Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

کتاب : قرآن و سنت کا باہمی تعلق

  1. Home
  2. کتاب : قرآن و سنت کا باہمی تعلق

کتاب : قرآن و سنت کا باہمی تعلق

  • hira-online.comhira-online.com
  • کتابی دنیا
  • نومبر 13, 2024
  • 0 Comments

کتاب : قرآن وسنت کا باہمی تعلق

مصنف : ڈاکٹر عمار خان ناصر

ناشر : المورد ادارہ علم وتحقیق صفحات

: 536قیمت : 500

تعارف نگار : معاویہ محب اللّٰہ

اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر عمار خان ناصر صاحب علم و تحقیق کا بہت ستھرا ذوق رکھتے ہیں، اس سے پہلے بھی آپ کے قلم سے کئی تحقیقی کاوشیں منظر عام پر آ چکی ہیں ؛ فقہ الحدیث میں فقہائے احناف کا منہج، فقہائے احناف اور فہم حدیث، براھین، حدود و تعزیرات، جہاد ایک مطالعہ۔ ماہنامہ الشریعہ کی ادارت آپ کی خدمات کا منھ بولتا ثبوت ہے، جب تک آپ الشریعہ کے مدیر رہے رسالہ کو انتہائی علمی و تحقیقی معیار پر پابندی کے ساتھ قائم رکھا۔زیرِ تعارف کتاب تو گویا آپ کے تحقیقی ذوق آئینہ ہے۔

قرآن وسنت کے درمیان باہمی تعلق کی بحث اپنی نوعیت کے لحاظ سے نہایت لطیف اور نازک ہے، صدیوں سے لیکر آج تک ہر زمانہ کے بہترین دماغوں نے اس بحث کو اپنی جد و جہد کا محور بنایا ہے، اس کی نزاکت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر مجتہد نے اپنے زاویۂ نظر سے دوسرے مجتہد کے رجحان پر نقد و تبصرہ کا حق ادا کیا ہے، اور اس کی خامیوں اور کمزوریوں کی طرف رہنمائی کرکے اصلاح کی کوشش کی ہے، یہاں تک کہ احناف آئمہ نے حنفی اصولیین کی اور شوافع ائمہ نے امام شافعی کے اصولی رجحان کی خامیوں کو تسلیم کیا ہے، چنانچہ اس بحث کو سنجیدگی اور گہرائی سے سمجھنے والے اہل علم دونوں کے وزن کو محسوس کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے کتاب میں اسی قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے رجحان کی تاریخی نوعیت کو بالتفصیل بیان کیا ہے، سب سے پہلے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تشریعی مقام اور اطاعت رسول کی اہمیت کو بیان کیا ہے، آپ کی عین ذات بحیثیت رسول احکام کا مآخذ تھی، قرآن مجید میں جا بجا اطاعت الٰہی کے ساتھ اطاعت رسول کو بیان کیا گیا ہے، اس کے باوجود خود دورِ نبوی اور دورِ صحابہ میں یہ رجحان عام تھا کہ فرمانِ رسول کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے، اور صحابہ کو جوں ہی قرآن کی کسی آیت کے مقابل رسول اللّٰہ کے قول سمجھنے میں دشواری ہوتی یا قرآن کی ایک آیت کو دوسری آیت کے مقابل سمجھنے میں پیچیدگی پیش آتی، دفعتاً اپنا اعتراض پیش کرتے، سیدنا عمر، عائشہ، ابن عباس (رضی اللّٰہ عنھم) نے مختلف احادیث کو قرآن کی روشنی میں رد و قبول کے معیار پر پرکھا ہے۔

دوسرے باب میں مذکور ہے کہ ابتدائی اسلامی تاریخ میں حدیث کے تعلق سے کیا کیا نقطاہائے نظر لائے جاتے تھے اور ان کا منھج کیا تھا ؟ خوارج اور معتزلہ کے یہاں قرآن مجید کے فہم میں حرفیت پسندی اور ظاہریت کی بنیاد پر بہت ساری احادیث کو عدمِ قبول کا رجحان عام ہے، اس وجہ سے بے شمار متفق علیہ روایتوں کو بظاہر قرآن کے مقابل ہونے کی وجہ سے رد کردیا گیا، انھیں میں بہت ساری روایات بھی ہیں جن کو احناف اور دیگر صحابہ نے بھی قوبل نہیں کیا ہے، لیکن دونوں گروہوں کے ورلڈ ویو میں بنیادی فرق ہے، ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں ؛

” اس سوال پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں بنیادی فرق نتیجے میں نہیں، بلکہ ذہنی رویے میں ہے، خوارج کا طرزِ فکر قرآن کے مقابلے میں احادیث سے بے اعتنائی کے رویے کا غماز تھا، جس میں ان کی سادہ فکری اور تفقہ کے فقدان نے ایک خاص طرح کی شدت بھی پیدا کردی تھی ” (72)

امام ابن حزم اور اصحاب ظواھر کے علاؤہ تقریبا تمام علمائے امت کے یہاں قرآن مجید کو مآخذِ احکام میں اصل و بنیاد اور سنت رسول کو شرح و وضاحت کا درجہ دینا مسلّم ہے، نیز قرآن مجید کا من و عن قطعی الثبوت ہونا اور اخبار آحاد کا ظنی الثبوت ہونا مسلم حقیقت ہے، اسی پیراڈائم کو مد نظر رکھتے ہوئے امام شافعی رحمہ اللّٰہ نے سب سے پہلے کلامی انداز میں کتاب اللہ کے لئے سنت کا تشریح و تبیین ہونا متنوع حیثیات سے بیان فرمایا ہے ؛ (1) مجمل کی تفصیل (2) محتمل کی تعیین (3) ظاہری مفہوم میں توسیع (4) فروع و لوازم کی توضیح (5) قرآن سے استنباط اور (6) عام کی تخصیص۔ یہی عام کی تخصیص ہے جس میں امام شافعی نے اپنی حیرت انگیز ذہانت و فطری صلاحیت کا ثبوت پیش کیا ہے، اور قرآن وسنت کے باہمی تعلق کو بالکل منفرد انداز میں بیان فرمایا ہے۔

احناف بھی تشریح و تبیین کے ضمن میں ؛ (1) مجمل کی تفصیل(2) محتمل کی تعیین کے سلسلے میں امام شافعی کے ساتھ ہے، لیکن احناف اور امام شافعی کے درمیان نقطۂ اختلاف نسخ القرآن بالسنہ کے اوپر آکر واضح ہوجاتا ہے، امام شافعی کے نزدیک سنت قرآن کی ناسخ نہیں بن سکتی، جبکہ احناف کے یہاں خبر متواتر، خبر مشہور اور وہ خبر واحد جسے تلقی بالقبول حاصل ہو جائے اس سے نسخ القرآن بھی درست ہے۔بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ احناف کے یہاں عام کی تخصیص کا اسلوب نسخ، تغییر اور تبدیل کے زمرے میں آتا ہے جبکہ امام شافعی کے نزدیک عام کی تخصیص بھی تشریح و تبیین ہی کا درجہ رکھتی ہے۔

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے امام طحاوی کے موقف کی وضاحت کی ہے جنہوں نے احناف اور امام شافعی دونوں کے اصولی رجحان سے استفادہ بھی کیا ہے اور اختلاف بھی کیا ہے۔

