گھر میں اعتکاف
محمد رضی الاسلام ندوی
سوال :
کیا کوئی عورت رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اپنے گھر میں اعتکاف کرسکتی ہے؟ کیا بوڑھے یا معذور مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنے کی اجازت ہے؟ کیا وہ شخص جو کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے، اعتکاف کرسکتا ہے؟ کیا وہ لڑکے اور لڑکیاں جو کالج میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، باقی اوقات میں اعتکاف کرسکتے ہیں؟
جواب :
پہلی بات یہ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اعتکاف ماہِ رمضان کے پہلے عشرے میں کیا ہے، دوسرے عشرے میں بھی کیا ہے، لیکن پھر آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کو معمول بنالیا تھا۔
دوسری بات یہ کہ آپ نے ہمیشہ اعتکاف مسجد میں کیا ہے۔ آپ کے ساتھ بعض صحابہ بھی اعتکاف کرتے تھے اور امہات المؤمنین کے بارے میں بھی مروی ہے کہ وہ مسجد نبوی میں اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ عہد نبوی میں کسی صحابی یا صحابیہ کا مسجد کے بجائے کہیں اور اعتکاف کرنا ثابت نہیں ہے۔ قرآن مجید میں بھی اعتکاف کا ذکر مسجد کے ساتھ خاص کیا گیا ہے: وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ [البقرة: 187]” اس حال میں کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔“
فقہ حنفی میں چوں کہ عورتوں کا نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانا مکروہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے انھیں گھروں میں اعتکاف کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ گھر کی وہ جگہ جسے نماز پڑھنے کے لیے خاص کیا گیا ہو، وہاں عورت اعتکاف کرسکتی ہے۔
مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنا جائز نہیں۔ وہ صرف مسجد میں اعتکاف کرسکتے ہیں۔ بوڑھے اور معذور افراد کے لیے بھی گھروں میں اعتکاف کرنے کی گنجائش نہیں۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کیے جانے والے مسنون اعتکاف کے لیے احناف اور مالکیہ کے نزدیک شرط ہے کہ اعتکاف کرنے والا روزے سے ہو۔ بغیر روزے کے اعتکاف درست نہیں ہوگا۔ اس لیے اگر کوئی شخص کسی عذر کی بنا پر روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو تو وہ اعتکاف بھی نہیں کرے گا۔ شوافع اور حنابلہ کے نزدیک اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں۔ وہ اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ شوال میں اعتکاف کیا تھا اور روایات میں یہ صراحت نہیں ملتی کہ ان ایام میں آپ روزے سے تھے، اس بنا پر حالتِ اعتکاف میں روزے سے ہونا ان کے نزدیک مستحب ہے، ضروری نہیں۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک معتکف اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی مسجد سے باہر نکلے گا تو اس کا اعتکاف ختم ہوجائے گا۔ صاحبین (امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ) کہتے ہیں کہ اگر وہ آدھے دن سے کم باہر ہے تو اعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔ اس دوسری رائے کے مطابق کالجوں کے طلبہ و طالبات کے لیے اس پابندی کے ساتھ اعتکاف کرنے کی گنجائش ہوگی۔
تاہم جو لوگ کسی عذر کی بنا پر اعتکاف نہ کرسکیں انھیں بھی چاہیے کہ آخری عشرے میں خصوصی طور عبادت میں سے زیادہ سے زیادہ محنت کریں۔
* * *