HIRA ONLINE / حرا آن لائن
خلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954

خلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954 شیخ مصطفیٰ صبری 1286ھ/1869ء میں توقاد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم قیصریہ میں شیخ خوجہ امین افندی سے حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے استنبول چلے آئے۔ استنبول میں ان کی ذہانت، مضبوط حافظہ اور گہرا علمی ذوق دیکھ کر اساتذہ نے فوراً ان کی قابلیت کو پہچان لیا۔صرف بائیس برس کی عمر میں انہیں جامع سلطان محمد الفاتح—جو اُس وقت استنبول کی سب سے بڑی اسلامی یونیورسٹی تھی—میں مدرس مقرر کیا گیا۔ یہ منصب نہایت بڑا تھا، جس تک پہنچنے کے لیے شدید محنت اور گہرا علم ضروری تھا۔ بعد ازاں انہیں سلطان عبدالحمید ثانی کی شاہی لائبریری کا امین بنایا گیا۔ سلطان نے نوجوان مصطفیٰ صبری کی غیرمعمولی وسعتِ مطالعہ اور امتیاز کو خاص طور پر سراہا۔ 1908ء میں دستورِ ثانی کے اعلان کے بعد شیخ نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ اس سال وہ اپنے شہر "توقاد” سے مجلسِ مبعوثان (عثمانی پارلیمنٹ) کے رکن منتخب ہوئے۔ اسی عرصے میں وہ "بیان الحق” نامی اسلامی مجلہ کے مدیر بھی رہے، جو "جمعیۃ العلماء” کی طرف سے جاری ہوتا تھا۔ انہیں دارالحکمہ الاسلامیہ کا رکن بھی بنایا گیا۔ اس دور میں وہ اپنی خطابت، قوتِ استدلال اور اسلام کے دفاع میں جرات مندانہ کردار کی وجہ سے نہایت نمایاں ہو گئے۔ کچھ ہی عرصے میں انہیں "اتحادیوں” (کمیٹی آف یونین اینڈ پراگریس) کی خطرناک نیت کا اندازہ ہو گیا، تو وہ حزبِ ائتلاف میں شامل ہو گئے—یہ جماعت ترکوں، عربوں اور اَروم کی مشترکہ حزب تھی جو ترک قوم پرستانہ (طورانی) رجحانات کی مخالف تھی۔ شیخ اس جماعت کے نائب صدر بھی بنے۔ 1913ء میں جب الاتحادیوں کی قوت بڑھی اور ان کے مظالم میں شدت آئی تو شیخ کو ملک چھوڑ کر مصر آنا پڑا۔ کچھ مدت وہاں رہنے کے بعد وہ یورپ گئے اور رومانیہ کے شہر "بوخارست” میں مقیم ہوئے۔ جنگِ عظیم اول کے دوران جب ترک فوج بوخارست میں داخل ہوئی تو انہیں گرفتار کر لیا گیا اور جنگ کے اختتام تک قید میں رکھا گیا۔…

Read more

قربانی کس پر واجب ہے ؟

Writingقربانی کس پر واجب ہے؟ (قرآن و حدیث کی روشنی میں) اللہ تعالیٰ نے انسان پر وہی چیز واجب قرار دی ہے جو اس کی استطاعت میں ہو۔ اسی اصول کے تحت قربانی بھی ایک ایسی عبادت ہے جو صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر واجب کی گئی ہے۔ قربانی کا حکم: قربانی ہر اس مسلمان، عاقل، بالغ، مقیم شخص پر واجب ہے جو صاحبِ نصاب ہو، یعنی اس کے پاس ضرورتِ اصلیہ سے زائد اتنا مال ہو جو زکوٰۃ کے نصاب کے برابر ہو، خواہ اس مال پر سال گزرنا ضروری نہیں۔ قرآن مجید سے دلیل: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ” ترجمہ: "پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔” (سورۃ الکوثر: 2) اس آیت میں نماز کے ساتھ ساتھ قربانی کا بھی حکم دیا گیا ہے، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ احادیث مبارکہ سے دلیل: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس شخص میں قربانی کی وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔” (سنن ابن ماجہ)یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنا سخت محرومی کا سبب ہے۔ قربانی واجب ہونے کی شرائط: اہم وضاحت:

