Writing
قربانی کس پر واجب ہے؟ (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
اللہ تعالیٰ نے انسان پر وہی چیز واجب قرار دی ہے جو اس کی استطاعت میں ہو۔ اسی اصول کے تحت قربانی بھی ایک ایسی عبادت ہے جو صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر واجب کی گئی ہے۔
قربانی کا حکم:
قربانی ہر اس مسلمان، عاقل، بالغ، مقیم شخص پر واجب ہے جو صاحبِ نصاب ہو، یعنی اس کے پاس ضرورتِ اصلیہ سے زائد اتنا مال ہو جو زکوٰۃ کے نصاب کے برابر ہو، خواہ اس مال پر سال گزرنا ضروری نہیں۔
قرآن مجید سے دلیل: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ” ترجمہ: "پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔” (سورۃ الکوثر: 2)
اس آیت میں نماز کے ساتھ ساتھ قربانی کا بھی حکم دیا گیا ہے، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
احادیث مبارکہ سے دلیل:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس شخص میں قربانی کی وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔” (سنن ابن ماجہ)
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنا سخت محرومی کا سبب ہے۔
قربانی واجب ہونے کی شرائط:
- مسلمان ہونا
- عاقل اور بالغ ہونا
- مقیم ہونا (مسافر نہ ہو)
- صاحبِ نصاب ہونا
اہم وضاحت:
- قربانی مرد و عورت دونوں پر واجب ہو سکتی ہے اگر وہ صاحبِ نصاب ہوں۔
- قرض دار ہونے کی صورت میں اگر قرض نکالنے کے بعد بھی نصاب باقی رہے تو قربانی واجب ہوگی۔
- جو شخص مالی طور پر استطاعت نہ رکھتا ہو اس پر قربانی واجب نہیں۔
- خلاصہ: قربانی ایک عظیم عبادت ہے جو اللہ کی رضا اور سنتِ ابراہیمی کی یادگار ہے۔ اس لیے ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کو چاہیے کہ اخلاص کے ساتھ اس فریضہ کو ادا کرے۔
- اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