Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
30.07.2026
Trending News: کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
30.07.2026
Trending News: کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

عالم اسلام: ایک جائزہ

  1. Home
  2. عالم اسلام: ایک جائزہ

عالم اسلام: ایک جائزہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جنوری 8, 2026
  • 0 Comments

نام کتاب: عالم اسلام —ایک جائزہ
تالیف: ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی
رفیق المعہد الاسلامی مانک مئو، مدير التحرير عربی مجلہ”المظاهر” مظاہر علوم سہارنپور
صفحات: 408
سنہ اشاعت:2025
ناشر: صفہ اکیڈمی مانک مئو، سہارنپور
تعارف و تبصرہ: اشتیاق ظہیر ندوی
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

ابتدائے آفرینش ہی سے حق و باطل کے درمیان معرکہ برپا رہا ہے۔ توحید و شرک کی یہ ازلی کشمکش صدیوں پر محیط ہے؛ مگر تاریخ کی سب سے روشن اور ناقابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ شیطانی طاقتوں، طاغوتی قوتوں اور ابلیسی سازشوں کی یلغاروں کے باوجود حق کا سورج کبھی غروب نہ ہو سکا۔ باطل کی ہزارہا تدبیروں کے علی الرغم، حق کی سربلندی ہر دور میں قائم رہی۔ فاران کی چوٹی سے جب اسلام کا آفتاب طلوع ہوا تو اس کی کرنیں محض مکہ و مدینہ تک محدود نہ رہیں؛ بلکہ سازشوں، مخالفتوں اور کفار، یہود و مشرکین و منافقین کی دشمنیوں سے ٹکراتی ہوئی چند ہی برسوں میں دنیا کے گوشے گوشے تک پھیل گئیں۔ تاریخ نے دیکھا کہ ایک مٹھی بھر؛ مگر جذبۂ ایمانی سے سرشار جماعت نے قیصرِ روم کو سرنگوں کیا، کسریٰ کے ایوانوں میں حق کا پرچم لہرایا، اور عرب کے تپتے صحراؤں سے اٹھنے والی یہ صدا افریقہ و یورپ تک اس شان سے پہنچی کہ دنیا ششدر رہ گئی اور باطل لرزہ براندام ہو گیا۔

چنانچہ اس آفاقی و عالمگیر انقلاب کے نتیجے میں اسلامی سلطنت ایک وسیع و عریض رقبے پر قائم ہوئی۔ ریاست مدینہ کے قیام اور خلافتِ راشدہ سے لے کر اموی، عباسی اور فاطمی ادوار سے گزرتے ہوئے یہ سلسلہ خلافتِ عثمانیہ کے عظیم الشان عہد پر جا کر ٹھہرا۔ اگرچہ اس دوران امت کو اپنی ہی ناعاقبت اندیشیوں، اقربا پروری، داخلی و اندرونی خلفشار اور سیاسی خود غرضیوں کے سبب دل خراش سانحات سے بھی گزرنا پڑا، تاتاری یلغاریں اور صلیبی جنگیں مسلمانوں کو مٹانے کے درپے رہیں، مگر اس مدوجزر کے باوجود اسلام کا قافلہ رواں دواں رہا۔ یہاں تک کہ ظلم و بربریت، جبر اور سفاکی کے علم بردار گروہ بھی رفتہ رفتہ حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے اور اسی سایۂ رحمت میں آ کر کعبہ کے پاسبان کہلائے؎
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

