HIRA ONLINE / حرا آن لائن
معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون

معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون آدم علی ندوی انسان زندگی میں کس کے سہارے جیتا ہے؟ دولت، صحت، قوت، عزیزوں یا ان ظاہری اسباب کے جن کا باقی رہنا یقینی نہیں؟ جب صحت جواب دے جائے، اپنوں کا ساتھ چھوٹ جائے اور ہر طرف سے بے بسی گھیر لے تو پھر کون سا سہارا باقی رہتا ہے؟ مومن کے لیے اس سوال کا جواب واضح ہے: اللہ کا سہارا۔ وہ جانتا ہے کہ حالات بدل سکتے ہیں، ظاہری سہارے چھوٹ سکتے ہیں، مگر اللہ کی معیت ہمیشہ باقی ہے۔ یہی یقین معیتِ الٰہی ہے۔ یہ یقین صرف عقیدے کا مسئلہ نہیں، انسان کی باطنی کیفیت سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ آج ظاہری آسائشیں بڑھنے کے باوجود خوف، تنہائی اور بے چینی عام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان صرف جسم نہیں؛ اس کے اندر ایک روحانی دنیا بھی ہے جو محض مادی آسائشوں سے مطمئن نہیں ہوتی۔ اسے سب سے بڑھ کر اس یقین کی ضرورت ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے۔ اسلام مومن کو یہ خوش فہمی نہیں دیتا کہ اس کی زندگی میں کبھی غم، بیماری یا پریشانی نہیں آئے گی، بلکہ یہ یقین دیتا ہے کہ آزمائش میں بھی اللہ اس کے ساتھ ہے، اس کے حال سے باخبر ہے اور اس کی دعا سنتا ہے۔ چنانچہ مشکل باقی رہ سکتی ہے، مگر دل بے سہارا نہیں رہتا؛ حالات نہ بدلیں تو بھی انہیں برداشت کرنے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ قرآن کہتا ہے :أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(الرعد: ۲۸) یاد رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ گویا حقیقی سکون ہمیشہ حالات کے بدلنے سے نہیں آتا، کبھی اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط ہونے سے حالات کا بوجھ ہلکا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی معیت الٰہی کا باطنی اثر ہے۔ معیت عامہ اور معیت خاصہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی معیت دو مختلف پہلوؤں سے بیان ہوئی ہے۔ ایک عام معیت، جو تمام مخلوقات کے لیے ہے، اور دوسری خصوصی معیت، جو اہلِ تقویٰ، اہلِ احسان اور اہلِ صبر کے لیے…

Read more