HIRA ONLINE / حرا آن لائن
مسلم تاریخ کے روشن دور کا ایک سنہرا باب

از : مولانا احمد الیاس نعمانی بیویوں، بیٹیوں اور گھر کی دیگر خواتین کے لیے نہایت اعلیٰ دینی تعلیم کی فکر چند روز قبل محترم مولانا ڈاکٹر رضی الاسلام صاحب ندوی کی ایک تحریر بعنوان: ‘‘خادماتِ صحیح بخاری’’ نظر نواز ہوئی، اس تحریر میں انھوں نے ایک عربی کتاب ‘‘صفحات مشرقۃ من عنایۃ المرأۃ بصحیح الإمام البخاري’’ (از ڈاکٹر محمد بن عزوز) کا تذکرہ کیا، کتاب کے مباحث کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں پیش کیا اور پھر کتاب میں مذکور ان گیارہ خواتین کا مختصر تذکرہ تحریر فرمایا جنھوں نے زندگی کا بڑا حصہ صحیح بخاری کا درس دیتے ہوئے گزارا، اور ان سے بے شمار مردوں وخواتین نے درس لیا۔مولانا کی اس تحریر کو پڑھنے کے بعد براہ راست مذکورہ کتاب حاصل کرنے اور اس سے استفادہ کی خواہش ہوئی، اللہ کا احسان کہ کتاب آنلائن دستیاب ہوگئی، اب جو اس سے استفادہ کیا تو اس کے شروع کے دو مباحث (فصلوں) نے مسلم تاریخ کے روشن دورکا ایک نہایت زریں ورق سامنے رکھدیا، یہ زریں ورق گو کہ نہایت تابناک ہے لیکن افسوس کہ دوسروں کا تو تذکرہ کیا ہمارے جیسے ان بہت سے لوگوں کو بھی اس کی خبر نہیں جو بہر حال کسی نہ کسی درجہ میں دینی علوم سے وابستہ ہیں، مصنف نے کتاب کے اس حصہ میں تاریخ اسلامی کے ممتاز علما اور ائمہ کے بارے میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ وہ کیسے اپنی بیویوں، بیٹیوں، بھتیجیوں، بھانجیوں اور پوتیوں وغیرہ (یعنی اپنے گھر کی خواتین) کی نہایت اعلیٰ اور گہری دینی تعلیم کی فکر فرماتے تھے، انھیں عظیم علما وائمہ کے درس کے حلقوں میں شریک کرتے، اور اس بات کی کوشش کرتے کہ وہ بھی گھر کے مردوں کی طرح دین کا گہرا علم حاصل کریں، ہمارے اس زمانے میں جب دینی اعتبار سے ممتاز سمجھے جانے والے گھرانوں میں بھی خواتین اور بچیوں کے لیے بنیادی دینی تعلیم کو نہایت کافی سمجھا جاتا ہے اور اس بات کی بالعموم کوشش نہیں ہوتی کہ گھر کی خواتین مردوں کی مانند گہرا…

Read more

کینسر سے زیادہ خطرناک ارتداد

کینسر سے زیادہ خطرناک ارتداد: ایمان کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟ از: قاضی محمد حسن ندوی ایک زمانہ وہ تھا جب لوگ کینسر جیسے مرض سے بہت زیادہ ڈرتے تھے، کیونکہ اسے ایک لاعلاج بیماری سمجھا جاتا تھا۔ آج الحمدللہ طبی ترقی کی وجہ سے کینسر کے بہت سے اقسام کا علاج ممکن ہے اور بہت سے مریض صحت یاب بھی ہوجاتے ہیں۔ لیکن ایک اور مرض ایسا ہے جو انسان کی دنیا و آخرت دونوں کو تباہ کرسکتا ہے۔ وہ ہے ایمان سے محرومی اور ارتداد۔ خاص طور پر جب غلط صحبت، دینی تعلیم سے دوری، اسلامی ماحول کی کمی اور بے لگام تعلقات کی وجہ سے بچے اور بچیاں فکری اور اخلاقی گمراہی کا شکار ہوجائیں تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔ یہ مرض جسم کو نہیں بلکہ انسان کے عقیدے اور ایمان کو متاثر کرتا ہے۔ انسان اگر اپنی صحت کھودے تو علاج کے ذریعے دوبارہ صحت حاصل کرسکتا ہے، لیکن ایمان جیسی عظیم نعمت سے محرومی بہت بڑا نقصان ہے۔ ارتداد کا مسئلہ صرف ماضی کی کہانی نہیں یہ محض ماضی کا کوئی قصہ یا فرضی داستان نہیں، بلکہ مختلف معاشروں میں ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جن میں نوجوان لڑکے یا لڑکیاں جذباتی تعلقات، غلط صحبت یا فکری کمزوری کی وجہ سے اپنے خاندان اور دینی ماحول سے دور ہوجاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کو تبدیل کرکے اپنی زندگی کا راستہ بدل لیتے ہیں۔ ایسے واقعات میں دینی اعتبار سے سب سے بڑا نقصان ایمان جیسی قیمتی دولت سے محرومی ہے۔ اس کے علاوہ جذباتی فیصلوں کے نتیجے میں خاندانی تعلقات، سماجی زندگی اور مستقبل کے حوالے سے بھی مختلف مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس لیے والدین اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھنے اور اس کے اسباب پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ارتداد سے پہلے اسباب کو سمجھنا ضروری ہے کسی بھی بیماری کا علاج کرنے سے پہلے اس کے اسباب اور علامات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ ماہر ڈاکٹر…

Read more

سال نوکی آمد -مرحبا ———-(از:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ)

1445ھ گذرگیا اور ہم 1446ھ میں داخل ہوگیے، یعنی نئے سال کا سورج ہماری زندگی کے مہ وسال سے ایک سال اور کم کرنے والا ہے، ہم موت سے اور قریب ہو گیے، انسان بھی کتنا نادان ہے وہ بڑھتی عمر کا جشن مناتا ہے، مبارک بادپیش کرتا ہے، قبول کرتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ ہماری عمر جس قدر بڑھتی ہے، موت اور قبر کی منزل قریب ہوتی رہتی ہے اور بالآخر وقت موعود آجاتا ہے اور آدمی قبر کی آغوش میں جا سوتا ہے۔ جو لوگ صاحب نظر ہیں اور جن کے ذہن میں فکر آخرت رچی بسی ہوئی ہے، وہ گذرے ہوئے سال سے سبق لیتے ہیں، اعمال کا محاسبہ کرتے ہیں، نئے سال کا استقبال تجدید عہد سے کرتے ہیں کہ آئندہ ہماری زندگی رب مانی گذرے گی، من مانی ہم نہیں کریں گے، اس عہد پر قائم رہ کر جو زندگی وہ گذارتے ہیں وہ رب کی خوش نودی کا سبب بنتا ہے اور اس کے نتیجے میں بندہ جنت کا مستحق ہوتا ہے۔ نئے سال کی آمد پر ہم لوگ نہ محاسبہ کرتے ہیں اور نہ ہی تجدید عہد، بلکہ ہم میں سے بیش تر کو تو یاد بھی نہیں رہتاکہ کب ہم نئے سال میں داخل ہو گیے، عیسوی کلینڈر سب کو یادہے، بچے بچے کی زبان پر ہے، انگریزی مہینے فرفر یاد ہیں، چھوٹے چھوٹے بچے سے جب چاہیے سن لیجئے؛ لیکن اسلامی ہجری سال، جو اسلام کی شوکت کا مظہر ہے، اس کا نہ سال ہمیں یاد رہتا ہے اور نہ مہینے، عورتوں نے اپنی ضرورتوں کے لئے کچھ یاد رکھا ہے، لیکن اصلی نام انہیں بھی یاد نہیں بھلا،بڑے پیراور ترتیزی، شب برأت، خالی، عید، بقرعید کے ناموں سے محرم صفر، ربیع الاول، ربیع الآخر، جمادی الاولیٰ، جمادی الآخر، رجب، شعبان، رمضان، شوال ذیقعدہ اور ذی الحجہ جو اسلامی مہینوں کے اصلی نام ہیں، ان کو کیا نسبت ہو سکتی ہے، ہماری نئی نسل اور بڑے بوڑھے کو عام طور پر یا تو یہ نام یاد نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو ترتیب سے…

Read more

اُسوۂ ابراہیمی : سرِ تسلیم ہے خم تیری رضا کے آگے

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ: المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد آج قربانی کا عظیم الشان دن ہے، ہم اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی رضا کے لیے جانوروں کی قربانی کریں گے،عید الاضحی ہمارے دو سالانہ تہواروں میں ایک ہے، ہم آپ کو دل کی گہرائیوں سے عید الاضحی کی مبارکباد پیش کرتے ہیں، ہم ان ایام میں خوشی کا اظہار کریں گے، اور قربانی کے گوشت سے کام و دہن کی لذت کا سامان کریں گے، جلد ہی قربانی کے تین دن گزر جائیں گے، اور پھر وہی زندگی، وہی شکوے غم دوراں کے، غم جاناں کے، پھر وہی قصے آن اور بان کے، تنگی گذران کے: وہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال وپر کا ہے خوشا وہ کاروان ایمان وعمل جس نے یہ قربانی ابراہیم و اسماعیل علیہما الصلاۃ والسلام کی نقل میں اور ملت ابراہیمی کی اتباع میں کی، کاش وہ ہر ہر عمل میں ان کو اپناراہنما اور رول ماڈل بنالیتا، ایسا تو نہیں انہوں نے زندگی میں تنہا یہی ایک قربانی دی تھی، وفا شعارباپ اور فرماں بردار بیٹے نے کیا خود کو خدا کے سپرد نہیں کردیا تھا! کیا سر تسلیم خم نہیں کردیا تھا! کیا اپنے جذبات کو اپنے رب کریم کے حکم کے تابع نہیں بنادیا تھا! یقینا ًوہ حکم کے بندے اور اشارۂ چشم وابرو کے پابند تھے، ان کی زندگی میں’کیا،’کیوں‘ اور’کیوں کر‘ کے سوالات باقی نہیں رہے تھے، وہ عجز کے اسرار سے محرم تھے، انہوں نے حق کے جس راستہ کا انتخاب کیا تھا اس میں بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار تھے، سچ پوچھئے تو آج بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے موجود ہے، یہ ہماری پسند ہے کہ کیا ہم اس شاہراہ پر چلنے کے لیے تیار ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کوبچپن سے ہی رشدوہدایت کا تمغہ عطا ہوگیاتھا، اسی کا فیض اثر تھا کہ بت پرستی سے حد درجہ نالاں، بیزار ونفور، گھراور بازار میں معبودان باطلہ کی بے وقعتی کا بار بار اظہار ہورہا ہے، قوم کو…

Read more