کتاب : یاد رفتگاں
کتاب : یاد رفتگاں(دو جلدیں) مصنف : ماہر القادری مرحوم صفحات مجموعی : 887 مرتب : طالب الہاشمی مرحوم تعارف نگار : معاویہ محب الله یاد رفتگاں کے نام سے ذہن میں صرف علامہ سید سلیمان ندوی کی کتاب ذہن کے پردہ پر نمودار ہوتی تھی، لیکن المعہد العالی الاسلامی میں تعلیم کے دوران لائبریری میں ماہر القادری صاحب کی یادِ رفتگاں دیکھی، دیکھی کیا از اول تا آخر پڑھ ڈالی، نیز ایک اور راز بتاتا چلوں کہ مجھے پڑھی ہوئی کتابیں بار بار پڑھنا پسند ہے، میں اکثر کتابوں کو اس طرح پڑھتا رہتا ہوں، لہذا آج کل دوبارہ یادِ رفتگاں شروع کردی، کتاب اس قدر دلچسپ ہے کہ شروع کر دو بس! اندازہ نہیں ہوتا کہ کتنے صفحات پڑھ لئے۔ ابھی تک کی خامہ فرسائی سے یہ عقدہ بھی کھل گیا کہ کتاب دو سال پہلے پڑھی اور تبصرہ و تعارف اب لکھ رہا ہوں۔ کتاب نہایت عمدہ اور دلچسپ ہے، ماہر القادری مرحوم بہترین شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست نثر نگار بھی ہے، ان کی نثر کی جذب و کشش کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ میں نے جب یادِ رفتگاں پڑھی تھی، اس کے بعد ان کی ہر کتاب چن چن کر پڑھ ڈالی، کاروانِ حجاز، ماہر القادری کے تبصرے، درِ یتیم، بدعت کیا ہے؟(خصوصی مضمون ہے)، فاران کا توحید نمبر میں ماہر صاحب کا مضمون بھی پڑھا، یہاں تک کہ تبصرے دیکھ کر فاران کے اکثر شماروں میں "میری نظر میں” کے عنوان سے تبصراتی کالم ہے، اسے کھوج کھوج کر پڑھا۔ شاید میرا قلم ماہر القادری کی تعریف و تحسین بیان کرنے کے لئے عاجز ہو، لیکن احساسات و جذبات کی کوئی زبان نہیں ہوا کرتی، وہ ہر قاری کتاب دیکھ کر ہی محسوس کر سکتا ہے، لہذا میرا بھی یہی مشورہ ہوگا کہ خود ماہر صاحب کی نثر سے لطف اندوز ہو جائیں۔ یاد رفتگاں اور ماہر صاحب کی وفیات نگاری کا علامہ سید سلیمان ندوی نے کس قدر بہترین خراج پیش کیا ہے ؛ ” میرے بعد تم میرے اس رنگ (وفیات) کو قائم رکھو گے”وفیات…
Read more

