مفتی سعید احمد پالن پوریؒ: سوانح حیات، علمی مقام اور تصنیفی خدمات

برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں دارالعلوم دیوبند کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ اس عظیم دینی ادارے نے مختلف ادوار میں ایسے جلیل القدر علما اور محدثین پیدا کیے جنہوں نے درس و تدریس، فقہ و افتا، تفسیر و حدیث اور تصنیف و تالیف کے میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہی اہلِ علم میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کا ہے، جو اپنے علمی تبحر، تدریسی مہارت، فقہی بصیرت اور تصنیفی خدمات کے سبب علمی حلقوں میں خصوصی مقام رکھتے تھے۔

آپ نے طویل عرصے تک دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دیں اور 2008ء میں شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے منصب پر فائز ہوئے۔ آپ کی علمی زندگی کا بڑا حصہ قرآن و حدیث کی تعلیم، فقہ و اصولِ فقہ کی تدریس اور دینی علوم کی تشریح و توضیح میں گزرا۔ آپ کی متعدد کتابیں دینی مدارس کے نصاب میں شامل رہیں اور آج بھی علما و طلبہ ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ [1][2]

مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات
مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات

ولادت اور ابتدائی زندگی

حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی ولادت 1940ء میں کالیڑہ، ضلع بناس کانٹھا، شمالی گجرات، ہندوستان میں ہوئی۔ کالیڑہ پالن پور کے علاقے کی ایک معروف مسلم بستی ہے۔ آپ کا تعلق ایک ایسے ماحول سے تھا جہاں دینی تعلیم اور علمی تربیت کی روایت موجود تھی۔

آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کے مکتب سے شروع ہوئی۔ بچپن ہی سے حصولِ علم کی طرف توجہ رہی اور اسی شوق نے آپ کو مختلف دینی مدارس تک پہنچایا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے عربی اور فارسی زبانوں کی تعلیم حاصل کی اور رفتہ رفتہ درسِ نظامی کی اعلیٰ کتابوں کی طرف پیش قدمی کی۔

آپ کی زندگی اس حقیقت کی مثال ہے کہ علمی ترقی کے لیے مسلسل محنت، اساتذہ سے استفادہ اور حصولِ علم کے ساتھ وابستگی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ [1][2]

تعلیم و تربیت

حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ نے ابتدائی تعلیم کے بعد مدرسہ اسلامیہ عربیہ، پالن پور میں تعلیم حاصل کی۔ یہاں آپ نے عربی زبان اور درسِ نظامی کی ابتدائی و متوسط کتابیں پڑھیں۔ اس مرحلے میں مفتی محمد اکبر میاں پالن پوری اور مولانا ہاشم بخاری جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔

بعد ازاں 1377ھ میں آپ نے مظاہر علوم، سہارنپور میں داخلہ لیا، جہاں تقریباً تین سال تک تعلیم حاصل کی۔ اس دوران نحو، منطق، فلسفہ اور دیگر علومِ آلیہ کی متعدد کتابیں پڑھیں۔ مظاہر علوم کے اساتذہ میں مولانا صدیق احمد جموی، مفتی یحییٰ سہارنپوری، مولانا عبدالعزیز رائپوری اور مولانا وقار بجنوری کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

اعلیٰ دینی تعلیم کی تکمیل کے لیے آپ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔ یہاں فقہ، اصولِ فقہ، حدیث، تفسیر اور دیگر دینی علوم کی تحصیل کی۔ 1382ھ، مطابق 1962ء میں دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کی۔ صحیح البخاری کی تعلیم حضرت مولانا سید فخر الدین احمد مرادآبادیؒ سے حاصل کی۔

دارالعلوم دیوبند کے زمانۂ تعلیم میں آپ کو متعدد ممتاز اساتذہ سے استفادے کا موقع ملا، جن میں مولانا محمد ابراہیم بلیاویؒ، مولانا قاری محمد طیبؒ، مولانا بشیر احمد خان بلند شہریؒ اور مولانا سید فخر الدین احمد مرادآبادیؒ کے نام خصوصیت سے ذکر کیے جاتے ہیں۔

دورۂ حدیث سے فراغت کے بعد آپ نے دارالعلوم دیوبند ہی میں مولانا سید مہدی حسن شاہ جہاں پوریؒ کی نگرانی میں افتا کی مشق و تمرین کی۔ اس طرح آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل کے ساتھ فقہ و افتا کی عملی تربیت بھی حاصل کی۔ [1][2][3]

تدریسی زندگی کا آغاز

تعلیم اور افتا کی تکمیل کے بعد حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی علمی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں دارالعلوم دیوبند کے دارالافتا میں معین مفتی کی حیثیت سے خدمت کا موقع ملا۔

1384ھ، مطابق 1965ء میں آپ دارالعلوم اشرفیہ، راندیر، سورت سے وابستہ ہوئے۔ یہاں تقریباً نو سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس عرصے میں آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، شمائل ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مشکوٰۃ المصابیح، تفسیر جلالین، الفوز الکبیر، ہدایہ اور دیگر اہم کتابیں پڑھائیں۔