البتہ امام ابن حزم رحمہ اللّٰہ کا نقطۂ نظر پوری امت کے علماء و فقہاء کے بر خلاف منفرد رجحان پر قائم ہے، ان کے نزدیک کتاب اور سنت دونوں وحی الٰہی پر مبنی ہے، ان میں قطعی و ظنی کا سوال ہی بے معنی ہے، یہاں تک کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کی جو ذمہ دوری لی ہے وہ در اصل وحی الٰہی کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ صحیح حدیث ہو اور اس کی حفاظت کا سامان نہ کیا گیا ہو، چنانچہ امام ابن حزم کے یہاں مآخذ احکام میں قرآن و سنت دونوں کا یکساں مقام ہے، انہوں نے بعض باتوں میں امام شافعی اور احناف سے اختلاف بھی کیا ہے اور اتفاق بھی، اس کی روشنی میں اپنے نقطۂ نظر کو حیرت انگیز انداز میں پیش کیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے ” جمہور اصولیین اور احناف کا مکالمہ ” کے عنوان کے تحت دونوں کے اصولی موقف میں خامیوں اور خوبیوں کو اجاگر کیا ہے، مثلا ؛ احناف کے رجحان میں یہ کہ ؛ جن دلائل سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کہاں اسلوبِ عموم سے اللّٰہ تعالیٰ کی مراد عام ہے اور کہاں نہیں، ان میں عقلی قرائن اور لفظ کے محتمل ہونے کے علاؤہ ایک اہم دلیل یہ بھی ہے کہ ظاہری عموم کے مراد نہ ہونے پر علمائے سلف کا اتفاق ہو یا ان کے مابین اجتہادی اختلاف واقع ہوا ہو، اور انہوں نے اس اختلاف پر کوئی نکیر نہ فرمائی ہو۔ چنانچہ مذکورہ موقف میں آیت کے اپنے اسلوب اور قرائن کے لحاظ سے دلالتِ عموم کے قطعی ہونے میں حدیث جو کہ خارجی قرینہ ہے؛ سے استفادہ نہیں کیا، پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ علمائے سلف کے اجماعی فہم یا باہمی اختلاف کی صورت میں عدمِ نکیر کو(جو خارجی قرائن ہے)کیونکر قبول کیا جاتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ امام طحاوی، علماء ماوراء النھر اور اخیر دور میں علامہ انور شاہ کشمیری نے بھی اسلوبِ عام کے ہر وقت قطعی ہونے میں تردد کا اظہار فرمایا ہے۔

ایسے ہی احناف کا دوسرا نقطۂ نظر یہ کہ ” بیان کے مقارن ہونے ” پر بھی فقہاء نے تنقیدیں کی ہیں۔

نیز شوافع ائمہ نے امام شافعی کے موقف کی علمی الجھنوں کی وضاحت فرمائی ہے ؛ اسلوبِ عموم ہر وقت قابلِ احتمال ہوتا ہے، اور وہ ظنی ہونے کے ساتھ تخصیص کا محتاج ہوتا ہے۔ اسی طرح جوازِ نسخ پر بھی شوافع ائمہ میں؛ امام الحرمین الجوینی، الکیا الہراسی وغیرہ نے اختلاف کا اظہار کیا ہے، یہاں تک کہ جمہور اصولیین ؛ رازی، غزالی، آمدی اور زرکشی وغیرہ نے اسی موقف کی تائید کی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے آٹھویں باب میں امام شاطبی کے منھج ؛ مقاصدِ شریعت کی روشنی میں باہمی تعلق کی نوعیت کو اجاگر کیا ہے، احکام میں مقاصدِ شریعت کی بہت زیادہ اہمیت ہے، امام شاطبی کے یہاں تشریع کے مقاصد اور احکام شرعیہ میں ملحوظ انسانی مصالح کا تصور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، شاطبی مقاصد شریعت کی روشنی میں مآخذ میں قطعیت و ظنیت کی بحث کو حل کرتے ہیں، اس بحث میں ڈاکٹر عمار ناصر صاحب نے پہلے مقاصد شریعت اور مصالح کا مختصر خلاصہ پیش کیا ہے، اس کے بعد ذکر کیا ہے کہ ؛ امام شاطبی کے یہاں نصوص اپنے ثبوت اور دلالت دونوں اعتبار سے قطعی اور ظنی میں منقسم ہیں۔ نیز شاطبی کے نزدیک شریعت کلیات و اصول اور جزئیات و فروع پر مشتمل ہے، کلیات سے مراد اجتماعی مصالح و مقاصد ہیں اور تمام کلیات قطعی دلائل سے ماخوذ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ کلیات ثبوت اور دلالت دونوں اعتبار سے قطعی دلائل پر منحصر ہوتے ہیں، اس بحث میں ڈاکٹر صاحب نے الموافقات سے امام شاطبی کے موقف کی بہترین وضاحت کی ہے۔

امام شاطبی کے نزدیک اخبار آحاد کا ظنی ہونا جس پر فروعات و جزئیات کا انحصار ہوتا ہے، اسے بھی حیرت انگیز نظام کے تحت جوڑتے ہیں، کلیات کے قطعی ہونے کے بعد جزئیات کے ظنی ہونے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے، اس کے لئے انہوں نے ظنی دلائل کی قبولیت کے لئے مذکورہ معیار قائم کیا ہے ؛ (1) ظنی دلیل کسی قطعی اصول کی طرف راجع ہو تو قبول ہے (2) قطعی دلیل کی طرف راجع تو نہ ہو البتہ قطعی دلیل کے معارض نہ ہو تو قبول ہے (3) ظنی دلیل کسی ایک قطعی کے معارض تو ہو لیکن دوسری قطعی دلیل کے تحت آجاتی ہو تو قبول ہے (4) ظنی دلیل قطعی اصول سے معارض ہو اور دوسری قطعی اس کے مؤید نہ ہو تو ایسی ظنی دلیل کو رد کرنا واجب ہے اور ناقابل قبول ہے۔ غرض ڈاکٹر عمار ناصر صاحب نے امام شاطبی کے موقف کی دلنشین وضاحت کی ہے، یہ باب علم و فن سے دلچسپی رکھنے والے ہر طالب علم کے لئے نہایت قیمتی ہے۔

اسی مقاصد شریعت کے پس منظر میں شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی کے نقطۂ کو واضح کیا ہے، اور حجۃ اللّٰہ البالغہ سے کتاب وسنت کے باہمی تعلق کے خطوط کی تعیین کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

اخیر میں مکتب فراہی میں مولانا حمید الدین فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی کے نقطۂ نظر کی وضاحت کرنے کے بعد اپنے استاد غامدی صاحب کے موقف کا خلاصہ اور مذکورہ تاریخی ورثہ سے تقابل پیش کیا ہے، غامدی صاحب کتاب و سنت کے باہمی تعلق کی بحث کو تاریخ میں ہونے والی بحثوں سے کیسے استفادہ کرتے ہیں؟ بطور خلاصہ عرض ہے کہ سنت کے کتاب اللہ کی تشریح و تبیین اور نسخ القرآن بالسنہ میں امام شافعی سے اتفاق کرتے ہیں۔ مآخذ شریعت میں ظنی اور قطعی دلائل میں امام شاطبی سے استفادہ کیا ہے، لیکن شاطبی کے یہاں کلیات تمام کے تمام شریعت کے مجموعی نصوص پر مبنی ہوتے ہیں، جبکہ غامدی صاحب کے یہاں تواتر اور عدم تواتر کو بنیاد کی بحث پیدا ہوتی ہے، اور تواتر میں ان کے نزدیک قرآن مجید کے ساتھ سنت بھی شامل ہے۔(مکتب غامدی کے منھج سے اتفاق و اختلاف فی الحال میرا موضوع نہیں ہے، لیکن یہ بھی اپنی نوعیت کی منفرد داستان ہے)

غرض ” کتاب وسنت کا باہمی تعلق ” نہایت عمدہ اور علمی و تحقیقی مواد پر مشتمل ہے، اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ ایک اعتبار سے امام شافعی کی الرسالہ، امام ابو بکر جصاص کی الفصول فی الاصول، امام ابن حزم کی الإحکام فی اصول الأحکام، امام شاطبی کی الموافقات، شاہ ولی اللّٰہ کی حجت اللّٰہ البالغہ اور جاوید احمد صاحب کی میزان کے اکثر اصولی مباحث کی تلخیص کا گنجینہ ہے، قرآن اور حدیث کے ہر طالب علم کو میں اس بات کا مشورہ دوں گا کہ اس کتاب کو اپنے مطالعہ میں رکھیں ! اور بار بار پڑھیں ! حدیث اور تفسیر پڑھانے والے اساتذہ اس کتاب کے مباحث کو ازبر کرلیں تو سارا مسئلہ ہی حل ہوجاتا ہے۔ میں ڈاکٹر عمار ناصر صاحب کا بے حد ممنون ہوں کہ اس قدر نفیس تحقیقی کتاب پیش فرمائی ہے، یہ اس موضوع کا نقشِ اول ہے، لیکن نقش اول ہی ان مضبوط ستونوں پر قائم ہے کہ مستقبل میں اس موضوع لکھنے والوں کے لئے شاہ کلید ہے۔

✍️: معاویہ محب اللّٰہ

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

ناول : قسم اس وقت کی
کتاب ۔مسئلہ غلامی اور اسلام” تعارف اور تجزیہ

Related Posts

الوافی شرح اصول الشاشی
  • hira-online.comhira-online.com
  • الوافی شرح اصول الشاشی
  • جنوری 27, 2026
  • 0 Comments
الوافی شرح اصول الشاشی

  🌴الوافی شرح اصول الشاشی🌴اساتذہ اور طلبہ کے لیے اصول الشاشی کی ایک بہترین عربی شرح. کتاب : الوافی شرح اصول الشاشی (اصول الشاشی کی عربی شرح)زبان : عربیصفحات : 206تالیف : حضرت مولانا مفتی محمد ذیشان احمد قاسمی صاحب مد ظلہ العالی۔(استاذ مدرسہ امداد العلوم حیدرآباد، انڈیا)واٹس ایپ :+91 9032100126ناشر : مکتبہ احیاء سنت، مدرسہ امداد العلوم، جامع مسجد ٹین پوش، حیدرآباد، تلنگانہ، انڈیا۔تعارف نگار: امدادالحق بختیار (استاذ حدیث وافتاء جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد انڈیا) بر صغیر میں دار العلوم دیوبند کے منہج اور نظام و نصاب کو اختیار کرنے والے بیشتر مدارس کے درسِ نظامی میں اصول فقہ کے مدخل، مبادی اور بنیادی اصطلاحات تعریفات کے لیے سب سے پہلے’’ تسہیل الاصول ‘‘ پڑھائی جاتی ہے، بعض مدارس میں اس مقصد کے لیے دوسری کتابیں بھی شاملِ نصاب ہیں، بعد ازاں بالترتیب اصول الشاشی، نور الانوار اور حسامی کا درس دیا جاتا ہے، یہ تمام کتابیں اپنے موضوع اور مقصد میں بہت مفید ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ طلبہ کو اصولِ فقہ کے موضوع میں سب سے زیادہ جس کتاب سے فائدہ ہوتا ہے، وہ ’’ اصول الشاشی ‘‘ ہے، اس کتاب کی ترتیب ، منہج اور اسلوب بہت شاندار ہے، عبارت سلیس اور آسان ہے، یہ کتاب اصولِ فقہ کی تقریباً تمام بنیادی اصطلاحات، قواعد اور احکام کو جامع ہے، ا س کتاب میں اصول اور قواعد کے ساتھ ایک معتد بہ مقدار میں مثالیں پیش کی گئی ہیں، جس سے قاعدہ اور اس کی تطبیق بخوبی طلبہ کو ذہن نشیں ہو جاتی ہے؛ اسی لیے اصول فقہ کے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان یہ کتاب بہت مقبول ہے۔ اردو میں بھی اس کتاب کی بہت سی شروحات لکھی گئی ہیں اور عربی میں بھی بعض مستقل شرحیں لکھی گئی ہیں اور متعدد حواشی لکھے گئے ہیں؛ تاہم اس کتاب کی کوئی ایسی عربی شرح دستیاب نہیں تھی، جو معاصر زبان، ترتیب اور اسلوب کے مطابق ہو، اور عصری تقاضوں کوپورا کرتی ہو، جس میں اصل کتاب کے تمام مضامین اور اجزاء کی شرح کی گئی ہو، اسی لیے طلبہ کے…

Read more

Continue reading
نام کتاب : تراوش قلم
  • hira-online.comhira-online.com
  • پروفیسر محسن عثمانی ندوی
  • تراوش قلم
  • دسمبر 22, 2025
  • 1 Comments
نام کتاب : تراوش قلم

نام کتاب : ترواشِ قلممصنف: پروفیسر محسن عثمانی ندویصفحات : 464قیمت: ۵۰۰ روپےناشر: مکتبہ نشان راہ ، دہلی تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی ملنے کے پتے :مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ،مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی ” ترواشِ قلم” کتاب کا نام ہے، نام کی ندرت وجدت تخلیقیت کی دلیل ہے،صرف کتاب کے نام میں ہی ندرت نہیں ، بلکہ پوری کتاب ہی ندرت و جدت ، فکر و تدبر اور عمق و استدلال سے معمور تحریروں کا مجموعہ ہے، کتاب کی مثال ایسی ہے گویا کسی کے سامنے یکبارگی مختلف خوش رنگ پھول یکجا رکھ دیے جائیں، وہ کبھی ایک کے رنگ سے آنکھیں چار کرے اور کبھی دوسرے کی خوشبو سے مشام جاں معطر کرے، نہ دیکھنے سے دل بھرے نہ خوشبو سے سیرابی ہو، جی ہاں ! یہ کتاب اپنے دامن ایسے ہی متنوع خوش رنگ پھول رکھتی ہے، اس کتاب میں پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کچھ اپنی کتابوں کے مقدمے ، کچھ دوسروں کی کتابوں پر لکھے گئےاپنے مقدمات اور کچھ متفرق مضامین جمع کر دیے ہیں، عربی میں مقدمات جمع کرنے کی روایت معروف ہے، اردو میں تبصرے جمع کیے جاتے رہے ہیں لیکن مقدمات کا یہ پہلا مجموعہ ہے جو اس وقت راقم کے سامنے ہے، اس کی ہر تحریر رہنما اور شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے، کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، اسلامیات، ادبیات ، شخصیات اور متفرقات، اہل علم جانتے ہیں کہ کتاب کا مقدمہ دراصل موضوع کتاب کا نچوڑ ہوا کرتا ہے، اس پہلو سے یہ کتاب پروفیسر عثمانی کے علمی سفر، تحقیقی ذوق ، تنقیدی مزاج ، اسلوب نگارش، خیالات و افکار اور اہداف قلم کی آئینہ دار اور پوری علمی زندگی کا نچوڑ ہے، کتاب کے آغاز میں پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے ایک طویل پیش لفظ لکھا ہے، انھوں نے نہ صرف کتاب کا مختلف پہلوؤں سے بھرپور جائزہ پیش کیا ہے بلکہ اردو نثر کے "محسن قلم” کی عظمتوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں قطعاً کسی بخل سے کام نہیں لیاہے، اعتراف…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش 11.10.2026
  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 08.10.2026
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی 08.10.2026
  • دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ 08.10.2026
  • قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت 07.10.2026
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف 07.10.2026
  • مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم 06.10.2026
  • مریضوں پر بڑھتا بوجھ 06.10.2026

حالیہ تبصرے

  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت از حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از سعیدی اسلوب: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی زبان و ادب کی خصوصیات 1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ: حیات، خدمات اور وفات پر تاثرات1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی عظیم صفت: اختلافات میں اتحاد اور حکمت 1
  • مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

سیرت و شخصیات

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

  • hira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
سیرت و شخصیات

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
Blog

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سیرت و شخصیات

دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
مضامین و مقالات

قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم
مضامین و مقالات

مریضوں پر بڑھتا بوجھ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مریضوں پر بڑھتا بوجھ
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top