لیکن جب دنیا نے خلافتِ عثمانیہ کے زیرِ سایہ عدل و انصاف، امن و امان، انسانی تحفظ، ہمدردی، نظم و نسق اور مثالی حکمرانی کا درخشاں منظر دیکھا تو باطل نے ایک بار پھر سازشوں کے جال بُننے شروع کر دیے۔ اس عظیم خلافت کو کمزور کرنے اور توڑنے کے لیے ہر ممکن تدابیر آزمائیں، تاآنکہ مصطفیٰ کمال اتاترک کے ہاتھوں خلافت کی قبا چاک کر دی گئی اور ایک سیکولر و لادینی نظام مسلط ہوا۔ خلافتِ عثمانیہ کا زوال ملتِ اسلامیہ کے لیے ایسا عظیم سانحہ ثابت ہوا جس کے زخم آج بھی ہرے ہیں۔ بجا طور پر حضرت سید ابو الحسن علی ندویؒ نے فرمایا تھا کہ "نہیں معلوم کہ امتِ مسلمہ کب تک اس کے نقصانات برداشت کرتی رہے گی۔”

اکیسویں صدی کی مسلم دنیا تاریخ کے ایک ایسے نازک اور کرب ناک موڑ پر کھڑی ہے جہاں اس کی تہذیب، تمدن، شناخت اور بقا سب سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ ایک طرف خلافتِ عثمانیہ کے انہدام سے شروع ہونے والا زوال ہے جس نے امت کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا، اور دوسری طرف نوآبادیاتی قوتوں، عالمی طاقتوں اور مقامی حکمران اشرافیہ کے گٹھ جوڑ نے مسلم معاشرروں کو سیاسی، فکری اور اخلاقی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ مسلم حکومتوں کا تختہ الٹا گیا، سازشوں کے بازار گرم کیے گئے، دوغلی پالیسیاں تشکیل دی گئیں، وسائل لوٹے گئے اور نظریاتی تشخص کو مسخ کر کے امت کو دفاعی اور معذرت خواہانہ ذہنیت میں دھکیل دیا گیا۔

ترکی سے فلسطین، شام و عراق سے افغانستان ، لیبیا و صومالیہ اور یمن تک عالم اسلام پر ظلم و بربریت کے ایسے پہاڑ توڑے گئے ہیں جن کی مثال جدید تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ، فوجی جارحیت، معصوم بچوں کا قتل، عورتوں کی بے حرمتی، عبادت گاہوں کی پامالی اور بیت المقدس کی بے توقیری محض ایک خطے کا المیہ نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ضمیر پر ثبت ایک گہرا زخم ہے۔ یہ اس کی اجتماعی بے حسی اور سیاسی بے بسی کا کھلا اعلان ہے۔ آج عالمِ اسلام محض عسکری یا سیاسی کمزوری کا ہی شکار نہیں، بلکہ فکری انتشار، اخلاقی انحطاط اور قیادت کے شدید بحران میں بھی گرفتار ہے۔ اس کے اعلی دماغ مفکرین پابند سلاسل اور غیور صحافی زیر زمین مدفون ہیں ۔

ان ناگفتہ بہ حالات میں، جب کہیں سے کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھتی، عرب دنیا عملی اقدام سے غافل اور عالمِ اسلام جمود و تعطل کا شکار ہو چکا ہے، اور مسلم اقلیتیں دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے بنیادی حقوق کے لیے برسرِ پیکار ہیں—ایسی لرزہ زار صورت حال میں استادِ محترم ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی کی تصنیف "عالمِ اسلام: ایک جائزہ” محض ایک کتاب نہیں؛ بلکہ ایک فکری و تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تصنیف عالمِ اسلام میں بگڑتی ہوئی صورتِ حال، پے بپے امت کے زخموں اور باطل طاقتوں، ابلیس کے چیلوں ، شیطان کے چمچوں اور فسطائیت کی مسلسل یلغار پر صرف نوحہ خوانی نہیں کرتی ہے؛ بلکہ ان کے اسباب و علل، تاریخی پس منظر اور تہذیبی محرکات کو پوری وضاحت کے ساتھ بے نقاب کرتی ہے۔ عالم اسلام جو امت اسلامیہ کا دل ہے کی پژمردگی کو واضح کرتی ہے ۔

