Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
02.05.2026
Trending News: بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
02.05.2026
Trending News: بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی

  1. Home
  2. بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی

بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • نومبر 28, 2025
  • 0 Comments

بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی
ڈاکٹر محمد اعظم ندوی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

"یہ صرف مغربی تہذیب ہی ہے جس نے اپنی حالیہ صدیوں میں مشرقی تہذیبوں سے ایسی دوری اختیار کی کہ محسوس ہوتا ہے دونوں کے درمیان نہ کوئی مشترک قدر باقی رہی، نہ تقابل کی کوئی بنیاد، اور نہ ہی مفاہمت ومصالحت کی کوئی زمین جس پر دوبارہ کھڑا ہوا جا سکے”۔
یہ رائے فرانسیسی نو مسلم فلسفی عبد الواحد یحییٰ (رینے گینوں، م: 1951ء) نے پہلی جنگِ عظیم کے بعد اپنی مشہور کتاب (East and West, 1924) کی تصنیف کے دوران لکھی تھی، یہ فرانسیسی سے انگریزی ترجمہ کا عنوان ہے، عربی کتاب "الشرق والغرب” (مشرق ومغرب) کے نام سے چھپی تھی، یہ اس وقت کی بات ہے جب مغربی دنیا ایک ایسے داخلی تصادم کی تیاری کر رہی تھی جس کے تاریک مظاہر بعد ازاں دوسری جنگ عظیم میں پوری شدت کے ساتھ سامنے آئے۔
عبد الواحد یحییٰ نے اپنی زندگی کا رُخ پوری طرح مشرق کی جانب موڑ لیا، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنا بقیہ زمانہ قاہرہ میں تصوف اور خلوت گزینی میں گزاریں گے، وہ اپنے وطن سے ہجرت کرکے چلے آئے، اور پیچھے وہ یورپ رہ گیا جو باہم برسر پیکار قومیتوں کے بھنور میں ڈوب رہا تھا، وہ قومیتیں جو نسل برتر کے تمغہ بردار ہونے کی دعوے دار تھیں، اور اس کشمکش میں مبتلا تھیں کہ طاقت ور کون ہے، اور کون کمزور اقوام کو اپنی نو آبادیات میں نوچ کھانے کی زیادہ سکت رکھتا ہے۔

جنگ عظیم اپنے اختتام کو پہنچی، اور اس ہولناک تصادم نے یورپ کی قومیت پرست اور عوامی حمایت کی خواہش مند Populist سیاست—یا یوں کہیے "قدیم مغرب”—کو شکست فاش سے دوچار کر دیا، اس بربادی نے مغرب کو مجبور کیا کہ وہ کسی ایسے متبادل کی جستجو کرے جو اسے قومیت کے خون آشام بندھن سے رہائی دلائے، یہی وہ مرحلہ تھا جس نے ایک نئے مغربی نمونے کے لیے فضا ہموار کی، ایک ایسا نمونہ جسے "نیا مغرب” کہا گیا، جو دوسری جنگ عظیم کی کوکھ سے جنم لینے والی نئی حقیقت بن کر ابھرا۔

اس مشکل کا حل سب سے آخری مغربی کنارے سے ہی سامنے آیا، وہ خطہ جو نہ صرف جغرافیائی طور پر بلکہ ذہنی اور نظریاتی طور پر بھی اپنی انتہا پر تھا، جیسا کہ گینوں نے بیان کیا، اور وہ تھا امریکہ، امریکہ نے یہ دیکھا کہ مسئلے کا حل قومیت پرستی کی شدت کو کم کرنے اور ایک "مغرب جدید” کے قیام میں مضمر ہے، یہی نیا مغرب اس اتحاد کی شکل میں نمودار ہوا جسے "آزاد دنیا” یا "مغربی بلاک” کہا گیا، اور جس کی بنیاد نیٹو نے رکھی، تاکہ اس بڑے عالمی اتحاد کا مقابلہ کیا جا سکے جو سوویت یونین کی قیادت میں وجود میں آیا اور "مشرقی بلاک” کے نام سے مشہور ہوا، یہ نیا مغرب اپنی کئی پرانی پرتیں اتار چکا تھا، اور بہت سی قومیت پرست قدروں کو ترک کر چکا تھا، اس نے ثقافتی پاکیزگی کے بوجھ کو تھوڑا ہلکا کیا، اور ایک ایسے وجود میں بدلنے کو قبول کیا جو پہلے صرف نسلی حلقے تک محدود تھا، لیکن اب زیادہ کھلا اور اپنے دروازے سب کے لیے کھول دیئے۔

اور اس نئے عالمی منظرنامے میں عالمگیریت اور عالمی تہذیب کے تصورات ابھرے، اور سرحدوں سے ماورا اقدار زور پکڑنے لگیں، یہ بیانیہ عام ہوا کہ دنیا ایک ہی گاؤں کی مانند ہے، اور یہ کہ خود مختاریاں اور سرحدیں انسانی ترقی کے اس بہاؤ کے سامنے ٹوٹ پھوٹ رہی ہیں، اس نئے نظام میں غیر مغربی ممالک بھی اس دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی زندگی مغربی طرز زندگی کے مطابق گزاریں، یہی ماحول جاپان اور جنوبی کوریا کے مغربی محاذ میں شامل ہونے، معاشی اور دفاعی نظام میں مکمل انضمام، اور ترکی کو نیٹو میں شمولیت کی جانب مائل کرنے کا سبب بنا۔
یہ ریاستہائے متحدہ امریکہ یا "مغرب اقصی” ہی تھا جو اس کا ضامن بن سکا، اور جس نے باقی ماندہ مغربی دنیا کو بچانے کی ذمہ داری اٹھائی، تاکہ وہ اس زبردست لہر کا مقابلہ کر سکے جو سوویت یونین کی قیادت میں ابھری تھی، یہ سب کچھ ممکن نہ ہوتا اگر اس کے مقابل ایک متضاد وجود نہ سامنے آتا، جسے "مشرقی دنیا” یا سوویت یونین کے گرد مرکوز بلاک کہا گیا، جس کے کئی حصے خود یورپ میں بھی شامل تھے، مغربی ممالک کی خود شناسی یا خود بینی کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی شناخت صرف دوسروں سے علیحدگی کے ذریعے ہی حاصل کرتے ہیں، اور اپنی روشنی اسی "سیاہ چہرے” کے ذریعے نمایاں کرتے ہیں جو انہوں نے دوسروں کے لیے تخلیق کیا ہوتا ہے، یہی سوچ انہیں جمع ہونے اور اپنے حلقے کو مضبوط کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

اگرچہ عالمگیریت کا دور زور پکڑ رہا ہے، مگر خود پسندی میں مبتلا سفید فام مغربی اقوام غیر یورپی قوموں کو مکمل شمولیت کی اجازت نہیں دیتی ہیں، مغرب کا جوہر "یگانہ ومنفرد اور غیر عالمی” ہے، جیسا کہ سیموئیل ہنٹنگٹن نے اپنے ایک مقالے میں کہا ہے، چاہے وہ آزادی اور مساوات کے اصولوں کا اعلان کرے اور دعویٰ کرے کہ یہ ہر زمانے اور ہر جگہ نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ "آزاد دنیا” بظاہر اپنی رخصت کی تیاری کر رہی ہے، اور اس تبدیلی کا محور امریکی صدر ٹرمپ کی دوسری مدت ہے، ٹرمپ کے نزدیک پرانے عالمی اتحاد برقرار رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، وہ ایک کھلا قوم پرست ہے اور "آزاد دنیا‘” کے تصور پر یقین نہیں رکھتا، اس کے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ "نیا مغرب” (امریکہ) یورپ یا پرانے مغرب کے بوجھ سے آزاد ہو جائے اور اسے اپنی راہ پر خاموشی سے جانے دیا جائے، اس رویے نے یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لائن کو اپریل میں یہ افسوسناک بیان دینے پر مجبور کیا:
"وہ مغرب، جسے ہم جانتے تھے، اب موجود نہیں”، اسی طرح فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خبردار کیا:
"یورپ آج فنا پذیر ہے، اور اس کا زوال ممکن ہے”۔
یہ مغربی دنیا کا متزلزل وجود، جس کا ذکر یورپی کمیشن کی صدر نے کیا اور جس سے فرانسیسی صدر بھی فکرمند ہیں، اگر مکمل طور پر اپنی تمام جہتوں میں ظاہر ہو جائے، تو یہ ایک پیچیدہ نظام کے زوال اور تحلیل کا سبب بنے گا، درحقیقت، یہ عالمی سطح پر قائم عالمگیریت پر مبنی اقدار، عالمی ماحولیاتی معاہدے، انسانی حقوق، اور نیوکلیئر پھیلاؤ کی روک تھام کے بین الاقوامی معاہدات کے پورے نظام کا خاتمہ ہوگا۔
تو کیا جو کچھ ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ واقعی اس مغرب جدید کا خاتمہ ہے جسے ہم گزشتہ دہائیوں میں جانتے آئے ہیں، یا یہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے، جو شاید پرانے دور کی طرف بھی لوٹ سکتا ہے؟ کیا ہم "تیسرا مغرب” دیکھ رہے ہیں، جو پرانے اور نئے، قوم پرست اور لبرل عناصر کے ملاپ سے تشکیل پا رہا ہے؟ کیا "آزاد دنیا” کا زمانہ ختم ہو چکا ہے؟ اور کیا ہم مغرب کے اندر شدید داخلی تقسیم دیکھیں گے، جیسے 1945 کے بعد یورپ دو حصوں میں تقسیم ہوا، اور آج امریکہ بھی دو متضاد نظریاتی دھڑوں—قدیم قوم پرست اور جدید عالمگیریت پسند—میں بٹا ہوا ہے؟
مغرب کی روح کو سمجھنے کے لیے کوئی ایک ہی تصور کافی نہیں ہے، مختلف خیالات، تحریکوں اور تاریخی اقدامات نے مل کر آج کا مغرب تشکیل دیا، جیسے مذہبی اصلاحات، فرانسیسی انقلاب، فلسفۂ روشن خیالی، اور صنعتی انقلاب وغیرہ؛ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جدید مغرب اپنے حقیقی مفہوم میں قومیت کے تصور کے ساتھ ہی وجود میں آیا، جو ایک ایسے نظام سے عبارت ہے جس میں نئے دوست بنائے جارہے ہیں تو پرانے دور بھی کئے جاسکتے ہیں، یہی اصل مغرب ہے، نہ کہ وہ مغرب جو فلسفے میں غرق اور اس کے سحر میں گرفتار بنا کر دکھایا جاتا ہے، اور ہمیں اسی خیالی اور پیچیدہ مغرب کو ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ٹرمپ کی انتظامیہ یورپی شدت پسند دائیں بازو کو ایک "وقتی اتحادی” کے طور پر دیکھتی ہے، جو اس عالمی فکر کے خلاف جنگ میں شریک ہے جس کی نمائندگی یورپی یونین کرتی ہے، اس کے برعکس، یورپی دائیں بازو کے کئی رہنما ٹرمپ کو اپنی تحریک کا حمایتی اور اپنی نظریاتی فتح کی علامت سمجھتے ہیں، ٹرمپ کی داخلی پالیسیوں جیسے جبری ہجرت، میڈیا اور اقلیتی حقوق کے معاملات نے یورپ میں غیر لبرل رہنماؤں کے لیے تحریک اور جواز فراہم کیا ہے۔

اس طرح، ہم ایک نئی "قوم پرست بین الاقوامیت” کے ابھرنے کا مشاہدہ کرتے ہیں، یا جیسا کہ کچھ اسے کہتے ہیں، "آزاد خیالی کے بعد کا انقلاب”، جو کانفرنسوں، میڈیا پلیٹ فارمز اور سرحد پار مالی معاونت کے ذریعے تشکیل پا رہی ہے اور اس رجحان کی حمایت کر رہی ہے،
تو کیا ہم واقعی اُس جدید مغرب کے زوال کا مشاہدہ کر رہے ہیں جسے ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں تک پہچانا؟ یا یہ مغربی تہذیب کے ایک نئے مرحلے—اور شاید کسی پرانے مرحلے کی طرف واپسی—کی شروعات ہے؟

دوسری جنگِ عظیم کے بعد قوم پرست اور سامراجی مغرب نے خود کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک "عالمی لبرل” روپ اختیار کرلیا تھا؛ لیکن آج، جب اس کے اندرونی ڈھانچے میں دراڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں، وہ آہستہ آہستہ اس لبرل لباس کو اتار کر اپنے پرانے قوم پرستانہ قالب کی طرف لوٹ رہا ہے، عبد الواحد یحییٰ نے تقریباً ایک صدی پہلے کہا تھا کہ مغرب کا بحران بنیادی اور دائمی ہے، صرف وقتی نہیں، آج وہی بحران سیاسی وتہذیبی انتشار کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

ممکن ہے کہ ہم جلد ہی ایک "تیسرے مغرب” کی تشکیل دیکھیں، ایسا مغرب جو پرانے قوم پرست مزاج اور نئے لبرل تصور کا امتزاج ہو، مغرب کے اندر ہمیشہ کچھ حلقے مثلا نسل پرست، قوم پرست، یا قدامت پسند عالمی لبرل نظام کی مزاحمت کرتے رہے ہیں، اسی بنیاد پر ممکن ہے کہ آنے والا مغرب "آزاد دنیا” کے عالمی عنوان سے دستبردار ہو کر خود کو ایک محدود تہذیبی شناخت تک محدود کر دے۔

مغرب کا مستقبل اس کے اپنے رہنماؤں اور عوام کے فیصلوں پر منحصر ہوگا، جیسا کہ ماکرون نے خبردار کیا: "یورپ کی تقدیر ہمارے ہاتھ میں ہے؛ اگر ہم درست انتخاب نہ کریں تو یہ مر سکتا ہے”.

اگر مغرب نے سخت قوم پرستی اور مکمل بند ذہنیت کا راستہ اپنایا، تو ممکن ہے کہ "امریکی امن” کا دور ختم ہو جائے اور دنیا ایک نئے دور کے انتشار میں داخل ہو جائے، بالکل ویسے ہی جیسے 1930 کی دہائی میں لیگ آف نیشنز کے زوال کے بعد ہوا تھا۔

اور اگر بین الاقوامی تعاون کے حامی اس بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے میں کامیاب ہو گئے، تو مغرب شاید ایک نئے، کثیر الجہتی نہ کہ یک رخی سانچے میں دوبارہ ابھر سکے، ایسا سانچہ جو بدلتے ہوئے حالات کو اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے بغیر اپنے اندر جذب کر لے۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

سادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکر

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • شیخ الاسلام مصطفی صبری
  • اپریل 30, 2026
  • 0 Comments
خلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954

خلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954 شیخ مصطفیٰ صبری 1286ھ/1869ء میں توقاد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم قیصریہ میں شیخ خوجہ امین افندی سے حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے استنبول چلے آئے۔ استنبول میں ان کی ذہانت، مضبوط حافظہ اور گہرا علمی ذوق دیکھ کر اساتذہ نے فوراً ان کی قابلیت کو پہچان لیا۔صرف بائیس برس کی عمر میں انہیں جامع سلطان محمد الفاتح—جو اُس وقت استنبول کی سب سے بڑی اسلامی یونیورسٹی تھی—میں مدرس مقرر کیا گیا۔ یہ منصب نہایت بڑا تھا، جس تک پہنچنے کے لیے شدید محنت اور گہرا علم ضروری تھا۔ بعد ازاں انہیں سلطان عبدالحمید ثانی کی شاہی لائبریری کا امین بنایا گیا۔ سلطان نے نوجوان مصطفیٰ صبری کی غیرمعمولی وسعتِ مطالعہ اور امتیاز کو خاص طور پر سراہا۔ 1908ء میں دستورِ ثانی کے اعلان کے بعد شیخ نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ اس سال وہ اپنے شہر "توقاد” سے مجلسِ مبعوثان (عثمانی پارلیمنٹ) کے رکن منتخب ہوئے۔ اسی عرصے میں وہ "بیان الحق” نامی اسلامی مجلہ کے مدیر بھی رہے، جو "جمعیۃ العلماء” کی طرف سے جاری ہوتا تھا۔ انہیں دارالحکمہ الاسلامیہ کا رکن بھی بنایا گیا۔ اس دور میں وہ اپنی خطابت، قوتِ استدلال اور اسلام کے دفاع میں جرات مندانہ کردار کی وجہ سے نہایت نمایاں ہو گئے۔ کچھ ہی عرصے میں انہیں "اتحادیوں” (کمیٹی آف یونین اینڈ پراگریس) کی خطرناک نیت کا اندازہ ہو گیا، تو وہ حزبِ ائتلاف میں شامل ہو گئے—یہ جماعت ترکوں، عربوں اور اَروم کی مشترکہ حزب تھی جو ترک قوم پرستانہ (طورانی) رجحانات کی مخالف تھی۔ شیخ اس جماعت کے نائب صدر بھی بنے۔ 1913ء میں جب الاتحادیوں کی قوت بڑھی اور ان کے مظالم میں شدت آئی تو شیخ کو ملک چھوڑ کر مصر آنا پڑا۔ کچھ مدت وہاں رہنے کے بعد وہ یورپ گئے اور رومانیہ کے شہر "بوخارست” میں مقیم ہوئے۔ جنگِ عظیم اول کے دوران جب ترک فوج بوخارست میں داخل ہوئی تو انہیں گرفتار کر لیا گیا اور جنگ کے اختتام تک قید میں رکھا گیا۔…

Read more

Continue reading
مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)
  • hira-online.comhira-online.com
  • ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی
  • مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم (خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)
  • اپریل 26, 2026
  • 0 Comments
مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)

از ابوالحسن نظام الدین محمدفرنگی محلی سہ شنبہ ۱۴؍ ربیع الآخر ۱۴۴۷ھ؁ مطابق ۷؍اکتوبر ۲۰۲۵ء؁ تقریباً گیارہ (۱۱) بجے یا اس کے کچھ بعد کا وقت رہا ہوگا۔ اچانک فون کی گھنٹی کی بجی۔ دیکھا تو استاذی مولانا ڈاکٹر ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ندوی کا فون ہے۔ فوراً اٹھایا۔ انہوں نے اپنی طبیعت خرابی کے ذکر کےساتھ کہا۔’’سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے‘‘ تواحقر نے کہاکسی ڈاکٹر کو دکھا دلیجئے مگر اُن کو نہیں جن کے یہاں آپ ایڈمٹ تھے بلکہ کسی دوسرے کو۔ کہنے لگے ہاں غالباً بلغم ہے۔ میں نے کہا میں حاضر ہوں گا۔ لیکن کہتے وقت ذہن میں ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ فوراً ابھی جاؤں گا بلکہ کل ورنہ پرسوںجانے کا خیال ذہن میں تھا۔ چند مختصر جملوں کا مزید تبادلہ ہوا۔ اور خاکسار ہی نے اجازت لے کر فون منقطع کردیا۔ہمارے محلہ کی مسجد میں پونے ایک بجے ظہر کی جماعت ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک بجے کے بعد سنتوں سے فارغ ہو کر اندرون خانہ پہنچنے کے بعد فون اٹھایا تو دیکھا کہا بارہ پچپن( ۵۵:۱۲) کی ندوہ سے حافظ مصباح الدین صاحب کی کال لگی ہوئی ہے نیز دفتر الرائد سے مولوی عبدالکریم صاحب ندوی کی بھی کال لگی ہے۔ ابھی کال کرنے ہی جارہا تھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب نے دوبارہ فون کیا اور حادثہ کی اطلاع دی پھر دفتر الرائد ہی سے مولانا عثمان خاں صاحب ندوی نے بھی اسی روح فرساخبرکو دہرایا ۔جس کے بعدحافظ مصباح الدین کو فون کیا۔خبر کی تصدیق کے ساتھ انہوں نےبتایا کہ فہمینہ ہاسپٹل سے جنازہ لے کر اب میں ندوہ جارہا ہوں۔ خاکسار بھی فوراً ندوہ پہنچا جہاں حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد۔ کا منظر سامنے تھا۔طلبہ کے ہجوم کے درمیان مولانا کے جنازہ کی زیارت کی۔ نماز جنازہ کا وقت معلوم کرکے مکان واپس آکر قبل عصرد وبارہ ندوہ پہونچا۔ جہاں بعد نماز عصر فیلڈ میں ہزاروں طلبہ، اساتذہ ودیگر سوگواروں کے مجمع کے درمیان ناظم ندوۃ العلماءجناب مولانا سید بلال عبدالحئی صاحب حسنی ندوی کی ا قتداء میں نماز جنازہ ادا ء کی اور لاش گاڑی…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیت 01.05.2026
  • خلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954 30.04.2026
  • (بلاعنوان) 30.04.2026
  • قربانی کس پر واجب ہے ؟ 30.04.2026
  • ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ 27.04.2026
  • ذبح کرنے کا صحیح طریقہ 27.04.2026
  • حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر 26.04.2026
  • مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم) 26.04.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیت

  • hira-online.com
  • مئی 1, 2026
بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیت
سیرت و شخصیات

خلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954

  • hira-online.com
  • اپریل 30, 2026
فقہ و اصول فقہ

  • hira-online.com
  • اپریل 30, 2026
فقہ و اصول فقہ

قربانی کس پر واجب ہے ؟

  • hira-online.com
  • اپریل 30, 2026
قربانی کس پر واجب ہے ؟
فقہ و اصول فقہ

ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ

  • hira-online.com
  • اپریل 27, 2026
ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ
فقہ و اصول فقہ

ذبح کرنے کا صحیح طریقہ

  • hira-online.com
  • اپریل 27, 2026
ذبح کرنے کا صحیح طریقہ
حدیث و علوم حدیث

حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر

  • hira-online.com
  • اپریل 26, 2026
حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر
سیرت و شخصیات

مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)

  • hira-online.com
  • اپریل 26, 2026
مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top