شمالی قفقاز میں طریقہٴ نقشبندیہ خالدیہ: روحانی اصلاح سے حریت پسندانہ مقاومت تک

از : مولانا ابو الجیش صاحب ندوی


​19ویں صدی کا شمالی قفقاز (بالخصوص داغستان اور چیچینیا) تاریخ کے ان سنگ میل ادوار کا شاہد ہے جہاں تصوف کی روحانی لہر نے محض خانقاہی حدود تک محدود رہنے کے بجائے ایک عظیم الشان سیاسی، اجتماعی اور حریت پسندانہ انقلاب کو جنم دیا۔ اس انقلابِ فکر و عمل کے پشت پناہ سلسلہٴ نقشبندیہ کی خالدیہ شاخ کے مشائخ تھے، جنہوں نے روسی سامراجی تسلط کے خلاف ایک ربطِ باہمی اور لازوال تاریخ رقم کی۔

شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ اور شیخ شامل کی تحریک
شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ کی اصلاحی اور حریت پسندانہ تاریخ

​1. ہند سے استنبول اور داغستان: سلاسل کا تاریخی سفر

​سلسلہٴ نقشبندیہ خالدیہ کی فکر کا سرچشمہ ہندوستان میں امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کی فکر پر مبنی "سلسلہٴ مجددیہ” تھا۔ 19ویں صدی کے آغاز میں عراق کے جلیل القدر عالم اور صوفی مولانا ضیاء الدین خالد بغدادی کردی نے دہلی میں شاہ غلام علی دہلوی سے خلافت حاصل کی۔ عثمانی قلمرو (دمشق، استنبول، اور کردستان) میں واپسی کے بعد مولانا خالد بغدادی نے اس سلسلے کی اصلاحی آبیاری کی، جس سے یہ طریقہ "نقشبندیہ خالدیہ” کے نام سے موسوم ہوا۔
​عثمانی قلمرو سے یہ طریقہ آذربائیجان کے خطے شروان میں شیخ اسماعیل کوردمیری اور شیخ خاص محمد شروانی کے ذریعے پہنچا۔ 1820ء کی دہائی میں جب شیخ خاص محمد شروانی داغستان کے جنوبی علاقے میں داخل ہوئے، تو وہاں کے ممتاز فقیہ اور جید عالم ملا محمد یاراغی نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ملا محمد یاراغی کے بیعت ہوتے ہی داغستان میں دینی بیداری اور اصلاحی تحریک کا نیا دور شروع ہوا۔

2. دعوتِ اصلاح: شریعت اور طریقت کا انضمام

​ملا محمد یاراغی اور ان کے متبعین نے داغستان کے روایتی معاشرے میں دو بنیادی اصلاحات کیں:

​قبائلی عصبیت کا خاتمہ:

قفقاز درجنوں زبانوں اور باہم نبرد آزما قبائل کا مسکن تھا۔ نقشبندی مشائخ نے مقامی قبائلی عصبیتوں اور عرفی قوانین ("عادت”) کی جگہ اخوتِ اسلامی اور شریعتِ مطہرہ کا تصور عام کیا۔

​عزتِ نفس اور حریت کا پیغام:

ملا محمد یاراغی نے یہ فلسفہ پیش کیا کہ شریعت پر کامل عمل پیرا ہونا طریقت کی پہلی شرط ہے، اور غیر مسلم سامراجی تسلط کی موجودگی میں کامل شریعت پر عمل پیرا ہونا ممکن نہیں۔ اس فکر نے قفقاز کے مسلمانوں میں حریت پسندی اور خودداری کی ایک نئی روح پھونک دی
​روس نے اس تحریک کو پیر اور مرید کے باہمی استوار تعلق اور نظم و ضبط کی بنا پر "مریدیت” (Muridism) کا نام دیا، جبکہ حقیقت میں یہ ذکر و فکر، تعلیم اور دفاع کا ایک باہم مربوط ڈھانچہ تھا۔
​3. امامتِ قفقاز اور دفاعی جدوجہد
​ملا محمد یاراغی کی تربیت سے ابھرنے والے جید علماء اور مريدین نے 1828ء میں "امامتِ قفقاز” (Caucasian Imamate) کی بنیاد رکھی۔ اس امامت کے مسلسل تینوں آئمہ نقشبندی خالدی سلسلہ سے وابستہ تھے:
​امام غازی محمد (1828–1832ء): امامت کے پہلے امام، جنہوں نے داغستان کے پہاڑی علاقوں میں شریعت کے نفاذ اور روسی توسع پسندی کے خلاف دفاعی گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔
​امام حمزہ بیک (1832–1834ء): دوسرے امام، جنہوں نے تحریک کے انتظامی ڈھانچے کو وسعت دی اور قبائلی امرا کے اثر و رسوخ کو ختم کر کے شریعت کو مضبوط کیا۔
​امام شیخ شامل داغستانی (1834–1859ء): نقشبندی سلسلے کے مریدِ خاص اور قفقاز کے عظیم ترین رہنما۔ انہوں نے 25 سال تک داغستان اور چیچینیا کی اقوام کو متحد کر کے ایک باقاعدہ ریاستی نظام، عدالتیں، مالیاتی ڈھانچہ (زکوٰۃ) اور جدید گوریلا فورس تشکیل دی۔ انہوں نے روسی سلطنت کی جدید اور بے شمار فوج کے سامنے 25 برس تک تاریخی دفاع کیا۔

4. سوویت دور میں بقا اور اثرات

​1859ء میں امامتِ قفقاز کے خاتمے اور شیخ شامل کی مشروط گرفتاری کے بعد بھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ 20ویں صدی میں سوویت یونین کے شدید الحادی دور، مساجد کی بندش اور تمام مذہبی سرگرمیوں پر پابندی کے باوجود، نقشبندی طریقہ قفقاز میں "خفیہ اسلامی شبکوں” (Underground Islam) کے طور پر موجود رہا۔

​خفیہ خانقاہوں، شبینہ حلقہٴ ذکر اور پیر و مرید کی مخفی تنظیم کی بدولت داغستان اور چیچینیا میں کمیونسٹ حکومت کی سخت ترین پابندیوں کے باوجود اسلامی تشخص، اخلاقی تعلیمات اور عربی زبان کی بقا ممکن ہو سکی۔

​حاصلِ تحریر

​طریقہٴ نقشبندیہ خالدیہ کی قفقازی جدوجہد اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اسلامی تصوف محض بے عملی یا رہبانیت کا نام نہیں، بلکہ یہ تزکیہٴ نفس کے ساتھ ساتھ عادلانہ نظام کے قیام، ظالم سامراج کے سامنے کلمہٴ حق بلند کرنے اور قومی و ملکی آزادی کے دفاع کا عظیم الشان استعارہ ہے۔ قفقاز میں اس سلسلے کی خدمات نے خطے کا نقشہ، تاریخ اور دینی مزاج ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔


حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت