اصحاب اعراف کون ہیں ؟
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
عربی قواعد کے لحاظ سے،، اعراف،، عرف کی جمع ہے، جو چیز زمین کی سطح سے بلند ہو ،اس کو عرب ،، عرف،، کہا کرتے ہیں ،جنت اور دوزخ کے درمیان ایک بلند فصیل ہوگی،اس کو قرآن میں،،اعراف،، کہا گیا ہے، علامہ طبری رح نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جن لوگوں کی نیکیاں اور گناہ برابر ہو جائیں گے،وہ اپنی نیکیوں کی وجہ سے نجات پائیں گے،اور برائیوں کے لحاظ سے جنت کے مستحق نہیں ہوں گے،انہیں اس جگہ رکھا جائے گا،پھر بعد میں اللہ تعالیٰ ان کے لئے فیصلہ فرمائیں گے،اور بظاہر یہ فیصلہ جنت کا ہی ہوگا ،کیوں کہ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے ، ان کو
،، اصحاب اعراف، کہتے ہیں ۔ یعنی یہ اصحاب الاعراف وہ لوگ ہوں گے جن کی زندگی کا نہ تو مثبت پہلو ہی اتنا قوی ہوگا کہ جنت میں داخل ہو سکیں اور نہ منفی پہلو ہی اتنا خراب ہوگا کہ دوزخ میں جھونک دئے جائیں ، اس لئے وہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک سرحد پر ہوں گے ۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اہل اعراف کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے والدین کی مرضی اور اجازت کے خلاف جہاد میں شریک ہوں گئے اور اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے،تو ان کو جنت کے داخلہ سے ماں باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم کے داخلہ سے شہادت فی سبیل اللہ نے روک دیا ۔
قرآن مجید کی مختلف آیات اور احادیث کو سامنے رکھنے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ راستے یا روشن دان بھی ہوں گے، جن سے ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے اور بات چیت کر سکیں گے،اسی دیوار کے بالائی حصہ کو اعراف کہتے ہیں، یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ جنت میں بھی سلام کا رواج رہے گا کیونکہ یہ دعا اور محبت و عقیدت اور تعلق کا اظہار ہے، آیت میں اس جانب بھی اشارہ ہے۔۔۔۔
اصحابِ اعراف کی منظر کشی قرآن مجید نے اس طرح کی ہے :
و بینھما حجاب و علی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماھم و نادوا اصحاب الجنة ان سلم علیکم لم یدخلوھا وھم یطمعون الخ،،
،،ان کے درمیان ایک آڑ ہوگی اور کچھ لوگ
،، اعراف،، پر ہوں گے ، یہ ہر ایک کو ان کی علامتوں سے پہچان لیں گے اور جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو! وہ جنت میں ابھی داخل تو نہیں ہوئے ہوں گے،مگر اس کے مشتاق ہوں گے اور جب ان کی نظر دوزخ والوں کی طرف جائے گی تو فریاد کریں گے،اے خدا ! ہمیں ان ظالموں کے ساتھ نہ رکھئے، اعراف والے کچھ لوگوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر دریافت کریں گے: تمہاری جمعیت اور تمہارا تکبر تم کو کوئی کام نہیں آسکا،، ۔
اہل جنت اور اہل دوزخ اور اصحاب اعراف کی اس گفتگو سے کسی حد تک اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت میں انسان کی قوتوں کا پیمانہ کس قدر وسیع ہو جائے گا،وہاں آنکھوں کی بینائی اتنے بڑے پیمانے پر ہوگی کہ جنت اور دوزخ اور اعراف کے لوگ جب چاہیں گے ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے ۔ وہاں آواز اور سماعت بھی اتنے بڑے پیمانے پر ہوگی کہ ان مختلف دنیاؤں کے لوگ ایک دوسرے سے بآسانی گفت و شنید کرسکیں گے اور یہ ایسے ہی دوسرے بیانات جو عالم آخرت کے متعلق ہمیں قرآن میں ملتے ہیں،اس بات کا تصور دلانے کے لیے کافی ہیں کہ وہاں زندگی کے قوانین ہماری موجودہ دنیا کے قوانین طبعی سے بالکل مختلف ہوں گے،اگر چہ ہماری شخصیتیں یہی رہیں گی جو یہاں ہیں ۔ جن کے دماغ اس عالم طبعی کے حدود میں اس قدر مقید ہیں کہ موجودہ زندگی اور اس کے مختصر جہانوں سے وسیع تر کسی چیز کا تصور ان میں نہیں سما سکتا وہ قرآن اور حدیث کے ان بیانات کو بڑے اچھنبے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بسا اوقات ان کا مذاق اڑا کر اپنی خفیف العقلی کا مزید ثبوت بھی دینے لگتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان بیچاروں کا دماغ جتنا تنگ ہے زندگی کے امکانات اتنے تنگ نہیں ہیں ۔( مستفاد تفہیم القرآن تفسیر سورئہ اعراف)
مفتی شفیع صاحب رح معارف القرآن میں لکھتے ہیں:
جنت و دوزخ والوں کے باہمی مکالمہ کے ضمن میں ایک اور بات تیسری آیت میں یہ بتلائی گئی ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو جہنم سے تو نجات پا جائیں گے مگر ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ، البتہ اس کے امید وار ہیں کہ جنت میں داخل ہو جائیں ان لوگوں کو اعراف کہا جاتا ہے ۔
اعراف کیا چیز ہے اس کی تشریح سورئہ حدید کی آیات سے ہوتی ہے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں تین گروہ ہوں گے ۔
ایک کھلے کافر و مشرک ان کو تو پل صراط پر چلنے کی نوبت ہی نہ آئے گی ، پہلے ہی جہنم کے دروازوں سے اس میں ڈھکیل دئے جائیں گے ۔
دوسرے مومنین جن کے ساتھ نور ایمان کی روشنی ہوگی ۔
تیسرے منافقین یہ چونکہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ لگے رہے، وہاں بھی شروع میں ساتھ لگے رہیں گے اور پل صراط پر چلنا شروع ہوں گے،اس وقت ایک سخت اندھیری سب کو ڈھانپ لے گی ، مؤمن اپنے نور ایمان کی مدد سے آگے بڑھ جائیں گے منافقین پکار کر کہیں گے کہ ذرا ٹھہرو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھائیں ،اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پکارنے والا کہے گا پیچھے لوٹو وہاں روشنی تلاش کرو ،مطلب یہ ہوگا کہ یہ روشنی ایمان اور عمل صالح کی ہے ،جس کے حاصل کرنے کا مقام پیچھے گزر گیا ، جن لوگوں نے وہاں ایمان و عمل کے ذریعہ یہ روشنی حاصل نہیں کی،آج ان کو روشنی کا فائدہ نہیں ملے گا،اسی حالت میں منافقین اور مومنین کے درمیان ایک دیوار کا حصار کر دیا جائے گا،جس میں ایک دروازہ ہوگا اس دروازے کے باہر تو سارا عذاب ہی عذاب نظر آئے گا اور دروازہ کے اندر جہاں مومنین ہوں گے وہاں اللہ تعالٰی کی رحمتوں کا مشاہدہ اور جنت کی فضا سامنے ہوگی ۔ یہی مضمون اس آیت کا ہے یوم یقول المنافقون و المنافقات للذین آمنوا انظرونا نقتبس من نورکم قیل ارجعوا ورآءکم نورا فضرب بینھم بسور له باطنه فیه الرحمة و ظاہره من قبله العذاب،،
اس آیت میں وہ حصار جو اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان حائل کیا جائے گا اس کو لفظ سؤر سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ لفظ در اصل شہر پناہ کے لیے بولا جاتا ہے جو بڑے شہروں کے گرد غنیم سے حفاظت کے لیے بڑی مضبوط،مستحکم چوڑی دیوار سے بنائی جاتی ہے،ایسی دیواروں میں فوج کے حفاظتی دستوں کی کمین گاہیں بھی بنی ہوتی ہیں،جو حملہ آوروں سے باخبر رہتے ہیں ۔
سورئہ اعراف کی آیت مذکورہ میں ،،و بینھما حجاب و علی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماھم،، ابن جریر اور دوسرے ائمہ تفسیر کی تحریر کے مطابق اس آیت میں لفظ حجاب سے وہی حصار مراد ہے جس کو سورئہ حدید کی آیت میں لفظ سؤر سے تعبیر کیا گیا ہے،اس حصار کے بالائی حصہ کا نام اعراف ہے،،( معارف القرآن 3/ 567 تفسیر سورئہ اعراف)
غرض قرآن مجید سورئہ اعراف میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قیامت کے دن کے بارے میں قرآن مجید ایک عجیب و غریب اور حیرت انگیز منظر کشی کرتا ہے۔
ایک طرف جنت ہے اور دوسری طرف جہنم، اور ان دونوں کے درمیان ایک پردہ (حجاب) قائم ہے، اور اس حجاب پر کچھ ایسے لوگ (رجال) ہوں گے جو جنتیوں اور جہنمیوں کو ان کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ اس منظر کے بارے میں
سورة الاعراف میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيمَاهُمْ﴾
"اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب ہوگا، اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامتوں سے پہچان لیں گے۔”
قرآن مجید اس موقف میں ان کی کیفیت و حال کا بڑا اثر انگیز نقشہ کھینچتا ہے:
جب وہ اہل ہو کر جنتیوں کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کی علامتوں سے انہیں پہچان لیتے ہیں اور انہیں سلامتی کی نوید سناتے ہیں، حالانکہ وہ خود ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، مگر اس میں داخلے کی امید و طمع رکھتے ہوں گے۔
اور جب ان کی نگاہیں جہنمیوں کی طرف مڑتی ہیں تو عرض کرتے ہیں:
﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾
ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ فرمانا۔”
پھر قرآن ہمیں خبر دیتا ہے کہ وہ اہل جہنم کے کچھ سرکردہ مردوں کو پکاریں گے اور انہیں یاد دلائیں گے کہ ان کا کثرتِ تعداد اور تکبر ان کے کسی کام نہ آیا:
﴿مَا أَغْنَىٰ عَنكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ﴾
"آج نہ تمہاری جماعت (کثرت) تمہارے کام آئی اور نہ تمہارا وہ تکبر جو تم کیا کرتے تھے۔”
یہاں ایک باریک نکتے پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے:
قرآن کریم نے اصحابِ اعراف کے ناموں سے ان کی تعین نہیں کی، بلکہ صرف اس صفت اور کیفیت کے ساتھ ان کا وصف بیان کیا ہے۔
اس طرح قرآن ہمارے سامنے دلوں کو دہلا دینے والا ایک ایسا منظر چھوڑتا ہے:
جنت و جہنم کے درمیان کا ایک ایسا مقام جہاں اصحابِ اعراف اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر ہیں، وہ اہل جنت اور اہل جہنم دونوں کو دیکھ رہے ہیں، اور خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ حقیقی کامیابی نہ مال سے ہے، نہ کثرت سے، اور نہ ہی تکبر و غرور سے… بلکہ نجات صرف اللہ کی رحمت اور عملِ صالح کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اے اللہ! ہمیں اہل جنت میں سے بنا، جہنم کی آگ سے نجات عطا فرما، اور اپنی رحمت کے صدقے ہمارے گناہوں کو معاف فرما کر ہم پر رحم فرما، اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! آمین۔

