاذ کے طور پر ترقی دی گئی۔

ان سے متعلق درسی کتابوں میں سنن ابن ماجہ، مشکاة المصابیح، دیوان الحماسہ اور سبعہ معلقات کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

ان کتابوں کی نوعیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تدریسی ذمہ داریوں کا دائرہ حدیث نبوی سے لے کر عربی زبان و ادب کے اہم متون تک پھیلا ہوا ہے۔

سنن ابن ماجہ اور مشکاة المصابیح جیسی حدیث کی کتابوں کی تدریس میں روایات کے فہم، علمی مباحث اور طلبہ کی حدیثی استعداد کی تربیت کو اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح دیوان الحماسہ اور سبعہ معلقات عربی ادب کے اہم متون ہیں، جن کے مطالعے سے عربی زبان کے اسلوب، فصاحت و بلاغت اور ادبی ذوق کی نشوونما ہوتی ہے۔

مولانا سلمان بجنوری کی علمی زندگی کا یہ پہلو اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ وہ دینی علوم اور عربی ادب، دونوں سے وابستہ تدریسی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔

ماہنامہ دار العلوم کی ادارت

مولانا سلمان بجنوری کی علمی و ادبی سرگرمیوں میں دینی صحافت کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔

دار العلوم دیوبند سے شائع ہونے والا ماہنامہ دار العلوم ایک معروف علمی و دینی رسالہ ہے، جس کے ذریعے دینی موضوعات، علمی مباحث اور ادارے سے متعلق سرگرمیوں کو قارئین تک پہنچایا جاتا ہے۔

مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ کے بعد دسمبر 2016ء سے مولانا سلمان بجنوری اس رسالے کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

کسی علمی و دینی رسالے کی ادارت محض مضامین کی اشاعت تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس میں مواد کے انتخاب، علمی معیار کی نگرانی، موضوعات کی ترتیب اور قارئین کی علمی ضروریات کو پیش نظر رکھنے جیسی ذمہ داریاں بھی شامل ہوتی ہیں۔

مولانا سلمان بجنوری کی اس منصبی وابستگی سے ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کے ایک اہم پہلو کا تعارف ہوتا ہے۔ تدریس کے ساتھ دینی صحافت سے ان کی وابستگی ان کی علمی مصروفیات کے وسیع دائرے کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند سے وابستگی

مولانا محمد سلمان بجنوری دینی و تعلیمی خدمات کے علاوہ ملی اور تنظیمی سرگرمیوں سے بھی وابستہ ہیں۔

دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق، 2022ء سے وہ جمعیۃ علماء ہند (م) کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند برصغیر کی معروف دینی و ملی تنظیموں میں سے ایک ہے، جس کی سرگرمیوں میں مسلمانوں کے مذہبی، تعلیمی اور سماجی مسائل سے متعلق امور شامل رہے ہیں۔

اس تنظیم میں مولانا سلمان بجنوری کی ذمہ داری ان کی علمی زندگی کے ساتھ ملی و تنظیمی میدان میں ان کی وابستگی کو بھی نمایاں کرتی ہے۔

تصوف اور روحانی نسبت

مولانا سلمان بجنوری کی شخصیت کا ایک اور پہلو تصوف سے ان کی وابستگی ہے۔

وہ معروف بزرگ حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی کے مجازِ بیعت ہیں اور سلسلۂ نقشبندیہ سے نسبت رکھتے ہیں۔

برصغیر کی علمی روایت میں بہت سے اہلِ علم نے تعلیم و تدریس کے ساتھ اصلاحِ نفس، اخلاقی تربیت اور روحانی رہنمائی کو بھی اہمیت دی ہے۔ تصوف سے مولانا سلمان بجنوری کی یہ وابستگی ان کی دینی زندگی کے اسی پہلو سے متعلق ہے۔

 مولانا سلمان صاحب بجنوری کی علمی شخصیت

مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانحِ حیات کا مطالعہ کرنے سے ان کی شخصیت کے کئی اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔

اول: دینی علوم سے وابستگی: انہوں نے باقاعدہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد درس و تدریس کو اپنی عملی زندگی کا اہم حصہ بنایا۔

دوم: حدیث کی تدریس: دار العلوم دیوبند میں ان کی تدریسی ذمہ داریوں میں حدیث کی اہم کتابیں شامل ہیں، جو ان کی علمی زندگی کے نمایاں پہلوؤں میں سے ایک ہے۔

سوم: عربی زبان و ادب سے شغف: عربی ادب کی تکمیل اور اس میدان کے ممتاز اساتذہ سے استفادہ ان کے ادبی ذوق کی بنیادوں کو واضح کرتا ہے۔

چہارم: علمی صحافت: ماہنامہ دار العلوم کی ادارت سے ان کی وابستگی علمی و دینی تحریروں کی ترتیب و اشاعت کے میدان میں ان کے کردار کو ظاہر کرتی ہے۔

پنجم: دینی و ملی سرگرمیاں: جمعیۃ علماء ہند سے وابستگی اور تصوف کے معروف سلسلے سے نسبت ان کی شخصیت کے دیگر قابلِ ذکر پہلو ہیں۔

اختتامیہ

مولانا محمد سلمان بجنوری ان اہلِ علم میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ دینی تعلیم، تدریس اور علمی سرگرمیوں کے لیے وقف کیا ہے۔ سہسپور، ضلع بجنور کے علمی ماحول سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے مولانا سلمان بجنوری نے جامعہ اشرف العلوم گنگوہ اور دار العلوم دیوبند جیسے اداروں میں تعلیم حاصل کی، متعدد ممتاز اساتذہ سے استفادہ کیا اور پھر تدریس کے میدان میں اپنی خدمات پیش کیں۔

دار العلوم دیوبند میں ان کی طویل تدریسی وابستگی، حدیث اور عربی ادب کی کتابوں سے متعلق ذمہ داریاں، ماہنامہ دار العلوم کی ادارت اور جمعیۃ علماء ہند سے وابستگی ان کی علمی و دینی زندگی کے اہم پہلو ہیں۔

ان کی سوانحِ حیات کا مطالعہ دینی تعلیم کے مختلف مراحل، علمی تربیت، تدریسی ذمہ داریوں اور دینی صحافت کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ان کی علمی زندگی اس امر کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ دینی اداروں میں تعلیم و تدریس کے ساتھ علمی تحریر، ادارت اور طلبۂ علم کی تربیت کی بھی مستقل اہمیت ہے۔

حوالہ جات و مآخذ

اس مضمون کی تیاری میں مولانا محمد سلمان بجنوری کے متعلق دستیاب سوانحی معلومات اور درج ذیل مآخذ سے استفادہ کیا گیا ہے:

  1. محمد تسلیم عارفی مظفرنگری اور عبد اللہ شیر خان سہارنپوری، أساتذة دار العلوم وأسانيدهم في الحديث، مکتبۃ الحرمین، دیوبند، 2023ء، ص 129–133۔
  2. ابن الحسن عباسی، یادگارِ زمانہ شخصیات کا احوالِ مطالعہ، مجلسِ تراث الاسلام، کراچی، 2020ء، ص 472–473۔
  3. خالد سیف اللہ قاسمی، تذکرۂ اکابرِ گنگوہ، دار الکتب الاسلامیہ، گنگوہ، 2013ء، ص 563–564۔
  4. محمد اللہ خلیلی قاسمی، دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ، شیخ الہند اکیڈمی، دیوبند، 2020ء، ص 767۔
  5. ماہنامہ دار العلوم سے متعلق سوانحی و ادارتی معلومات۔
  6. جمعیۃ علماء ہند کی قومی ایگزیکٹو کونسل سے متعلق دستیاب معلومات۔

مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند


حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت