HIRA ONLINE / حرا آن لائن
ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2

ازواج مطہرات كے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ كا سلوک (قسط-2) 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎ کاموں میں مدد آپ ایک ایسے محبت کرنے والے شوہر تھے ، جو نہ صرف بیویوں کی دل داری کا خیال رکھتے تھے ؛ بلکہ ان کے کاموں میں بھی مدد فرماتے تھے ، حضرت عائشہ ؓسے دریافت کیا گیا کہ آپ جب اپنے گھر میں ہوتے تو کیا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا : گھر کے کاموں میں مدد فرماتے : کان فی مھنۃ أھلہ (بخاری ، حدیث :۲۷۶، ترمذی ، حدیث نمبر : ۲۴۸۹ ) ایک اور روایت میں ہے : کپڑے میں پیوند لگا دیتے ، بکرے کا دُودھ دُوہ دیتے اور عام طور پر مرد اپنے گھر میں جو کام کرتے ہیں ، اسے انجام دیتے تھے : وکان یرقع ثوبہ ویحلب الشاۃ ویعمل ما یعمل الرجال فی بیتہ(مسند احمد ، حدیث نمبر : ۲۹۴۷ ، مسند ابی یعلی ، حدیث نمبر : ۴۸۷۳) بیویوں کے ساتھ وقت گذارنا یہ بھی معمول مبارک تھا کہ روزانہ دو دفعہ تمام ازواج مطہرات کے یہاں تشریف لے جاتے ، ان کی خیریت دریافت کرتے اور کچھ وقت ان کے ساتھ گزارتے ، ایک تو عصر کے بعد آپ کی تشریف آوری ہوتی : وکان إذا صلی العصر دار علی نسائہ ، فدنا منھن واستقرأ أحوا لھن (بخاری ، کتاب النکاح ، حدیث نمبر : ۴۹۱۸) چنانچہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ تمام ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے ،اظہار محبت کے لئے ان پر ہاتھ رکھتے اور ایسا عمل کرتے جس سے تعلق کا اظہار ہو ، یہاں تک کہ آخری گھر تک پہنچتے ، اورجن کی باری ہوتی ، ان کے یہاں قیام فرماتے : قلّ یوم إلا وھو یطوف علی نسائہ فیذ نومن أھلہ فیضع یدہ ویقبل کل امرأۃ من نسائہ حتی یأتی علی آخرھن فإن کان یومھا قعد عندھا (ابوداؤد ، کتاب النکاح ، حدیث نمبر : ۲۱۳۵) — دوسرے : فجر کے بعد مسجد میں تشریف فرما ہوتے اور صحابہ استفادہ کے لئے آپ ﷺکے گِرد بیٹھ جاتے ، پھر…

Read more

سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت

سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت 🖋️ احمد نور عینی آخری نبی ﷺ کی سیرت مبارکہ زندگی کے ہر میدان میں ہماری رہنمائی کرتی ہے، زندگی کے میدانوں میں ایک اہم میدان کسب معاش کا ہے، سیرت کی رہنمائی اس پہلو سے بھی کامل، متوازن اور جامع ہے ، یہ رہنمائی اتنی ہمہ گیر اور ہمہ پہلو ہے کہ اس کی بنیاد پر مکمل اقتصادی نظام وجود میں آتا ہے، جسے نبوی اقتصادی نظام کہا جا سکتا ہے، اس نظام میں قانونی اصول بھی ہے اور اخلاقی اقدار بھی، انفرادی ملکیت بھی ہے اور اجتماعی مفاد بھی، جمع دولت کی اجازت بھی ہے اور ارتکاز دولت کی ممانعت بھی، زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کی آزادی بھی ہے اور زیادہ سے زیادہ دولت کو گردش میں رکھنے کی پابندی بھی، دنیوی نفع ونقصان کا محرک بھی ہے اور اخروی نجات وفلاح کا داعیہ بھی، کسب معاش کی حوصلہ افزائی بھی ہے اور انفاق کی ترغیب بھی، ملکیت میں تصرف کا حق بھی ہے اور ملکیت کے ساتھ معاشرتی ذمہ داری بھی، مالی مشکلات کا علاج بھی ہے اور معاشی بحرانوں کا حل بھی۔ معاشی میدان میں کسب معاش کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے، نبوی اقتصادی نظام میں اس سلسلہ میں ہمیں واضح رہنمائی ملتی ہے، اس سلسلہ میں خود آپ ﷺ کا عمل موجود ہے، چنانچہ یہ بات ملتی ہے کہ نبی ﷺ اہلِ مکہ کے لیے چند قیراط کے عوض بکریاں چرایا کرتے تھے، پھر آپ ﷺ نے تجارت کی، اور تجارت میں اپنی سچائی اور امانت داری کی وجہ سے صادق و امین کے طور پر مشہور ہوئے۔ مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد آپ ﷺ نے مسلمانوں کے لیے خصوصی بازار قائم فرمایا۔ نبی ﷺ بیکاری کو پسند نہیں فرماتے تھے؛ آپ ﷺ مال طلب کرنے، حلال روزی کمانے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کھانے کی ترغیب دیتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’حلال کمائی فرض کے بعد ایک فرض ہے‘‘۔(مسند الشہاب، حدیث ۱۲۱)۔ نیز فرمایا: ’’تم میں سے کسی کا لکڑیوں کا ایک گٹھا اپنی پشت پر اٹھا کر لانا…

Read more

دربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراق

دربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ  محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725 مجلسِ رسول اللہ ﷺ کی منفرد شان دنیا نے اقتدار کے بے شمار ایوان دیکھے ہیں، بادشاہوں کے درباروں کی شان و شوکت دیکھی ہے، تاج و تخت کی جلالت، شاہی آداب کی پابندی، بارگاہِ سلطانی کے رعب و دبدبے اور اہلِ دربار کی مرعوبیت کے مناظر بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں؛ مگر دربارِ نبوت دنیا کے ہر دربار سے نرالا، ہر مجلس سے بلند اور ہر محفل سے منفرد تھا۔ وہاں جلال بھی تھا مگر جلال کے ساتھ جمال تھا، ہیبت بھی تھی مگر ہیبت کے ساتھ محبت تھی، وقار بھی تھا مگر وقار کے ساتھ شفقت تھی، عظمت بھی تھی مگر عظمت کے باوجود بندگانِ خدا کے لیے دلوں کے دروازے کھلے تھے۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے مجلسِ رسول اللہ ﷺ کو دیگر انسانی مجالس کی حدوں سے بلند کرکے ایک ایسی تربیت گاہ بنا دیا جہاں بیٹھنے والا صرف مجلس میں شریک نہیں ہوتا تھا بلکہ اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح لے کر اٹھتا تھا۔ نبوی مجلس میں جلال، جمال اور رحمت کا امتزاج   حضور اکرم ﷺ اللہ کے آخری نبی، رسولِ برحق اور خاتم النبیین تھے۔ آپ کی ذاتِ اقدس میں نبوت کا جلال بھی تھا اور رحمتِ عالم ہونے کا جمال بھی؛ آپ کے کلام میں وحی کی صداقت بھی تھی اور دلوں کو چھو لینے والی شیرینی بھی؛ آپ کی نگاہ میں عظمتِ نبوت بھی تھی اور امت کے لیے بے پایاں شفقت بھی۔ اس لیے آپ کی مجلس نہ تو محض ایک عام انسانی نشست تھی اور نہ کسی بادشاہ کا شاہانہ دربار ہوتا۔ وہ مجلسِ نبوت تھی؛ جہاں ادب خود بخود دلوں پر اترتا تھا، خاموشی بھی گفتگو کرتی تھی اور ہر لمحہ تربیت کا پیغام دیتا تھا۔   صحابہ کرامؓ کا ادبِ رسول ﷺ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کے جلو میں بیٹھتے تو ان کے دل محبت سے لبریز اور نگاہیں ادب سے جھکی ہوئی…

Read more

ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)

ازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1) (قسط-1)   🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏ازواج مطہرات کے ساتھ حسن سلوک میزبان کا مہمان کے ساتھ ، تاجر کا گاہک کے ساتھ ، ملازم کا افسر کے ساتھ اور ایک دوست کا دوسرے دوست کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنا دشوار نہیں ، ان لوگوں کے ساتھ بھی خوش اخلاقی کا ثبوت دینا آسان ہے ، جن سے گاہے گاہے ملاقات ہوتی ہو ؛ لیکن شوہر اور بیوی کا رشتہ ایسا رشتہ ہے ، جس میں ہر وقت کا ساتھ ہے ، خلوت میں اور جلوت میں ، دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں ، صبح و شام اور شب و روز ، اس ہمہ وقتی رفاقت میں خوشی کے لمحات بھی آتے ہیں ، رنج و غم کی ساعتیں بھی آتی ہیں ،اور غصہ و ناراضگی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں ؛ اس لئے انسان دوسروں کے ساتھ تو مصنوعی خوش اخلاقی برت کر کام چلا سکتا ہے اور دو چہروں کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے ، ایک اس کا مصنوعی چہرہ جس میں نرمی، خوش اخلاقی ، شرافت اور اظہار محبت ہو ، وہ باہر کی دنیا میں اسی چہرے سے اپنا تعارف کرائے ، دوسرا چہرہ اس کا حقیقی چہرہ ہو ، جس میں بد اخلاقی ، سخت کلامی ، غیظ و غضب اور درشتی و تند خوئی نبی کریم ﷺ کا ازواج کے ساتھ سلوک لیکن شوہر اور بیوی کا تعلق چوںکہ ہر سرد و گرم میں ہوتا ہے ؛ اس لئے یہاں مصنوعی اخلاق کے ذریعے اپنی بد اخلاقی کو چھپایا نہیں جاسکتا: اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے بہترین شخص اس کو قرار دیا ، جس کے اخلاق اچھے ہوں ، پھر فرمایا کہ تم میں بہتر شخص وہ ہے ، جس کا رویہ اس کے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہو ، اور یہ کہ میں تم سب سے زیادہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے والا ہوں : خیرکم خیرکم لأھلہ وأنا خیرکم لأھلی (سنن ترمذی ، بسند صحیح ،…

Read more

مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی

مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی     از : آدم علی ندوی سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ دینی ضرورت اور عملی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ، آپ کے حالات و واقعات، اخلاق و عادات، معاملات اور معمولات سے واقفیت انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی طرف لے جاتی ہے، اور یہی ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ ہماری زندگی اور ہمارے ذہن و دماغ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس طرح رچ بس جانی چاہیے کہ زندگی کے ہر مرحلہ اور ہر موڑ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہمارے سامنے موجود ہو اور ہمیں یہ احساس رہے کہ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور اسوہ کیا تھا۔ یہ کیفیت محض ایک مرتبہ سیرت پڑھ لینے سے پیدا نہیں ہوتی، اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بار بار مطالعہ، مختلف زاویوں سے مطالعہ اور بتدریج گہرائی کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔ سیرت کا حقیقی مطالعہ وہ ہے جو معلومات سے آگے بڑھ کر محبت، تعلق، اتباع اور عملی تبدیلی پیدا کرے۔ سیرت کا وسیع ذخیرہ اور انتخاب کا  مسئلہ ( مطالعہ سیرت ترتیب وار رہنمائی) جب کوئی قاری سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ شروع کرنا چاہتا ہے تو اس کے سامنے سیرت کی کتابوں کا ایک عظیم اور ضخیم ذخیرہ ہوتا ہے۔ یہ ہمارے اکابر اور اہل علم کی غیر معمولی علمی خدمت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ پر اس قدر وسیع لٹریچر تیار کیا کہ صرف سیرت ہی کے موضوع پر ایک بڑی مستقل لائبریری قائم کی جا سکتی ہے۔ دیگر زبانوں کو چھوڑ دیجیے، صرف اردو زبان میں ہی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سیکڑوں، بلکہ ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ یہ وسعت بھی آیت مبارکہ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کی عملی اور علمی تفسیر ہے۔ لیکن…

Read more