Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
18.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
18.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

عالم اسلام: ایک جائزہ

  1. Home
  2. عالم اسلام: ایک جائزہ

عالم اسلام: ایک جائزہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جنوری 8, 2026
  • 0 Comments

نام کتاب: عالم اسلام —ایک جائزہ
تالیف: ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی
رفیق المعہد الاسلامی مانک مئو، مدير التحرير عربی مجلہ”المظاهر” مظاہر علوم سہارنپور
صفحات: 408
سنہ اشاعت:2025
ناشر: صفہ اکیڈمی مانک مئو، سہارنپور
تعارف و تبصرہ: اشتیاق ظہیر ندوی
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

ابتدائے آفرینش ہی سے حق و باطل کے درمیان معرکہ برپا رہا ہے۔ توحید و شرک کی یہ ازلی کشمکش صدیوں پر محیط ہے؛ مگر تاریخ کی سب سے روشن اور ناقابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ شیطانی طاقتوں، طاغوتی قوتوں اور ابلیسی سازشوں کی یلغاروں کے باوجود حق کا سورج کبھی غروب نہ ہو سکا۔ باطل کی ہزارہا تدبیروں کے علی الرغم، حق کی سربلندی ہر دور میں قائم رہی۔ فاران کی چوٹی سے جب اسلام کا آفتاب طلوع ہوا تو اس کی کرنیں محض مکہ و مدینہ تک محدود نہ رہیں؛ بلکہ سازشوں، مخالفتوں اور کفار، یہود و مشرکین و منافقین کی دشمنیوں سے ٹکراتی ہوئی چند ہی برسوں میں دنیا کے گوشے گوشے تک پھیل گئیں۔ تاریخ نے دیکھا کہ ایک مٹھی بھر؛ مگر جذبۂ ایمانی سے سرشار جماعت نے قیصرِ روم کو سرنگوں کیا، کسریٰ کے ایوانوں میں حق کا پرچم لہرایا، اور عرب کے تپتے صحراؤں سے اٹھنے والی یہ صدا افریقہ و یورپ تک اس شان سے پہنچی کہ دنیا ششدر رہ گئی اور باطل لرزہ براندام ہو گیا۔

چنانچہ اس آفاقی و عالمگیر انقلاب کے نتیجے میں اسلامی سلطنت ایک وسیع و عریض رقبے پر قائم ہوئی۔ ریاست مدینہ کے قیام اور خلافتِ راشدہ سے لے کر اموی، عباسی اور فاطمی ادوار سے گزرتے ہوئے یہ سلسلہ خلافتِ عثمانیہ کے عظیم الشان عہد پر جا کر ٹھہرا۔ اگرچہ اس دوران امت کو اپنی ہی ناعاقبت اندیشیوں، اقربا پروری، داخلی و اندرونی خلفشار اور سیاسی خود غرضیوں کے سبب دل خراش سانحات سے بھی گزرنا پڑا، تاتاری یلغاریں اور صلیبی جنگیں مسلمانوں کو مٹانے کے درپے رہیں، مگر اس مدوجزر کے باوجود اسلام کا قافلہ رواں دواں رہا۔ یہاں تک کہ ظلم و بربریت، جبر اور سفاکی کے علم بردار گروہ بھی رفتہ رفتہ حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے اور اسی سایۂ رحمت میں آ کر کعبہ کے پاسبان کہلائے؎
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

لیکن جب دنیا نے خلافتِ عثمانیہ کے زیرِ سایہ عدل و انصاف، امن و امان، انسانی تحفظ، ہمدردی، نظم و نسق اور مثالی حکمرانی کا درخشاں منظر دیکھا تو باطل نے ایک بار پھر سازشوں کے جال بُننے شروع کر دیے۔ اس عظیم خلافت کو کمزور کرنے اور توڑنے کے لیے ہر ممکن تدابیر آزمائیں، تاآنکہ مصطفیٰ کمال اتاترک کے ہاتھوں خلافت کی قبا چاک کر دی گئی اور ایک سیکولر و لادینی نظام مسلط ہوا۔ خلافتِ عثمانیہ کا زوال ملتِ اسلامیہ کے لیے ایسا عظیم سانحہ ثابت ہوا جس کے زخم آج بھی ہرے ہیں۔ بجا طور پر حضرت سید ابو الحسن علی ندویؒ نے فرمایا تھا کہ "نہیں معلوم کہ امتِ مسلمہ کب تک اس کے نقصانات برداشت کرتی رہے گی۔”

اکیسویں صدی کی مسلم دنیا تاریخ کے ایک ایسے نازک اور کرب ناک موڑ پر کھڑی ہے جہاں اس کی تہذیب، تمدن، شناخت اور بقا سب سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ ایک طرف خلافتِ عثمانیہ کے انہدام سے شروع ہونے والا زوال ہے جس نے امت کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا، اور دوسری طرف نوآبادیاتی قوتوں، عالمی طاقتوں اور مقامی حکمران اشرافیہ کے گٹھ جوڑ نے مسلم معاشرروں کو سیاسی، فکری اور اخلاقی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ مسلم حکومتوں کا تختہ الٹا گیا، سازشوں کے بازار گرم کیے گئے، دوغلی پالیسیاں تشکیل دی گئیں، وسائل لوٹے گئے اور نظریاتی تشخص کو مسخ کر کے امت کو دفاعی اور معذرت خواہانہ ذہنیت میں دھکیل دیا گیا۔

ترکی سے فلسطین، شام و عراق سے افغانستان ، لیبیا و صومالیہ اور یمن تک عالم اسلام پر ظلم و بربریت کے ایسے پہاڑ توڑے گئے ہیں جن کی مثال جدید تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ، فوجی جارحیت، معصوم بچوں کا قتل، عورتوں کی بے حرمتی، عبادت گاہوں کی پامالی اور بیت المقدس کی بے توقیری محض ایک خطے کا المیہ نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ضمیر پر ثبت ایک گہرا زخم ہے۔ یہ اس کی اجتماعی بے حسی اور سیاسی بے بسی کا کھلا اعلان ہے۔ آج عالمِ اسلام محض عسکری یا سیاسی کمزوری کا ہی شکار نہیں، بلکہ فکری انتشار، اخلاقی انحطاط اور قیادت کے شدید بحران میں بھی گرفتار ہے۔ اس کے اعلی دماغ مفکرین پابند سلاسل اور غیور صحافی زیر زمین مدفون ہیں ۔

ان ناگفتہ بہ حالات میں، جب کہیں سے کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھتی، عرب دنیا عملی اقدام سے غافل اور عالمِ اسلام جمود و تعطل کا شکار ہو چکا ہے، اور مسلم اقلیتیں دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے بنیادی حقوق کے لیے برسرِ پیکار ہیں—ایسی لرزہ زار صورت حال میں استادِ محترم ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی کی تصنیف "عالمِ اسلام: ایک جائزہ” محض ایک کتاب نہیں؛ بلکہ ایک فکری و تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تصنیف عالمِ اسلام میں بگڑتی ہوئی صورتِ حال، پے بپے امت کے زخموں اور باطل طاقتوں، ابلیس کے چیلوں ، شیطان کے چمچوں اور فسطائیت کی مسلسل یلغار پر صرف نوحہ خوانی نہیں کرتی ہے؛ بلکہ ان کے اسباب و علل، تاریخی پس منظر اور تہذیبی محرکات کو پوری وضاحت کے ساتھ بے نقاب کرتی ہے۔ عالم اسلام جو امت اسلامیہ کا دل ہے کی پژمردگی کو واضح کرتی ہے ۔

فاضل مصنف واضح کرتے ہیں کہ فلسطین، مصر و شام، لیبیا، عراق اور یمن سے لے کر ہندوستان، برما و میانمار اور فلپائن تک پھیلے ہوئے المیے کسی ناگہانی حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل اور مسلسل تاریخی عمل کی پیداوار ہیں، جس کی جڑیں خلافت کے خاتمے، استعمار کے غلبے، سامراجیت کے عروج اور مسلم قیادت کی فکری، سیاسی اور عسکری پسپائی میں پیوست ہیں۔

فاضل مصنف ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ممتاز اور قابلِ فخر سپوتوں میں سے ایک ہیں۔ آپ نے اپنے والدِ گرامی، استادِ محترم، معمارِ نسلِ نو مولانا ناظم ندوی حفظہ اللہ کی زیرِ نگرانی تربیت پائی۔ ندوۃ العلماء کے بعد اپنی علمی و ادبی تشنگی بجھانے کے لیے مصر کی جامعۃ الازہر اور قاہرہ یونیورسٹی سے کسبِ فیض کیا، اور خداداد صلاحیت، اخّاذ ذہن اور جہدِ پیہم کے ذریعے ’’پدر مثل پسر‘‘ ہونے کی راہ پر گامزن ہیں۔ عربی، اردو اور انگریزی—تینوں زبانوں پر یکساں قدرت آپ کی علمی انفرادیت کی روشن علامت ہے۔ آپ نے دہلی یونیورسٹی سے پروفیسر ولی اختر ندوی کی زیرِ نگرانی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ درس و تدریس سے وابستہ رہنے کے باوجود آپ مظاہرِ علوم سہارنپور کے عربی مجلہ ’’المظاهر‘‘ کی ادارت اور ماہنامہ ’’حِرا کا پیغام‘‘ (المعہد الاسلامی، مانک مئو) کی نگرانی کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہیں۔

فیاضِ قدرت نے آپ کو غیر معمولی ذہانت اور فطانت سے نوازا ہے، جس کی جھلک کتاب کے ہر ہر ورق پر نمایاں ہے۔ علمی عظمت و فکری بلندی کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت کا ایک اور درخشاں پہلو آپ کا تواضع، سادگی اور شرافتِ نفس ہے۔ بلند علمی مقام کے باوجود انکساری آپ کا زیور، گفتگو میں شائستگی، رویّے میں وقار اور مزاج میں خلوص آپ کی پہچان ہے۔

کتاب پر مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی حفظہ اللہ کا وقیع اور بصیرت افروز مقدمہ ہے، جو نہ صرف موضوع کی اہمیت و معنویت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے بلکہ مصنف کی فکری اٹھان اور علمی وقار کا بھی اعتراف ہے۔ اپنے مقدمے میں وہ کتاب کے فکری دائرے اور اس کی افادیت کو بڑی شرح و وضاحت کے ساتھ نمایاں کرتے ہیں۔
کتاب کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا ناظم ندوی حفظہ اللہ رقم طراز ہیں:
“کتاب کا خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں یاسیت و قنوطیت نہیں ہے، بلکہ امتِ مسلمہ کی خصوصیت و امتیاز کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ امت بڑے بڑے نازک مرحلوں سے دوچار ہوئی ہے۔ بے شمار عسکری و فکری یلغاروں نے اسے نیم جان کر دیا، لیکن یہ ہمیشہ میدان میں رہی۔ اگر کہیں اس کا سورج غروب ہوا تو دوسری جانب پوری ضوفشانی و تابانی کے ساتھ طلوع ہوا؛ کیونکہ یہ ایک عالمی دین اور آفاقی امت ہے۔ اس کے قیام و بقا سے دنیا کا وجود وابستہ ہے۔ اگر یہ باقی نہیں رہے گی تو دنیا بھی باقی نہیں رہے گی۔ آج بھی عالمِ اسلام کے حالات خواہ کتنے ہی نازک کیوں نہ ہوں، اور دنیا کی تمام قومیں اس کے خلاف برسرِ پیکار ہی کیوں نہ ہوں، یہ امت آگے بڑھے گی اور اپنے تمدن و ثقافت اور اپنے عقائد و افکار کے ساتھ سرخرو ہوگی۔” (ص 29–30)

مصنف محض واقعات پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ تجزیہ و تحلیل کے فن سے بھی پوری طرح آشنا ہیں، اور عربی مصادر تک براہِ راست رسائی کتاب کے تحقیقی معیار کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ بقول مولانا نذر الحفیظ ندوی:
"عالمِ اسلام: ایک جائزہ ایک دستاویزی کتاب ہے، جسے ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے تیار کیا ہے۔ یہ قیمتی معلومات کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے، بلکہ پی۔ایچ۔ڈی کے درجے کی مستحق ہے” (ص ۱۹)

یہ تینوں تحریریں دراصل کتاب کے فکری مزاج اور اس کی سمت متعین کر دیتے ہیں، جس کے بعد مصنف کا اپنا تجزیاتی بیانیہ سامنے آتا ہے۔

ساخت اور ترتیب کے اعتبار سے اس کتاب کو چند بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ عالمِ اسلام کے مفہوم، اس کی جغرافیائی ہیئت اور اس کے تاریخی و تہذیبی مراکز پر مشتمل ہے، جس میں مسلم ممالک کی تفصیل، اقلیت و اکثریت کا فرق، آبادی کے اعداد و شمار اور عالمِ اسلام کے وسیع قدرتی و معاشی ذخائر کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتے ہیں کہ دنیا کی بڑی تجارتی گزرگاہیں، اہم سمندری راستے اور توانائی کے بڑے ذخائر—بالخصوص پٹرولیم کے تقریباً ستر فیصد وسائل—عالمِ اسلام کے خطوں میں واقع ہیں، جو اس کی عالمی اہمیت کو دوچند کر دیتے ہیں۔

دوسرا حصہ ملکِ شام کی تاریخ سے متعلق ہے، جہاں ماضی و حال کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ نبوی ارشادات کی روشنی میں اس خطے کی دینی و تہذیبی حیثیت واضح کی گئی ہے، فلسطین پر یہودی قبضے اور اس سرزمینِ عزیمت کی موجودہ صورتِ حال پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔

فاضل مصنف کا کمال یہ ہے کہ وہ محض حالات کا بیان نہیں کرتے بلکہ ان کا فکری تجزیہ پیش کرتے ہیں، زاویۂ نظر تشکیل دیتے ہیں، اسباب و علل پر روشنی ڈالتے ہیں اور وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ قاری کے شعور کو اپیل کرتے ہیں اور بحیثیتِ فردِ امت اس کے لیے تڑپتے ہیں۔ کتاب اٹھائیے اور پڑھتے چلے جائیے، آپ اس بات کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مصنف کے افکار و خیالات پر تعصب کی کوئی چھاپ نہیں۔ جو کچھ وہ محسوس کرتے ہیں، اسے بے کم و کاست بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔

خلافتِ عثمانیہ کے سقوط و زوال کے بعد استعماری اور سامراجی قوتوں نے عالمِ اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے اور اسلامی علوم و فنون سے امتِ مسلمہ کا رشتہ توڑنے کے لیے شدید فکری و نظریاتی حملے کیے۔ مغربی تہذیب و ثقافت کو اسلامی تہذیب پر فوقیت دلانے کے لیے “تہذیبی احیا” کے نام پر گمراہ کن مہمات چلائی گئیں۔ دین و مذہب کے نام پر مضر لٹریچر کی اشاعت، قادیانیت کی تبلیغ، بابیت کا ظہور، اور مستشرقین کا متعصبانہ و معاندانہ رویہ اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں۔ اسی طرح صہیونی تحریک، صلیبی جنگیں اور اسلام دشمن عناصر کی سازشی تنظیمیں بھی اس فکری یلغار کا حصہ تھیں۔ صہیونیت—جو عالمی یہودیت کی ترجمان ہے—کے ابھرنے کے اسباب، اس کی حکمتِ عملی اور صلیبی جنگوں کا پس منظر بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