فاضل مصنف واضح کرتے ہیں کہ فلسطین، مصر و شام، لیبیا، عراق اور یمن سے لے کر ہندوستان، برما و میانمار اور فلپائن تک پھیلے ہوئے المیے کسی ناگہانی حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل اور مسلسل تاریخی عمل کی پیداوار ہیں، جس کی جڑیں خلافت کے خاتمے، استعمار کے غلبے، سامراجیت کے عروج اور مسلم قیادت کی فکری، سیاسی اور عسکری پسپائی میں پیوست ہیں۔

فاضل مصنف ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ممتاز اور قابلِ فخر سپوتوں میں سے ایک ہیں۔ آپ نے اپنے والدِ گرامی، استادِ محترم، معمارِ نسلِ نو مولانا ناظم ندوی حفظہ اللہ کی زیرِ نگرانی تربیت پائی۔ ندوۃ العلماء کے بعد اپنی علمی و ادبی تشنگی بجھانے کے لیے مصر کی جامعۃ الازہر اور قاہرہ یونیورسٹی سے کسبِ فیض کیا، اور خداداد صلاحیت، اخّاذ ذہن اور جہدِ پیہم کے ذریعے ’’پدر مثل پسر‘‘ ہونے کی راہ پر گامزن ہیں۔ عربی، اردو اور انگریزی—تینوں زبانوں پر یکساں قدرت آپ کی علمی انفرادیت کی روشن علامت ہے۔ آپ نے دہلی یونیورسٹی سے پروفیسر ولی اختر ندوی کی زیرِ نگرانی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ درس و تدریس سے وابستہ رہنے کے باوجود آپ مظاہرِ علوم سہارنپور کے عربی مجلہ ’’المظاهر‘‘ کی ادارت اور ماہنامہ ’’حِرا کا پیغام‘‘ (المعہد الاسلامی، مانک مئو) کی نگرانی کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہیں۔

فیاضِ قدرت نے آپ کو غیر معمولی ذہانت اور فطانت سے نوازا ہے، جس کی جھلک کتاب کے ہر ہر ورق پر نمایاں ہے۔ علمی عظمت و فکری بلندی کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت کا ایک اور درخشاں پہلو آپ کا تواضع، سادگی اور شرافتِ نفس ہے۔ بلند علمی مقام کے باوجود انکساری آپ کا زیور، گفتگو میں شائستگی، رویّے میں وقار اور مزاج میں خلوص آپ کی پہچان ہے۔

کتاب پر مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی حفظہ اللہ کا وقیع اور بصیرت افروز مقدمہ ہے، جو نہ صرف موضوع کی اہمیت و معنویت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے بلکہ مصنف کی فکری اٹھان اور علمی وقار کا بھی اعتراف ہے۔ اپنے مقدمے میں وہ کتاب کے فکری دائرے اور اس کی افادیت کو بڑی شرح و وضاحت کے ساتھ نمایاں کرتے ہیں۔
کتاب کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا ناظم ندوی حفظہ اللہ رقم طراز ہیں:
“کتاب کا خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں یاسیت و قنوطیت نہیں ہے، بلکہ امتِ مسلمہ کی خصوصیت و امتیاز کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ امت بڑے بڑے نازک مرحلوں سے دوچار ہوئی ہے۔ بے شمار عسکری و فکری یلغاروں نے اسے نیم جان کر دیا، لیکن یہ ہمیشہ میدان میں رہی۔ اگر کہیں اس کا سورج غروب ہوا تو دوسری جانب پوری ضوفشانی و تابانی کے ساتھ طلوع ہوا؛ کیونکہ یہ ایک عالمی دین اور آفاقی امت ہے۔ اس کے قیام و بقا سے دنیا کا وجود وابستہ ہے۔ اگر یہ باقی نہیں رہے گی تو دنیا بھی باقی نہیں رہے گی۔ آج بھی عالمِ اسلام کے حالات خواہ کتنے ہی نازک کیوں نہ ہوں، اور دنیا کی تمام قومیں اس کے خلاف برسرِ پیکار ہی کیوں نہ ہوں، یہ امت آگے بڑھے گی اور اپنے تمدن و ثقافت اور اپنے عقائد و افکار کے ساتھ سرخرو ہوگی۔” (ص 29–30)