Read more

ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ

ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ اسلام میں جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ آسان، منظم اور رحم پر مبنی ہے۔ اس میں صفائی، احتیاط اور اللہ کا نام لینا بنیادی اصول ہیں۔ ذبح کا درست طریقہ اہم ہدایات حدیث کی روشنی میں حضرت محمد ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے جانور ذبح فرمایا، اللہ کا نام لیا اور تیز چھری استعمال کی۔(حوالہ: صحیح مسلم) خلاصہ صحیح ذبح وہ ہے جس میں اللہ کا نام لیا جائے، تیز چھری استعمال ہو، ضروری رگیں کاٹی جائیں اور جانور کو کم سے کم تکلیف دی جائے۔ مزید اسلامی رہنمائی کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کرتے رہیں۔

Read more

ذبح کرنے کا صحیح طریقہ

اسلام میں جانور کو ذبح کرنے کا ایک مخصوص طریقہ بتایا گیا ہے، جس میں صفائی، احتیاط اور اللہ کا نام لینا ضروری ہے۔ ✅ ذبح کا درست طریقہ: جانور کو قبلہ رخ لٹائیں بہتر یہ ہے کہ جانور کو بائیں کروٹ پر لٹایا جائے تاکہ ذبح کرنے میں آسانی ہو۔ تیز چھری استعمال کریں چھری اچھی طرح تیز ہو تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔ اللہ کا نام لیں ذبح کرتے وقت یہ پڑھیں:"بِسْمِ اللّٰہِ، اللّٰہُ أَكْبَرُ” صحیح جگہ پر ذبح کریں جانور کے گلے میں حلق اور لبہ کے درمیان چھری چلائیں۔ضروری رگیں کاٹیںدرج ذیل چار چیزیں کاٹنا ضروری ہیں:حلقوم (سانس کی نالی)مری (کھانے کی نالی)دو رگیں (اوداج) جو خون لے جاتی ہیںگردن مکمل نہ کاٹیںسر کو الگ نہ کریں اور نہ ہی حرام مغز تک چھری پہنچائیں۔ ⚠️ اہم ہدایات: جانور کو تکلیف دینا منع ہے، اس لیے نرمی اختیار کریںمکمل خون نکلنا ضروری ہے، اسی میں پاکیزگی ہےذبح کے علاوہ دوسرے طریقے (جھٹکا وغیرہ) درست نہیں 📖 حدیث کی روشنی میں: صحابی حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہحضرت محمد ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے قربانی کی،"بسم اللہ، اللہ اکبر” پڑھا اور جانور کو لٹا کر ذبح فرمایا۔(صحیح مسلم) 📚 فقہی خلاصہ: فقہ حنفی کے مطابق اگر چار میں سے اکثر رگیں کٹ جائیں تو ذبیحہ حلال ہو جاتا ہے، لیکن مکمل طریقہ یہی ہے کہ چاروں کاٹ دی جائیں۔(ماخوذ از: فتاویٰ ہندیہ)⭐ خلاصہ:صحیح ذبح وہ ہے جس میں:اللہ کا نام لیا جائےتیز چھری استعمال ہوضروری رگیں کاٹی جائیںجانور کو کم سے کم تکلیف دی جائے

Read more

حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر

﷽حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر ڈاكٹر مفتی محمد مصطفی عبد القدوس ندویاستاذ حدیث وفقہ: جامعۃ العلوم گڑھا – گجرات آج سے تقریباً تیس سال پہلے ۳۰ / دسمبر ۱۹۹۴ء تا ۲ / جنوری ۱۹۹۵ء كو دارالعلوم اسلامیہ عربیہ ماٹلی والا ، بھروچ – گجرات میں ایك فقہی سمینار منعقد ہوا تھا ، اس وقت حضرت قاضی مجاہد الاسلامی قاسمی ؒ (بانی اسلامك فقہ اكیڈمی ، انڈیا ) باحیات تھے اور سمینار كی قیادت كر رہے تھے، اس سمینار میں شركت كی سعادت مجھے بھی حاصل ہوئی تھی، اور یہیں سے اسلامك فقہ اكیڈمی (انڈیا) كے فقہی سمینار میں میری شركت كی ابتداء ہوئی ، اس سمینار میں ایك موضوع” رؤیت ہلال “ بھی تھا ، جس پر میں نے بھی مقالہ لكھا تھا ، بعدمیں اس پورے مقالہ كو” رمضان كے شرعی احكام “ میں شامل اشاعت كردیا ، جو كہ راقم الحروف كی تصنیف اور وجہ تعارف ہے، بہر حال فقہی سمینار كے لئے یہ میرا پہلا مقالہ تھا، اس كے بعد سےالحمد للہ ہر سال ایك دو كبھی تین موضوعات پر لكھتا رہتا ہوں ، اور یہ جو كچھ بھی ہوتا ہے محض اللہ كے فضل وكرم سے ہوتا ہے ۔ حدیثی سمینار میں شركت: ایك لمبے عرصہ كے بعد اسی مقام یعنی دارالعلوم اسلامیہ عربیہ ماٹلی والا ، بھروچ – گجرات میں گذشتہ سال پہلا حدیثی سمینار ہوا تھا جس میں میری حاضری ہوئی تھی، امسال تیسری مرتبہ دوسرےحدیثی سمینارمنعقدہ ۱۹، ۲۰ / شوال المكرم ۱۹۴۷ھ مطابق ۸، ۹ / اپریل ۲۰۲۶ء بروز بدھ اور جمعرات میں شركت كے لئےجانا ہوا، میرے ساتھ جامعۃ العلوم گڑھا – گجرات سے دو اور مؤقر اساتذہ جناب مولانا توصیف صاحب مظاہری مدظلہ العالی اورجناب مولانا سفیان صاحب ندوی مدظلہ العالی بھی تھے، ہم لوگ مؤرخہ۱۸ / شوال المكرم ۱۴۴۷ھ مطابق ۷ / اپریل ۲۰۲۶ء روز منگل دس بجے رات میں پہنچے ، ریلوے اسٹیشن پر داعی كی جانب سے مہمانوں كے استقبال كے لئے كوئی نظم نہیں تھا؛ اس لئے خود ہی اپنے طور پر كرایہ كے آٹو…

