تقویٰ
آدم علی ندوی

تقویٰ کیا ہے؟
انسان اپنی جسمانی صحت کے لیے بہت سی مرغوب اور پسندیدہ چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص شوگر کا مریض ہو تو طبیعت چاہنے کے باوجود میٹھی چیزوں سے پرہیز کرتا ہے۔ سامنے مٹھائی رکھی ہو، دل اس کی طرف مائل ہو، لیکن صحت کو نقصان پہنچنے کے خوف سے وہ اپنے نفس کو روک لیتا ہے۔ چند لمحوں کی لذت کے مقابلہ میں وہ اپنی صحت کو ترجیح دیتا ہے۔
بالکل اسی طرح جب انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت و نگرانی کا احساس رکھتے ہوئے، اس کی ناراضی اور عذاب سے ڈرتے ہوئے گناہوں سے بچتا ہے، اس کے احکام کی پابندی کرتا ہے اور اپنی خواہش کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کو ترجیح دیتا ہے تو یہی کیفیت تقویٰ کہلاتی ہے۔
تقویٰ دل کی وہ بیداری ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روکتی اور اس کی اطاعت پر آمادہ کرتی ہے۔ متقی انسان تنہائی اور مجمع، بازار اور مسجد، گھر اور دفتر۔ہر جگہ اپنے رب کی نگرانی کو محسوس کرتا ہے۔
تقویٰ کے درجات
تقویٰ کی ابتدا اس بات سے ہوتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچے۔ پھر وہ ان امور سے بھی احتیاط کرنے لگتا ہے جو اسے گناہ کے قریب لے جا سکتے ہیں، اور یہاں تک پہنچتا ہے کہ مشتبہ چیزوں سے بھی اپنے دامن کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
تقویٰ کی بلندی یہ ہے کہ انسان صرف گناہ سے نہیں بچتا بلکہ ان راستوں سے بھی دور رہنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے گناہ تک پہنچا سکتے ہیں۔
تقویٰ دل میں ایک ایسا نگہبان پیدا کر دیتا ہے جو ہر وقت انسان کو برائی سے روکتا اور بھلائی کی طرف متوجہ کرتا رہتا ہے۔ دنیا کا قانون انسان کو بیرونی نگرانی کے ذریعے روک سکتا ہے، لیکن تقویٰ اسے اس وقت بھی گناہ سے روکتا ہے جب کوئی انسان اسے دیکھنے والا نہ ہو۔
تقویٰ کے اثرات
جب زندگی تقویٰ سے آراستہ ہوتی ہے تو انسان کے اندر حق و باطل میں امتیاز کرنے کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا۔(الأنفال: 29)”اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں امتیاز کرنے کی بصیرت عطا فرمائے گا۔”
تقویٰ انسان کو اندر سے مضبوط کرتا ہے۔ گناہوں کا بوجھ اترنے لگتا ہے، دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے، زندگی میں پاکیزگی اور اطمینان پیدا ہوتا ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کی مدد و رہنمائی کا زیادہ اہل بنتا ہے۔تقویٰ اختیار کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ مشکلات میں راستے پیدا فرماتا ہے۔ قرآن کا وعدہ ہے۔وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔(الطلاق: 2-3)”اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ پیدا کر دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔”
دنیا کی نگاہ میں تقویٰ کبھی انسان کو بظاہر کچھ چیزوں سے محروم کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں تقویٰ محرومی نہیں، حفاظت ہے۔ حرام کا ایک لقمہ چھوڑ دینا رزق کی کمی نہیں، بلکہ پاکیزہ اور بابرکت رزق کا انتخاب ہے۔ ناجائز فائدہ چھوڑ دینا حقیقی نقصان نہیں، بلکہ اپنے دین اور آخرت کو بچانا ہے۔ گناہ سے پیچھے ہٹ جانا کمزوری نہیں، بلکہ ایمان کی طاقت، ارادے کی مضبوطی اور اپنے نفس پر قابو پانے کی علامت ہے۔تقویٰ انسان کے مقام و مرتبے کا اصل معیار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔(الحجرات: 13)”بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔”