یہ زمانہ آپ کی تدریسی صلاحیتوں کو نکھارنے اور علمی ذوق کو مزید پختہ کرنے کا اہم دور تھا۔ تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ رہی، جس کے نتیجے میں بعد کے زمانے میں آپ کی متعدد علمی کتابیں منظرِ عام پر آئیں۔ [1][3]

دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات

نومبر 1973ء میں حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ نے دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ یہ وابستگی تقریباً سینتالیس سال تک جاری رہی، جو آپ کی علمی زندگی کا نہایت اہم حصہ ہے۔

دارالعلوم دیوبند میں آپ نے حدیث، تفسیر، فقہ، اصولِ فقہ، اصولِ حدیث، منطق اور فلسفہ سمیت متعدد علوم کی تدریس کی۔ آپ کا درس محض کتاب کی عبارت سمجھانے تک محدود نہیں تھا، بلکہ علمی مسائل کی وضاحت، دلائل کی تشریح اور مختلف مباحث کے باہمی ربط کو واضح کرنے پر بھی توجہ دی جاتی تھی۔

حدیث کی مشہور کتاب جامع ترمذی کے درس کے حوالے سے آپ کی خدمات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح صحیح البخاری کی تدریس نے بھی آپ کی علمی شناخت کو مزید نمایاں کیا۔

2008ء میں حضرت مولانا نصیر احمد خان بلند شہریؒ کے بعد آپ کو دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کی ذمہ داری سونپی گئی۔ آپ نے اپنی وفات تک ان مناصب پر خدمات انجام دیں۔

آپ کی تدریسی زندگی اس بات کی عکاس ہے کہ ایک مدرس کی علمی عظمت صرف اس کے علم میں نہیں، بلکہ اس علم کو طلبہ تک مؤثر انداز میں منتقل کرنے، مشکل مباحث کو قابلِ فہم بنانے اور علمی روایت کو آگے بڑھانے میں بھی ہوتی ہے۔ [1][2][3]

علمی مقام اور فقہی بصیرت

حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ حدیث، فقہ اور اصولِ فقہ کے ممتاز علما میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی علمی خصوصیات میں دلائل کی تحقیق، فقہی مسائل کی وضاحت، اصولی مباحث پر گفتگو اور قدیم علمی ذخیرے سے استفادہ نمایاں تھا۔

آپ کی تحریروں میں فقہی مسائل کو اصولی بنیادوں پر سمجھانے اور مشکل علمی مباحث کو آسان زبان میں پیش کرنے کی کوشش ملتی ہے۔ آپ نے فقہ حنفی کے متعدد مسائل پر لکھا اور درس و تدریس کے ذریعے طلبہ کو فقہی استدلال سے روشناس کرایا۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی کتاب حجۃ اللہ البالغۃ کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعۃ آپ کی علمی کاوشوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اس تصنیف کے ذریعے آپ نے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علمی افکار اور مباحث کو اردو خواں اہلِ علم کے لیے قابلِ استفادہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

آپ کی علمی خدمات کا دائرہ صرف ایک فن تک محدود نہیں تھا، بلکہ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، عربی زبان اور دیگر علوم پر مشتمل تھا۔ یہی وسعتِ علمی آپ کی شخصیت کو متعدد علمی حلقوں میں ممتاز بناتی ہے۔ [2][3]

مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی تصنیفی خدمات

حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی علمی زندگی کا ایک اہم پہلو آپ کی تصنیف و تالیف ہے۔ آپ نے عربی، اردو اور فارسی میں مختلف علوم و فنون پر کتابیں لکھیں۔ ان میں حدیث کی شروح، تفسیر، فقہ، اصولِ فقہ، منطق، فلسفہ، عربی قواعد اور دینی مسائل سے متعلق تصانیف شامل ہیں۔

آپ کی مشہور کتابوں میں درج ذیل قابلِ ذکر ہیں:

1۔ تحفۃ القاری شرح صحیح البخاری

یہ صحیح البخاری کی اردو شرح ہے۔ اس میں احادیث کی تشریح اور ان سے متعلق علمی مباحث کو بیان کیا گیا ہے۔ بخاری شریف کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے یہ کتاب اہم علمی معاونت فراہم کرتی ہے۔

2۔ تحفۃ الالمعی شرح سنن الترمذی

یہ جامع ترمذی کی اردو شرح ہے۔ حدیث کی تشریح، فقہی مباحث اور متعلقہ علمی نکات کے بیان کے حوالے سے یہ آپ کی نمایاں تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔

3۔ ہدایت القرآن

یہ تفسیرِ قرآن سے متعلق ایک اہم علمی کام ہے۔ اس کے ذریعے قرآن مجید کے مضامین اور تفسیری مباحث سے استفادہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔

4۔ رحمۃ اللہ الواسعۃ

یہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغۃ کی اردو شرح ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علمی افکار کو سمجھنے کے لیے اس تصنیف کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

5۔ العون الکبیر

یہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتاب الفوز الکبیر کی عربی شرح ہے۔ علومِ قرآن اور اصولِ تفسیر سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب قابلِ استفادہ ہے۔

