HIRA ONLINE / حرا آن لائن
نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار

نسلوں كی تعمیر میں اساتذه كا كردار! 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏ ابھی ۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء كی تاریخ گزری هے، ۵؍ ستمبر ۱۸۸۸ء هندوستان كے دوسرے صدر جمهوریه ایك ممتاز فلسفی، ماهر تعلیم، قابل استاذ اور مصنف ڈاكٹر رادھا كرشنن كا یوم پیدائش هے، هندوستان میں یه دن ان كی یاد میں هر سال یوم اساتذه كے عنوان سے منایا جاتا هے، اسی مناسبت سے درج ذیل تحریر پیش كی جا رهی هے: حقیقت یہ ہے کہ تعلیم و تدریس نہایت ہی مقدس اور معزز پیشہ ہے ، ہر مذہب اور ہر سماج میں اساتذہ کو بڑا احترام حاصل رہا ہے؛ کیوںکہ سماج میں جو کچھ بھلائیاں اور نیکیاں پائی جاتی ہیں اور خدمت خلق کا جو سروسامان موجود ہے ، وہ سب در اصل تعلیم ہی کا کرشمہ ہے اوردرسگاہیں ان کا اصل سرچشمہ ، اسلام کی نگاہ میں انسانیت کا سب سے مقدس طبقہ پیغمبروں کا ہے ، پیغمبر کی حیثیت اپنے اُمتی کی نسبت سے کیا ہوتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ اس کا ذکر فرمایا ہے اور وہ یہی کہ نبی انسانیت کا مربی اور معلم ہوتا ہے ، و ہ تعلیم بھی دیتا ہے اور انسانیت کو اس علم کے سانچہ میں ڈھالنے کی بھی کوشش کرتا ہے : یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَۃَ (آل عمران :۱۶۴) اسی لئے اساتذہ کا احترام اسی قدر ضروری ہے جتنا اپنے والدین کا ، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما فقہاء ِصحابہ میں ہیں ، حدیث کی نقل و روایت اور فہم و درایت میں بھی بڑے اعلیٰ درجے کے مالک ہیں اور تفسیر و فہم قرآن کا کیا پوچھنا کہ اُمت میں سب سے بڑے مفسر مانے گئے ہیں ؛لیکن اس مقام و مرتبہ کے باوجود صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت زید بن ثابت انصاریؓ کی سواری کی رکاب تھام لیتے تھے اورکہتے تھے کہ ہمیں اہل علم کے ساتھ اسی سلوک کا حکم دیا گیا ہے ، (مستدرک حاکم :۳؍۴۲۳) خلف احمر مشہور امام لغت گزرے ہیں ، امام احمد ؒ ان…

Read more

تبلیغی جماعت: تاریخ، نظریاتی بنیاد، طریقۂ کار اور علمی تجزیہ برصغیر کی دینی و سماجی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تبلیغی جماعت ایک منفرد اور ہمہ گیر اصلاحی تحریک کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس تحریک نے عام مسلمانوں کو بنیادی دینی تعلیم، نماز، ذکر، اخلاق اور دعوت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک سادہ اور عملی طریقۂ کار اختیار کیا۔ تبلیغی جماعت کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عمومی طور پر سیاسی سرگرمیوں اور مناظرانہ اسلوب کے بجائے اصلاحِ نفس، عملی دین اور دعوت و تربیت پر توجہ مرکوز کی۔ اس مضمون میں تبلیغی جماعت کے تاریخی پس منظر، مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی دعوتی جدوجہد، چھ نکات، عملی طریقۂ کار، تاریخی ارتقا، اثرات اور اس پر ہونے والی علمی تنقید کا ایک متوازن جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ تبلیغی جماعت کا تاریخی پس منظر انیسویں اور بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں برصغیر کے مسلمان سیاسی زوال، نوآبادیاتی دباؤ اور معاشرتی کمزوریوں کے مختلف مسائل سے دوچار تھے۔ بہت سے علاقوں میں دینی تعلیم عام لوگوں تک مطلوبہ انداز میں نہیں پہنچ پا رہی تھی، جبکہ بعض علاقوں میں مذہبی شعور کمزور ہونے کے ساتھ مقامی رسم و رواج بھی مسلمانوں کی عملی زندگی پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ خصوصاً میوات کے علاقے میں مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں بنیادی دینی تعلیم اور اسلامی شعائر سے واقفیت کمزور ہونے کی شکایات سامنے آتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے ایسی دعوتی کوشش کی ضرورت محسوس ہوئی جو براہِ راست عوام تک پہنچے، انہیں بنیادی دین سکھائے اور عملی تربیت کے ذریعے ان کی زندگی میں دینی تبدیلی پیدا کرے۔ اسی پس منظر میں مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی دعوتی جدوجہد نمایاں ہوئی۔ مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ اور تبلیغی جماعت کی بنیاد مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ (1885ء–1944ء) برصغیر کی معروف دینی علمی روایت سے وابستہ عالم اور داعی تھے۔ انہوں نے علمی تعلیم کے ساتھ اصلاح و تربیت کے میدان میں بھی کام کیا۔ میوات کے دوروں اور وہاں کے حالات کے مشاہدے سے انہیں…

Read more

تقویٰ کیا ہے؟

تقویٰ آدم علی ندوی   تقویٰ کیا ہے؟ انسان اپنی جسمانی صحت کے لیے بہت سی مرغوب اور پسندیدہ چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص شوگر کا مریض ہو تو طبیعت چاہنے کے باوجود میٹھی چیزوں سے پرہیز کرتا ہے۔ سامنے مٹھائی رکھی ہو، دل اس کی طرف مائل ہو، لیکن صحت کو نقصان پہنچنے کے خوف سے وہ اپنے نفس کو روک لیتا ہے۔ چند لمحوں کی لذت کے مقابلہ میں وہ اپنی صحت کو ترجیح دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح جب انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت و نگرانی کا احساس رکھتے ہوئے، اس کی ناراضی اور عذاب سے ڈرتے ہوئے گناہوں سے بچتا ہے، اس کے احکام کی پابندی کرتا ہے اور اپنی خواہش کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کو ترجیح دیتا ہے تو یہی کیفیت تقویٰ کہلاتی ہے۔ تقویٰ دل کی وہ بیداری ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روکتی اور اس کی اطاعت پر آمادہ کرتی ہے۔ متقی انسان تنہائی اور مجمع، بازار اور مسجد، گھر اور دفتر۔ہر جگہ اپنے رب کی نگرانی کو محسوس کرتا ہے۔ تقویٰ کے درجات تقویٰ کی ابتدا اس بات سے ہوتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچے۔ پھر وہ ان امور سے بھی احتیاط کرنے لگتا ہے جو اسے گناہ کے قریب لے جا سکتے ہیں، اور یہاں تک پہنچتا ہے کہ مشتبہ چیزوں سے بھی اپنے دامن کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ تقویٰ کی بلندی یہ ہے کہ انسان صرف گناہ سے نہیں بچتا بلکہ ان راستوں سے بھی دور رہنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے گناہ تک پہنچا سکتے ہیں۔  تقویٰ دل میں ایک ایسا نگہبان پیدا کر دیتا ہے جو ہر وقت انسان کو برائی سے روکتا اور بھلائی کی طرف متوجہ کرتا رہتا ہے۔ دنیا کا قانون انسان کو بیرونی نگرانی کے ذریعے روک سکتا ہے، لیکن تقویٰ اسے اس وقت بھی گناہ سے روکتا ہے جب کوئی انسان اسے دیکھنے والا نہ ہو۔ تقویٰ کے اثرات جب زندگی تقویٰ سے آراستہ ہوتی ہے تو انسان کے اندر…

Read more

ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار

ذکر الٰہی آدم علی ندوی   انسان کی زندگی کا اصل سرمایہ اس کا دل ہے۔ دل درست ہو تو زندگی کی سمت درست رہتی ہے اور دل غفلت میں پڑ جائے تو بظاہر زندگی کے سارے اسباب موجود ہونے کے باوجود انسان اندر سے ویران ہوجاتا ہے۔ جس طرح جسم کو زندہ رکھنے کے لیے غذا، پانی اور ہوا ضروری ہیں، اسی طرح دل کی زندگی بھی غذا چاہتی ہے، اور اس کی غذا ذکر الٰہی ہے۔ دل کے لیے مال و دولت غذا نہیں، آسائش و راحت غذا نہیں، عزت و جاہ غذا نہیں، حکومت و اقتدار غذا نہیں۔ یہ چیزیں جسم اور زندگی کے ظاہری اسباب تو ہوسکتی ہیں، مگر دل کا اطمینان ان کے ہاتھ میں نہیں۔ دل کی آبادی اپنے رب کی یاد سے ہے۔ جس دل کا تعلق اپنے رب حقیقی سے قائم ہے، وہ زندہ بھی ہے اور آباد بھی، اور جس دل سے اللہ کی یاد رخصت ہوگئی، اس میں غفلت اور ویرانی نے جگہ بنالی۔ اسی حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا کہ اللہ کو یاد کرنے والے اور اللہ کو یاد نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الدعوات، حدیث: 6407)قرآن مجید بھی دل کے اسی اطمینان کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(الرعد: 28)جو لوگ ایمان لائے، ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں۔ یاد رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ ذکر کیا ہے؟ ذکر کیا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف چند تسبیحات اور وظائف گن دینے سے مکمل نہیں ہوتا۔ بلاشبہ ذکر کی اعلیٰ اور افضل صورت یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول مسنون اذکار پڑھے جائیں، زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھا جائے اور صبح و شام کے اذکار کا اہتمام کیا جائے، لیکن ذکر کا مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کو یاد کرنا…