تقویٰ کی نشانیاں
تقویٰ دل میں ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات انسان کی پوری زندگی میں نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کی زندگی کا ہر گوشہ اللہ کی یاد اور جواب دہی کے احساس سے روشن ہوتا ہے۔
اس کی زبان جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے محفوظ رہتی ہے، اس کی نگاہ حرام سے بچتی ہے، اس کے کان ناپسندیدہ باتوں سے دور رہتے ہیں، اس کے ہاتھ ظلم و زیادتی سے رکے رہتے ہیں اور اس کے قدم ان راستوں پر چلنے سے گریز کرتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
جہاں دوسروں کو گناہ کا موقع نظر آتا ہے، وہاں اسے اللہ کی ناراضی نظر آتی ہے۔ جہاں دوسروں کو دنیا کا فائدہ دکھائی دیتا ہے، وہاں اسے آخرت کا حساب یاد آتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ لوگ کیا کہیں گے، بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ میرا رب کیا چاہتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:التَّقْوَى هَاهُنَا"تقویٰ یہاں ہے۔”
دل میں پیدا ہونے والا یہی تقویٰ جب حقیقی ہو تو اس کے اثرات انسان کی زبان، نگاہ، معاملات، اخلاق اور کردار میں ضرور ظاہر ہوتے ہیں۔
تقویٰ سے غفلت
آج ہم نے تقویٰ کو بھی صرف ایک لفظ بنا کر رکھ دیا ہے۔ زبان پر تقویٰ کے تذکرے ہیں، مجالس میں اس کی فضیلت کے بیانات ہیں، کتابوں میں اس کے ابواب ہیں، لیکن زندگی میں اس کا اثر کم دکھائی دیتا ہے۔
ہم عبادت کے لیے وقت نکالتے ہیں، مگر معاملات میں اللہ کے احکام بھول جاتے ہیں۔ مسجد میں حلال و حرام کا بیان سنتے ہیں، مگر بازار میں نفع کے چند سکوں کے لیے حلال و حرام کی سرحدیں پامال کر دیتے ہیں۔ ہم صدقہ دیتے ہیں، مگر کسی کا حق دبانے میں دل نہیں کانپتا۔
یہ کیسا تقویٰ ہے کہ مسجد میں اللہ کا خوف ہو اور بازار میں نہ ہو؟ عبادت گاہ میں دل نرم ہو اور معاملات میں سخت؟ لوگوں کے سامنے نگاہ جھکی ہو اور تنہائی میں وہی نگاہ حرام کو تلاش کرتی پھرے؟
ہم نے تقویٰ کو شاید مسجد کی چار دیواری تک محدود کردیا ہے، حالاں کہ تقویٰ کا اصل امتحان مسجد سے باہر شروع ہوتا ہے—بازار میں، گھر میں، دفتر میں، لین دین میں، تنہائی میں اور اس وقت جب ہمیں یقین ہو کہ کوئی ہمیں نہیں دیکھ رہا۔
موبائل اور تقویٰ
اور پھر یہ موبائل!جیب میں رکھا ہوا ایک چھوٹا سا آلہ بہت سے لوگوں کے لیے گناہوں کا کھلا دروازہ بن چکا ہے۔ جس ہاتھ میں تسبیح ہوسکتی ہے، اسی ہاتھ میں ایسی اسکرین بھی ہے جو ایک لمس پر انسان کو وہاں پہنچا دیتی ہے جہاں حیا دم توڑنے لگتی ہے اور تقویٰ زخمی ہوجاتا ہے۔
نہ کسی دروازے پر دستک، نہ کسی گلی سے گزرنے کی ضرورت، نہ کسی کو خبر—بس ایک انگلی حرکت کرتی ہے اور گناہ آنکھوں کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔
ہم موبائل کی تاریخِ استعمال چھپانا چاہتے ہیں، مگر اعمال نامے سے کیا چھپائیں گے؟ ہم براؤزر کی ہسٹری مٹا دیتے ہیں، مگر اپنے اعمال کیسے مٹائیں گے؟ ہم تصویر ڈیلیٹ کر دیتے ہیں، مگر دل پر پڑنے والے اس کے اثرات کہاں ڈیلیٹ کریں گے؟ ہم اسکرین بند کر دیتے ہیں، مگر اگر دل پر وہ منظر نقش ہوگیا تو؟
قیامت کے دن اگر ہماری آنکھیں گواہی دیں کہ انہوں نے حرام دیکھا تھا؟ اگر ہماری انگلیاں گواہی دیں کہ انہوں نے خود اسے تلاش کیا تھا؟ اگر ہمارے اعمال ہمارے سامنے پیش کردیے جائیں تو پھر کون سا بہانہ کام آئے گا؟
موبائل خود نہ نیکی ہے نہ گناہ؛ وہ ایک ذریعہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے اپنے نفس کے تابع استعمال کرتے ہیں یا اپنے رب کی مرضی کے تابع۔