6۔ فیض المنعم

یہ مقدمۂ صحیح مسلم کی شرح ہے، جس میں علومِ حدیث سے متعلق مباحث پر گفتگو کی گئی ہے۔

7۔ شرح علل الترمذی

اس تصنیف میں امام ترمذیؒ کی کتاب العلل سے متعلق مباحث کی تشریح کی گئی ہے، جو حدیث کی تحقیق اور اصولِ حدیث کے مطالعے میں اہمیت رکھتے ہیں۔

8۔ مبادیاتِ فقہ

فقہ کے بنیادی مباحث کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب اہم ہے۔

9۔ آپ فتویٰ کیسے دیں؟

یہ کتاب افتا کے طریقۂ کار اور فتویٰ نویسی سے متعلق رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

10۔ آسان نحو اور آسان صرف

عربی زبان کی بنیادی تعلیم کے لیے لکھی گئی ان کتابوں سے طلبہ کو قواعدِ زبان سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

ان تصانیف کے علاوہ آپ نے فقہی ضوابط، اصولِ فقہ، منطق، فلسفہ، عربی قواعد، اسماء الرجال اور دیگر موضوعات پر بھی کام کیا۔ آپ کی متعدد کتابیں دینی مدارس میں تدریس اور علمی مطالعے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔

آپ کی تصنیفی خدمات کی تفصیلی فہرست اور ان کی علمی اہمیت کے مطالعے کے لیے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن اور ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی کے مضامین سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ [2][3]

علمی خدمات کا اعتراف

حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی علمی صلاحیتوں کا اعتراف مختلف علمی حلقوں میں کیا گیا۔ 2010ء میں صدر جمہوریہ ہند پرتیبھا پاٹل کی جانب سے آپ کو عربی زبان میں علمی خدمات کے اعتراف میں صدارتی توصیفی سند، یعنی پریسیڈینشل سرٹیفکیٹ آف آنر سے نوازا گیا۔

یہ اعزاز عربی زبان اور اس سے متعلق علمی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ اس اعزاز کا حصول آپ کی علمی کاوشوں کے سرکاری سطح پر اعتراف کی علامت تھا۔

آپ کی تصانیف، خصوصاً حدیث کی شروح اور فقہی کتابوں سے مختلف علمی حلقوں میں استفادہ کیا گیا۔ ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی متعدد کتابیں دینی مدارس کے نصاب اور علمی مطالعے کا حصہ رہیں۔ [1][2]

وفات

حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کا انتقال 19 مئی 2020ء، مطابق 25 رمضان المبارک 1441ھ، کو ممبئی میں ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً اسی برس تھی۔

آپ کی وفات کی خبر سے دینی و علمی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ، علما، شاگردوں اور آپ سے استفادہ کرنے والوں نے آپ کی علمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

آپ کو ممبئی کے اوشیوارہ مسلم قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی رحلت سے حدیث، فقہ اور دینی تدریس کے میدان میں ایک اہم علمی شخصیت دنیا سے رخصت ہوگئی، تاہم آپ کی تصانیف اور تدریسی خدمات کا علمی سرمایہ آج بھی اہلِ علم کے لیے استفادے کا ذریعہ ہے۔ [1][2]

نتیجہ

حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی زندگی حصولِ علم، تدریس، تحقیق اور تصنیف و تالیف سے عبارت تھی۔ آپ نے اپنی زندگی کے طویل عرصے کو دینی علوم کی تعلیم و تدریس کے لیے وقف کیا اور دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم علمی ادارے میں تقریباً نصف صدی تک خدمات انجام دیں۔

حدیث کی شروح، تفسیرِ قرآن، فقہ و اصولِ فقہ اور دیگر علوم پر مشتمل آپ کی تصانیف علمی دنیا میں آپ کی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ آپ کا علمی سرمایہ ان طلبہ، علما اور محققین کے لیے قابلِ استفادہ ہے جو دینی علوم کے گہرے مطالعے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

بلاشبہ حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی علمی زندگی اور خدمات برصغیر کی دینی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ان کے علمی کاموں کو امت کے لیے نافع بنائے۔ آمین۔

حوالہ جات و مزید مطالعہ

[1] سوانح حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوریؒ
تحریر: مفتی محمد امین پالن پوری
دیوبند آن لائن
https://deobandonline.com/ur/archives/1250

[2] شیخ الحدیث مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری رحمۃ اللہ علیہ
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
https://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detail/BAY001109

[3] شیخ الحدیث مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی تصنیفی خدمات کا تعارف
تحریر: ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی
مسرت اردو
https://masarraturdu.com/article/873/

[4] مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی رحلت اور علمی خدمات
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
https://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detail/حضرت-مولانا-مفتی-سعید-احمد-پالن-پوری-رحمۃ-اللہ-علیہ-کی-رحلت

نوٹ: یہ مضمون دستیاب سوانحی اور علمی مآخذ کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ تاریخوں، عہدوں اور تصانیف سے متعلق تفصیلات کے لیے مذکورہ مآخذ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔


مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات


مولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