HIRA ONLINE / حرا آن لائن
منفی سوچ اور اس کے نقصانات

منفی سوچ اور اس کے نقصانات از : اسجد حسن ندوی اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا فرمایا اور اسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ۔ انسانی زندگی کی کامیابی یا ناکامی کا دار و مدار اسی سوچ پر ہے ۔ اگر سوچ مثبت ہو تو انسان مشکلات میں بھی راستہ نکال لیتا ہے، اور اگر سوچ منفی ہو تو آسان حالات میں بھی پریشان رہتا ہے ۔ اسلام چونکہ ایک فطری دین ہے، اس لیے وہ انسان کو امید، حسنِ ظن، صبر اور توکل کی تعلیم دیتا ہے اور منفی سوچ، مایوسی اور بدگمانی سے سختی سے روکتا ہے۔ انسانی زندگی میں سوچ کا کردار نہایت اہم ہے ۔ انسان جیسا سوچتا ہے، ویسی ہی اس کی زندگی بنتی ہے۔ مثبت سوچ انسان کو امید، حوصلہ اور کامیابی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ منفی سوچ انسان کو مایوسی، خوف اور ناکامی کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔منفی سوچ کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر معاملے میں ناکامی، نقصان اور برائی کا پہلو دیکھے، اللہ کی رحمت سے نا امید ہو، اپنی صلاحیتوں کو حقیر سمجھے اور دوسروں کے بارے میں بدگمانی رکھے۔ منفی سوچ کی کئی صورتیں ہیں، جیسے:اللہ تعالیٰ سے مایوسیاپنی تقدیر کو کوسناہر حال میں منفی نتائج کا گمانلوگوں کے بارے میں بدظنی اور شکیہ تمام صورتیں اسلام کی نظر میں ناپسندیدہ ہیں۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر مایوسی اور منفی سوچ سے منع کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:"وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ” (سورۃ یوسف: 87)( اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو، اللہ کی رحمت سے صرف کافر لوگ ہی نا امید ہوتے ہیں )یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مایوسی اور منفی سوچ مومن کی شان نہیں۔ منفی سوچ انسان کے دل کو کمزور کر دیتی ہے، اس کی ہمت توڑ دیتی ہے اور اسے عمل سے روک دیتی ہے۔ ایسا شخص ہر کام میں نا کامی کا اندیشہ رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ کوشش ہی…

Read more

وضو کا مسنون طریقہ

وضو اسلام میں نماز اور بعض عبادات کے لیے بنیادی شرط ہے۔ وضو کے ذریعے مسلمان ظاہری پاکیزگی حاصل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے خود کو تیار کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وضو کا حکم دیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے اس کا مکمل طریقہ سکھایا ہے۔ وضو کی نیت جب وضو کرنے کا ارادہ ہو تو دل میں نیت کریں کہ: “میں پاکی حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کے لیے وضو کرتا ہوں۔” نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبان سے کہنا ضروری نہیں۔ وضو کا مسنون طریقہ پیشانی کے بالوں سے ٹھوڑی تک ، ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک اس طرح دھوئیں کہ کوئی جگہ خشک نہ رہے شہادت کی انگلی سے کان کے اندر ، انگوٹھے سے کان کے باہر چھوٹی انگلی کان کے سوراخ میں ڈالیں۔ دائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی سے شروع کر کے انگوٹھے تکپھر بائیں پاؤں کے انگوٹھے سے شروع کر کے چھوٹی انگلی تک۔ وضو کے بعد کی دعا وضو مکمل ہونے کے بعد آسمان کی طرف دیکھ کر یہ کلمہ پڑھیں: اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر یہ دعا پڑھیں: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِيْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَ ترجمہ: اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں شامل فرما۔ تحیۃ الوضو

Read more

گھر میں اعتکاف

گھر میں اعتکاف محمد رضی الاسلام ندوی سوال :کیا کوئی عورت رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اپنے گھر میں اعتکاف کرسکتی ہے؟ کیا بوڑھے یا معذور مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنے کی اجازت ہے؟ کیا وہ شخص جو کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے، اعتکاف کرسکتا ہے؟ کیا وہ لڑکے اور لڑکیاں جو کالج میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، باقی اوقات میں اعتکاف کرسکتے ہیں؟ جواب :پہلی بات یہ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اعتکاف ماہِ رمضان کے پہلے عشرے میں کیا ہے، دوسرے عشرے میں بھی کیا ہے، لیکن پھر آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کو معمول بنالیا تھا۔دوسری بات یہ کہ آپ نے ہمیشہ اعتکاف مسجد میں کیا ہے۔ آپ کے ساتھ بعض صحابہ بھی اعتکاف کرتے تھے اور امہات المؤمنین کے بارے میں بھی مروی ہے کہ وہ مسجد نبوی میں اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ عہد نبوی میں کسی صحابی یا صحابیہ کا مسجد کے بجائے کہیں اور اعتکاف کرنا ثابت نہیں ہے۔ قرآن مجید میں بھی اعتکاف کا ذکر مسجد کے ساتھ خاص کیا گیا ہے: وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ [البقرة: 187]” اس حال میں کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔“فقہ حنفی میں چوں کہ عورتوں کا نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانا مکروہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے انھیں گھروں میں اعتکاف کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ گھر کی وہ جگہ جسے نماز پڑھنے کے لیے خاص کیا گیا ہو، وہاں عورت اعتکاف کرسکتی ہے۔مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنا جائز نہیں۔ وہ صرف مسجد میں اعتکاف کرسکتے ہیں۔ بوڑھے اور معذور افراد کے لیے بھی گھروں میں اعتکاف کرنے کی گنجائش نہیں۔رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کیے جانے والے مسنون اعتکاف کے لیے احناف اور مالکیہ کے نزدیک شرط ہے کہ اعتکاف کرنے والا روزے سے ہو۔ بغیر روزے کے اعتکاف درست نہیں ہوگا۔ اس لیے اگر کوئی شخص کسی عذر کی بنا پر روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو تو وہ اعتکاف بھی نہیں کرے گا۔ شوافع اور حنابلہ کے نزدیک اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں۔…

Read more

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ از : مولانا ابو الجیش ندوی ​عارفینِ حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زہد دراصل دل کا دنیا کے وطن سے کوچ کر جانا اور آخرت کی منزلوں کی طرف روانہ ہو جانا ہے۔ اسی بنیاد پر متقدمین (پچھلے علماء) نے زہد کے موضوع پر کتابیں تصنیف کیں، جیسے عبداللہ بن المبارک، امام احمد، وکیع اور ہناد بن السری رحمہم اللہ وغیرہ کی کتبِ زہد۔​زہد کے چھ بنیادی متعلقات​کسی بندے کے لیے ‘زاہد’ کا لقب اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک وہ درج ذیل چھ چیزوں میں زہد اختیار نہ کر لے:​مال و دولت​ظاہری صورتیں (حسن و جمال)​ریاست و منصب​لوگ (ان کی واہ واہ یا تنقید)​اپنی ذات (نفس)​اور اللہ کے سوا ہر چیز۔​زہد کا مطلب ترکِ دنیا نہیں​یہاں زہد سے مراد ان چیزوں کی ملکیت کو چھوڑ دینا نہیں ہے۔ اس کی چند نمایاں مثالیں ملاحظہ فرمائیں:​حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام: اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے، حالانکہ ان کے پاس مال، عورتیں اور عظیم سلطنت موجود تھی۔​نبی کریم ﷺ: آپ کائنات کے سب سے بڑے زاہد تھے، اس کے باوجود آپ کی نو ازواجِ مطہرات تھیں۔​صحابہ کرام: حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین بڑے زاہد تھے باوجود اس کے کہ ان کے پاس کثیر اموال تھے۔​حضرت حسن بن علیؓ: آپ بھی زاہدین میں سے تھے، حالانکہ آپ امت میں سب سے زیادہ نکاح کرنے والے اور مالدار ترین افراد میں شامل تھے۔​ائمہ کرام: عبداللہ بن المبارک زہد کے امام تھے مگر بہت مالدار تھے۔ اسی طرح لیث بن سعد اور سفیان ثوری بھی زہد کے امام تھے اور صاحبِ مال تھے؛ امام سفیان فرمایا کرتے تھے: "اگر یہ مال نہ ہوتا تو یہ (حکمران) ہمیں اپنا رومال بنا لیتے (یعنی ہمیں ذلیل کرتے)۔”​زہد کی بہترین تعریف​زہد کے بارے میں سب سے خوبصورت بات ابو مسلم الخولانی نے کہی ہے:​”دنیا سے زہد کا مطلب حلال کو حرام کر لینا یا مال کو ضائع کر دینا نہیں ہے، بلکہ زہد یہ ہے کہ:​جو…

Read more

اعتکاف ، احکام و آداب

🔰اعتكاف، احكام وآداب 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎‏‎ انسان کا رشتہ اپنے خالق سے یہ ہے کہ خدا مالک ہے اور انسان اس کا مملوک ، خدا معبود ہے اور انسان اس کا عبد ، خدا آقا ہے اور انسان اس کا بندہ اور غلامِ بے دام ، غلام کا کمال یہ ہے کہ اس کا آقا اس سے خوش ہو ، مملوک کے لئے سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اسے مالک کی خوشنودی حاصل رہے ، عاشق کو اپنے معشوق کی راہ میں لٹ کر بھی ایک لطف آتا ہے اور محب اپنے محبوب کے لئے کھو کر بھی پانے کی لذت محسوس کرتا ہے ، اسی محبت اور غلامی اور بندگی کے احساس کو عملی پیکر دینے کے لئے عبادت کے طریقے مقرر کیے گئے اور ان کو انسان کا اصل مقصد وجود قرار دیا گیا :’’ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ ‘‘۔ اسلام میں عبادت کے جو طریقے مقرر کئے گئے ہیں ان میں قدم قدم پر اپنی بندگی ، نیستی اور خدا کے ساتھ محبت اور شیفتگی کا اظہار ہے ، نماز کی کیفیت کو دیکھئے کہ غلام اپنے آقا کے سامنے نگاہ نیچی کیے ہوئے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے ، بار بار اپنے خدا کی کبریائی کا نعرہ لگا تا ہے ، کبھی کمر تک جھکتا ہے ، کبھی نگاہ جھکائے دو زانو بیٹھتا ہے اور کبھی اپنی پیشانی زمین پر رگڑتا ہے ، زکوٰۃ دینا اپنی ذات اور اپنے مال پر خدا کی حکومت کا اعتراف کرنا ہے ، روزہ اور حج بھی خدا کی بندگی ہے ؛ لیکن اس میں خوف سے زیادہ اپنے مالک کی محبت کا اظہار ہے ، روزہ دار کو دیکھئے ! بھوکا ہے ، پیاسا ہے ، دُھوپ کی تمازت اور موسم کی شدت ہے ؛ لیکن خدا کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے سب کچھ گوارا ہے ، روزہ گویا اللہ تعالیٰ سے کمالِ محبت اور تمام علائق سے رشتہ ٹوڑ نے سے عبارت ہے ؛ لیکن بھو کے پیاسے رہنے کے باوجود روزہ کی حالت…

Read more