حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب: حیات و علمی و دینی خدمات

برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں ایسے اکابر علماء کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، تدریس، افتاء اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کردی۔ ان بزرگوں نے درس گاہوں میں تشنگانِ علم کو سیراب کیا، اپنے فتاویٰ کے ذریعے امت کی رہنمائی کی اور اپنے اخلاق و کردار سے لوگوں کے دلوں میں دین کی محبت پیدا کی۔ عصرِ حاضر کی ان ممتاز علمی شخصیات میں حضرت مولانا مفتی احمد خانپوری صاحب دامت برکاتہم کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ آپ ایک ممتاز فقیہ، محدث، مدرس اور صاحبِ نسبت بزرگ ہیں، جن کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ ہندوستان سے نکل کر بیرونِ ملک تک پھیلا ہوا ہے۔

حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب: حیات و علمی و دینی خدمات
حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب: حیات و علمی و دینی خدمات

ولادت اور ابتدائی تعلیم

حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب کی ولادت 24 ستمبر 1946ء، مطابق 27 شوال 1365ھ، بروز منگل رات دس بجے خانپور، ضلع بھروچ، گجرات میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد کو دینی تعلیم سے خصوصی شغف تھا اور انہوں نے ابتدا ہی سے آپ کی دینی تربیت اور علمی مستقبل پر توجہ دی۔

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن خانپور ہی میں حاصل کی۔ قرآن کریم کے ابتدائی حروف اور قاعدہ حافظ ابراہیم قاضی صاحب سے پڑھا، جب کہ قرآن کریم کے بعض اجزاء اور ناظرہ کی تعلیم حافظ شاہ خانپوری صاحب سے حاصل کی۔ بعد ازاں مولانا محمد امین اسماعیل قاضی ٹنکاروی صاحب سے قرآن کریم کی تکمیل اور اردو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔

آپ کے والد صاحب کی دلی خواہش تھی کہ آپ اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرکے دین کی خدمت کریں۔ جب آپ نے اسکول کی ساتویں جماعت مکمل کی تو آپ کے بڑے بھائی نے عصری تعلیم کے لیے احمد آباد لے جانے کا ارادہ ظاہر کیا، لیکن والد صاحب نے آپ کو دینی تعلیم کے لیے محفوظ رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کی اس دور اندیشی نے آپ کے مستقبل کی علمی راہ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

دار العلوم اشرفیہ راندیر میں تعلیم

سن 1958ء میں، تقریباً بارہ سال کی عمر میں، آپ نے دار العلوم اشرفیہ راندیر میں داخلہ لیا۔ یہاں آپ نے درسِ نظامی کی تعلیم نہایت شوق، محنت، یکسوئی اور سنجیدگی کے ساتھ حاصل کی۔ آپ کو اپنے زمانے کے ممتاز اہلِ علم سے استفادے کا موقع ملا۔ آپ کی علمی محنت اور ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دورانِ تعلیم امتحانات میں مسلسل نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے رہے۔

اساتذہ کی خدمت، ادب و احترام اور علمی ذوق نے آپ کو اپنے بزرگوں کا منظورِ نظر بنادیا۔ بالآخر نومبر 1966ء میں آپ نے درسِ نظامی کی تعلیم مکمل کرلی، لیکن حصولِ علم کی تشنگی بدستور باقی تھی۔ آپ مزید علمی ترقی اور عربی ادب میں مہارت حاصل کرنے کے خواہش مند تھے، چنانچہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخلے کا ارادہ کیا، تاہم وہاں مطلوبہ درجہ میں داخلہ نہ ہوسکا۔ اس کے بعد آپ نے دار العلوم دیوبند کا رخ کیا۔

دار العلوم دیوبند اور علمی ارتقا

سن 1967ء میں آپ دار العلوم دیوبند پہنچے، جہاں آپ نے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی۔ یہاں آپ کو مختلف علوم و فنون میں مہارت رکھنے والے ممتاز اساتذہ سے استفادے کا موقع ملا۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا محمد طیب قاسمی، مولانا وحید الزماں کیرانوی، مولانا شریف حسن دیوبندی، مولانا ناصر احمد خان اور دیگر اہلِ علم شامل تھے۔

