از ابوالحسن نظام الدین محمدفرنگی محلی
سہ شنبہ ۱۴؍ ربیع الآخر ۱۴۴۷ھ مطابق ۷؍اکتوبر ۲۰۲۵ء تقریباً گیارہ (۱۱) بجے یا اس کے کچھ بعد کا وقت رہا ہوگا۔ اچانک فون کی گھنٹی کی بجی۔ دیکھا تو استاذی مولانا ڈاکٹر ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ندوی کا فون ہے۔ فوراً اٹھایا۔ انہوں نے اپنی طبیعت خرابی کے ذکر کےساتھ کہا۔’’سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے‘‘ تواحقر نے کہاکسی ڈاکٹر کو دکھا دلیجئے مگر اُن کو نہیں جن کے یہاں آپ ایڈمٹ تھے بلکہ کسی دوسرے کو۔ کہنے لگے ہاں غالباً بلغم ہے۔ میں نے کہا میں حاضر ہوں گا۔ لیکن کہتے وقت ذہن میں ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ فوراً ابھی جاؤں گا بلکہ کل ورنہ پرسوںجانے کا خیال ذہن میں تھا۔ چند مختصر جملوں کا مزید تبادلہ ہوا۔ اور خاکسار ہی نے اجازت لے کر فون منقطع کردیا۔ہمارے محلہ کی مسجد میں پونے ایک بجے ظہر کی جماعت ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک بجے کے بعد سنتوں سے فارغ ہو کر اندرون خانہ پہنچنے کے بعد فون اٹھایا تو دیکھا کہا بارہ پچپن( ۵۵:۱۲) کی ندوہ سے حافظ مصباح الدین صاحب کی کال لگی ہوئی ہے نیز دفتر الرائد سے مولوی عبدالکریم صاحب ندوی کی بھی کال لگی ہے۔ ابھی کال کرنے ہی جارہا تھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب نے دوبارہ فون کیا اور حادثہ کی اطلاع دی پھر دفتر الرائد ہی سے مولانا عثمان خاں صاحب ندوی نے بھی اسی روح فرساخبرکو دہرایا ۔جس کے بعدحافظ مصباح الدین کو فون کیا۔خبر کی تصدیق کے ساتھ انہوں نےبتایا کہ فہمینہ ہاسپٹل سے جنازہ لے کر اب میں ندوہ جارہا ہوں۔ خاکسار بھی فوراً ندوہ پہنچا جہاں حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد۔ کا منظر سامنے تھا۔طلبہ کے ہجوم کے درمیان مولانا کے جنازہ کی زیارت کی۔ نماز جنازہ کا وقت معلوم کرکے مکان واپس آکر قبل عصرد وبارہ ندوہ پہونچا۔ جہاں بعد نماز عصر فیلڈ میں ہزاروں طلبہ، اساتذہ ودیگر سوگواروں کے مجمع کے درمیان ناظم ندوۃ العلماءجناب مولانا سید بلال عبدالحئی صاحب حسنی ندوی کی ا قتداء میں نماز جنازہ ادا ء کی اور لاش گاڑی میں جا کر اس کی روانگی سے قبل مولانا کے چہرے کی آخری زیارت کرکے واپس آگیا۔
مولانا کا آبائی وطن اٹاوہ تھا وہیں تدفین کے لئے جنازہ روانہ ہوا۔ بارہا مرحوم نے بتایا تھا کہ اُن کا تعلق پٹھان برادری سے ہے اُن کے والد ماجد کانام عزیز احمد خان تھا۔ جن کی وفات کے کچھ عرصہ بعد مولانا نے ان کے حالات پر ایک مفصل مضمون لکھ کر کہیں شائع کروایا تھا۔ جس کا عنوان غالباً عزیز احمد خاں عزیزؔتھا۔ اس کو لکھنے کی غرض سے ایک شب مولانا نے ہمارے مکان پر قیام بھی کیا تھا اس مضمون میں والد کے علاوہ ان کے اوپر کی بھی جتنی خاندانی معلومات اُن کے علم میں تھیں ان سب کو بھی مختصراً اس میں درج کیا تھا۔
ابھی گزشتہ برس ماہ جون یا مئی کی آخری تاریخ رہی ہوگی تب مولانا نے احقر سے فرمایا تھا کہ آج میں ۶۰؍ ساٹھ برس کا ہوگیا۔ موصوف کے والد ماجد کیونکہ ریلوے میں ملازم تھے۔جس کی وجہ سے مختلف مقامات پران کی پوسٹنگ ہوتی رہتی تھی۔ اسی سلسلہ میں مرحوم کے بچپن کا ایک دور والدین کے ہمراہ ٹونڈلہ میں بھی گذرا۔ وہیں کسی استاذ کی صحبت میں اردو ،فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم اور دینی تربیت ہوئی۔ اور مولانا مرحوم کے ادبی ذوق کی وہیں بنیاد پڑی۔ ان استاذ سے اور اُن کے بعد ان کے اہل خاندان سے آخر تک اُن کے سرگرم روابط رہے تھے حالانکہ بارہا اُن کا تذکرہ وہ کیا کرتے تھے۔ لیکن ہم کو ان استاذکا نام یاد نہیں رہا۔ مولانا نے غالباً اسکول کی تعلیم بالکل نہیں حاصل کی تھی۔ لیکن نجی طور پر والد ماجد کی سرپرستی میں انگریزی کی بہترین استعداد پیدا کی۔ ہندی سے بھی کما حقہ واقف تھے۔ غالباً ۱۹۷۹ء میں اُن کے والد ماجد نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں اُن کا داخلہ کرایا۔ جہاں درجہ ثانویہ رابعہ (سوم عربی ) سے اُن کی باضابطہ تعلیم کا آغاز ہوا۔ اس دور کے اُن کے جن رفقائے درس کے نام ہم کو معلوم ہیں اُن میں جناب مولانا مفتی شاہ بدر احمد صاحب مجیبی پھلواری کے علاوہ ندوۃ العلماء کے موجودہ اساتذہ اور ذمہ داروں میں جناب مولانا کمال اختر صاحب ندوی، مولانا اقبال احمد صاحب ندوی غازی پور، جناب مولانا رشید احمد صاحب (مئو ناتھ بھنجن) مولانا شمیم احمد صاحب ندوی اور مولانا فخر الحسن صاحب ندوی ،مولانا شاہد صاحب ندوی ساکن حسین آبادقابل ذکر ہیں۔ ۱۹۸۶ء میں موصوف عالمیت سے اور ۱۹۸۸ء میں فضیلتین سے فارغ ہوئے۔ چونکہ اختصاص فن حدیث تھا لہٰذا مقالۂ فضیلت کے لئے ’’فتن وملاحم‘‘ کے موضوع کا انتخاب کیا اور مولانا خلیل الرحمٰن سجاد صاحب نعمانی ندوی کے اشراف میں اپنامقالہ لکھا۔ان کی یہ خصوصیت تھی کہ اپنا مقالہ فضیلت مکمل ہونے کے بعد ایک سال کے اندر ہی جمع کردیا تھا۔
فضیلت کے فوراً بعد انہوں نے معہد الدعوۃ میں بھی داخلہ لیا تھا۔ جو ایک سال میں مکمل ہوا اور اسی دوران مقالہ بھی مکمل ہوگیا۔فضیلت کے مناقشہ کے دوران استاذ گرامی جناب مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی علیہ الرحمۃ کی نظر انتخاب اُن پر پڑی اورجنہوں نے اُن کو ندوۃ العلماء میں کام کرنے کی طرف توجہ دلائی چونکہ مولانا علیہ الرحمۃ اس وقت صدر شعبۂ عربی ادب تھے۔ لہٰذا ان کے شعبہ کے دفتر میں کس طرح کام کیاجاسکتا ہے اس کی تربیت ان کو دینا چاہی۔ لیکن چونکہ اس وقت انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں غالباً بی اے یا ایم اے میں داخلہ کا فارم کسی کے بدست داخل کرنے کے لئے روانہ کیا تھا لہٰذا مولانا علیہ الرحمۃ کے دفتر میں وہ کام نہیں کرسکے۔ لیکن جب اس سال کسی وجہ سے علی گڑھ میں ان کا داخلہ نہیں ہوسکا تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ امسال وہ اپنا مقالہ بھی مکمل کریں گے اور معہد الدعوۃ میں داخلہ بھی لیں گے۔ جس پر انہوں نے عمل کیا۔۱۹۸۸ء میں فراغت کے فوراً بعد اُن کے والد ماجد کا شدید اصرار تھا کہ وہ جامعۂ ہدایت جے پور میں ملازمت کریں۔ کیونکہ وہاں جگہ نکلی بھی ہوئی تھی۔ لہٰذا والد کے ہمراہ وہاں وہ گئے بھی تھے مگر تقرر نہیں ہوسکا۔ جس کے بارے میں خود ان کا تاثر تھا کہ یہ اُن کے حق میں بہترا ہوا ورنہ وہ تو صرف والد ماجد کے اصرار پر ہی وہاں گئے تھے۔ بلکہ والد مرحوم کی مرضی تو یہ بھی نہیں تھی کہ وہ فضیلت کریں وہ چاہتے تھے کہ عالمیت کے بعد ہی وہ عصری تعلیم مکمل کریں اور جے پور میں ملازمت بھی کریں۔لیکن چونکہ مولانا خلیل الرحمٰن سجاد صاحب ندوی اور جناب مولانا سید سلمان صاحب حسینی ندوی کی صحبت سے متاثر ہو کر ان کا یہ ذہن بن چکا تھا کہ اُن کو نہ صرف فضیلت کرنا ہے بلکہ دینی مدارس میں رہ کر دینی زندگی گزارنا ہی ان کے لئے راجح ہے۔لہٰذا باصرار والد مرحوم سے اجازت لے کر انہوں نے فضیلت کیا۔ الغرض معہدالدعوۃ کی تکمیل کے بعد ۱۹۸۹ء میں ’’الرائد‘‘ میں اُن کا تقرر ہوا۔ جس کے کچھ ہی عرصہ کے بعد اسی سال دارالعلوم میں اُن کے ابتدائی چند گھنٹے بھی لگ گئے تھے مگر اصل وابستگی الرائد ہی سے رہی تھی۔جہاں مولانا سید واضح رشید صاحب حسنی ندوی علیہ الرحمۃ کے فیض صحبت سے خصوصی طور پر مستفید ہونے کا موقع ملا۔ پھر کچھ عرصہ بعدغالباًاس کے آئندہ برس اُن کو مکمل طور پر تدریس سے وابستہ کیاگیا۔ اور ان کو بتایاگیا کہ ’’اب الرائد سے اُن کی وابستگی اخلاقی ہوگی‘‘ ہم کو خوب یاد ہے کہ اسی کے باوجود تدریسی اوقات کے علاوہ اپنا زیادہ ترفارغ وقت وہ دفتر الرائد ہی میں گزارتے تھے۔ یہ صورت غالباً ۱۹۹۰ء کے بعد بھی ابتدائی چند برسوں تک رہی۔ پھر غالباً کسی دوسرے کا اس مقام پر الرائد میں تقرر ہوا۔ جس کے بعد فی الواقع وہاں سے ان کی وابستگی صرف اخلاقی ہی رہ گئی تھی۔ لیکن استاذ معظم جناب مولاناسید واضح رشید صاحب حسنی ندوی علیہ الرحمۃ کی وفات تک نہایت وفاداری اور سعادت مندی سے الرائد کی ہر اس خدمت کو وہ انجام دیتے رہے جس کا مولانا ان کو حکم دیتے تھے۔ چنانچہ زبان وبیان کی نزاکتوں پر اُن کی نظر کو دیکھتے ہوئے جناب مولانا واضح رشید صاحب علیہ الرحمۃ کا حکم تھا کہ پریس میں جانے سے قبل موصوف ایک نگاہ پورے پرچہ پر ضرور ڈال لیا کریں جس کے بعد ہی پرچہ پریس میں جائے۔ استاذ کے اس حکم کی انہوں نے مولانا واضح رشید صاحب علیہ الرحمہ کے آخر دور تک تعمیل کی۔موصوف نے بارہا بتایا تھا کہ جب وہ طالب علم تھے تو جن جن درجات میں عربی انشاء کے گھنٹوں میں جناب مولانا واضح رشید حسنی ندوی صاحب استاذ ہوتے تھے وہاں وہاں مولانانے موصوف کی کسی بھی کاپی میں بغرض اصلاح کہیں بھی کبھی قلم نہیں لگایا۔ کیونکہ اپنے خصوصی ذوق اور محنت کے نتیجہ میں تعبیر کی یا نحو کی کوئی غلطی ان سے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ نہ معلوم کتنے نامور محققین ومصنفین کی اردو اور عربی کتابوں کی زبان انہوں نے درست کی تھی۔ ندوۃ العلماء کے فارغین کے مقالات کے علاوہ بکثرت لوگوں کے پی ایچ ڈی کے مقالات خواہ وہ عربی میں ہوں یا اردو میں از اول تا آخر زبان کا جامہ موصوف نے ہی پہنایاتھا۔ حتی کہ جامعہ ازہر مصر کے ایک اسکالر کا دکتوراہ کا مقالہ مکمل طور پر موصوف نے لکھا۔ کیونکہ خود ان اسکالر کے لئے یہ ممکن نہیں تھا۔ جس پر ان اسکالر صاحب کو دکتوراہ کی سند کے ساتھ جامعہ ازہر سے ایک علیٰحدہ سرٹیفکیٹ بھی دیاگیا کہ اس مقالہ میں زبان وبیان کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ حالانکہ یہ سرٹیفکیٹ ان اسکالر صاحب کے لئے نعمت غیر مترقبہ تھا۔ لیکن یہ درحقیقت ان کو تھا ہی نہیں بلکہ یہ تو مولانا مرحوم کو تھا۔ اس پر طرہ یہ کہ یہ پورا کام بلا معاوضہ کیا تھا۔ یہ ایک ہی مثال یا واقعہ نہیں ہے بکثرت لوگ ان سے اس طرح کے کام لیتے تھے اور کوئی معاوضہ نہیں دیتے تھے۔ بلکہ بعض حضرات معاوضہ کا وعدہ کرتے تھے مگر وہ وعدہ وفا نہیں کرتے تھے۔ عربی اور اردو میں زبان وبیان کی نزاکتوں پر اُن کی گرفت سے چونکہ ان کے تمام شناساابھی واقف ہیں۔ لہٰذا کسی کو بھی ہماری اس بات پر شاید تعجب نہیں ہوگا۔ انگریزی پر بھی موصوف کو بے انتہا قدرت تھی۔انگریزی میں بے تکلف گفتگو بھی کرتے تھے۔ برطانیہ، ساؤتھ افریقہ یا ترکی کے بین الاقوامی اسفار ہوں یا کیرالہ وغیرہ کےمقامی اسفار ہوں انگریزی بولنے کے مواقع خوب آتے رہتے تھے۔ اس کے علاوہ مقامی انگریزی داں افراد سے بھی بے تکلف انگریزی میں گفتگو کرتے تھے انگریزی سے عربی اور اردو میں تو بکثرت ترجمے انہوں نے کئے ہیں۔ اور بعض ترجمے اردو اور عربی سے انگریزی میں بھی کئے ہیں۔ ندوۃ العلماء کے شعبہ ترجمہ سے بھی ایک دور تک باضابطہ وابستہ رہے۔ لیکن جب جسمانی اور ذہنی صحت پر اس کا بوجھ پڑنے لگا تو معذرت کردی۔جہاں تک بزبان عربی خطاب اور گفتگو کا تعلق ہے اس میں تو طالب علمی کے دور سے ہی وہ ممتاز رہے تھے۔ اور موجودہ وقت میں ندوۃ العلماء کی ان چنندہ شخصیات میں ان کا شمار تھا جو عربی خطاب اور گفتگو عبور پرکامل کا نمونہ تھے۔ طلبہ کو بھی مستقل اس کی مشق کرواتے تھے۔اور ایسے مواقع اور شخصیات کے متلاشی رہا کرتے تھے جن سے عربی میں گفتگو کریں۔ ایسے جلسوں میں بھی بصد شوق شرکت کرتے تھے جہاں عربی میں خطاب کا موقع ملے۔ اور ان میں شرکت کے لئے برابر اسفار بھی ہوتے رہتے تھے۔ ندوۃ العلماء کی تعطیلات کے زمانہ میں اندرون ملک گجرات اور کرناٹک وغیرہا کے مختلف مدارس موصوف کو اپنے یہاں مدعو کرتے تھے تاکہ وہاں کے طلبہ عربیت میں ان سے استفادہ کریں یہ سلسلہ آخر وقت تک قائم رہا۔ اور ملک کے طول وعرض میں واقع مختلف مدارس کے طلبہ نے اُن سے عربیت میں استفادہ کیا۔ ندوۃ العلماء کے جن اساتذہ سے وہ متاثر تھے اُن میں جناب مولانا سید واضح رشیدصاحب حسنی ندوی علیہ الر حمۃ کے علاوہ مولانامرحوم عبدالنور صاحب ندوی مرحوم اور مولانا برجیس احمدصاحب قاسمی ندوی مرحوم قابل ذکر ہیں۔جن میں آخر الذکر کی وفات کے بعد ایک موقع پر مرحوم نے کہا تھا کہ جو کچھ ان سے پڑھا وہ ذہن میں راسخ ہوگیا اور بوجہ احسن سمجھ میں آگیا۔ اس ضمن میں گفتگو کو دراز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کتابیں یا مضامین جو ان سے پڑھتے تھے جب موصوف وہ مضامین طلبہ کو پڑھاتے ہیں جس میں لوگ موصوف کی تعریف کرتے ہیں تو ’’درحقیقت یہ اس نقش کا کمال نہیں بلکہ نقاش کا کمال ہوتا ہے جس نے یہ نقش ڈھالا‘‘۔ لیکن لوگ عموماً سامنے والے سے متاثر ہو کر بجائے نقاش کےنقش ہی کی طرف اس کو منسوب کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح اُن کی نگاہ میں مولانا برجیس احمد صاحب مرحوم کی شخصیت کا فن تدریس میں کوئی ثانی نہیں تھا۔
تدریس میں مرحوم جو محنت کرتے تھے اس کی مثال مشکل ہے۔مراجع کی وہ تمام کتابیں جو اُن کی دسترس میں ہوتیں ان پر ایک نگاہ ڈالنے کی کوشش کرتے، ایک ایک لفظ کی تحقیق کرنا چاہتے اور پھر جو رائے قائم ہوتی وہ مجتہدانہ شان کی حامل ہوتی۔ جس پر اُن کو بے انتہاء اعتماد ہوتا۔ ہمیں خوب یاد ہے کہ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں درجۂ ثانویہ خامسہ میں منثورات من ادب العرب اُن کے زیر درس تھی جس میں قاضی ابن خلکان کی کتاب وفیات الاعیان سے حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے احوال نقل کئے گئے ہیں جن کے آخر میں حسب ذیل عبارت درج ہے:
’’ وقال الربیع بن سلیمان المرادی رأیت ھلال شعبان وانا راجع من جنازتہ۔ وقال رأیت فی المنام بعد وفاتہ فقلت یا ابا عبداللہ ما صنع اللہ بک؟ فقال اجلسنی علی کرسی من ذھب ونثر علی اللولوی الرطب۔ وذکر الشیخ ابو اسحاق الشیرازی فی کتاب طبقات الفقھاء ما مثالہ‘‘۔ ص ۸۷
مذکورہ عبارت میں شیخ ابو اسحاق شیرازی نے کیا کہا ہے؟ اور اس کو یہاں قاضی ابن خلکان نے کن معنوں میں ذکر کیا؟۔ اس بارے میں بشمول مولانا شفیق الرحمٰن صاحب ندوی مرحوم اس دور کے ندوۃ العلماء کے نہ معلوم کتنے اساتذۂ عربی ادب سے انہوں نے استفسار کیا۔ جس کے جواب میں سرسری تأمل کے بعد سب بزرگوں نے اُن سے یہی کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت امام شافعی تو بے مثال آدمی تھے۔ یا اُن کا کیا کہنا وغیرہا۔ لیکن تمام بزرگوں کے برخلاف مرحوم اس ترجمہ وتشریح سے بالکل متفق نہیں ہوئے۔ اور انہوں نے کہاکہ اول تو ترکیبی اعتبار سے بھی یہ تشریح نامکمل ہے۔ دوسرے یہ امام شافعی کو بے مثال قرار دینے کے لئے شیخ ابو اسحاق شیرازی کی رائے کو سنداً پیش کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے خود شوافع میں ان سے کہیں بلند شخصیات موجود تھیں جو امام شافعی کو بے مثال مانتی تھیں لہٰذا ان کا حوالہ دیاجانا چاہئے تھا۔ بلکہ خود ابن خلکان کی اسی کتاب میں اس سے اوپر اسی محولہ بالا ترجمہ میں دیگر بلند پایہ شخصیات کی آراء امام شافعی کے بارے میں درج بھی تھیں۔ لہٰذا یہاں یہ مراد نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ’’شیخ ابو اسحاق شیرازی نے اپنی کتاب طبقات الفقہاء میں بھی اسی سے ملتی جلتی بات کہی ہے‘‘۔
یعنی اس سے اوپر امام ربیع بن سلیمان المرادی کے جس خواب کا تذکرہ کیا گیا ہے شیخ ابو اسحاق شیرازی نے بھی اپنی کتاب طبقات ا لفقہاء میں دوسری عبارت اور دوسرے انداز سے سہی اسی سے ملتی جلتی بات کہی ہے جو اس خواب کی مؤید ہے۔
