حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت: سیرت، فضائل اور اندوہناک واقعہ
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور دردناک واقعہ ہے۔ اس مضمون میں آپؓ کی سیرت، فضائل، سخاوت، خلافت اور شہادت کے اہم واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
Read more
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور دردناک واقعہ ہے۔ اس مضمون میں آپؓ کی سیرت، فضائل، سخاوت، خلافت اور شہادت کے اہم واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
Read moreبسم اللہ الرحمٰن الرحیم *بارہ سالہ جہد مسلسل کا ثمرہ ہے اللقاء الثقافی، لکھنؤ: ڈاکٹر محمد ادریس ندوی قاسمی* (اللقاء الثقافی لکھنؤ” کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات و اعزازات: 24-2023 کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد، علماء و دانشوران اور معززین شہر کی شرکت) مؤرخہ 9/ فروری 2023 مطابق 28/ رجب المرجب 1445ھ بروز جمعہ جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات، ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں دار البحث والاعلام، لکھنؤ کی طلبہ ونگ "اللقاء الثقافی لکھنؤ” کی ہفت روزہ تربیتی سیریز بعنوان: *میرا انتخاب، میری تخلیق* *میری تخلیق، میرا انتخاب* کی 100/ویں نشست میں اللقاء الثقافی کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات و اعزازات: 24-2023 کا انعقاد عمل میں آیا۔ دو نشستوں پر مشتمل اس تقریب کی پہلی نشست میں انتخابات و تخلیقات کے نمونے پیش کئے گئے، جس کی صدارت مولانا شمیم احمد ندوی (استاذ: دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ) نے کی، جب کہ تقسیم انعامات کے لیے مختص دوسرے سیشن کے صدر ڈاکٹر محمد ادریس قاسمی ندوی (اسسٹنٹ پروفیسر: شعبۂ عربی لکھنؤ یونیورسٹی) رہے۔ تقریب کا آغاز ابو سفیان (متعلم: مدرسہ سیدنا بلال، ڈالی گنج، لکھنؤ) کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ ابو البرکات (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے نعت نبی پیش کی۔ مولانا مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دار البحث والاعلام، لکھنؤ) نے معزز اساتذہ کرام، مہمانان عظام، اسکالرز، عہدیداران، ممبران و وابستگان؛ اسی طرح مختلف مدارس سے تشریف لائے طلبہ پر مشتمل وفود کا اس شعر کے ساتھ استقبال کیا: وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں ڈاکٹر محمد ادریس قاسمی ندوی (اسسٹنٹ پروفیسر: لکھنؤ یونیورسٹی) نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات اپنے پورے جلوے کے ساتھ آج منعقد ہو رہی ہے۔ یہ درحقیقت بارہ سالہ جہد مسلسل اور سعی پیہم کا ثمرہ ہے۔ میرے لیے نہایت مسرت کی بات ہے کہ میں گزشتہ سات برسوں سے برابر اس کی صباحی و مسائی، ہفتہ واری اور ماہانہ و سالانہ نشستوں کا عینی شاہد ہوں، جس فنائیت کے ساتھ منظم…
Read moreاز : اسجد حسن آج اسلامی تاریخ کا پہلا دن ہے ، آج ہی کے دن امیر المومنین ، مراد قلب رسول ، انتخاب رب العالمین ،فاتح بیت المقدس ، وزیر پیغمبر ، خلیفہ دوم ، فاتح قیصر و کسریٰ، میدان عدالت کے نیر تاباں ، احقاقِ حق کے لیے تیغِ بُرّاں، ابطالِ باطل پہ شمشیرِ عریاں ، مطلوب و محبوب، فاروقِ اعظم، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ عظیم شخصیت ہیں کہ جن کی عدل و انصاف، جرات و بہادری، روشن خدمات پر مبنی فیصلوں، فتوحات اور شاندار کارناموں سے اسلامی تاریخ منور ہے ، آپ رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی قدر عمر بن خطاب، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے، آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب نویں پشت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے ، آپ رضی اللہ عنہ ’’عام الفیل‘‘ کے تقریباً 13 سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور نبوت کے چھٹے سال پینتیس سال کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہو ئے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ بن خطاب ہی ہوتے،( لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ) . اس دنیا میں جتنے انبیاء مبعوث ہوئے ہیں، ہر ایک کی امت میں ایک محدث ضرور ہوا ہے، اگر میری امت کا کوئی محدث ہے تو وہ عمرؓ ہیں صحابہ کرامؓ نے عرض کیا، محدث کون ہوتا ہے؟ تو فرمایا: جس کی زبان سے فرشتے گفتگو کریں، قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم): «لقد كان فيما قبلكم من الأمم مُحدَّثُون، فإِن يك في أمَّتي أحدٌ؛ فإِنَّه عمر».(طبرانی اوسط) آپ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و اہمیت کا اندازہ ان باتوں سے بھی لگا یا جاسکتا ہے کہ قیدیوں کے سلسلے میں آپ کی رائے اور حکم قتل کا…