دار العلوم دیوبند میں قیام کے دوران آپ کا تعلق حضرت فقیہ الامت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ سے قائم ہوا، جو رفتہ رفتہ گہری علمی و روحانی وابستگی میں تبدیل ہوگیا۔ آپ نے فنون کی تعلیم کے بعد شعبۂ افتاء میں داخلہ لیا اور فقہی مسائل میں تحقیق و تدقیق کی تربیت حاصل کی۔ حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کی صحبت، خدمت اور رہنمائی نے آپ کی علمی و فقہی شخصیت کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔

اسی دور میں آپ کو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ سے بھی استفادے اور روحانی تعلق کا موقع ملا۔ حضرت شیخ الحدیثؒ کی توجہ اور حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کی رہنمائی سے آپ کے اندر اصلاحِ باطن اور تزکیۂ نفس کا ذوق مزید پختہ ہوا۔

روحانی تعلق اور اصلاحی خدمات

حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب کی شخصیت کا ایک اہم پہلو علمی کمال کے ساتھ روحانی وابستگی اور اصلاحِ باطن ہے۔ دورانِ تعلیم آپ نے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ سے بیعت کی اور حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کی نگرانی میں روحانی تربیت حاصل کی۔ آپ کو اپنے اکابر کی صحبت میں رہنے اور ان کے طریقۂ اصلاح سے استفادہ کرنے کے متعدد مواقع میسر آئے۔

آپ نے بعد میں اپنے اس روحانی و اصلاحی سلسلے کو جاری رکھا اور خانقاہِ محمودیہ ڈابھیل کے ذریعے طالبانِ اصلاح کی تربیت کا اہتمام کیا۔ یہاں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد آپ سے اصلاحی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ آپ کی زندگی میں شریعت کی پابندی، اکابر سے وابستگی اور تزکیۂ نفس کی اہمیت نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔

جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں تدریسی خدمات

تعلیم سے فراغت کے بعد حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب نے جنوری 1969ء میں جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ اس کے بعد آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی علمی ادارے میں تدریس اور تعلیم و تربیت کے لیے وقف کردیا۔

آپ نے جامعہ میں ابتدائی درجات سے لے کر دورۂ حدیث تک مختلف علوم و فنون کی کتابیں پڑھائیں۔ آپ کے زیرِ تدریس رہنے والی اہم کتابوں میں مشکوٰۃ المصابیح، موطأ امام مالک، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی اور صحیح بخاری شامل ہیں۔ تدریس کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے آپ جامعہ کے ممتاز اساتذہ میں شمار ہونے لگے۔

سن 1984ء میں صحیح بخاری کی دوسری جلد کا درس آپ کے سپرد کیا گیا، جب کہ 1406ھ میں آپ کو جامعہ کا صدر مفتی مقرر کیا گیا۔ اس طرح آپ نے تدریس کے ساتھ افتاء اور دینی رہنمائی کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ آپ کے درس سے ہزاروں طلبہ نے براہِ راست استفادہ کیا، جن میں سے بہت سے علماء اور مفتیانِ کرام مختلف علاقوں اور ممالک میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

آپ کی تدریسی زندگی کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ آپ نے محض کتابوں کی تعلیم پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ طلبہ کی علمی صلاحیتوں کی نشوونما، فقہی بصیرت اور دینی مزاج کی تشکیل پر بھی توجہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد تدریس، افتاء، دعوت و اصلاح اور دیگر دینی شعبوں میں سرگرمِ عمل ہے۔

علمی و افتائی خدمات

حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب کو فقہ و افتاء کے میدان میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں صدر مفتی کی حیثیت سے آپ نے مختلف دینی، معاشرتی اور معاملات سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔ آپ کے فتاویٰ میں فقہی اصولوں کی رعایت، مسئلے کی تحقیق اور شرعی دلائل کی روشنی میں رہنمائی کا اہتمام نمایاں ہے۔

آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ محمود الفتاویٰ کے نام سے آٹھ جلدوں میں شائع ہوچکا ہے۔ اس مجموعے کو فقہی مسائل کے مطالعے اور تحقیق میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس کی گجراتی زبان میں بھی اشاعت ہوئی، جس سے گجراتی زبان جاننے والے قارئین اور اہلِ علم کو استفادے کا موقع ملا۔

آپ کی افتائی خدمات کا دائرہ صرف انفرادی مسائل تک محدود نہیں، بلکہ عصرِ حاضر کے معاشرتی اور عملی مسائل میں بھی آپ کی علمی رہنمائی سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ آپ نے اپنی علمی بصیرت اور تجربے کے ذریعے دینی مسائل کو سمجھنے اور ان کے شرعی حل تک پہنچنے میں اہلِ علم کی معاونت کی ہے۔

تصنیفی و علمی آثار

حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب بنیادی طور پر مدرس اور مفتی کی حیثیت سے معروف ہیں، تاہم آپ کے علمی بیانات، مواعظ، خطوط اور فتاویٰ کو بھی مرتب کرکے شائع کیا گیا ہے۔ آپ کے علمی آثار میں محمود الفتاویٰ، محمود المواعظ اور محمود الرسائل خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

محمود الفتاویٰ آپ کے فقہی جوابات کا اہم مجموعہ ہے، جب کہ محمود المواعظ میں آپ کے اصلاحی بیانات اور نصیحتوں کو جمع کیا گیا ہے۔ محمود الرسائل میں مختلف علمی و دینی موضوعات پر رسائل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حدیث کے اصلاحی مضامین اور دیگر علمی تحریریں بھی آپ کی علمی خدمات کا حصہ ہیں۔

آپ نے حدیث، فقہ اور دینی اصلاح سے متعلق موضوعات پر اپنے دروس و بیانات کے ذریعے بھی اہلِ علم اور عام مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے۔ آپ کے علمی آثار کا مطالعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ آپ کی دلچسپی محض تدریسی سرگرمیوں تک محدود نہیں، بلکہ دینی علوم کی اشاعت اور عملی زندگی میں ان کی رہنمائی کو عام کرنے سے بھی وابستہ ہے۔

علمی اداروں سے وابستگی

حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب کی علمی حیثیت اور تجربے کے پیشِ نظر آپ کو مختلف دینی و علمی اداروں میں ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ آپ دار العلوم دیوبند کی مجلسِ شوریٰ، دار العلوم ندوۃ العلماء کی مجلسِ انتظامی اور اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا سے وابستہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے بھی آپ کی وابستگی رہی ہے۔

ان اداروں سے آپ کی وابستگی اس امر کی عکاس ہے کہ آپ کی خدمات تدریس اور افتاء کے دائرے سے آگے بڑھ کر علمی مشاورت اور دینی اداروں کی رہنمائی تک پھیلی ہوئی ہیں۔

خلاصہ

حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب دامت برکاتہم کی زندگی علم، تدریس، افتاء، اصلاح اور خدمتِ دین سے عبارت ہے۔ آپ نے اپنے اساتذہ اور اکابر سے حاصل ہونے والے علمی و روحانی فیض کو اپنی عملی زندگی میں جاری رکھا اور ایک طویل عرصے تک جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں تدریسی و افتائی خدمات انجام دیں۔ آپ کے شاگردوں کی بڑی تعداد مختلف ممالک میں دینی و علمی سرگرمیوں میں مصروف ہے، جب کہ آپ کے فتاویٰ اور دیگر علمی آثار اہلِ علم کے لیے استفادے کا ذریعہ ہیں۔

آپ کی شخصیت اس علمی روایت کی نمائندگی کرتی ہے جس میں درس و تدریس، فقہی تحقیق، اصلاحِ باطن اور خدمتِ خلق کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھا جاتا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت کی علمی و دینی خدمات کو قبول فرمائے، صحت و عافیت کے ساتھ آپ کا سایہ امت پر قائم رکھے اور آپ کے فیوض و برکات کو عام فرمائے۔ آمین۔

ترتیب و پیشکش: اسجد حسن ندوی


مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات


مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف