ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

از : مجيب الرحمن عتيق ندوي

 ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی رحمہ اللہ بھی راہی ملک بقاء ہوگئے، ” كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذوالجلال والاكرام ”
موت سے کس کو رستگاری ہے
ہر روز بندگان خدا کا اس دنیا سے رخصت ہوجانا زندگی کی بے ثباتی، انسان کی بے بسی اور اس دنیا کے ” مستقر ومتاع الی حین ” کا اعلان ہے،
” قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجاکر نقارہ "،
حضرت مولانا رحمہ اللہ کا انتقال دار العلوم ندوہ العلماء کی تاریخ میں ایک عظیم معمار نسل، مربی و استاد اور غیر معمولی صفات وخصوصیات کے عہد کا خاتمہ ہے، مولانا مرحوم اپنی صلاحیت، ادب و ذوق، اعلی اخلاق، ذوق پروری، سادگی وتقوی، وضع واطوار، روش بندہ پروری، معمولات و پابندی اوقات، اور ایک طویل عہد پر پھیلی ہوئی متنوع خدمات میں ” فرد ممتاز ” کی حیثیت رکھتے ہیں، جن لوگوں کو مولانا کو دیکھنے اور ان سے استفادہ کا موقع ملا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ اپنی وضع و خو میں ایک "نرالے بے مثال انسان ” تھے،
مولانا رحمہ اللہ ایک علمی و خدا ترس گھرانے میں پیدا ہوئے، اور پرورش و پرداخت پائی، آپ کے والد ماجد حضرت مولانا ایوب صاحب اعظمی رحمہ اللہ مشہور محدث اور جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں شیخ الحدیث تھے، اور اپنے زمانے کے مشاہیر علماء اور کبار اساتذہ حدیث میں شامل تھے،
حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب رحمہ اللہ نے نصف صدی سے زائد دار العلوم ندوہ العلماء میں تدریسی و تربیتی خدمات انجام دیں، کئی نسلوں کے معمار و مربی رہے، دار العلوم کی مسجد میں امامت سے لیکر انتظام و ادارت کی کرسی کو سنبھالا، منبر ومحراب کی خطابت سے لیکر دار العلوم کے عربی ترجمان البعث الاسلامی اور ” الرائد ” کی سرپرستی فرمائی، ہزاروں خطبات اور سیکڑوں مقالات واداریے مولانا کی فیاضی طبع، ادبی ذوق، زبان وقلم کی جولانی کے گواہ ہیں، مولانا مرحوم نے اپنی علمی، انتظامی، تدریسی اور صحافتی ذمہ داریوں کو اس طرح نبھایا کہ نہ کسی گوشہ زندگی میں خلل تھا، نہ ذمہ داریوں میں کوئی نقص وکمی، نہ پابندی اوقات میں کوئی فرق تھا اور نہ معمولات زندگی میں کوئی پس وپیش، نہ ذاتی مشاغل میں بے ترتیبی تھی اور نہ انتظامی امور میں کوئی سستی وخلل، پوری پابندی کے ساتھ دار العلوم میں مسند درس پر علم وفن کی آبیاری فرماتے، دفتر اہتمام میں انتظامی امور کو دیکھتے، مہمانوں سے ملاقات اور ان کا استقبال فرماتے، پورے کلاس کے تمام طلبہ کی انشاء کی ایک ایک کاپی اس اہتمام سے خود چیک فرماتے تھے کہ شوشہ وکامہ کی غلطی تک چھوٹنا ممکن نہ تھا، پابندی کے ساتھ البعث الاسلامی کے آفس میں مستقل صحافتی امور کو دیکھتے اور نگارش قلم وتحریر میں مشغول رہتے تھے، صحافت کی وادی خار وگل اور شیشہ وآہن ہے، جو اس میدان میں قدم رکھتے ہیں وہ بخوبی واقف ہیں کہ اس "بت خم دار وپیچیدہ زلف” سے نباہنا اور اس کے ناز وانداز کو دیکھنا کس قدر مشکل ودشوار ہوتا ہے، ان تمام مشاغل کے ساتھ ساتھ کیا گرمی و کیا سردی و برسات پنج وقتہ نماز کی امامت اور تلاوت قرآن کے معمول پر کوئی فرق نہیں آتا تھا، قرآن مجید کی تلاوت کا شغف وشوق نرالا وغیر معمولی ہی نہیں بلکہ اس دور میں ناقابل یقین تھا، مولانا کی خصوصیات میں ” پابندی وقت اور عشق قرآن وشوق تلاوت” ایسی خصوصیت ہے جو ” چراغ زیبا لیکر ” بھی ڈھونڈنے سے ملنا مشکل ہے، برادر گرامی عبد اللہ مخدومی راوی ہیں کہ جس زمانہ میں مولانا اپنی بیماری وکمزوری سے نڈھال ہوگئے تھے، اور تقریبا صاحب فراش ہوگئے تھے اکثر روزانہ ایک قرآن مجید مکمل ختم فرما لیتے تھے، آج ہم جیسے کم ہمت لوگ مہینوں میں ایک ختم نہیں کرپاتے، آج کے فضلاء اور فارغین و اساتذہ جو اپنی ذمہ داریوں سے تھک جانے کا شکوہ کرتے ہیں، یا چند کاموں میں الجھ کر اپنے مشاغل کا پشتارہ لادنے کی وجہ سے ذمہ داریوں میں پس وپیش کرتے ہیں۔ مولانا مرحوم کی حیات درخشندہ اور متنوع مشغولیات کو پوری پابندی ووضع کے ساتھ مسکراتے ہوئے نبھانے کی خو ایک قندیل رہبانی اور منارہ نور ہے،

مولانا مرحوم کی خدمات کے تذکرہ کے لئے ایک دفتر چاہئیے، مولانا نے اپنے عربی زبان وادب کے ذوق، انشاء وتعبیر کے طرز واسلوب سے ادب وفن کی نقش آرائی ہی نہیں کی بلکہ نئی جہت عطا کی ہے، خطبہ جمعہ کا لگا بندھا روایتی انداز تھا، مولانا کے خطبات نے ایک زندہ اسلوب کی طرح ڈالی اور نئی نسل کے شعور کو ایک ” آہنگ نیا” بخشا ہے، مولانا کے قلم گہربار نے البعث کے اداریوں کے علاوہ درجنوں کتابیں لکھی ہیں جو اہل علم ودانش اور ارباب ادب کے لئے ایک قیمتی سرمایہ ہیں، مولانا کی کتابوں اور نگارشات کے تعارف پر مستقل مضامین آنے چاہئیں،

مولانا مرحوم کی ایک اہم صفت تواضع وانکساری تو تھی ہے، اپنے اساتذہ اور اہل علم کا احترام ومحبت اخیر عمر تک غیر معمولی وبے مثال تھا، آج جو ” طلبہ ” خود استاد بن جاتے ہیں وہ اپنے اساتذہ کے سامنے بھی بسا اوقات اپنی ” استادی کی حیثت ” کا انداز خرام غیر شعوری ہی سہی اختیار کرنے لگتے ہیں، مولانا مرحوم کو ہم لوگوں نے دیکھا ہے کہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ اور پھر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی رحمہ اللہ سے کس تواضع سے ملاقات کرتے تھے، محنت واحترام ملحوظ رکھتے تھے، کسی ادارہ کے استاد ہی نہیں بلکہ بڑے عہدہ پر فائز اور اعلی انتظامی منصب کے حامل ہونے کے باوجود اس کا خیال ولحاظ غیر معمولی اخلاقیات ہیں،

آج تصوف وتزکیہ اور ” تقوی وبزرگی ” نے ایک خاص قالب اختیار کرلیا ہے، اگر بزرگی وتقوی محبت خداوندی، خداترسی۔ خاموش وظائف وتسبیح، عشق الہی، بے نفسی وتواضع، انکساری وفروتنی، فرائض وتطوعات کی پابندی، تلاوت ودعا کے خاموش معمول، سادگی طبع، صاف دلی کا نام ہے تو مولانا مرحوم بجا طور پر ایسے
ولی صفت انسان تھے جس کے پاس یہ سب ہوتے ہوئے نہ بزم کے ہنگامے تھے، نہ تکلفات وتصنعات، نہ شور تھا نہ شغب، نہ کبھی اپنی علم کا گھمنڈ اور نہ عبادت کا غرور ومظاہرہ، واقعی ایسی انکساری، تواضع، عدم تصنع وبے تکلفی بایں ہمہ صفات ومناصب "محال است وکمال است” کا مصداق ہے،
مولانا مرحوم سے مجھے الحمد للہ انشاء وتعبیر اور ” مختار الشعر العربی” پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے، زمانہ طالب علمی سے مولانا سے بڑا تعلق رہا، مجھ بے بضاعت سے بڑی محبت اشفقت فرماتے تھے، اللہ تعالی استاد محترم کے درجات بلند فرمائے اور خدمات کا بہترین صلہ عطا فرمائے،
سفر میں ہونے کی وجہ سے مولانا مرحوم کے جنازے میں حاضر ہونے سے قاصر رہا، فلائٹ میں بیٹھے بیٹھے یہ سطور استاد محترم کی وفات حسرت آیات پر اپنے تاثرات کے اظہار کے لئے لکھنے کی توفیق ہوئی ہے، رحمه الله رحمة واسعة وتقبله في الصالحين الابرار


مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف


دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