Read more

بیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیمات

بیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیمات از :  مولانا آدم علی ندوی کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بیمار پرسی کی فضیلت صرف ایک معاشرتی رسم نہیں بلکہ اسلامی اخوت، ہمدردی اور حسنِ اخلاق کا اہم حصہ ہے؟ کیا ہمارے معاشرے میں آج بھی لوگ اپنے بیمار پڑوسیوں، رشتہ داروں اور دوستوں کی اسی طرح خبر گیری کرتے ہیں جس طرح اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے؟ آج زندگی کی مصروفیات، مادی مشاغل اور اپنی ذات میں سمٹ جانے کی عادت نے ہمیں ایک دوسرے سے بہت دور کر دیا ہے۔ لوگوں کے پاس ایک دوسرے سے ملنے، حال پوچھنے اور دکھ درد میں شریک ہونے تک کی فرصت کم ہوتی جا رہی ہے۔ پڑوس میں کون بیمار ہے، کس گھر میں کوئی بوڑھا تنہائی کے عالم میں زندگی گزار رہا ہے، کس رشتہ دار کی طبیعت ناساز ہے اور کس شناسا کو کسی سہارے کی ضرورت ہے، بسا اوقات ہمیں اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔ حالانکہ اسلام نے مسلمانوں کے درمیان محبت، ہمدردی اور باہمی تعاون کو بہت اہمیت دی ہے۔ مریض کی عیادت اسی اسلامی معاشرت کا ایک خوب صورت حصہ ہے۔ بیمار پرسی کی فضیلت اور اسلامی معاشرت ہم اس دین کے ماننے والے ہیں جس نے اخوت و بھائی چارے کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اسلامی معاشرت کی بنیاد باہمی ہمدردی، خیر خواہی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شرکت پر رکھی گئی ہے۔ بیماری انسان کی زندگی کا ایسا مرحلہ ہے جب اسے صرف دوا ہی نہیں بلکہ محبت، توجہ، حوصلے اور دعا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ذرا سوچیے! آپ کے پڑوس میں کتنے بوڑھے ایسے ہوں گے جو بیماری کے بستر پر کسی اپنے کے منتظر ہوں گے۔ کتنے مریض ایسے ہوں گے جنہیں دوا کے ساتھ دو بول محبت کی ضرورت ہوگی۔ کچھ لوگ جسمانی تکلیف کے ساتھ تنہائی کی اذیت بھی برداشت کرتے ہیں۔ ایسے میں کسی کا صرف اتنا پوچھ لینا کہ "اب طبیعت کیسی ہے؟” ان کے دل کے لیے مرہم بن سکتا ہے۔ اس لیے کسی بیمار کے…

Read more

صبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیں

صبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں صبر کا حقیقی مفہوم صبر کی اہمیت صرف اس وقت محسوس نہیں ہونی چاہیے جب انسان کسی مصیبت، بیماری یا پریشانی میں مبتلا ہو، بلکہ صبر ایک ایسی دینی اور اخلاقی صفت ہے جس کا تعلق ہماری پوری زندگی سے ہے۔ نیکی پر قائم رہنا، گناہ سے بچنا، خواہشات پر قابو رکھنا، آزمائش کے وقت اللہ پر بھروسہ کرنا اور مشکل حالات میں شریعت کی حدود کی حفاظت کرنا، سب صبر ہی کے مختلف مظاہر ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ صبر کیا ہے؟ کیا صبر صرف مصیبت کے وقت خاموش بیٹھ جانے، آنسو پونچھ لینے اور حالات کو برداشت کرنے کا نام ہے؟ یا قرآن و سنت میں صبر کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے؟ آج جب ہماری گھریلو زندگی، معاشرتی معاملات، اختلافات، کاروباری معاملات اور حتیٰ کہ ہماری زبان اور مزاج میں بے صبری نمایاں ہوتی جارہی ہے، تو ہمیں دوبارہ صبر کی اہمیت کو سمجھنے اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ صبر کیا ہے؟ اس کا حقیقی مفہوم ہم نے صبر کے مفہوم کو اکثر صرف مصیبت برداشت کرنے تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ اسلامی تعلیمات میں صبر ایک جامع اور مسلسل رویہ ہے۔ صبر یہ ہے کہ انسان نیکی کی راہ پر قائم رہے، خواہ نفس اسے روکنے کی کوشش کرے؛ گناہ سے بچے، خواہ خواہش اسے اپنی طرف کھینچے؛ حق پر ڈٹا رہے، خواہ ماحول اس کے خلاف ہو؛ اور آزمائش آئے تو اللہ تعالیٰ سے تعلق مزید مضبوط کرلے۔ اس اعتبار سے صبر زندگی کے ہر مرحلے میں مطلوب ہے۔ نیکی کے لیے جدوجہد کرنا بھی صبر ہے، گناہ کے موقع پر اپنے نفس کو روکنا بھی صبر ہے، ناگہانی حالات میں اللہ پر اعتماد قائم رکھنا بھی صبر ہے اور مصیبت کے وقت زبان کو ناشکری اور شکوے سے محفوظ رکھنا بھی صبر ہے۔ صبر صرف مصیبت برداشت کرنے کا نام نہیں صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے دل میں درد نہ ہو، آنکھوں میں آنسو نہ آئیں یا وہ…

Read more