HIRA ONLINE / حرا آن لائن
فرقہ پرستوں کو ہری جھنڈی

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ آپ کو یاد ہوگا کہ کرناٹک کے ضلع وکشن کنٹر کے گاؤں اتوار میں کداہامرد ڈالا روڈ پر واقع ایک مسجد میں گھس کر چند فرقہ پرستوں نے جے شری رام کا نعرہ لگایا تھا اور کہا تھا کہ مسلمانوں کو نہیں چھوڑیں گے، معاملہ سنگین تھا اور اس حرکت کی وجہ سے وہاں کا ماحول خراب ہوا تھا، سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے ملزمین کی شناخت کی گئی اور ان پر نامزد ایف آئی آر درج کرائی گئی، اس واقعہ کے دو سرغنہ کی گرفتاری بھی 295A کے تحت عمل میں آئی، پولیس نے ملزمین پر دفعہ 447 (کسی کے گھر میں مجرمانہ طورپر گھسنا) 505 (فساد بھڑکانے کی نیت سے دیا گیا عوامی بیان) 506 (مجرمانہ دھمکی) 34 (مشترکہ طورپر بُرے ادارے) 295A (دانستہ بدنیتی پر مبنی کاروائی) کے دفعات لگائے جو صورت حال کے بالکل مطابق تھے، ان فرقہ پرستوں نے کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ایک نفری بنچ کے جج جسٹس ایم ناگ پرسنا نے ایف آئی آر کو یہ کہتے ہوئے منسوخ کردیا کہ ”وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مسجد میں داخل ہوکر جے شری رام کا نعرہ لگانے سے کس طرح فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب ہوسکتی ہے“ معزز جج کے علم و آگہی پر کوئی تبصرہ تو میں نہیں کرسکتا، البتہ ان کے علم میں یہ بات آنی چاہئے تھی کہ جبراً جے شری رام کے نعرے لگوانے، نہ لگانے پر ماب لنچنگ کے ذریعہ قتل، مسجد کی دیواروں پر جے شری رام کے نعرے لکھنے سے خیرسگالی، باہمی ہم آہنگی کو فروغ نہیں ہوتا، بلکہ فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور ہم آہنگی کا جنازہ نکل جاتا ہے، کیا معزز جج صاحب اس بات کو گوارہ کریں گے کہ مسلمان مندروں میں گھس کر اللہ اکبر کا نعرہ لگائیں اور وہ یہ فیصلہ دیں کہ اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان نہیں پہونچتا ہے، ظاہر ہے وہ ایسا فیصلہ نہیں دے سکتے تو مسجدوں…

Read more

نقد خرید کر ادھار زیادہ قیمت میں فروخت کرنے کے سلسلے میں شرعی حکم

از: ڈاکٹر محمد شاہ جہاں ندوی :سوال نمبر 294ہمارے یہاں سعودی میں کفیل قرض دینے کی بجائے گاڑی خرید کر مجھ سے ادھار زیادہ قیمت میں فروخت کرتا ہے، تو کیا یہ ںشرعاً جائز ہے؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق جس طرح نقد فروخت کرنا جائز ہے، اسی طرح ادھار فروخت کرنا بھی جائز ہے، نیز ادھار خرید و فروخت کی صورت میں زیادہ قیمت بھی رکھی جا سکتی ہے- زیادہ قیمت سامان کے بدلہ میں ہے، مدت کی مہلت کے بدلہ میں نہیں ہے، لہٰذا یہ سود میں شامل نہیں ہے-اب اگر آپ کا کفیل گاڑی نقد خرید کر اپنے قبضہ میں لے لے، پھر باہمی رضامندی سے آپ کفیل سے ادھار زیادہ قیمت میں خرید لیں، اور گاڑی آپ کے نام سے رجسٹرڈ کردی جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے- البتہ یہ ضروری ہے کہ پہلے کفیل نے اپنے لیے خرید کر قبضہ کرلیا ہو، پھر قبضہ میں لینے کے بعد آپ سے فروخت کیا ہو- ھکذا في عامة الكتب الفقهيه.والله تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکم

Read more

تدفین کا صحیح طریقہ

*تدفین کا صحیح طریقہ* تدفین (دفنانے) کا صحیح طریقہ اسلامی تعلیمات اور سنت رسول ﷺ پر مبنی ہے۔ اللہ کے نبی محمد ﷺ نے اپنے عمل، ارشادات اور صحابہ کے عمل سے تدفین کے طریقے کی وضاحت فرمائی ہے۔ درج ذیل میں تدفین کا صحیح طریقہ اور اس کے دلائل ذکر کیے گئے ہیں۔ قبر کھودنے کے دو طریقے ہیں*شق* یہ عام طریقہ ہے جس میں سیدھی قبر کھودی جاتی ہے۔*لحد*اس میں قبر کی ایک جانب دیوار سے متصل کھود کر چھوٹا قبر نما بنایا جاتا ہے، جس میں میت کو رکھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ سنت سے ثابت ہے اور زیادہ مستحب ہے۔حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی وفات کے وقت وصیت کی”لحد بناؤ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے بنایا گیا تھا تدفین کی سنت اور سنت مؤکدہ میت کو قبر میں اتارتے وقت میت کوقبلہ کی طرف سے اتارا جائے، اور یہ بھی مستحب ہے کہ میت کو داہنےکروٹ قبلہ رخ لٹایا جائے۔*بر خلاف اپنے گاؤں یکہتہ کے اپنے یہاں چت لٹایا جاتا ہے اور چہرا کے نیچے مٹی کا ڈھیلا رکھ کر قبلہ رخ کیا جاتا جو غلط ہے* نیز اپنے یہاں دفن کے وقت جو بیر کی شاخ ڈالی جاتی ہے یہ کہیں سے ثابت نہیں ہے بلکہ یہ روافض کا طریقہ اور یہ واجب الترک ہے۔میت کو قبر میں رکھنے کا طریقہ سے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا”جب تم اپنے مُردوں کو قبر میں رکھو تو یہ دعا پڑھو: ‘بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَىٰ مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ’یہ دعا پڑھنے سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ میت اللہ کی امانت ہے اور اسے دینِ اسلام کے مطابق دفن کیا جا رہا ہے۔ میت کو قبر میں رکھنے کے بعد ہاتھوں سے تین مٹھی مٹی ڈالنا مستحب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب تم کسی میت کو دفن کرو تو تین مٹھی مٹی ڈالو۔”قبر کو ہموار کرنا: قبر کو زمین کے برابر یا معمولی سا اونچا کیا جا سکتا ہے تاکہ قبر کی پہچان ہو اور اس پر پانی نہ جمع…

Read more

مارجن ٹریڈنگ ( margin trading) شرعی نقطئہ نظر

(Margin Trading) شرعی نقطہء نظر ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندویسوال نمبر: 293"مارجن ٹریڈنگ” کے شرعی حکم کی وضاحت فرمادیں- الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: "مارجن ٹریڈنگ” کی حقیقت مارجن ٹریڈنگ وہ حکمت عملی ہے جس میں مالیاتی اثاثہ خریدنے کے لیے بروکر (broker: دلال) سے رقم قرض لی جاتی ہے-اس طرح سرمایہ کار "بروکرج اکاؤنٹ” میں بروکر سے قرض لینے کے لیے ضمانت کے طور پر نقد رقم جمع کرتے ہیں، اس کے بعد سرمایہ کار اپنے اکاؤنٹ میں موجود رقم سے زیادہ رقم کے ساتھ تجارت کرنے کے اہل ہوجاتے ہیں-اسے "لیوریجڈ ٹریڈنگ” (leveraged trading) بھی کہا جاتا ہے- "مارجن ٹریڈنگ” کے فوائد: مارجن ٹریڈنگ کے درج ذیل فوائد ہیں:1- مارجن ٹریڈنگ کے ذریعہ ایک سرمایہ کار اپنی قوت خرید سے زیادہ شیئرز خرید سکتا ہے-2- زیادہ شیئرز کی خریداری کی وجہ سے زائد منافع کے امکانات ہوتے ہیں-3- مارجن ٹریڈنگ کی سہولت زیادہ تر ڈیلیوری تجارت میں حاصل ہوتی ہے-4- یہ سہولت منتخب اسٹاک میں حاصل ہوتی ہے-5- مارجن ٹریڈنگ بالواسطہ سرمائے کے مسئلے کو ختم کرتی ہے-مارجن ٹریڈنگ کے نقصانات:مارجن ٹریڈنگ کے نقصانات درج ذیل ہیں:1- مارجن ٹریڈنگ میں زیادہ نقصانات کے بھی قوی امکانات ہیں، اگر سرمایہ کاری کی قدر میں کمی آتی ہے تو سرمایہ کار کو کافی نقصان ہوسکتا ہے-3- اگر ایک سرمایہ کار کی سرمایہ کاری اچھی کارکردگی پیش نہیں کرتی ہے، تو مارجن کال ہوتی ہے- بروکر اس کال کو اس وقت جاری کرتا ہے، جب ایک سرمایہ کار کے اکاؤنٹ میں بیلنس مطلوبہ طے شدہ سطح سے نیچے آجاتا ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر اثاثے کو قرض میں تبدیل کرنے کے لیے ختم کردیا جاتا ہے-3- مارجن ٹریڈنگ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی حساسیت کو بڑھاتی ہے؛ کیونکہ قرض لی ہوئی رقم کے استعمال سے، نفع اور نقصان کے امکانات بڑھتے ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے بستہ کو قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ کا زیادہ خطرہ رہتا ہے-4- مارجن ٹریڈنگ کے لیے لی گئی قرض کی رقم پر سود عائد ہوتا ہے، جو منافع کو کم کر سکتا ہے، یا نقصان کو بڑھا…

Read more

فقہی سیمینار میں حاضری اور کچھ سبق آموز کہانی

از : قاضی محمد حسن ندوی تینتیسواں فقہی سیمینار میں شرکت کے لئے نو نومبر کو علی الصبح جامعہ اسلامیہ بالاساتھ میں ہم چار احباب بحسن وخوبی پہنچے، تین دن وہاں ہم لوگوں کا قیام رہا ،یہ ادارہ حضرت مولانا عبد الحنان صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کیے خوابوں کی تعبیر اور ان کی للہیت کا مظہر ہے ، مدرسہ کی تعمیر اور ظاہری ترتیب و تزئین سے اندازہ ہوا کہ کسی باذوق شخص کا کردار اس میں نمایاں ہے ، جنہیں نہ صرف اپنے بیان اور خطابت کے جادو سے لوگوں کو مسحور کرنے کا ملکہ حاصل تھا ، بلکہ کم خرچ میں عمدہ اور شاندار عمارت کی تعمیر کا ذوق بھی حاصل تھا ، مسجد اور دیگر ساری عمارت میں یکسانیت پائی جاتی ہے ، مدرسہ میں نہ شور نہ ہنگامہ ، ہاں کانفرنس ہال میں فقہاء اور مفتیان کرام کا اجتماعی طور پر نئے مسائل میں بحث و مباحثہ کی مجلس گرم تھی تو دوسری طرف انتظامیہ اساتذہ طلبہ کی طرف سے پوری گرم جوشی کے ساتھ مہمانان کرام کو سہولیات پہنچانے میں ہمہ دم کوشش ہورہی تھی، مجموعی اعتبار سے تین دن کے قیام میں ہر مہمان کو وہاں سکون واطمینان حاصل ہوا۔ مقصد کی بازیابی میں کوئی دقت حاصل نہیں ہوئی ۔ نامور شخصیات کی زیارت: اس سفر میں ہندوستان کے نامور شخصیات کی زیارت اور انکی اجتہادات اور نکتہ سنجی سے استفادہ کا موقع ملا ، اس کے علاوہ اساتذہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ، ان میں سر فہرست مفتی عتیق احمد بستوی صاحب ،مفتی جنید صاحب ندوی قاسمی پٹنہ ،اور ہم رکاب میں مفتی سعید الرحمن امارت شرعیہ بہار ،۔ پہلی نشست میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی نے اپنا کلیدی خطبہ پڑھا جو واقعی کلیدی کردار کا حامل ہے ، مولانا اظہار الحق صاحب ( خلیفہ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب)نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ دین اسلام کے کئ شعبہ جات ہیں ، درس وتدریس ، دعوت وتبلیغ ، تصنیف وتالیف اور تزکیہ نفس ، اجتماعی کوشش سے سب دین کے شعبہ جات ہیں…

Read more

کتاب : قرآن و سنت کا باہمی تعلق

کتاب : قرآن وسنت کا باہمی تعلق مصنف : ڈاکٹر عمار خان ناصر ناشر : المورد ادارہ علم وتحقیق صفحات : 536قیمت : 500 تعارف نگار : معاویہ محب اللّٰہ اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر عمار خان ناصر صاحب علم و تحقیق کا بہت ستھرا ذوق رکھتے ہیں، اس سے پہلے بھی آپ کے قلم سے کئی تحقیقی کاوشیں منظر عام پر آ چکی ہیں ؛ فقہ الحدیث میں فقہائے احناف کا منہج، فقہائے احناف اور فہم حدیث، براھین، حدود و تعزیرات، جہاد ایک مطالعہ۔ ماہنامہ الشریعہ کی ادارت آپ کی خدمات کا منھ بولتا ثبوت ہے، جب تک آپ الشریعہ کے مدیر رہے رسالہ کو انتہائی علمی و تحقیقی معیار پر پابندی کے ساتھ قائم رکھا۔زیرِ تعارف کتاب تو گویا آپ کے تحقیقی ذوق آئینہ ہے۔ قرآن وسنت کے درمیان باہمی تعلق کی بحث اپنی نوعیت کے لحاظ سے نہایت لطیف اور نازک ہے، صدیوں سے لیکر آج تک ہر زمانہ کے بہترین دماغوں نے اس بحث کو اپنی جد و جہد کا محور بنایا ہے، اس کی نزاکت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر مجتہد نے اپنے زاویۂ نظر سے دوسرے مجتہد کے رجحان پر نقد و تبصرہ کا حق ادا کیا ہے، اور اس کی خامیوں اور کمزوریوں کی طرف رہنمائی کرکے اصلاح کی کوشش کی ہے، یہاں تک کہ احناف آئمہ نے حنفی اصولیین کی اور شوافع ائمہ نے امام شافعی کے اصولی رجحان کی خامیوں کو تسلیم کیا ہے، چنانچہ اس بحث کو سنجیدگی اور گہرائی سے سمجھنے والے اہل علم دونوں کے وزن کو محسوس کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کتاب میں اسی قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے رجحان کی تاریخی نوعیت کو بالتفصیل بیان کیا ہے، سب سے پہلے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تشریعی مقام اور اطاعت رسول کی اہمیت کو بیان کیا ہے، آپ کی عین ذات بحیثیت رسول احکام کا مآخذ تھی، قرآن مجید میں جا بجا اطاعت الٰہی کے ساتھ اطاعت رسول کو بیان کیا گیا ہے، اس کے باوجود خود دورِ نبوی اور دورِ صحابہ میں یہ رجحان…

Read more