Read more

مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)

از ابوالحسن نظام الدین محمدفرنگی محلی سہ شنبہ ۱۴؍ ربیع الآخر ۱۴۴۷ھ؁ مطابق ۷؍اکتوبر ۲۰۲۵ء؁ تقریباً گیارہ (۱۱) بجے یا اس کے کچھ بعد کا وقت رہا ہوگا۔ اچانک فون کی گھنٹی کی بجی۔ دیکھا تو استاذی مولانا ڈاکٹر ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ندوی کا فون ہے۔ فوراً اٹھایا۔ انہوں نے اپنی طبیعت خرابی کے ذکر کےساتھ کہا۔’’سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے‘‘ تواحقر نے کہاکسی ڈاکٹر کو دکھا دلیجئے مگر اُن کو نہیں جن کے یہاں آپ ایڈمٹ تھے بلکہ کسی دوسرے کو۔ کہنے لگے ہاں غالباً بلغم ہے۔ میں نے کہا میں حاضر ہوں گا۔ لیکن کہتے وقت ذہن میں ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ فوراً ابھی جاؤں گا بلکہ کل ورنہ پرسوںجانے کا خیال ذہن میں تھا۔ چند مختصر جملوں کا مزید تبادلہ ہوا۔ اور خاکسار ہی نے اجازت لے کر فون منقطع کردیا۔ہمارے محلہ کی مسجد میں پونے ایک بجے ظہر کی جماعت ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک بجے کے بعد سنتوں سے فارغ ہو کر اندرون خانہ پہنچنے کے بعد فون اٹھایا تو دیکھا کہا بارہ پچپن( ۵۵:۱۲) کی ندوہ سے حافظ مصباح الدین صاحب کی کال لگی ہوئی ہے نیز دفتر الرائد سے مولوی عبدالکریم صاحب ندوی کی بھی کال لگی ہے۔ ابھی کال کرنے ہی جارہا تھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب نے دوبارہ فون کیا اور حادثہ کی اطلاع دی پھر دفتر الرائد ہی سے مولانا عثمان خاں صاحب ندوی نے بھی اسی روح فرساخبرکو دہرایا ۔جس کے بعدحافظ مصباح الدین کو فون کیا۔خبر کی تصدیق کے ساتھ انہوں نےبتایا کہ فہمینہ ہاسپٹل سے جنازہ لے کر اب میں ندوہ جارہا ہوں۔ خاکسار بھی فوراً ندوہ پہنچا جہاں حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد۔ کا منظر سامنے تھا۔طلبہ کے ہجوم کے درمیان مولانا کے جنازہ کی زیارت کی۔ نماز جنازہ کا وقت معلوم کرکے مکان واپس آکر قبل عصرد وبارہ ندوہ پہونچا۔ جہاں بعد نماز عصر فیلڈ میں ہزاروں طلبہ، اساتذہ ودیگر سوگواروں کے مجمع کے درمیان ناظم ندوۃ العلماءجناب مولانا سید بلال عبدالحئی صاحب حسنی ندوی کی ا قتداء میں نماز جنازہ ادا ء کی اور لاش گاڑی…

Read more