حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت: سیرت، فضائل اور اندوہناک واقعہ
مظلومِ مدینہ، شہیدِ مدینہ، کاتبِ وحی، حافظِ قرآن، حیا و پاکبازی کا استعارہ، السابقون الاولون میں شامل، صاحبِ ثروت، سخی و فیاض، مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ، عشرۂ مبشرہ میں سے ایک اور دامادِ رسول ﷺ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کی عظیم اور باوقار شخصیات میں سے ہیں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک نہایت دردناک واقعہ ہے۔ آپؓ کی شہادت 18 ذوالحجہ 35 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ یہ واقعہ امتِ مسلمہ کی تاریخ میں ایک بڑے انتشار کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا، جس کے بعد مسلمانوں کے درمیان متعدد داخلی فتنے اور المناک واقعات پیش آئے۔
حضرت عثمان غنیؓ کا اسلام قبول کرنا
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قریش کے معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت اور ترغیب سے اسلام قبول کیا۔ آپؓ ابتدائی دور میں اسلام قبول کرنے والے جلیل القدر صحابۂ کرامؓ میں شمار ہوتے ہیں۔
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عثمانؓ نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان، مال اور صلاحیتیں وقف کردیں۔ مکہ مکرمہ میں مشرکین کی طرف سے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے باعث آپؓ نے حبشہ کی طرف بھی ہجرت فرمائی۔
حضرت عثمانؓ: دامادِ رسول ﷺ اور ذو النورین
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ عظیم شرف حاصل ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی دو صاحبزادیاں آپؓ کے نکاح میں آئیں۔
سب سے پہلے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمانؓ سے ہوا۔ ان کے انتقال کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی حضرت عثمانؓ سے فرما دیا۔
اسی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین یعنی ’’دو نوروں والے‘‘ کہا جاتا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے:
ذَاکَ امْرُؤٌ يُدْعَى فِي الْمَلَإِ الْأَعْلَى ذَا النُّورَيْنِ
یعنی وہ ایسے شخص ہیں جنہیں آسمان کی مجلس میں ذوالنورین کہا جاتا ہے۔
حضرت عثمانؓ کی فضیلت اور جنت کی بشارت
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ عشرۂ مبشرہ میں شامل ہیں۔ متعدد احادیث میں آپؓ کی فضیلت اور جنت کی بشارت بیان ہوئی ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس صحابہ کرامؓ تشریف لا رہے تھے۔ ایک موقع پر حضرت عثمانؓ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں جنت کی بشارت دینے کا حکم فرمایا۔
حضرت عثمانؓ کی عظمت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی حیا کی تعریف فرمائی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت عثمانؓ تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا لباس درست فرمایا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:
أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ
’’کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟‘‘
یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی حیا اور پاکیزگی کی واضح دلیل ہے۔
حضرت عثمانؓ کی سخاوت اور اسلام کے لیے مالی قربانیاں
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انتہائی مالدار تھے، لیکن آپؓ نے اپنے مال کو دنیا کی آسائشوں کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اسلام کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔
غزوۂ تبوک کے موقع پر جب مسلمانوں کو مالی وسائل کی شدید ضرورت تھی، حضرت عثمانؓ نے بڑی مقدار میں مال پیش کیا۔ آپؓ کی سخاوت دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کے بارے میں فرمایا:
مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ
’’آج کے بعد عثمان جو بھی کریں، انہیں کوئی نقصان نہ ہوگا۔‘‘
حضرت عثمانؓ نے مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے لیے بئرِ رومہ بھی خرید کر وقف کیا، جس سے مسلمانوں کو پانی کی سہولت حاصل ہوئی۔
یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپؓ کی دولت محض ذاتی آسائش کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ دین کی خدمت اور مسلمانوں کی فلاح کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
حضرت عثمانؓ کا دورِ خلافت
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ تھے۔ آپؓ کا دورِ خلافت تقریباً بارہ سال پر مشتمل تھا۔
آپؓ کے عہد میں اسلامی سلطنت میں مزید وسعت ہوئی اور اسلام کا پیغام مختلف علاقوں تک پہنچا۔ سابقہ خلفائے راشدین کے دور میں قائم ہونے والی اسلامی سلطنت کو آپؓ نے مضبوطی سے آگے بڑھایا۔
آپؓ کے دورِ خلافت کا ایک عظیم کارنامہ مصحفِ عثمانی کی تیاری اور امت کو قراءت کے اختلافات سے محفوظ رکھنے کے لیے قرآن مجید کے مستند نسخوں کی اشاعت ہے۔
حضرت عثمانؓ کا صبر اور تحمل
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری دور میں بعض لوگوں کی طرف سے آپؓ کے خلاف فتنہ و فساد برپا کیا گیا۔ مختلف علاقوں سے لوگ مدینہ منورہ پہنچے اور آپؓ کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔
اس نازک موقع پر بھی حضرت عثمانؓ نے مسلمانوں کے خون کو بہنے سے بچانے کی پوری کوشش کی۔ آپؓ نے اپنے دفاع کے لیے مسلمانوں کو باقاعدہ جنگ کی اجازت نہیں دی، حالاں کہ صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد آپؓ کے دفاع کے لیے موجود تھی۔
یہ حضرت عثمانؓ کے صبر، حلم اور امت کے خون کی حرمت کا عظیم نمونہ تھا۔
حضرت عثمانؓ کی شہادت
بالآخر 18 ذوالحجہ 35 ہجری کو مدینہ منورہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا۔
شہادت کے وقت آپؓ قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے۔ فتنہ پردازوں نے آپؓ کے گھر میں داخل ہو کر آپؓ کو شہید کردیا۔
حضرت عثمانؓ کی شہادت کا واقعہ امت کے لیے انتہائی دردناک سانحہ تھا۔ آپؓ نے خلافت کی ذمہ داری سے دست بردار ہونے کے بجائے اپنی جان قربان کردی، لیکن مسلمانوں کے درمیان خونریزی کو پسند نہیں کیا۔
حضرت عثمانؓ کی شہادت کے اثرات
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امتِ مسلمہ ایک شدید آزمائش میں مبتلا ہوگئی۔ مسلمانوں کے درمیان سیاسی اور اجتماعی اختلافات شدت اختیار کرگئے اور بعد کے زمانے میں جنگِ جمل، جنگِ صفین اور دیگر بڑے واقعات پیش آئے۔
یہ تاریخ کا ایک ایسا دور تھا جس سے مسلمانوں کو آج بھی بہت سے اسباق حاصل ہوتے ہیں۔
سب سے اہم سبق یہ ہے کہ فتنہ و فساد جب معاشرے میں پھیلتا ہے تو اس کے نتائج نسلوں تک اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو قرآن و سنت، باہمی اخوت، عدل، انصاف اور اہلِ حق کی رہنمائی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے۔
حضرت عثمانؓ کی آخری زندگی اور عظیم قربانی
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت میں گزاری۔ کبھی ہجرت کے ذریعے دین کے لیے قربانی دی، کبھی اپنا مال اسلام کے لیے خرچ کیا، کبھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وفاداری کا حق ادا کیا اور آخرکار مدینہ منورہ میں اپنی جان بھی دین کے لیے قربان کردی۔
آپؓ کی زندگی ہمیں حیا، سخاوت، صبر، حلم، قرآن سے محبت اور امت کے لیے قربانی کا درس دیتی ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت صرف ایک فرد کی شہادت نہیں تھی، بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم تاریخی سبق بھی ہے کہ فتنوں سے بچنا، اتحاد کو قائم رکھنا اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت و حرمت کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سیرت سے سبق حاصل کرنے، ان کی محبت دل میں رکھنے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
از : اسجد حسن ندوی
*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*
شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