اس لیے آج تقویٰ کا ایک بڑا امتحان ہماری جیب میں ہے۔ اب تقویٰ صرف یہ نہیں کہ بازار میں نگاہ بچائی جائے؛ تقویٰ یہ بھی ہے کہ اپنی اسکرین پر نگاہ کی حفاظت کی جائے۔ کیونکہ آج بہت سے گناہوں کا دروازہ بازار کی گلی سے نہیں، موبائل کی اسکرین سے کھلتا ہے۔
ایک تلخ سوال
اگر بیماری کے خوف سے ہم اپنی پسندیدہ غذا چھوڑ سکتے ہیں تو جہنم کے خوف سے اپنی ناپسندیدہ خواہش کیوں نہیں چھوڑ سکتے؟
اگر ڈاکٹر کی ایک تنبیہ ہمیں میٹھے سے دور کرسکتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ ہمیں حرام سے کیوں نہیں روک سکتی؟
اگر ہمیں لوگوں کے سامنے بدنام ہونے کا خوف ہے تو اللہ کے سامنے رسوا ہونے کا خوف کیوں نہیں؟
تقویٰ کیسے حاصل ہو؟
تقویٰ صرف خواہش کرنے سے حاصل نہیں ہوتا؛ اس کے لیے مسلسل مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔ ا نسان کو اپنے نفس کی خواہشات پر نگاہ رکھنی ہوگی، اللہ تعالیٰ کے احکام کو جاننا ہوگا اور روزمرہ زندگی میں ان پر عمل کی کوشش کرنی ہوگی۔
اور اگر گناہ ہوجائے تو مایوس نہ ہو، بلکہ فوراً توبہ کرکے اپنے رب کی طرف پلٹ آئے۔ تقویٰ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان سے کبھی لغزش نہ ہو؛ بلکہ یہ ہے کہ لغزش کے بعد وہ گناہ پر اڑ نہ جائے، بلکہ ندامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔
نیک صحبت اختیار کی جائے۔ انسان اپنے ماحول سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ جس مجلس میں اللہ یاد آتا ہو، آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہو اور نیکی کی رغبت بڑھتی ہو، ایسی صحبت تقویٰ کے لیے غذا ہے۔
قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کیا جائے، ذکرِ الٰہی کو زندگی کا حصہ بنایا جائے اور فرائض کی پابندی کو اپنی زندگی کی بنیاد بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت جتنی گہری ہوگی، اس کی عظمت کا احساس اور اس کے سامنے جواب دہی کا شعور بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا۔
اور سب سے بڑھ کر اپنے نفس کا محاسبہ کیا جائے۔ دن ختم ہونے سے پہلے چند لمحے اپنے آپ سے پوچھا جائے:
آج میں نے کیا کمایا؟ کیا کھویا؟ کس کا حق مارا؟ کس کو تکلیف دی؟ کہاں اللہ کی نافرمانی ہوئی؟ اور کہاں میں نے اپنے نفس پر قابو پایا؟
یہ روزانہ کا محاسبہ آہستہ آہستہ دل کو بیدار کرتا اور انسان کو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
تقویٰ: آخرت کا اصل سرمایہ
دنیا انسان کی قدر مال سے کرتی ہے، کوئی منصب سے، کوئی خاندان سے اور کوئی شہرت سے؛ لیکن اللہ کے ہاں اصل معیار تقویٰ ہے۔
جس دن انسان اپنے رب کے سامنے اکیلا کھڑا ہوگا، اس دن نہ مال کام آئے گا، نہ منصب، نہ شہرت اور نہ دنیا کے مصنوعی اعزاز۔ اس دن اصل کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی رحمت کے حصول میں ہوگی۔
دنیا کی صحت کے لیے ہم اپنی پسندیدہ چیزیں چھوڑ سکتے ہیں، تو آخرت کی نجات کے لیے اپنے نفس کی ناجائز خواہشوں پر پہرا بٹھانے میں کیوں سستی کریں؟
تقویٰ یہ ہے کہ جہاں کوئی انسان ہمیں نہ دیکھ رہا ہو، وہاں بھی ہمیں یقین ہو کہ ہمارا رب ہمیں دیکھ رہا ہے۔
اور شاید تقویٰ کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ انسان ہر فیصلہ کرتے وقت یہ نہ سوچے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟” بلکہ اس کے دل میں یہ سوال زندہ رہے:”میرا رب مجھ سے کیا چاہتا ہے؟”
علم و تقویٰ کا حسین سنگم *شیخ التفسیر مولانا محمد برہان
ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار
قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں

