HIRA ONLINE / حرا آن لائن
کیا پنشن کا شمار مال وراثت میں ہوگا

از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی سوال : والد کا انتقال ہوگیا ہے ۔ ان کی پنشن منجھلی بیٹی کو ملنے والی ہے ، کیوں کہ وہ غیر شادی شدہ ہے ۔ باقی تین بیٹیاں ہیں ، جو شادی شدہ ہیں اور دو بیٹے ہیں ، جو خود کفیل ہیں ۔ کیا پنشن میت کے ترکے میں شمار ہوگی اور سب اولادوں میں تقسیم ہوگی ، یا اس پر صرف غیر شادی شدہ بیٹی کا حق ہوگا ؟ جواب : کسی شخص کا جس وقت انتقال ہو اُس وقت اُس کی ملکیت کی تمام چیزوں (نقدی ، حصص ، مکان ، دکان ، کھیت ، باغ ، پلاٹ وغیرہ) میں وراثت کے احکام جاری ہوں گے اور زندہ ورثہ کے درمیان شرعی ضابطے کے مطابق مالِ وراثت کی تقسیم ہوگی ۔ پنشن کی رقم ملازم کے لیے حکومت یا ادارے کی طرف سے عطیہ ہوتی ہے ، جو اس کے کسی قریبی عزیز کے نام سے جاری ہوتی ہے ۔ کبھی ملازم کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ، مرنے کے بعد اپنی پنشن کے لیے کسی کو نام زد کردے اور کبھی حکومت یا ادارہ اپنے ضوابط کے مطابق کسی کو خود نام زد کرتا ہے ۔ جو بھی صورت ہو ، پنشن کی رقم جس کے نام سے جاری ہوگی وہ اس کا مالک ہوگا ، تمام ورثہ کے درمیان اس کی تقسیم نہیں ہوگی ۔

Read more

بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں انبیاء کرام کی فکر مندی

از: قاضی محمد حسن ندوی بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں انبیاء کرام کی ہدایت قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیھم السلام امت کی ہدایت کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے سلسلہ میں بہت زیادہ فکرمند رہتے تھے کہ وہ دین پر قائم رہیں اور ان کو دین کی حالت میں موت آئے ، قرآن کریم میں کئ انبیاء کرام کا ذکر آیا ہے ،ان میں ایک اہم ترین نام حضرت یعقوب علیہ السلام کا ہے، حضرت یعقوب علیہ السّلام کا پورا خانوادہ نبیوں اور رسولوں کا تھا ، باپ ،چچا ،دادا، بیٹا، سب اللّٰہ کے پیغمبر ہیں ،اس سے خود اندازہ ہوتا ہے کہ اس خاندان میں دین داری ،تقوی اور خشیت الٰہی کس معیار پر رہی ہوگی،گھر کے ماحول پر کیسی دینی فضا سایہ فگن ہوگی ، ذرا غور کریں ایسے دین دار گھرانہ کے افراد سے گناہ اور معصیت کا اندیشہ بھی لوگوں کو نہیں ہوتا ، چے چائے کہ کفروشرک کا خوف ان سے ہو ، لیکن جب حضرت یعقوب علیہ السّلام کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے صاحبزادوں سے سوال کیا:( ماتعبدون من بعد ی) البقرہ : 133) میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے ؟ صاحبزادگان نے جواب دیا: ” نعبد الھک وآلہ آبائک ابراہیم و اسماعیل واسحق الھا واحدا ونحن لہ مسلمون”( البقرہ:133) ہم آپ کے خدا ،آپ کے آبا و اجداد ابراہیم ،اسماعیل،اسحاق کے خدا پرستش کریں گے ،جو خدا کے واحد ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہوکر رہیں گے بچوں سے متعلق حضرت ابرہیم کی وصیت سیدنا حضرت ابرہیم علیہ السلام بھی اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹوں کو جو خود نبی تھے وصیت فرمائی : ان اللّٰہ اصطفی لکم الدین فلاتموتن الا وانتم مسلمون: البقرہ 132) بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کےلئے دین ککو منتخب کیا ہے ،اس لئے تم لوگوں کی موت حالت اسلام میں ہونی چاہیے بچوں سے متعلق آج کل کے والدین کی فکر مندی: آج کل اکثر لوگ اس فکر میں ضرور رہتے کہ ہمارے مرنے کے بعد بچے کیا…

Read more

دونوں سلام کا وجوب

کیا نماز کے اندر دونوں سلام واجب ہیں؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: نماز کے اندر دونوں سلام واجب ہیں- نبی اکرم- صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین وسلم- نے دونوں سلام پر مواظبت و مداومت فرمائی- حضرت عبداللہ بن مسعود – رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے: "أنه – صلى الله تعالى عليه و آله و صحبه و سلم- كان يسلم عن يمينه و عن يساره”. (سنن نسائی، کتاب الصلاۃ، باب السلام، حدیث نمبر 1324، سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب فی السلام، حدیث نمبر 996، سنن ترمذی، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی التسلیم فی الصلاۃ، حدیث نمبر 295، اور یہ صحیح درجہ کی حدیث ہے)- (نبی کریم- صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ وصحبہ اجمعین وسلم- اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے)-” "الدر المختار” میں ہے:” و لفظ السلام مرتين. فالثاني واجب على الأصح، برهان، دون عليكم”. (حصکفی، الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب صفة السلام 1/468، بيروت، دار الفكر، 1386ھ، ع.أ.:6)-"رد المحتار” میں ہے: "قوله: على الأصح. و قيل: سنة، فتح. قوله: "دون عليكم” فليس بواجب عندنا”. ( ابن عابدين، رد المحتار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة 1/468، بيروت، دار الفكر، 1421ھ/2000ء، ع.أ.:8)-"البحر الرائق” میں ہے: "قوله: ولفظ السلام للمواظبة عليه…. و أطلق بعض المشايخ اسم السنة عليه، و هو لا ينافي الوجوب. والخروج من الصلاة يحصل عندنا بمجرد لفظ السلام، ولا يتوقف على قوله: عليكم”. (ابن نجیم، البحر الرائق، کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة 1/318، بیروت، دار المعرفہ)-واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکمکتبہ: العبد المفتقر الی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ:محمد شاہ جہاں ندویدار الافتاء والقضاء:جامعہ سید احمد شہید، احمد آباد، کٹولی، ملیح آباد، لکھنؤ، یوپی (انڈیا)226102

Read more

کسب معاش کا اسلامی تصور

از: محمد رضی الاسلام ندوی مال و دولت کے بارے میں مسلم سماج میں دو رویّے پائے جاتے ہیں – ایک افراط پر مبنی ہے ، دوسرا تفریط پر – کچھ لوگ ہیں جو مال کمانے کے معاملے میں کچھ حدود و آداب کی پیروی نہیں کرتے – مال جہاں سے بھی حاصل ہو اور جیسے بھی ملے ، وہ کچھ پروا نہیں کرتے – حلال طریقہ اپنایا گیا ہو یا حرام ذرائع اختیار کیے گئے ہوں ، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ، ان پر بس زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی دُھن سوار رہتی ہے – دوسری طرف کچھ ایسے لوگ ہیں جو مال و دولت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، ان کے نزدیک مال رکھنا دنیا داری کی علامت ہے ، جس سے بچنے کی قرآن و حدیث میں تلقین کی گئی ہے اور فقر و فاقہ کو پسندیدہ قرار دیا گیا ہے – حقیقت میں یہ دونوں رویّے صحیح اسلامی نقطۂ نظر کی ترجمانی نہیں کرتے – اسلام میں مال کو زندگی کی ایک اہم ضرورت قرار دیا گیا ہے – وہ نہ ہو تو انسان طرح طرح کی پریشانیوں کا شکار ہوجاتا ہے – اسلام چاہتا ہے کہ انسان چاہے جتنا کمائے ، ضروری ہے کہ صرف جائز ذرائع اختیار کرے اور اللہ کی مقرّر کردہ حدود کا پاس و لحاظ رکھے ، اسی طرح وہ ترغیب دیتا ہے کہ انسان جو کچھ کمائے اسے بے دردی سے اُڑا نہ دے ، بلکہ اس میں اللہ کے مجبور و محتاج بندوں کا حق جانے – مجھے خوشی ہے کہ زیرِ نظر کتاب میں اسلام کے اسی معتدل نقطۂ نظر پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے – اس کے مؤلف برادر عزیز مولانا محمد انس فلاحی مدنی نے شمالی ہند کے مشہور تعلیمی ادارے جامعۃ الفلاح بلریا گنج اعظم گڑھ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ (سعودی عرب) سے بھی کسبِ فیض کیا ہے – گزشتہ پانچ برس سے ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ سے وابستہ ہیں – موصوف تحریر و…

Read more

کرنسی ٹریڈنگ شرعی نقطہء نظر

از: ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندوی سوال نمبر: 248کرنسی ٹریڈنگ شرعی اعتبار سے جائز ہے یا نہیں؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک آدمی کرنس ٹریڈنگ کے لیے رجسٹریشن کراتا ہے، مگر اس کو اس فیلڈ کی معلومات نہیں ہونے کی وجہ سے ایک ماہر کی خدمات حاصل کرتا ہے، جس کے لیے وہ اس کو معاوضہ دیتا ہے- اب وہ آپ کے لگائے ہوئے سرمایہ سے کرنسی ٹریڈنگ کرتا ہے، جس کے منافع میں سے وہ تیس فیصد لیتا ہے، اور ستر فیصد آپ کو دیتا ہے -الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: شرعی احکام جاننے سے پہلے ” کرنسی ٹریڈنگ” کی حقیقت کو سمجھ لینا ضروری ہے، تاکہ آسانی سے شرعی احکام کو سمجھا جا سکے- کرنسی ٹریڈنگ” کی حقیقت: ” کرنسی ٹریڈنگ” کی حقیقت یہ ہے کہ مخصوص مدت کے اندر جوڑوں کی شکل میں ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے تبدیل کیا جائے-یعنی کرنسیوں کی تجارت جوڑوں میں کی جاتی ہے- اس میں ایک کرنسی خریدی جاتی ہے، اور دوسری کرنسی فروخت کی جاتی ہے- وہ کرنسی خریدی جاتی ہے جو جوڑے میں پہلی ہوتی ہے، اسے بنیادی کرنسی بھی کہا جاتا ہے- اور اس کرنسی کو فروخت کیا جاتا ہے، جو جوڑے میں دوسری ہوتی ہے- اسے ” کوٹ کرنسی” (quote currency) کہا جاتا ہے-جوڑے کرنسیاں جن کی تجارت ہوتی ہے:کرنسی منڈی میں عام طور سے جن جوڑے کرنسیوں کی تجارت ہوتی ہے، وہ درج ذیل ہیں (1) یورپین یورو اور امریکی ڈالر، یعنی ( EUR/USD) (2) امریکی ڈالر اور جاپانی ین ، یعنی (USD/JPY) (3) برطانوی پاونڈ اسٹرلنگ (pound sterling) اور امریکی ڈالر، یعنی (GBP/ USD)  (4) برطانوی پاونڈ اسٹرلنگ (pound sterling) اور امریکی ڈالر، یعنی (GBP/ USD)  (5) امریکی ڈالر اور لونی (loonie) یعنی کناڈا کی کرنسی (USD/CAD) (6) اوسی (Aussie) یعنی آسٹریلوی ڈالر اور امریکی ڈالر (AUD/USD) (7) کیوی (kiwi) اور امریکی ڈالر، یعنی نیوزی لینڈ کی کرنسی اور امریکی ڈالر (NZD/USD) دیگر کرنسی جوڑوں میں بھی یہ تجارت ہوتی ہے، لیکن کم ہوتی ہے- مختلف نام "کرنسی ٹریڈنگ” کو ” فاریکس ٹریڈنگ” (forex…

Read more

اخلاق نبوی کی چند جھلکیاں

راست گوئی و دیانتداری آپ کی راست گوئی اور دیانت مکہ میں ضرب المثل تھی ، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق و امین کہتے تھے ، خود ابو جہل بھی اعتراف کرتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے نہیں ہیں ، لیکن کہتا تھا کہ جو باتیں آپ پیش کررہے ہیں ، وہ صحیح نہیں ہے ، آپ نے جب بادشاہ روم کو دعوت اسلام کا مکتوب لکھا ، اس وقت ابو سفیان روم ہی میں تھے ، جو اس وقت آپ کے سخت مخالف تھے ، چنانچہ شاہ روم نے ابو سفیان سے آپ کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ دعوی نبوت سے پہلے جھوٹ بھی بولتے تھے ؟ ابو سفیان نے کہا : نہیں ، غرض کہ دشمنوں کو بھی آپ کی راست گوئی کا اعتراف تھا ، دیانت داری کا حال یہ تھا کہ دشمن بھی اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھواتے تھے ، چنانچہ جب آپ نے ہجرت فرمائی تو اہل مکہ کی بہت سی امانتیں آپ کے پاس تھیں جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کے حوالے کرکے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو سچ بولنے اور دیانت داری کو قائم رکھنے کی خاص طور پر تاکید کرتے تھے ، ایک موقع پر ارشاد فرمایا: تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو تو میں تم کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں ، بات کرو تو سچ بولو ، وعدہ کرو تو پورا کرو ، تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو دیانت کے ساتھ واپس کرو ، اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کرو نگاہوں کو پست رکھو یعنی غیر محرم عورتوں پر نظر نہ جماؤ اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو ، یعنی ظلم نہ کرو۔ ایفاء عہد کا آپ کو بڑا لحاظ تھا صلح حدیبیہ میں جو شرطیں طے پائیں ، آپ ان پر سختی سے قائم رہے ، بعض مظلوم مسلمانوں کی قابل رحم حالت دیکھ کر بھی وعدہ خلافی کرنا گوارہ نہ کیا ، غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تعداد دشمنوں کے مقابلہ ایک تہائی سے…

Read more