Read more*خواتین کی تعلیم و تربیت کا نظام، کیوں اور کیسے؟* *……… اس وقت ہمارے معاشرے میں خواتین کے تئیں انتہائی غفلت ہے، ان کی دینی تعلیم و تربیت کا کوئی خاص انتظام نہیں ہے، جو ہے بھی وہ بس رسمی قسم کا ہے، اور اس کا دائرہ بھی بہت محدود ہے، جس کا نتیجہ ارتداد کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے،* ……….. لہٰذا ضرورت ہے کہ قریہ قریہ، بستی بستی، گاؤں گاؤں، شہر شہر، خواتین کی خصوصاً بڑی بچیوں کی تعلیم و تربیت کا نظام ہو ، انہیں آسان اور سادہ لفظوں میں دین اسلام سمجھانے کی کوشش کی جائے، انہیں باقاعدہ سکھایا جائے کہ…. عقائد کیا ہیں ؟ ایمان کیا ہے؟ کفر کیا ہے؟ توحید کیا ہے ؟ شرک کیا ہے؟ دنیا کیا ہے؟ آخرت کیا ہے ؟ حلال و حرام کیا ہے؟ پردہ کیا ہے؟ بحیثیت مسلمان کیسے زندگی گذارنا ہے؟ مسلم خواتین کی اپنے ، اپنے بچوں، اپنے گھر والوں اور اپنے معاشرے کے تئیں ذمہ داریاں کیا ہیں؟ بچوں کی تربیت کیسے کریں؟ گھر کا ماحول کیسے ٹھیک کریں؟ گھر کو جنت کا نمونہ کیسے بنائیں؟ اسلام میں خواتین کا مقام کیا ہے؟….. وغیرہ وغیرہ. *یہ نظام کہاں اور کیسے بنے؟* …….. ہر مسجد، مکتب، مدرسہ ،یا مسلم اسکول کی سطح پر، ہفتہ یا پندرہ دن میں اجتماعات ہوں، باقاعدہ گھنٹے دو گھنٹے کی کلاسز ہوں، ائمہ کرام یا علماء کرام متعین موضوعات پر گفتگو کریں، صرف رسمی بیانات نہ ہوں، بلکہ باقاعدہ پہلے سے موضوعات طے ہوں اور اس پر بات ہو، نیز خواتین ہی میں سے کسی عالمہ یا معلمہ کے ذریعہ دین سیکھنے اور سکھانے کا عمل ہو، اس سے ان شاءاللہ ہماری خواتین کی بھی تربیت ہوگی اور پھر ان کے ذریعہ نئی نسل کی بھی. *ایک دردمندانہ اپیل!* *………. مساجد، مکاتب، مدارس اور اسکول و کالج کے ذمہ داران، علماء و ائمہ کرام اور معاشرے کے تمام فکر مند حضرات سے درخواست ہے کہ اس طرف متوجہ ہوں اور اپنے معاشرے کی نصف آبادی کی فکر کریں کہ اللہ نے آپ کو ان کا بھی ذمہ…
Read moreیکساں سول کوڈ کیا ہے؟ دہلی ہائی کورٹ کا مؤقف، آئینی بنیاد، فوائد و نقصانات اور مسلمانوں کے تحفظات ✍️ اسجد حسن بن قاضی محمد حسن ندوی ہندوستان ایک کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی ملک ہے، جہاں مختلف مذاہب، برادریاں، قبائل اور ثقافتیں صدیوں سے اپنے اپنے مذہبی اور سماجی روایات کے ساتھ آباد ہیں۔ ہندوستانی قانون کے ایک اہم موضوع یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code – UCC) کا تعلق اسی متنوع معاشرے میں عائلی اور شخصی قوانین سے ہے۔ یکساں سول کوڈ کیا ہے؟ اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ شادی، طلاق، وراثت، گود لینا، نان و نفقہ اور بعض دیگر شخصی و عائلی معاملات کے لیے مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں پر یکساں قانونی اصول نافذ ہوں۔ اس وقت ہندوستان میں مختلف مذہبی برادریوں کے لیے بعض عائلی معاملات میں الگ الگ قوانین اور روایات موجود ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ کا یکساں سول کوڈ کے بارے میں اہم تبصرہ جولائی 2021 میں دہلی ہائی کورٹ نے ایک طلاق کے مقدمے کی سماعت کے دوران ہندوستان میں یکساں سول کوڈ کی ضرورت پر اہم تبصرہ کیا۔ یہ معاملہ راجستھان کی مینا برادری سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے سے متعلق تھا۔ سوال یہ تھا کہ ان کے معاملے میں Hindu Marriage Act, 1955 کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں۔ جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ نے 7 جولائی 2021 کے فیصلے میں کہا کہ مختلف مذاہب، ذاتوں، قبائل اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان جب شادی کرتے ہیں تو انہیں مختلف پرسنل لاز کے باہمی اختلافات، خصوصاً شادی اور طلاق کے معاملات میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ عدالت نے آئین ہند کے آرٹیکل 44 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں آئینی امید محض امید بن کر نہیں رہنی چاہیے۔ عدالت نے مزید کہا کہ مختلف عائلی معاملات، مثلاً شادی، طلاق اور وراثت کے لیے مشترکہ اصول، تحفظات اور طریقۂ کار وضع کیے جاسکتے ہیں، تاکہ مختلف پرسنل لاز کے درمیان موجود تضادات سے پیدا ہونے والی مشکلات کم ہوں۔ عدالت نے اپنے فیصلے…
Read more