اسقاط حمل کا مسئلہ
سوال: کیا ضرورت شرعی کے پیش نظر اسقاط حمل کی شرعاً گنجائش ہوگی؟
از : قاضی محمد حسن ندوی
جواب: اگر یہ صحیح ہے کہ حمل ضائع نہ کرنے کی صورت میں ماں کی جان خطرہ میں ہو یا ماں کی صحت پر برا اثر پڑ رہا ہو یا دودھ پینے والے بچے کی صحت پر بھی اثر پڑ رہا ہو یا اس کی جان خطرہ میں ہو اور نہ بچہ کے والد کے پاس اتنی طاقت ہو کہ وہ دایہ رکھ کر بچہ کو دودھ پلوا سکے یا پرورش کا دوسرا نظم کر سکے تو ایسی صورت میں اسقاط حمل کی شرعاً گنجائش ہے۔
در مختار میں ہے:
و قالوا يباح اسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو چلا اذن الزوج و من الاعداد أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستاجر به الظئر و يخاف هلاكه قال ابن حبان فاباحه الاسقاط محمولة على حالة العذر أو أنها تاثم اثم القتل. (1)
لو كان أحدهما أعظم ضررا من الآخر فان الاشد يزال بأخف (۲)