HIRA ONLINE / حرا آن لائن
خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں

خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں از : اسجد حسن ندوی  کسی بھی معاشرے کی تعمیر صرف عمارتوں، اداروں اور معاشی وسائل سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے ایسے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے جو علم، کردار، شعور اور ذمہ داری سے آراستہ ہوں۔ اس اعتبار سے خواتین کی تعلیم و تربیت کا مسئلہ محض ایک تعلیمی موضوع نہیں، بلکہ خاندان، نسل اور پورے معاشرے کے مستقبل سے متعلق ایک اہم مسئلہ ہے۔ اسلام نے علم کی قدر و منزلت کو واضح کیا اور انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر معرفت، ہدایت اور عمل کی روشنی کی طرف بلایا۔ خواتین بھی چونکہ شریعت کے احکام کی مخاطب ہیں، اس لیے ان کے لیے بھی اتنا دینی علم حاصل کرنا ضروری ہے جس کے ذریعے وہ اپنے عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق اور معاشرتی ذمہ داریوں کو درست طور پر ادا کرسکیں۔ خواتین کی تعلیم اسلام کی نظر میں اسلام نے عورت کو محض گھر کی ایک فرد کی حیثیت نہیں دی، بلکہ اسے ایک ذمہ دار انسان، بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کی حیثیت سے اہم مقام عطا کیا ہے۔ اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔ نماز کے مسائل، طہارت کے احکام، روزہ، زکوٰۃ سے متعلق ضروری مسائل، حلال و حرام کی تمیز، شوہر اور والدین کے حقوق، اولاد کی تربیت، پڑوسیوں کے حقوق اور حسنِ معاشرت جیسے امور سے واقفیت ایک مسلمان عورت کی عملی زندگی کا بنیادی حصہ ہیں۔ اس لیے خواتین کی تعلیم کا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ دنیاوی معلومات حاصل کرلیں؛ بلکہ تعلیم ایسی ہو جو انہیں صحیح عقیدہ، عبادت کا شعور، اچھے اخلاق اور ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے قابل بنائے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صحابیاتؓ دین کے مسائل دریافت کرتی تھیں، احکام سیکھتی تھیں اور اپنے علم کو دوسروں تک منتقل بھی کرتی تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کے لیے دینی تعلیم کا حصول اسلامی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ دینی…

Read more