اس کے بعد کتاب میں عالمِ اسلام پر سامراجی اثرات، ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی و تہذیبی تبدیلیاں، اور ان چیلنجوں کے مقابلے میں ابھرنے والی اسلامی بیداری کی تحریکات و جماعتوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ "اسلامی بیداری سے مراد عموماً وہ اسلامی تحریکیں لی جاتی ہیں جو تیرہویں صدی ہجری مطابق انیسویں صدی عیسوی میں اسلامی ممالک میں ظاہر ہوئیں، اور جنہوں نے اسلام کے مخالف تمام عادات و اطوار اور رسوم و رواج کی شدت سے مخالفت کی، اور اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت کی بھرپور کوشش کی، تاکہ مسلمان اس دین پر عمل کرنے لگیں جس پر صحابۂ کرامؓ اور خود نبی کریم ﷺ عمل پیرا تھے، اور بدعات و خرافات اور گمراہیوں کو ترک کرکے سلف صالحین سے منقول صحیح دین اور صحیح مذہب کی جانب رجوع کریں۔ اسی سلسلے میں حجاز کے شہر نجد میں شیخ محمد بن عبد الوہاب کی سلفی تحریک، لیبیا کے شہر برقہ میں سنوسی دعوت، سوڈان میں مہدی تحریک اور مصر میں اخوان المسلمون کی تحریک کا ظہور ہوا۔” (ص 178)

اسلامی بیداری کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کے قلب میں واقع عظیم علمی اداروں—جامعۃ الازہر، جامع زیتونہ اور جامعہ قرویین—کا تذکرہ بھی ہے۔ اسی طرح او آئی سی، رابطۂ عالمِ اسلامی، عالم اتحاد برائے علمائے اہلِ اسلام اور ان کی ذیلی تحریکات کے مقاصد، اہداف اور سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

کتاب کا ایک بڑا حصہ دنیا کے مختلف براعظموں میں پھیلی ہوئی مسلم اقلیتوں کی تاریخ، ثقافت اور درپیش مسائل پر مشتمل ہے۔ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم، ان کے اسباب و علل اور جبر کے محرکات کو بے نقاب کیا گیا ہے، اور ان سے نبرد آزما ہونے کی فکری و عملی تدابیر بھی بیان کی گئی ہیں۔ مصنف برما کے روہنگیا مسلمانوں کی حالت پر افسوس کرتے ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لائحۂ عمل پیش کرتے ہیں، ناروے کے واقعے کا ذکر کرتے ہیں اور فلپائن میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

کتاب کا آخری حصہ مسئلۂ فلسطین سے متعلق ہے، جو اس پورے قضیے کو شرح و بسط کے ساتھ سمجھنے میں معاون ہے۔ یہودیوں کی حکمتِ عملی، سوئٹزرلینڈ میں ہرٹزل کی سرگرمیاں، سلطان عبد الحمید ثانیؒ کا تاریخی موقف، صہیونی منصوبہ بندی، امت کی کمزوریاں، فلسطین فروشی، ارضِ فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام تک کا دردناک سفر پوری تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

آخر میں مصنف مسائل کے حل کی طرف آتے ہیں اور کچھ اصول و طریقے پیش کرتے ہیں جن پر عمل کر کے امتِ مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار واپس حاصل کر سکتی ہے۔ امت کی اصل کمزوری نہ وسائل کی کمی ہے اور نہ افرادی قلت، بلکہ فکری انتشار، اعتقادی کمزوری اور روحانی زوال ہے؛ اور جب تک ان بنیادوں کی اصلاح نہ کی جائے، کوئی سیاسی یا عسکری تدبیر دیرپا ثمرات پیدا نہیں کر سکتی۔ آپ لکھتے ہیں کہ "لہٰذا شدید ضرورت ہے کہ امتِ مسلمہ صحیح اسلامی عقیدے کی پابند ہو، باہمی اتحاد و اتفاق اور اسلامی وحدت کا نمونہ بنے۔ اسی نسخے سے اس امت کی شوکت و عظمت رفتہ کی بحالی ہو سکتی ہے۔ یہی ایسا معنوی ہتھیار ہے جو تمام مادی اسلحہ اور وسائل سے زیادہ طاقتور ہے، امت کے قائدی و رہنما علمائے اسلام، داعیان کرام اور ملت کے روشن مستقبل اور ملی شناخت کی فکر رکھنے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امت کے نوجوانوں کے دلوں میں از سرِ نو ایمان و اسلام کی شجرکاری کریں، ان کے دینی جذبات کو بیدار کریں، اسلامی میراث اور سلف صالحین سے ان کو مربوط کرنے کی سعی کریں، اسلام کی صحیح اقدار و قیم، تعلمیات واحکام اور صحیح فہم سے ان کو روشناس کرائیں، اور ان کے اندر یہ اعتماد پیدا کریں کہ دنیوی و اخروی سعادت و فلاح اور کامیابی و کامرانی کا یہی ایک راستہ ہے اور اسلام ہی پر عمل پیرا ہوکر سلف صالحین کی طرح وہ انسانیت کی رہبری اور و قیادت کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں ” (ص 394)

بحثیتِ مجموعی 408 صفحات پر مشتمل یہ کتاب اس لائق ہے کہ سطر بہ سطر پڑھی جائے۔ امت کا ایک بڑا طبقہ ان مسائل سے ناواقف ہی نہیں بلکہ اجتماعی بے حسی کا شکار بھی ہے؛ ان کے لیے یہ کتاب فہمِ مسائل کی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ کتاب بہت پہلے آنے والی تھی۔ راقمِ سطور کو یاد ہے کہ استادِ محترم سے ملاقات کے وقت اس کا تذکرہ کیا جاتا تھا؛ بہرحال دیر آید درست آید کی مصداق، اب یہ کتاب سامنے ہے۔ سرورق کو مزید خوب صورت بنایا جا سکتا ہے، اور ابواب و فصول کی منظم تقسیم قاری کے لیے تفہیم میں معاون ہو سکتی ہے۔

ہم ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی حفظہ اللہ کو اس فکری اور بصیرت افروز تصنیف پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ آئندہ بھی اس نوع کی مزید علمی و فکری کتابیں منظرِ عام پر آئیں گی، ان شاء اللہ۔

عالم اسلامنام کتاب: عالم اسلام

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

ندوه اور علم كلام
عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟
  • مارچ 9, 2026
  • 0 Comments
زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ از : مولانا ابو الجیش ندوی ​عارفینِ حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زہد دراصل دل کا دنیا کے وطن سے کوچ کر جانا اور آخرت کی منزلوں کی طرف روانہ ہو جانا ہے۔ اسی بنیاد پر متقدمین (پچھلے علماء) نے زہد کے موضوع پر کتابیں تصنیف کیں، جیسے عبداللہ بن المبارک، امام احمد، وکیع اور ہناد بن السری رحمہم اللہ وغیرہ کی کتبِ زہد۔​زہد کے چھ بنیادی متعلقات​کسی بندے کے لیے ‘زاہد’ کا لقب اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک وہ درج ذیل چھ چیزوں میں زہد اختیار نہ کر لے:​مال و دولت​ظاہری صورتیں (حسن و جمال)​ریاست و منصب​لوگ (ان کی واہ واہ یا تنقید)​اپنی ذات (نفس)​اور اللہ کے سوا ہر چیز۔​زہد کا مطلب ترکِ دنیا نہیں​یہاں زہد سے مراد ان چیزوں کی ملکیت کو چھوڑ دینا نہیں ہے۔ اس کی چند نمایاں مثالیں ملاحظہ فرمائیں:​حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام: اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے، حالانکہ ان کے پاس مال، عورتیں اور عظیم سلطنت موجود تھی۔​نبی کریم ﷺ: آپ کائنات کے سب سے بڑے زاہد تھے، اس کے باوجود آپ کی نو ازواجِ مطہرات تھیں۔​صحابہ کرام: حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین بڑے زاہد تھے باوجود اس کے کہ ان کے پاس کثیر اموال تھے۔​حضرت حسن بن علیؓ: آپ بھی زاہدین میں سے تھے، حالانکہ آپ امت میں سب سے زیادہ نکاح کرنے والے اور مالدار ترین افراد میں شامل تھے۔​ائمہ کرام: عبداللہ بن المبارک زہد کے امام تھے مگر بہت مالدار تھے۔ اسی طرح لیث بن سعد اور سفیان ثوری بھی زہد کے امام تھے اور صاحبِ مال تھے؛ امام سفیان فرمایا کرتے تھے: "اگر یہ مال نہ ہوتا تو یہ (حکمران) ہمیں اپنا رومال بنا لیتے (یعنی ہمیں ذلیل کرتے)۔”​زہد کی بہترین تعریف​زہد کے بارے میں سب سے خوبصورت بات ابو مسلم الخولانی نے کہی ہے:​”دنیا سے زہد کا مطلب حلال کو حرام کر لینا یا مال کو ضائع کر دینا نہیں ہے، بلکہ زہد یہ ہے کہ:​جو…

Read more

Continue reading
اعتکاف ، احکام و آداب
  • hira-online.comhira-online.com
  • مارچ 9, 2026
  • 0 Comments
اعتکاف ، احکام و آداب

🔰اعتكاف، احكام وآداب 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎‏‎ انسان کا رشتہ اپنے خالق سے یہ ہے کہ خدا مالک ہے اور انسان اس کا مملوک ، خدا معبود ہے اور انسان اس کا عبد ، خدا آقا ہے اور انسان اس کا بندہ اور غلامِ بے دام ، غلام کا کمال یہ ہے کہ اس کا آقا اس سے خوش ہو ، مملوک کے لئے سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اسے مالک کی خوشنودی حاصل رہے ، عاشق کو اپنے معشوق کی راہ میں لٹ کر بھی ایک لطف آتا ہے اور محب اپنے محبوب کے لئے کھو کر بھی پانے کی لذت محسوس کرتا ہے ، اسی محبت اور غلامی اور بندگی کے احساس کو عملی پیکر دینے کے لئے عبادت کے طریقے مقرر کیے گئے اور ان کو انسان کا اصل مقصد وجود قرار دیا گیا :’’ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ ‘‘۔ اسلام میں عبادت کے جو طریقے مقرر کئے گئے ہیں ان میں قدم قدم پر اپنی بندگی ، نیستی اور خدا کے ساتھ محبت اور شیفتگی کا اظہار ہے ، نماز کی کیفیت کو دیکھئے کہ غلام اپنے آقا کے سامنے نگاہ نیچی کیے ہوئے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے ، بار بار اپنے خدا کی کبریائی کا نعرہ لگا تا ہے ، کبھی کمر تک جھکتا ہے ، کبھی نگاہ جھکائے دو زانو بیٹھتا ہے اور کبھی اپنی پیشانی زمین پر رگڑتا ہے ، زکوٰۃ دینا اپنی ذات اور اپنے مال پر خدا کی حکومت کا اعتراف کرنا ہے ، روزہ اور حج بھی خدا کی بندگی ہے ؛ لیکن اس میں خوف سے زیادہ اپنے مالک کی محبت کا اظہار ہے ، روزہ دار کو دیکھئے ! بھوکا ہے ، پیاسا ہے ، دُھوپ کی تمازت اور موسم کی شدت ہے ؛ لیکن خدا کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے سب کچھ گوارا ہے ، روزہ گویا اللہ تعالیٰ سے کمالِ محبت اور تمام علائق سے رشتہ ٹوڑ نے سے عبارت ہے ؛ لیکن بھو کے پیاسے رہنے کے باوجود روزہ کی حالت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • وضو کے فرائض 10.03.2026
  • وضو کا مسنون طریقہ 10.03.2026
  • گھر میں اعتکاف 09.03.2026
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ 09.03.2026
  • اعتکاف ، احکام و آداب 09.03.2026
  • صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟ 09.03.2026
  • زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں 08.03.2026
  • ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟ 08.03.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

وضو کے فرائض

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کے فرائض
فقہ و اصول فقہ

وضو کا مسنون طریقہ

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کا مسنون طریقہ
Blog

گھر میں اعتکاف

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

اعتکاف ، احکام و آداب

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
اعتکاف ، احکام و آداب
فقہ و اصول فقہ

صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟
فقہ و اصول فقہ

زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026
فقہ و اصول فقہ

ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top