شاید اس عبارت کے درست حل کی تلاش کے دوران یہ خیال بھی ہوا تھا کہ امام ابو اسحاق شیرازی کی کتاب کو بھی اس سلسلے میں ایک نظر دیکھ لیا جائے۔ اب یہ یاد نہیں کہ انہوں نے دیکھا تھا کہ نہیں۔ مگر بہرحال جب تک ان کا منثورات کا گھنٹہ رہا ہے۔ نہایت شرح صدر سے طلبہ کو وہ یہی تشریح بتاتے رہے۔ اور طلبہ مطمئن ہوتے رہے۔ اُن کی یہی وہ خصوصیات تھیں جن کی بناء پر وہ مسلسل ترقی کے منازل طے کرتے رہے۔ اور ثانویہ رابعہ وثانویہ خامسہ کے درجات سے ترقی کرتے کرتے مختصر ہی مدت میں فضیلت تک اُن کے گھنٹے ہوگئے۔ اور دارالعلوم کے ذمہ دار حضرات خود یہ چاہنے لگے کہ اہم اور ادق ادبی کتابیں اُن ہی کے سپرد کی جائیں۔ ہم کو بخوبی یاد ہے کہ غالباً ۲۰۰۷ء سے ۲۰۱۰ء کی درمیانی مدت میں کوئی سال رہا ہوگا جب استاذی جناب مولانا عبدالعزیز صاحب بھٹکلی ندوی مدظلہٗ نے ایک سے زائد بار احقر سے فرمایا کہ استاذ محترم مولانا سعیدالرحمٰن صاحب اعظمی ندوی مدظلہٗ نے ’’الادب العربی بین عرض ونقد‘‘ کا اپنا گھنٹہ چھوڑتے وقت تاکیداً فرمایا ہے کہ ’’میری الادب العربی سوائے نذیر کے کسی کو نہیں دی جائے گی‘‘۔ یعنی کسی دوسرے کا گھنٹہ نہیں لگایا جائے گا۔ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی اور مولانا سید واضح رشید صاحب حسنی ندوی علیہما الرحمۃ نیز مولانا سعید الرحمٰن صاحب اعظمی ندوی مدظلہٗ جیسے اکابر دارالعلوم کو ان کی علوئے استعداد اور زبان وبیان کی نزاکتوں پر اُن کی گرفت کا بھرپور اندازہ تھا۔ اور وہ حضرات تدریس کے علاوہ اہم کتابوں ومجلات وجرائد کی طباعت سے قبل نظر ثانی کی خدمات پربھی اُن کو مامور کرتے رہتے تھے۔ بلکہ بڑوںکی وفات اور مولانا سعیدالرحمٰن صاحب اعظمی ندوی مدظلہٗ کی علالت کے آغاز کے بعد تو ازراہ خیر خواہی ندوہ میں اپنے چھوٹوں کی(جن میں سے بیشتر اب اُن کے شاگرد ہی تھے)تحریروں میں واقع فروگذاشتوں کی از خود نہایت رازداری سے نشاندہی کردیا کرتے تھے۔الغرض اپنی تدریسی زندگی کے ارتقاء کے منازل طے کرتے ہوئےوہ کس مقام پر فائز ہوچکے تھے اس کا اندازہ اُن کے تمام مستفیدین کو ہے۔ اسی مشغلہ تدریس کو ہمیشہ انہوں نے اپنا اصل سرمایہ سمجھا۔حتی کہ انتقال سے تھوڑی دیر قبل تک نہایت سرگرمی سے اسی مقدس مشغلہ کاحق اداء کرنے میں کوشاں رہے تھے۔ اور روز وفات بھی صبح کے دو (۲) تعلیمی گھنٹے مکمل پڑھانے کے بعد کمرے واپس آئے تھے۔
ندوۃ العلماء سے فراغت کے بعد جب علی گڑھ میں ان کا داخلہ فارم جمع نہیں ہوپایا تب لکھنؤ یونیورسٹی سے انہوں نے اولاً بی اے پھر عربی ادب میں ایم اے کرنے کے بعد پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا۔ندوۃ العلماء میں مقالۂ فضیلت کیونکہ فتن وملاحم کےموضوع پر وہ لکھ ہی چکے تھے لہٰذا پی ایچ ڈی کے لئے ’’أدب الفتن والملاحم‘‘ کے موضوع کا انتخاب کیا ۔یہاں یہ خیال رہے کہ مذکورہ تمام عصری امتحانات انہوں نے ندوۃ العلماء کی تدریس کے ساتھ انجام دیئے تھے۔ لکھنؤ یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی کے متعدد شعبوں کی طرح شعبۂ عربی میں بھی کیونکہ روز مرہ کی حاضری بر ائے نام تھی۔ لہٰذا ان کو کوئی دقت بھی اس سے پیش نہیں آئی۔ ان امتحانات کے بعد پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنے میں تاخیر ہوتی چلی گئی کیونکہ تدریسی مصروفیات کے ساتھ اس کے لئے وقت نکالنا ان کے لئے مشکل ہورہا تھا۔ اسی درمیان غالباً مارچ ۱۹۹۹ء میں والدین کے ایماء پر نانیہالی خاندان میں موصوف کی شادی ہوگئی اور اسی سال ۱۹۹۹ء کے آخر میں گردہ کے عارضہ میں والدہ ماجدہ کی وفات بھی ہوگئی۔ وہ جمعہ کا روز تھا۔ لیکن موصوف اس وقت وطن میں نہیں تھے۔ انتقال کی خبر پاکر کسی طرح جب وہاں پہنچے تو نماز جنازہ ہوچکی تھی۔ لیکن متعدد لوگوں کے اصرار پر دوبارہ انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی اور تدفین میں شرکت کی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ والدہ ماجدہ اُن کو از حد چاہتی تھیں۔ اور بچپن سے اُن کو ڈاکٹرنذیر احمد کہا کرتی تھیں۔ غالباً وہ اُن کو انگریزی طبیب بنانا چاہتی تھیں۔ اُن کی وہ آرزو کیونکہ نہیں پوری ہوسکی تھی لہٰذا وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح والدہ کے سامنے پی ایچ ڈی ہی مکمل ہوجائے مگر وہ بھی نہیں ہوسکا۔والدہ کی علالت کے دوران وہ اُن کو لکھنؤ بھی لائے تھے اور جو علاج ممکن ہوسکتا تھا۔ اس کویہاں کروانے اور ہر طرح سے والدہ کی خدمت کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔ مگر اُن کےمرض میں کوئی قابل ذکر افاقہ نہیں ہوسکا اور وہ وفات پاگئیں۔ جس کے بعد اُن کے والد ماجد نے اُن پر شدید دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ جس طرح بھی ہو وہ اپنا مقالہ مکمل کریں۔ خواہ اس کے لئے اُن کو رات میں بیدار رہ کر ہی کام کیوں نہ کرنا پڑے۔ تب انہوں نے اس کام کی طرف خاطر خواہ توجہ کی اور غالباً ۲۰۰۱ء میں اپنا مقالہ مکمل کرکے انہوں نے داخل کیا۔ اورشعبہ عربی لکھنؤ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری اُن کو تفویض ہوئی۔جہاں تک مجھے یاد آتاہے یہ مقالہ موصوف نے جناب مولانا ڈاکٹرمحمد شبیر صاحب ندوی کی نگرانی میں تیار کیا تھا۔
۲۰۰۴ء میں وہ حج بیت اللہ کی سعادت سے مشرف ہوئے تھے۔ پھر حالات سے مجبو ر ہو کر ۲۰۰۶ء سے ۲۰۰۹ء کے درمیان شعبۂ عربی لکھنؤ یونیورسٹی میں جب ملازمت کی جگہ نکلی تو وہ بھی امیدوار ہوئے۔ مگر جیسا کہ عموماً ہوتا ہے کہ وہاں پہلے سے طے تھا کہ کس امیدوار کا انتخاب ہونا ہے لہٰذا انٹرویو میں وہ ناکام ہوگئے۔ جس کے بعد غالباً ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۲ء کے درمیان جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے شعبۂ عربی میں ملازمت کی کسی نے ان کو امیددلائی مگر وہاں سے تو انٹرویو میں طلبی کی نوبت بھی نہیں آئی۔ مرحوم کا خیال تھا کہ ان کے والد نے بھی ملازمت کی مشکلات دیکھی تھیں اور شاید اُن کی قسمت بھی اُن ہی کی طرح ہے۔ ۲۰۱۰ء میں حرکت قلب بند ہونے ہی سے اُن کے والد ماجد کی بھی وفات ہوئی تھی۔ موصوف اس وقت آگرے میں تھے کہ بھائی نے فون پر والد سے بات کروائی جو اس وقت کسی ڈاکٹر کے یہاں والد کو لائے تھے۔مگر والد سے مختصر بات ہی ہوسکی اور انہوں نے کہا کہ وہ بات نہیں کرپائیں گے۔ اور اس کے تھوڑی دیر بعد بذریعہ فون اُن کو بتایاگیا کہ والد کا انتقال ہوگیا جس کے بعد آگرے سے وہ اٹاوہ پہونچے اور اگلے روز والد کی تجہیز وتکفین میں شریک ہوئے۔ اس کو اتفاق ہی کہاجائے گا کہ والدین میں سے کسی کے بھی آخروقت میں وہ اُن کے پاس موجود نہیں تھے۔ البتہ دونوں ہی کی تدفین میں شرکت کی۔ ویسے اپنے وطن اٹاوہ میں رہنے کا ان کو بہت کم اتفاق ہوا۔ اور عمر کا بیشتر وقت لکھنؤ ہی میں گذرا۔ ۲۰۰۰ء کے بعد موصوف ذیابطیس کے عارضے میں مبتلا ہوئے۔ شروع میں ایلوپیتھک دواء لی۔ پھر یہ خیال غالب ہوتا گیا کہ اس کے مضرات بہت ہیں۔ لہٰذا اس کو کم کرکے زیادہ تر یونانی پھر ہومیو پیتھک دوائیں لیتے رہے۔حتی کہ آیورویدک علاج کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔ پھر کسی کے توجہ دلانے پر ۲۰۱۷ء کے آخرمیں کیرالہ جا کر وہاں نیچروپیتھی کے کسی اسپتال میں ایڈمٹ ہوئے اتفاق سے اس وقت اس کا خاطر خواہ فائدہ ہوگیا۔ اور طرز زندگی کی مکمل تبدیلی اور شدید غذائی پرہیز سے وقتی طور پر وہاں کے قیام کے آخر میں شوگر بظاہر بالکل نہیں رہ گئی ۔لیکن وہاں سے واپسی کے بعد جب سابقہ معمولات زندگی بحال ہوئے تو وہ مرض بھی عود کر آگیا۔ لیکن پھر ایلوپیتھک دوائیں سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے عموماً یونانی اور کبھی آیورویدک دوائیں لیتے رہے۔ لیکن پرہیز میں شدت نہیں تھی لہٰذا کیرالہ کے قیام کی طرح پھر بعد میں شوگر بہت کم نہیں رہ پاتی تھی۔ ۲۰۲۱ء کے آخر میں ان کو نسوں سے متعلق کچھ تکلیف ہوئی جس میں بغیر سہارے کے چلنا پھرنا حتی کے کھڑے ہونا بھی مشکل ہوگیا جب انہوں نے کسی بڑے ایلوپیتھک غیر مسلم ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ جس نے متعدد انجکشنوں کا ایک کورس کروایا۔ جس کے نتیجے میں چند ماہ کے بعد وہ اس بیماری سے وہ باہر آئے لیکن شوگر کی ایلوپیتھک دواؤں سے بچنے کا رجحان ان پر تب بھی غالب رہا۔سعودی حکومت کی جانب سے سرکاری مہمان کی حیثیت سے مختلف ممالک سے لوگوں کو مدعو کیاجاتا ہے۔ اسی سلسلے میں ۲۰۲۳ء میں جو کوٹہ ہندوستان میں ندوۃ العلماء کے حصہ میں آیاتھا اس میںاستاذ گرامی منزلت جناب مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی علیہ الرحمۃ نے مرحوم کا انتخاب کیا۔اس انتخاب کے بعد اور مرحوم کےحج سے قبل ہی رمضان المبارک مطابق ماہ اپریل ۲۰۲۳ءمیں حالانکہ جناب مولانا رابع حسنی ندوی کی وفات ہوگئی تھی۔ مگرچونکہ ان کا انتخاب ہوچکاتھالہٰذا اس رمضان کے بعد آنے والے حج میں وہ حرمین شریفین گئے اور مختصر مدت سفر میں حج اور زیارت سے دوبارہ مشرف ہو کر واپس آئے۔ اس کے بعد بھی شوگر کا مرض بڑھتا گھٹتارہا جس کے لئے غیر ایلوپیتھک دوائیں پرہیز کی کمی کے ساتھ وہ لیتے رہے بروز اتوار ۲۹؍ دسمبر ۲۰۲۴ء مطابق ۲۶؍ جمادی الآخر ۱۴۴۶ھ جب بذریعہ ای رکشہ حسب معمول بوقت صبح جب وہ فرنگی محل آرہے تھے ای رکشہ الٹ گیا اور وہ سڑک پر گر پڑے اور اسی حالت میں شدید تکلیف اور پھٹی آستین کے ساتھ وہ یہاں آئے۔ مگر اُن کی تکلیف کو دیکھ کر یہاں اشخاص میں سے ایک صاحب نے ازراہ ہمدردی اپنی بائیک سے اُ ن کو ندوۃ العلماء پہونچایا۔ پھر انہوں نے کسی ڈاکٹر کو دکھایا جس نے غالباً ایکسرے کے بعد بتایا کہ اُن کی ہاتھ کی ہڈی میں فریکچر ہوگیا ہے۔ غالباً اس نے پلاسٹر بھی چڑھایا۔ اور ایک ماہ سے زائد عرصہ تک وہ فرنگی محل نہیں آسکے۔ مگر پھر ۳؍ شعبان المعظم ۱۴۴۶ھ بروز اتوار مطابق ۲؍فروری ۲۰۲۵ء سے یہاں آنے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ لیکن اس کے چند ماہ بعد ایک نئی تبدیلی یہ ہوئی کہ انہو ںنے شوگر کی ایلوپیتھک دواء پھر سے لینا شروع کردی۔ لیکن اس میں ناغے بھی ہوجاتے تھے۔اور کہتے تھے کہ شام کو دواء عموماً بھول جاتا ہوں۔ مگر شوگر خاطر خواہ ڈاؤن نہیں ہوسکی۔
اور طبیعت میں اضمحلال بڑھتا رہا ۔دیگرنئی نئی تکالیف بھی ظاہر ہونا شروع ہوئیں تقریباً تیس برس سے مرحوم کو کولیسٹرول کی بھی شکایت تھی۔مگر اس کے علاج کی طرف کبھی کوئی توجہ نہیں کی ۔پھر بیس جولائی۲۰۲۵ء سے ان کی شدید علالت کا آغاز ہوا ۔اس وقت بھی وہ منظر نگاہوں کے سامنے ہے جب بروز دوشنبہ ۲۱؍ جولائی۲۰۲۵ءمطابق ۲۵؍ محرم الحرام۱۴۴۷ھ بوقت صبح حسب معمول وہ فرنگی محل تشریف لائے ۔نہ تو چلنے کے لائق تھے نہ بولنے کی ہمت تھی اور پہلی ایک نئی بات یہ دیکھی کہ ذہن بھی ٹھیک سے کام نہیں نہیں کر رہا ہے ۔ہاتھ سے اگر کچھ لکھنا چاہ رہے ہیں تو تحریر کچھ کی کچھ ہورہی ہے (اس وقت کی لکھی ہوئی سطریں آج بھی ہمارے پاس موجود ہیں)۔دبی دبی زبان سےہم نے عرض کیا کہ آپ کو تو آرام کی ضرورت تھی آج اگرنہ تشریف لاتے تو بہتر تھا ۔مگر ہمیشہ ان کو یہی خیال رہتا تھا کہ وہ محض اپنی ہمت سے یہاں چلے آتے ہیں ۔پتہ نہیں کب تک آسکیں۔ہم نے کب سوچا تھا کہ یہ ان کی آخری تشریف آوری ہے۔یہاں حاضر باش ایک بزرگ کی طرف انہوں نے اشارہ کیا کہ ان سے کہۓ سڑک تک میرے ساتھ چلیں ۔ چنانچہ سڑک تک وہ صاحب ان کے ہمراہ گئے۔جہاں حسب معمول بائیک پر کوئی نہ کوئی ان کا منتظر ہوتا تھا جس کے ساتھ وہ ندوۃ العلماء چلے جاتے تھے ۔اس روز بھی ایسا ہی ہوا ۔فون پر مستقل اس کے بعد گفتگو ہوتی رہی ۔پھر ۲۶؍جولائی مطابق۳۰؍ محرم الحرام بروز شنبہ ان کی عیادت کے لیے ندوۃ العلماءجاناہوا۔جہاں صدر شعبہ کلیۃ اللغۃ کے دفتر میں ان سے ملاقات ہوئی ۔ کمزوری مزید بڑھ چکی تھی اور ذہن بھی مزید ماؤف تھا ۔بمشکل چند جملے وہ ادا کر سکے۔ یہ ارادہ ظاہر کیا کہ ڈاکٹر کو دکھائیں گے پھر غالباً اسی روز اپنے ایک قدیم شناسا ڈاکٹر فہد خاں صاحب کو دکھایا جن کا محلہ چوپٹیاں لکھنؤمیں اپنا نرسنگ ہوم ہے۔ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے ان کو اپنے نرسنگ ہوم میں داخل ہونے کا مشورہ دیا ۔ جہاں اس شرط کے ساتھ وہ ایڈمٹ ہوئے کہ دن میں مقررہ اوقات پر ندوۃ العلماء جا کر اپنے گھنٹے وہ پڑھا لیا کریں گے اس کے بعد وہ دوبارہ اسپتال آجایا کریں گے ۔اسی معمول کے ساتھ وہ اسپتال میں داخل ہو گئے ۔ جہاں مختلف جانچوں کے نتیجے میں شوگر کے علاوہ ٹائفایڈ اور برانکائٹس نکلا۔جس کا علاج وہاں ہوتا رہا ۔جس سے قدرے بہتری بھی آئی۔مگر مکمل افاقہ نہ ہو سکا۔حالانکہ ڈاکٹر صاحب کی مرضی تو مزید داخل رہنے کی تھی۔ مگر اگست کی کسی تاریخ کو وہ اسپتال سے ندوۃ العلماء واپس آگئے ۔پھر انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ ماہ ستمبر میں جب ندوۃ العلماء میں ششماہی امتحان کے بعد چھٹیاں ہوں گی تو پھر کیرالہ جا کر نیچروپیتھی اسپتال میں اپنا علاج کروائیں ۔چنانچہ مورخہ۳؍ستمبر مطابق۱۰؍ ربیع الاول بروز چہار شنبہ ندوۃ العلماء میں ششماہی امتحان کا آخری پرچہ تھا ۔جس سے فراغت کے بعد اسی روز بذریعہ طیارہ اور شاید تنہا وہ بنگلورگئے۔چوں کہ اس سے آگے کا ریزرویشن نہیں ہو سکا تھا۔ لہٰذا بذریعہ بس وہاں سے کیرالہ جا کر نیچروپیتھی کے اسی سابقہ اسپتال میں داخل ہوئے اور علاج شروع ہوا مگر افاقہ نہیں ہوا لیکن وہاں کے قیام کے آخر زمانہ ہی میں مرحوم نے شاید از خود شوگر کی ایلو پیتھک دوائیں چھوڑ دیں اور صرف یونانی لیتے رہے ۔چونکہ ہر معاملے میں رازداری ان کی فطرت کا خاصہ تھی لہٰذا ان کو یہ بھی اہتمام تھا کہ چند احباب کے سوا کسی کو یہ اطلاع نہ ہو کہ وہ کیرالہ گئےہوئے ہیں حتیٰ کہ گھر والوں کو بھی اس کی خبر نہ ہو ۔جس کے لئے ایک صورت انہوں نے یہ بھی نکالی کہ ہمہ وقت فون بندرکھیں گے ۔کسی مناسب وقت پر اچانک کھول کر جس کو مناسب سمجھیں گے فون کر لیا کریں گے یا کال بیک کر لیا کریں گے راقم الحروف ان خوش بختوں میں تھا جس کو وہاں سے بھی تقریباً روز ہی فون کرتے تھے ۔
ندوۃ العلماء میں چھٹیاں مکمل ہونے کے ساتھ ہی ۲۴؍ ستمبر کو وہ لکھنؤ واپس آگئے۔ بروز پنجشنبہ ۲؍ربیع الآخر ۱۴۴۷ء مطابق ۲۵؍ ستمبر ۲۰۲۵ء اُن کی عیادت کے لئے ندوۃ العلماء گیا، جہاں جدید درسگاہ کی زیریں منزل کے دفتر میں ان سے ملاقات ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد جب ان سے اجازت لی تو کہنے لگے چلئے گیٹ تک چلتے ہیں اس طرح تھوڑی دیر مزید رفاقت ہوجائے گی۔ راستہ میں ہم نے عرض کیا کہ آج آپ کافی دبلے نظر آرہے ہیں۔ بتانے لگے کہ شوگر ڈاؤن نہیں ہوسکی ہے۔ جس کے لئے یونانی دوائیں لیتے رہیں گے غالباً کیرالہ میں کیلے کا شیرہ استعمال ہونے کی وجہ سے شوگر برقرار ہے۔ نیز یہ ارادہ بھی ظاہر کیا کہ کیرالہ میں جو پرہیز کروائے گئے تھے اُن کو یہاں بھی برقرار رکھیں گے۔ مگر فی الحال ایلوپیتھک دواؤں سے بچتے ہی رہنے کا ارادہ تھا۔بلکہ اسی کے لئے کیرالہ جاکر علاج کرانے کی یہ ساری تگ ودو تھی کہ اتنی بیماری اور کمزوری کی حالت میں کیرالہ کا تنہاء سفر کرڈالا اس دوران دیگر باتیں بھی ہوتی رہیں۔ اور ہم لوگ گیٹ تک پہنچ گئے۔ ہم نے کب سوچا تھا کہ اُن سے اس زندگی کی یہ آخری ملاقات ہے۔اس کے بعد چند روز کے لئے وہ اپنے گھر اٹاوہ بھی جا کرواپس آئے تھے۔
یہاں یاد آتا ہے کہ جنوری ۲۰۱۹ء میں استاد محترم جناب مولانا سید واضح رشید صاحب حسنی ندوی کی وفات کے موقع پر جب اُن سے ہم نے یہ عرض کیاتھا کہ مولانا کو کتنی آسان موت عطاء کی گئی تو انہوں نے کہاتھاکہ مولانا اپنی زبان کو محفوظ بھی رکھتے تھے اور یہ بھی کہاکہ مولانا علی میاں صاحب علیہ الرحمۃ کو بھی بے انتہاء آسان موت عطاء کی گئی تھی۔ بعد میں یہ تذکرہ متعدد بار ہوا۔لیکن کس کو اور کب خبر تھی کہ یہی نعمت خود ان کو بھی عطاء ہونےوالی ہے۔ چنانچہ نہ تو اُن کی کوئی نماز بسبب بیماری قضاء ہونے کی نوبت آئی کیونکہ فجرکے کافی بعداورنماز ظہر سے قبل وقت موعودآیا۔اورنہ ہی دنیاوی فرائض میں کسی کوتاہی کی نوبت آئی کیونکہ روز وفات بھی امکانی حد تک تدریسی گھنٹے پورے کئے۔ نہ کسی کو تیمارداری کی زحمت ہوئی۔ نہ ہی بستر مرگ پر دراز ہوئے۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور متعدد بھائی بہن ہیں۔
ندوۃ العلماء سے فراغت کے بعد اپنے والد ماجد کے حکم پر غالباً ۱۹۸۹ء میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی سےانہوں نے بیعت کی تھی۔ ان کے ذریعہ تلقین کئے گئے اور اد وظائف کی پابندی کرتے رہتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ارادہ کیا تھا کہ مولانا شاہ ابرار الحق صاحب علیہ الرحمۃ سے تجدید بیعت کریں گے اس غرض سے ایک بارہردوئی گئے بھی۔ اور اُن سے گزارش بھی کروائی۔ مگر اس وقت غالباً اُن کی طبیعت آمادہ نہیں ہوئی۔ لہٰذا اس کی نوبت نہیں آسکی تب مزید غوروخوض کے بعد مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی علیہ الرحمۃ سے تجدید بیعت کی تھی۔ یہی تعلق آخر تک باقی رہا تھا۔ مسلک ومشرب میں مرحوم کافی سخت واقع ہوئےتھے۔ حالانکہ بزرگوں سے سچی عقیدت تھی اور کوشش کرتے تھے کہ ہر اہم بزرگ کے مزار پر حاضر ہو کر فاتحہ خوانی کریں بایں ہمہ میلاد شریف اور اعراس کی شرکت سے بشدت پرہیز کرتے تھےہمارے یہاں بکثرت اعراس وفواتح منعقد ہوتے ہیں اور نہایت اہتمام سے میلاد شریف ہوتا ہے۔ لیکن اتنے قدیم اور گہرے تعلقات کے باوجود مدۃ العمر مرحوم نے کسی بھی فاتحہ، عرس یا میلاد شریف میں شرکت نہیں کی۔ بلکہ مرحوم نے بتایا تھا کہ ایک بار کسی میلاد شریف میں اُن کو کسی جگہ رکنا پڑ گیا تھاتب بھی بوقت صلوٰۃ وسلام جب قیام کی نوبت آئی تو اُن کا بیان تھا کہ کیونکہ ان کا تعلق ندوہ سے ہے اور اس بارے میں ندوے کا مسلک معروف ہے لہٰذا اسی محفل میں پیچھے جا کر وہ بیٹھ گئے اور کھڑے نہیں ہوئے۔ مرحوم کے اسی مزاج کے پیش نظر ہم نے بھی کسی محفل میں ان کو شرکت کی رسمی دعوت بھی نہیں دی۔ لیکن ان محافل کے بطور تبرک پکنے والے کھانوں سے ان کو کوئی پرہیز نہیں تھا۔ چنانچہ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ اختتام محفل کے بعد دوسرے وقت تشریف لاتے اور طلب فرما کر وہ کھانا بصد شوق تناول فرماتے۔ بلکہ کشمیری چائے جو فرنگی محل کی روایتی محا فل کی جزء ہوتی ہے ۔ اس کے لئے تو مستقل ان کی فرمائش ہوتی کہ ان کے لئے رکھ لی جائے۔ اور اگلے روز تشریف لا کر تافتان کے ساتھ نوش فرماتے بلکہ ایک سے زائد پیالی بھی اگر ہو جائے تو حرج نہیں سمجھتے تھے ۔بعد میں افسوس بھی کرتے تھے کہ حالانکہ شوگر بڑھی تھی مگر’’لذت کام دہن‘‘کے لئے یہ بدپرہیزی کر ڈالی۔
جہاں تک مرحوم کی تصانیف کا تعلق ہےتو البعث الاسلامی کے تازہ شمارے میں جناب مولانا فیصل احمد صاحب بھٹکلی ندوی نے اپنے مضمون میں بعض کے نام شمار کرائے ہیں ان کے علاوہ مختلف شخصیات کی وفات پر بھی ان شخصیات سے متعلق بھی متعددمضامین عربی اور اردو دونوں زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ بعض لوگوں کی فرمائش پر ان سے یا ان کی شاعری سے متعلق یا کسی تصنیف سے متعلق بھی متعدد مضامین لکھے جو شائع بھی ہوئے۔اس کے علاوہ جو مقالات یا کتابیں دوسروں کے مطالبہ پر لکھ کر ان کو دے دیں اور وہ ان ہی دوسروں کے نام سے شائع ہوئیں ان کا کوئی شمار نہیں ہے ۔البتہ ان کی مستقل تصنیف تو ان کا مقالہ فضیلت اور مقالہ پی ایچ ڈی ہی ہے۔بارہا موصوف کی زبان سے یہ سنا’’میں خود تو مصنف بن نہیں سکا‘‘جس کا سبب وہ فکر کی کمی اور ذہن میں مضامین کی بروقت کم آمدکی کمی کو قرار دیتے تھے ۔ لیکن ہمارے گمان میں یہ درست نہیں تھا ۔ بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہوں نے ہمت نہیں کی۔اور اوائل عمر میں خود کو اس کا عادی بنانے کے بجائے ترجمہ نگاری اور محدود ومختصر انشاء تک ہی خود کو محصور رکھا ۔ ورنہ دوسروں کے مقابلہ میں تخلیقی ذہن اور تصنیفی صلاحیت ان میں بھرپور تھی جس کا بذات خود وہ اندازہ نہیں کر سکے۔ جو شخص بھی ان کے تحریر کردہ مضامین کو دیکھے گا وہ ہماری اس راے سے غالباً اتفاق کرے گا۔اور پھر دوسروں کے لیے جب مقالات لکھ سکتے تھے تو اپنے لئے مشکل ہی نہیں تھا ۔مرحوم کو اس بات کی مکمل آگہی تھی کہ زبان وبیان کی درستگی اور اس کی نزاکتوں کا ادراک فطری طور پر ان میں ہے چنانچہ بڑے بڑے عربی واردو مصنفین کی تعبیری فروگزاشتوں کی نشاندہی بغیر کسی مرعوبیت کے کر دیا کرتے تھے ۔ لیکن اس بارےمیں ان کی توجہ کا محور عموماً نثر ہوا کرتی تھی ۔
اپنے دور میں یا قریب العہد جن بزرگوں کی زبان کے قائل اور مداح تھے ان میں مولانا عبدالماجد دریابادی ، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ، مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ، مولانا سید سلمان صاحب حسینی ندوی ، شیخ یوسف القرضاوی اور شیخ محروس المدرس عراقی اور دیگر شخصیات کا بارہا انہوں نے نام لیا تھا ۔ بلکہ اپنے کسی شاگرد میں بھی یہ وصف اگر دیکھتے تھے تو اس کو سراہتے تھے۔ ندوۃ العلماء کے موجودہ مدرسین میں جن اشخاص کو ان سے شرف تلمذ ہے ان میں زبان وبیان کی درستگی کے معیار پر مولانا سلمان نسیم صاحب ندوی کا نیزاستعداد کی پختگی میں مولانا عبدالرشید صاحب راجستھانی کا نام لیتے تھے ۔اپنے معاصرین میں جناب مولانا اقبال احمد صاحب ندوی غازیپوری کو عربی اور اردو دونوں میں اپنے اوپر فوقیت دیتے تھے ۔
جہاں تک موصوف کی طبعی خصوصیات کا تعلق ہے تو شرافت نفس اور سادہ لوحی ان کی سب سے زیادہ نمایاں صفات تھیں بے انتہا بے لوث تھے ۔ کسی بھی ستائش کی تمنا اور صلے کی پرواہ کئے بغیر لوگوں کے کام آتے رہتے تھے ۔جیسا کہ اس قسم کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ مفاد پرست لوگوں کے علم و استحصال کا شکار نہ صرف ہو جاتے ہیں بلکہ برابر ہوتے ہی رہتے ہیں ۔ وہی ان کے ساتھ بھی ہوا۔کیونکہ کسی بھی طرح کے انتقام کی توقع ان سے کسی کو بھی نہیں تھی۔
درحقیقت اللہ تعالیٰ نے ہی نے ان کو اس صلاحیت سے محروم یعنی محفوظ رکھا تھا لہٰذا ان کے متعدد خوردوں نے خوب خوب ان سے فائدے اٹھائے اور پھر ان کی جڑ کاٹنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو انھیں کی فیض صحبت سے قلم اٹھانے اور کتاب پکڑنے کے قابل ہوئے تھے مگر جب ان لوگوں کو ان کی ضرورت نہیں رہ گئی تو بےوفائی میں بھی اپنا ثانی نہیں چھوڑا ۔ا یک طبعی وصف مرحوم میں ایسا بھی تھا جو ذاتی اعتبار سے خوبی مگر دنیاوی اعتبار سے خامی تھا ۔ اور وہ یہ کہ مرحوم دبی دبی شخصیت کے حامل تھے ۔ان کی اس خصوصیت کو ان کا ہر شناسا پہلی ہی ملاقات میں محسوس کر لیتا تھا ۔بتاتے تھے کہ بچپن سے گھر میںاپنے چھوٹے بھائی بہنوں سے بھی دبےرہے ۔اور پھر بعد کے ادوار میں بھی زندگی کے ہر موڑ پر دبے ہی رہے ۔ کہتے تھے کہ کبھی کسی کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا تو دھیمے سے اور بات بھی کرتے تھے تو دھیمے سے ۔کسی پر اپنے خیال میں زور دار تنقید بھی کی تو اس کو ایسا لگا کہ کسی خوبی کی طرف اشارہ کر رہے ۔کھل کر دو ٹوک بات کرلینا ان کے لیے آسان نہیں تھا ۔ غالباً الکنایۃ ابلغ من الصریح پر ان کا عمل تھا ۔ اگر کسی شاعر نے اپنے کلام پر مضمون کی فرمائش کی اور اس کے کلام میں ان کو سقم نظر آیا تو لکھ دیا کہ کہ اگر مشق سخن جاری رہی تو امید ہے کہ آئندہ نقوش مزید تابندہ ہوں گے ۔یا کسی مصنف نے اپنی کتاب پر تبصرے کی دعوت دی اور وہ کتاب ان کی نگاہ میں نقاش کا مجموعہ ہوئی مگر تعلقات کی مجبوری کے تحت لکھنا پڑا تو اس میں درمیان میں کسی مقام پریہ بھی لکھ دیتےکہ اللہ تعالیٰ ان صاحب کی عمر مزید دراز کرے آئندہ فلاں فلاں باتوں کا بھی یہ اس میں اضافہ کر دیں۔جس طرح غالب کو اپنی صلاحیت کا بھرپور اندازہ تھا اور انہوں نے یہ کہا تھا ؎
اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
مگر اک شعر میں انداز رسا رکھتے تھے
اپنی شخصیت کی مناسبت سے مولانا مرحوم کو بھی اس کا احساس تھا کہ نثر کی حد تک زبان وبیان کی درستگی کا ایک شعور ان کو فطری طور پر ودیعت کیا گیا ہے ۔اپنی عربی اور اردو اور ایک حد تک انگریزی کے بارے میں بھی وہ سمجھتے تھے کہ ان کی زبان بالکل درست ہوتی ہے۔ اور معاصرین میں جو لوگ زبان وبیان کی نزاکت اور درستگی کا زیادہ احساس نہیں رکھتے تھے ان کی تسامحات پر گرفت بھی کرتے تھے ۔اگر کوئی اپنی تخلیق بغرض اصلاح پیش کرتا تو بہت خوشی سے قبول کرتے تھے ۔
الغرض شخصیت کے دبے ہونے کی وجہ سے کیونکہ اپنی بات مناسب طریقہ سے کہہ نہیں پاتے تھے اوردوسروں حتی کہ چھوٹوں تک کی باتوں اور رویوں کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔ اور طبیعت از حد حساس تھی جس کی وجہ سے چھوٹی سی بات کا بھی ذہن پر بہت زیادہ اثر لیتے تھے ۔جس کے نتیجے میں بتدریج احساس مظلومیت ان پر حاوی ہوتا چلا گیا جس کا ان کی صحت پر منفی اثر پڑنا شروع ہوا۔۲۰۰۰ء کے بعد ان کو ذیا بیطس کا عارضہ لاحق ہوگیا۔ حالانکہ اُن کے دادیہال اور نانیہال دونوں میں اس عارضہ کا وجود نہیں تھا۔ پرہیز میں شدت کبھی نہیں کی۔ جس کی وجہ سے یہ عارضہ بڑھتا رہا۔ اور قابو میں نہیں آیا۔ ہومیوپیتھک،یونانی اور آیورویدک دوائیں تو لیتے تھے مگر ایلوپیتھک دواؤں سے بچنا چاہتے تھے۔ہومیوپیتھک میں ڈاکٹر علیم عثمانی صاحب کرسوی مرحوم جب تک حیات رہے عموماً ان ہی سے رجوع کرتے رہے اور آخر دور میں یونانی علاج کیلئے حکیم عبدالجلیل خاں صاحب (سہوا پور ضلع سیتاپور) سے رجوع کرتے تھے۔ اس کے علاوہ دور طالب علمی ہی سے مرحوم مختلف عاملوں کے چکر میں بھی پڑے رہتے تھے حتیٰ کہ ندوۃ العلماء میں زیر تعلیم طلباء بھی جب اپنے عامل ہونے کا دعویٰ کرتے تو اُن سے مستفید ہونے میں بھی کوئی عار نہیں سمجھتے تھے۔ اور اس سلسلے میں نہ معلوم کتنا بھی پیسہ کیوں نہ دینا پڑے وہ خرچ کرڈالتے تھے۔ یہ ذوق آخرتک رہا۔ حتی کہ رواں برس جولائی میں جب علالت کا آغاز ہوا ۔ اور ذہن ماؤف ہوگیا۔ تو افاقہ کے بعد جب ہم نے عرض کیا کہ آپ کے ذہن پر بھی اس مرتبہ بیماری کا اثر ہوا۔ تو کہا وہ تو اثرات تھے۔ یہ مزا ج کافی شدت سے غالب تھا بلکہ جن اساتذہ اور بزرگوں کی دراز عمری اور بقائے صحت کا ذکر کرتے تو کہتے علاوہ دواؤں اور پرہیز کے وہ حضرات کیونکہ مختلف عاملوں سے بھی رابطہ رکھتے ہیں جو اُن سے اثرات کا دفعیہ کرتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک بقید حیات اور تندرست ہیں۔
مولانا مرحوم کو سفر کا شوق بچپن سے تھا۔ والدماجد کیونکہ ریلوے میں ملازم تھے۔ لہٰذا ان کے دور ملازمت تک تو فیملی کو پاس کی سہولت تھی۔ جس کے تحت مختلف اسفار ہوتے رہے۔ اُن کی سبکدوشی کے بعد مرحوم از خود مختلف اسباب پیدا کرکے اس کا موقع نکالتے رہے۔ حتیٰ کہ ۲۰۲۲ء کے آغاز میں جب چلنا پھرنا بلکہ اٹھنا اور بیٹھنا تک سہارے سے ہورہا تھا۔ تب بھی ہوائی جہاز سے بمبئی کا ایک سفر کرلیا تھا۔ متعدد بین الاقوامی اسفار ہوئے جو زیادہ تر جناب مولانا سید سلمان صاحب حسینی ندوی مدظلہٗ نے کروائے تھے۔ جن میں دو مرتبہ برطانیہ اور ایک مرتبہ ۲۰۰۶ء میں ساؤتھ افریقہ نیز ایک یا اس سے زائد مرتبہ متحدہ عرب امارات کے اسفار تو انہیں کی عنایات کا نتیجہ تھے۔ جہاں تک خیال آتا ہے شاید بنگلہ دیش کا سفر بھی ہوا تھا۔ لیکن اس کے بارے میں ہم کو زیادہ معلوم نہیں ہے کہ کب؟ اور کس کے ذریعہ اور کس عنوان سے ہوا تھا؟ ملائشیا یا کسی اور ملک کا سفر اگر ہوا ہو تو ہمیں اس کی اطلاع نہیں ہے۔ سنہ تو صحیح طور پر نہیں یاد ہے شاید ۲۰۱۸ء یا ۲۰۱۹ء رہا ہوگا جب مرحوم نے اپنی پرانی خواہش کے تحت ترکی جانا چاہا۔ تو اس کے لئے جناب مولانا سید سلمان صاحب حسینی ندوی مدظلہٗ کے صاحبزادے مولانا سید یونس صاحب حسینی سلمہٗ سے مرحوم نے فرمائش کی۔ جنہوں نے قریبی رمضان المبارک میں مرحوم کو وہاں کا سفر شایان شان طریقہ سے کروایا۔ بیرون ملک کا آخری سفر تو ۲۰۲۳ء میں مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی علیہ الرحمۃ کے انتخاب پر سرکاری مہمان کی حیثیت سے حج کاہوا تھا۔جس کا تذکرہ اوپر آچکا ہے لیکن زندگی کا آخری سفر تو وہ تھا جو کیرالہ سے واپسی کے بعد وطن اٹاوہ کا ہوا تھا۔ جہاں سے قریبی سنیچر ہی کو لکھنؤ واپس آئے تھے۔مولانا مرحوم کا ایک خاص ذوق لوگوں سے ملاقات اور تعلقات استوار کرنے کا تھا۔ کوشش کرتے تھے کہ از خود ہر اہل تعلق سے ملیں اور روابط برقرار رکھیں۔ جس کے لئے اپنے خرچ پر قریبی علاقوں کے اسفارسے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ اس سلسلے میں بہت بے لوث تھے۔ یہ کبھی نہیں دیکھتے تھے کہ دوسرا شخص ان کو صحیح اہمیت دے بھی رہا ہے کہ نہیں۔ ہر ایک کے کام آنا اور اس کی للہ فی اللہ خدمت کرنا بلکہ قربانیاں تک دینا اُن کی فطرت کا خاصہ تھا۔ اسی طرح ہر معاملہ میں رازداری برتنا بھی ان کے مزاج کا حصہ تھا۔ کب کہاں جارہے ہیںکیا کررہے ہیں۔چاہتے تھے کہ اپنے وبیگانے کسی کو مطلق اس کاپتہ نہ چلنے پائے ۔ کیرالہ کے آخری سفرکے ضمن میں یہ ذکر اوپر ہوچکا ہے کہ کس طرح یہ اہتمام تھا کہ کسی کو علم نہ ہونے پائے کہ وہ وہاں گئے ہوئے ہیں۔ مرحوم کی ایک ہمشیرہ محلہ ڈالی گنج لکھنؤ میں رہتی ہیں۔ جن کے گھر برابر جاتے رہتے تھے اور گاہے بگاہے رات میں بھی وہاں رُک جاتے تھے۔ بلکہ دسمبر ۲۰۲۱ء سے آغاز۲۰۲۲ء تک جب علیل چل رہے تھے۔ تو انہیں کے گھر پر مستقل قیام تھا۔ بلکہ ۲۰۲۰ء کے لاک ڈاؤن میں بھی وہیں مقیم رہے تھے۔ مگر اس کا اہتمام تھا کہ کسی کو بھی حتی کہ ندوۃ العلماء کے لوگوں کو بھی یہ اطلاع نہ ہو کہ لکھنؤ میں اُن کی کوئی بہن بھی رہتی ہیں۔ وطن کے لوگوں کا پتہ یا کسی کا فون نمبردینے کا توسوال ہی نہیں تھا۔ چنانچہ اُن کے انتقال کے بعد ندوۃ العلماء کے لوگوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ اُن کے گھروالوں سے کیسے رابطہ کیا جائے۔ وہاں کے لوگوں کو راقم الحروف سےمرحوم کے قریبی تعلقات کا علم تھا۔جس کی وجہ سےہم ہی سے رابطہ کیا۔ تب ہم نے ہی عرض کیا کہ ڈالی گنج میں اُن کی ایک بہن رہتی ہیں لیکن ان کے مکان کا صحیح محل وقوع ہم کو بھی نہیں معلوم ہے۔لہٰذا اُن کےموبائل سے اُن کے اعزہ کا پتہ معلوم کرنے میں مدد لی جائے۔
اپنے ادارے سے مرحوم کی وفاداری ہردور میں بے مثال رہی تھی۔ حتی کہ موجودہ ناظم ندوۃ العلماء جناب مولانا سید بلال عبدالحئی صاحب حسنی ندوی کی حسن معاملت کی بھی بے حد تعریف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ’’باتوفیق شخص ہیں‘‘۔ ندوۃ العلماء کی طرف سے بھی اُن کے انتقال کے بعد ہر سطح پر مرحوم کوشایانِ شان خراج عقیدت پیش کیاگیا۔ ان کی وفات پر ادارے کے ذمہ داروں کی طرف سے باصرار ان کے جنازے کو اتنا روکا گیا کہ اولین نماز جنازہ یہاں ادا ء کرلی جائے۔ چنانچہ یہاں نماز پڑھی گئی۔ جس میں اساتذہ کے ساتھ ہزاروں طلبہ ودیگر ذمہ داروں نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ ندوۃ العلماء سے شائع ہونے والے مجلات میں تعمیر حیات کے علاوہ’’ البعث الاسلامی‘‘نے تو مرحوم پر خصوصی شمارہ شائع کردیا۔ جس میں بکثرت مضامین شائع ہوئے۔ جن میں علی الخصوص موجودہ ناظم ندوۃ العلماء جناب مولانا سید بلال عبدالحئی صاحب حسنی ندوی کے البعث الاسلامی میں شائع ہونےوالے مضمون بعنوان ’’ ایقونہ العلم والادب فقد ناھا‘‘ العالم الادب نذیر احمد الندوی: رجل المواھب والقدرات ‘‘ کے تحت اولیں سطر میں یہ نگارش کیا ہے:-
’’فقد فجعت ندوۃ العلماء ومعھا اوساط العلم والادب فی الھند بوفات الادیب الادیب العالم النبیل المومن الکریم المعلم الرحیم الاستاذ نذیر احمد الندوی رحمہ اللہ الذی وافتہ المنیۃ۔۔۔۔۔۔الخ‘‘
اس سے زیادہ شایان شان خراج عقیدت مرحوم کو اور کیا ہوسکتا ہے۔
مرحوم کی ذات سے متعلق تو ہمارے سامنے یادوں کا ایک انبار ہے جو ہمارے اور اُن کے پینتالیس (۴۵) برسوں کے تعلقات پر محیط ہے۔ لہٰذا جتنا بھی ہم لکھتے چلے جائیں شاید وہ ہم کو نامکمل ہی لگے گا۔ لہٰذا اُن سے متعلق اتنے ہی مضمون پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ ہمیں آج بھی بخوبی یاد ہے کہ ۱۹۸۰ء کے کسی ماہ کی کوئی تاریخ رہی ہوگی دن شایدجمعہ ہو ہمارے والد ماجد کی حقیقی خالہ یعنی اہلیہ جناب معین الدین حسن صاحب علوی کاکوروی مرحوم(ریٹائرڈ انگریزی لیکچرار امیرالدولہ اسلامیہ کالج لکھنؤ) دن میں دس سے گیارہ بجے کےآس پاس دیکھا کہ چلی آرہی ہیں۔ جن کے پیچھے ان کا سامان اٹھائے ہوئے مولویانہ لباس میں ایک دبلا پتلا ادھورے قدوقامت کا ایسا لڑکا بھی چلا آرہا ہے۔ جس کے ابھی ریخیں بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے آکر کہا ’’یہ نذیر ہیں‘‘ اور شاید یہ بھی بتایا کہ اُن کے شوہر کے شاگرد کے بیٹے ہیں۔ پھر پتہ چلا کہ یہ ندوے میں پڑھتے بھی ہیں۔غالباً انہوں نے بتایا کہ وہ چہارم عربی میں پڑھتے ہیں۔ اس زمانہ میں ثانویہ خامسہ کو چہارم عربی کہاجاتا تھا۔بذات خود ہم بھی اس وقت معہد ندوۃ العلماء میں درجہ چہارم کے طالب علم تھے۔ اس زمانے میں سوم عربی(ثانویہ رابعہ) سے آخر تک تمام درجات دارالعلوم کی قدیم عمارت میں ہوا کرتے تھے۔ لہٰذا دارالعلوم کی عمارت میں پڑھنے والی کسی بھی شخصیت کو معہد کے طلباء اپنے سے بہت اونچا سمجھتے تھے لہٰذا وہ بھی ہمارے لئے بڑی شخصیت یا بڑے لوگوں میں تھے۔ پھر تو یہ معمول ہوگیا کہ اکثر وبیشتر یہ اُن مرحومہ کے ساتھ ہمارے یہاں آنے لگے۔عموماً دس گیارہ بجے آتے۔ یہ آمد زیادہ تر جمعہ کے روز ہوتی تھی۔ لہٰذا نماز جمعہ والد صاحب کے ہمراہ فرقانیہ جا کر ادا کرتے۔دوپہر کھانا بھی ہمارے ہی یہاں کھاتے۔پھر عموماً عصر کے بعد اُن مرحومہ کو لے کر رکشہ سے واپس ان کی رہائش گاہ قندھاری لین لال باغ جاتے۔ اس وقت سے ہماری دادی اور والدہ آخر تک اُن سے پردہ نہیں کرتی تھیں۔ اور جب تک وہ دونوں بقید حیات رہیں وہ اُن سے ملنے اندرون خانہ ضرور آتے تھے۔وقت گزرتا گیا ۔اور مرحوم تعلیمی مراحل میں بھی آگے بڑھتے گئے ۔قدوقامت بھی بڑھتارہا۔ اور پھر چند سال بعد عینک بھی لگ گئی۔ یہ پابندی تو شروع ہی میں انہوں نے ختم کردی تھی کہ وہ صرف اُن مرحومہ ہی کے ہمراہ آئیں گے۔ بلکہ جب بھی موقع ملتا وہ خود بھی ہمارے گھر چلے آتے۔جب مرحوم غالباً عالیہ ثالثہ (ہفتم عربی) میں رہے ہوں گے اور شاید یہ ۱۹۸۳ء یا ۱۹۸۴ء کی بات ہوگی کہ ہم کو یہ داعیہ پیدا ہوا کہ ہم اُن سے کچھ عربی پڑھیں۔ چنانچہ بعد عصر عموماً کھڑ کھڑے کسی نہ کسی کو لے کر ہم ندوے جاتے اور مسجد میں اُن سے پڑھتے۔ شاید تمرین الصرف یا القراءۃ الراشدہ وغیرہ کے چند ہی اسباق تک یہ سلسلہ رہا۔ کیونکہ زیادہ دن ہم اس کو برقرار نہیں رکھ سکتے تھے۔ لیکن وہ ہمارے یہاں حسب معمول برابرآتے رہے اور ہم بھی اُن سے ملنے اُن کے کمرے جاتے رہے۔ یہاں یہ واضح رہےکہ مرحوم اپنی طالب علمی کے آغاز میں سلیمانیہ میں رہا کئے۔ جس کے بعد رحمانیہ منتقل ہوئے۔ جہاں کے آخری کمرے میں( جس کا نمبر غالباً ۱۴؍ یا ۱۵؍ تھا۔) فضیلت کے اختتام تک اُن کا قیام رہا۔ پھر فضیلت کے بعد اپنےمختصر دور تذبذب میں جب انہوں نے معہد الدعوۃ میں داخلہ لیا تب معہد القرآن زیریں میں منتقل ہوئے جہاں کبھی نیچے اور کبھی پہلی منزل پر غالباً ۱۹۹۶ء تک اُن کا قیام رہا۔ جس کے بعد رواق اطہر کا دور شروع ہوا۔ اس دوران ایک مختصر مدت کے لئے وہ پھر معہد القرآن گئے۔ مگرمختصرمدت کے بعد رواق اطہر ہی واپس آگئے جہاں ایک دور تک اوپری منزلوں میں اور آخر میں وفات تک زیریں منزل میں مقیم رہے۔
اُن کے معہدالدعوۃ کے دور میں ایک خاص بات یہ پیش آئی کہ فلسفۂ لغت سے متعلق محاضرہ جناب مولانا ڈاکٹر عبداللہ عباس صاحب ندوی مرحوم سے متعلق تھا۔ جس کے لئے مولانا اپنے گھر پر طلبہ کو بلا لیا کرتے تھے چونکہ مولانا اپنا محاضرہ عموماً 1عربی میں دیتے تھے اس لئے ازراہ عنایت خاکسار سے مولانا نے فرمادیا تھا ’’ آپ بھی آجایا کیجئے‘‘ چنانچہ ہم بھی جانے اور ان بڑے طلبہ کے ساتھ بیٹھنے لگے۔ باوجود اس کے کہ ہم غالباً ثانویہ خامسہ میں رہے ہوں گے۔ الغرض ۱۹۸۸ء سے آغاز ۱۹۸۹ء تک یہ سلسلہ رہا۔ ایک دن اپنے محاضرے میں مولانا عبداللہ عباس صاحب مرحوم نے ’’العکاظ ‘‘کا لفظ استعمال فرمایا اتفاق سے مولانا نذیر صاحب کو اس کے معنی نہیں معلوم تھے۔ لہٰذا استفہامیہ انداز میں انہوں نے اس کو دوہرایا تب مولانا عبداللہ عباس صاحب نے مختصراً فرمایا’’ بیساکھی‘‘ مولانا نذیر صاحب مرحوم کو لغات دیکھنے کا خصوصی ذوق تھا۔ جس کے لئے ’المنجد،اور المعجم الوسیط‘ ہمیشہ بطورخاص اپنے پاس رکھتے کیونکہ انگریزی سے بھی واقف تھے لہٰذا المورد عربی سے انگریزی اور انگریزی سے عربی دونوں اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ عربی سے اردو لغات میں مصباح اللغات سے رجوع کرتے۔
نیزاردو سےعربی لغات میں مولانا عبدالحفیظ بلیاوی کی لغت اور مولانا وحیدالزماں الکیرانوی کی لغت سے بھی مراجعت کرلیتے۔ حالانکہ اردو سے عربی کی نوبت شاذونادر ہی آیا کرتی۔ اس کے علاوہ قدماء کی لغات حالانکہ ان کی نظر سے گزر چکی تھیں۔ لیکن عام طور پر اُن کے بجائے متاخرین ہی کی مذکورہ لغات اُن کے زیر استعمال رہا کرتی تھیں۔ یہی حال قدماء کی تصانیف کا بھی تھا کہ زیادہ تر سے واقف تھے۔ اور بہت کچھ دیکھ بھی چکےتھے۔ لیکن عام طور پر زیر درس کتب اور اُن کے حل سے متعلق کتابوں ہی سے زیادہ اشتغال رہتا۔ قدماء کی دیگر کتابوں کے مطالعہ کی نوبت بوقت ضرورت آتی تھی۔یہاں بھی واضح ہے کہ اُن کا مطالعہ ہمیشہ پرانے طریقہ پر کتابوں سےہی ہوتا۔ اور لکھتے وقت کاغذ اور قلم کا استعمال کرتے تھے۔کیونکہ کمپیوٹر کے استعمال سے وہ آخر تک واقف نہیں تھے،۔ مرحوم ایک عرصہ تک ندوے کے شعبے ترجمہ سے بھی وابستہ رہے تھے اور انگریزی، عربی واردو تینوں زبانوں میں ترجمہ کرتے رہے۔ لیکن بعد میں خرابیٔ صحت کی بنیاد پر وہاں سے علیحدہ ہوگئے۔باضابطہ شاگرد تو ہم ان کے نہیں تھے کیونکہ درجہ ثانویہ رابعہ میں ہم نے فقط ایک ہی دن اُن سے پڑھا تھا پھر شاید سیکشن بدل گیا تھا۔ لیکن غیر رسمی استفادہ ہم ان سے مستقل کرتے رہے۔۲۰۰۸ء میں جب شعبۂ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہم نے ایم اے کیا تو اس کی مکمل تیاری ان ہی نے ہم کو کروائی تھی۔ جس کے لئےکبھی شام کو اپنے کمرے پر تیاری کراتے۔ اور جب زیادہ ضرورت محسوس کرتے تو ہمارے مکان پر رات میں قیام کرلیتے۔ اس سے پہلے بھی ہماری مختلف ضروریات کے لئے رات کو ہمارے یہاں قیام کا معمول رہ چکا تھا۔اس طرح اُن ہی کی شدید محنت سے ہم یہ ایم اے نہ صرف کرسکے بلکہ فرسٹ ڈویژن کامیاب ہوئے۔ دنیا کچھ سمجھے لیکن ہم جانتے ہیں یہ ایم اے ہم نے کیا نہیں بلکہ درحقیقت انہوں نے ہم کو کروایا تھا۔تاآں کہ جب ہم ندوۃ العلماء میں خدمت تدریس پر مامور ہوئے تو مختلف عبارتوں اور نحوی اشکالات کے حل میں ان سے رجوع کرتے رہے۔ غالباً ۲۰۰۵ء کے آخر میں النحوالواضح (ثانویہ) جب ہم کو ملی تو اس کی اہمیت اور اپنی کم مائیگی کی وجہ سے ہم نے ان سے گزارش کی کہ درجہ جانے سے قبل ایک بار اس روز کا سبق ہم اُن سے سمجھ لیا کریں۔جس پر انہوں نے ہفتہ میں تین روز اس کی اجازت دی۔ کیونکہ ہمارے گھنٹہ سے پہلے کا گھنٹہ تین ہی روز ان کا خالی ہوتا تھا۔ اس طرح ان کی برکت سے وہ کتاب ہم پڑھا سکے۔ اس کے کچھ سال بعد النحوالواضح (ابتدائیہ) بھی ہم کو ملی تو شاید اس کے حل میں بھی ان سے ہم مستفید ہوئے۔ مگر اس کی نوبت ثانویہ کے مقابلے میں کم آئی۔ پھر جنوری ۲۰۱۱ء میں ندوۃ العلماء سے جب ہم نے معذرت کرلی تو کچھ عرصہ بعدبنام ’’نذرانۂ عقیدت‘‘ ہم نے اپنے حضرت والد ماجد قدس سرہٗ پرایک کتاب ترتیب دی ،جس کی پروف ریڈنگ اور تصحیح بھی اُن ہی کی تھی۔
ہم کو شروع سے یہ خواہش رہی تھی کہ حضرت مولانا محمدنعیم فرنگی محلی قدس سرہٗ کے ’’مجموعۃ الفتاویٰ‘‘ کو شائع کیا جائے۔حضرت اقدس کا یہ مجموعہ فتاویٰ جو کبھی چار جلدوں پر مشتمل تھا۔ مگر اب ان چاروں جلدوں کے منتشر اوراق ہی فرنگی محل میں باقی رہ گئے تھے۔ البتہ کتب خانہ انوریہ خانقاہ کاظمیہ کاکوری میں اس کی جلد سوم مکمل حالت میں محفوظ تھی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہ مجموعہ نہ تو فقہی ابواب پر مرتب تھا نہ ہی اس کے مراجع کی تخریج ہوئی تھی۔ یہ کام کون کرے؟ اس کے لئے مولانا منور سلطان صاحب ندوی استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء مناسب نظر آئے۔ کیونکہ موصوف ہی ’’فتاویٰ ندوۃ العلماء‘‘ کے مرتب تھے اور اس وقت تک مذکورہ فتاویٰ کی غالباً دو جلدیں ان کی ترتیب کے ساتھ منظر عام پر آچکی تھیں۔ ہماری خواہش کے پیش نظر مولانا نذیر صاحب مرحوم نے اس بارے میں کوشش کا بیڑہ اٹھایا ۔اور بصدکوشش جناب مولانا منور سلطان صاحب ندوی کو اس کام کے لئے آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جنہوںنے اولاً مذکورہ مجموعہ (نسخۂ فرنگی محل) کے منتشر اوراق سے اس کام کا آغاز کیا۔ پھر ۲۰۱۵ء میں نسخۂ کاکوری کا عکس حاصل ہونے کے بعد اسی نسخہ کواصل بنیاد قرار دیتے ہوئے پورا مجموعہ کمپوز کیا۔ اب تک تو یہ مجموعہ در حقیقت ایک مفتی کے رجسٹر کی شکل میں زمانی ترتیب پر تھا۔ اب اس کو موصوف نےفقہی ابواب پر مرتب کیا۔ نیز ہرفتوے کا عنوان طے کیا۔ اور امکانی حد تک مراجع کی تخریج کی۔ اس دوران جتنا جتنا مولانا منور سلطان صاحب ندوی کاکام کمپوز ہو کر آتا جاتا مولانا نذیر صاحب مرحوم اس کی پروف ریڈنگ کرتے جاتے۔ عناوین کی زبان درست کرتے اور دیگر اغلاط کی نشاندہی کرتے۔ اس طرح مجموعۃ الفتاویٰ کی ترتیب کا کام مکمل ہوگیا۔ اور مکمل کمپوزنگ کے بعد ۲۳؍اکتوبر ۲۰۲۱ء کو اپنا دیباچہ قلمبند کرچکنے کےمجلدشکل میں مولانامنورسلطان صاحب ندوی نے یہ مجموعہ ہمارے حوالے کردیا۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ۔ درحقیقت موصوف سے یہ کام کروانا بھی مولانا نذیر احمد صاحب مرحوم ہی کا کارنامہ تھا۔۲۰۱۲ء سے مولانا ڈاکٹرنذیراحمدصاحب مرحوم ہی کے اصرار پر ہم نے حضرت مولانا محمد نعیم فرنگی محلی قدس سرہٗ کی سوانح پر لکھنا شروع کیا جب اس کا اولین باب مکمل ہو کر کمپوز ہوگیا تب اس تعلق کا آغاز ہوا جس کو ہم دونوں کے شناسا حضرات آج بھی جانتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ ۲۰۱۲ء کے آخر یا ۲۰۱۳ء کے آغاز سے انہوں نے یہ معمول اختیار کیا کہ روزانہ بعد فجر آجاتے اور کتاب کے کمپوز شدہ حصہ کو اپنے ہاتھ میں لیتے اور اپنی کاپی ہم پکڑتے اور ہم پڑھنا شروع کرتے اور وہ مقابلہ وتصحیح کرتے جاتے۔ یہ تصحیح صرف کمپوزنگ کی اصلاح تک محدود نہیں ہوتی بلکہ مختلف جملوں اور الفا ظ پر گرفت کرتے اور کہتے کہ یہ یوں نہیں بلکہ اس طرح ہوتا تو بہتر تھا۔ الغرض ہم اپنا تصنیفی کام کرتے رہے اور ایک کے بعد ایک باب کمپوز ہو کر سامنے آتارہا۔جس کے نتیجہ میں بلا ناغہ مجلس تصحیح آراستہ ہوتی رہی۔ ۲۰۲۰ء کے آغاز میں اس کتاب کا تصنیفی عمل مکمل ہوگیا۔ اور اسی سال مارچ میں لاک ڈاؤن لگ گیا۔ اس میں بھی شروع کے چند دن وہ پیدل آئے اور گئے۔ لیکن پھر لوگوں کے اعتراض کی وجہ سے انہوں نے آمدموقوف کی جو لاک ڈاؤن کے اختتام تک موقوف رہی۔جو لاک ڈاؤن کےہٹنے کے ساتھ دوبارہ شروع ہوئی اور اس دوران کتاب کا بقیہ حصہ بھی کمپوز ہوگیا۔ تب اُن ہی کے مشورے پر اپنی تحریر پر ہم نے نظر ثانی کا آغاز کیا۔ جس میں تصحیح کے علاوہ اپنی مزاجی بے اطمیانی کے سبب جا بجا ہم جملوں کی ساخت بھی بدلتے گئے۔ پھر دوسرا لاک ڈاؤن لگا جس کی وجہ سے چند ماہ پھر اُن کی آمد موقوف رہی۔ جو لاک ڈاؤن ہٹنے کے ساتھ پھر شروع ہوئی ۔
کیونکہ ہماری کتاب یونک ٹرانسلیشن سنٹرمیں میں جناب سیدمحمد نور الحسن صاحب کمپوز کررہے تھے جو ایک ہی مضمون میں بار بار تبدیلی کے ہمارے اس عمل سے مکدر ہوگئے۔ اور انہوں نے کام سے دستکشی اختیار کرلی۔ تب مولانا مرحوم نے اپنے مختلف تلامذہ سے جن میں مولانا قاضی عبدالرحمٰن صاحب ندوی سلمہٗ اورمولانا ملک محمداحمدصاحب ندوی قابل ذکرہیں اس کام کو کروانا شروع کیا۔اسی دوران ہم دونوں کو یہ خیال آیاکہ احقر نے ندوۃ العلماء میں بزبان عربی فضیلت کا جو مقالہ استاذ محترم جناب مولانا مفتی محمدبرہان الدین صاحب سنبھلی مرحوم کے اشراف میں علامہ عبدالعلی محمدبحرالعلوم فرنگی محلی پر لکھاتھا۔اس کی تصحیح اورنظرثانی کاکام بھی کیوں کہ اس وقت میں کرلیاجائے ۔ویسے تو ۲۰۱۳ء کے بعد سے جب جب وقت ملتاتھا تب تب یہ کام بھی کیاجاتارہتاتھا۔جس کی وجہ سے کافی کچھ پہلے بھی ہوچکاتھا۔اب اس کام کو بھی شروع کیاگیا۔سب سے اول تومولانا نے اس کی زبان درست کی ۔اس کے بعد اس پر اضافوں کا عمل شروع ہوا۔اس طرح وہ کام بھی مکمل ہوگیا۔جس کو مولاناہی نے اپنے شاگرد مولوی عبدالکریم صاحب ندوی سے جوالرائد سے وابستہ ہیں سے کمپوز کروایا۔ یہ عمل بھی مولانا کی آخرحیات ہی میں مکمل ہوگیا۔ اب اُن کا ارادہ تھاکہ ہم دونوں بیٹھ کر باہم اس کا مقابلہ اورپروف ریڈنگ کریں گے مگراس سے قبل ہی یہ حادثہ ہوگیا۔اس میں اضافوں کے چند صفحات آخرتک اُن کے پاس تھے جن کو اٹاوہ کے آخری سفرمیں بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔اوروہاں سے بھی فون کرکے اس کی عبارت کے بارے میں چند استفسارات کئے تھے۔ یعنی آخرحیات تک یہ کام کررہے تھے۔مولاناکی وفات کے بعد مولانا فیصل احمد صاحب ندوی بھٹکلی اورحافظ مصباح الدین صاحب کی عنایت سے مولانا کے کمرے سے یہ کاغذات ہم کو واپس مل سکے فجزاھمااللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔اس میں آخری سطر ادھوری ہے۔ خدامعلوم انتقال سے کتنی دیرپہلے انہوں نے یہ کام کیاتھا۔بہرحال اُن کی وفات سے ان دونوں ہی کتابوں کے منظرعام پرآنے کی امید اب موہوم ہوگئی ہے۔جس کے ساتھ بارہا اداکیاگیا مرحوم کا یہ جملہ ’’میں خود تومصنف بن نہیں سکا سوچتاہوں آپ ہی کے کام آجاؤں‘‘۔یایہ کہ ’’حضرت مولانا نعیم صاحب کے کام میں شرکت‘‘جیسے مرادف جملے مستقل ذہن میں گشت کررہے ہیں۔مگرہم نہیں جانتے کہ اس بارے میں مشیت الٰہی کیاہے۔ان سے تعلق کی مکمل تاریخ اوراُن کے احسانات کی فہرست قلمبند کرنا ہمارے بس کی بات بھی نہیں۔وہ ہم ستےتعلقات کو کتنی اہمیت دیتے تھے اس کیلئے اس سے بڑھ کر اورکیا مثال ہوسکتی ہے کہ وفات سے پہلے شاید آخری فون ہم ہی کو کیاتھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب وہ اس طرح زندگی کا حصہ تھے کہ آج تک ذہن اس بات کو قبول نہیں کرپایاہے کہ ہمارے درمیان اب وہ نہیں ہیں۔رحمۃ واسعۃ
خ خ خ