مصنف محض واقعات پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ تجزیہ و تحلیل کے فن سے بھی پوری طرح آشنا ہیں، اور عربی مصادر تک براہِ راست رسائی کتاب کے تحقیقی معیار کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ بقول مولانا نذر الحفیظ ندوی:
"عالمِ اسلام: ایک جائزہ ایک دستاویزی کتاب ہے، جسے ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے تیار کیا ہے۔ یہ قیمتی معلومات کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے، بلکہ پی۔ایچ۔ڈی کے درجے کی مستحق ہے” (ص ۱۹)

یہ تینوں تحریریں دراصل کتاب کے فکری مزاج اور اس کی سمت متعین کر دیتے ہیں، جس کے بعد مصنف کا اپنا تجزیاتی بیانیہ سامنے آتا ہے۔

ساخت اور ترتیب کے اعتبار سے اس کتاب کو چند بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ عالمِ اسلام کے مفہوم، اس کی جغرافیائی ہیئت اور اس کے تاریخی و تہذیبی مراکز پر مشتمل ہے، جس میں مسلم ممالک کی تفصیل، اقلیت و اکثریت کا فرق، آبادی کے اعداد و شمار اور عالمِ اسلام کے وسیع قدرتی و معاشی ذخائر کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتے ہیں کہ دنیا کی بڑی تجارتی گزرگاہیں، اہم سمندری راستے اور توانائی کے بڑے ذخائر—بالخصوص پٹرولیم کے تقریباً ستر فیصد وسائل—عالمِ اسلام کے خطوں میں واقع ہیں، جو اس کی عالمی اہمیت کو دوچند کر دیتے ہیں۔

دوسرا حصہ ملکِ شام کی تاریخ سے متعلق ہے، جہاں ماضی و حال کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ نبوی ارشادات کی روشنی میں اس خطے کی دینی و تہذیبی حیثیت واضح کی گئی ہے، فلسطین پر یہودی قبضے اور اس سرزمینِ عزیمت کی موجودہ صورتِ حال پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔

فاضل مصنف کا کمال یہ ہے کہ وہ محض حالات کا بیان نہیں کرتے بلکہ ان کا فکری تجزیہ پیش کرتے ہیں، زاویۂ نظر تشکیل دیتے ہیں، اسباب و علل پر روشنی ڈالتے ہیں اور وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ قاری کے شعور کو اپیل کرتے ہیں اور بحیثیتِ فردِ امت اس کے لیے تڑپتے ہیں۔ کتاب اٹھائیے اور پڑھتے چلے جائیے، آپ اس بات کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مصنف کے افکار و خیالات پر تعصب کی کوئی چھاپ نہیں۔ جو کچھ وہ محسوس کرتے ہیں، اسے بے کم و کاست بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔

خلافتِ عثمانیہ کے سقوط و زوال کے بعد استعماری اور سامراجی قوتوں نے عالمِ اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے اور اسلامی علوم و فنون سے امتِ مسلمہ کا رشتہ توڑنے کے لیے شدید فکری و نظریاتی حملے کیے۔ مغربی تہذیب و ثقافت کو اسلامی تہذیب پر فوقیت دلانے کے لیے “تہذیبی احیا” کے نام پر گمراہ کن مہمات چلائی گئیں۔ دین و مذہب کے نام پر مضر لٹریچر کی اشاعت، قادیانیت کی تبلیغ، بابیت کا ظہور، اور مستشرقین کا متعصبانہ و معاندانہ رویہ اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں۔ اسی طرح صہیونی تحریک، صلیبی جنگیں اور اسلام دشمن عناصر کی سازشی تنظیمیں بھی اس فکری یلغار کا حصہ تھیں۔ صہیونیت—جو عالمی یہودیت کی ترجمان ہے—کے ابھرنے کے اسباب، اس کی حکمتِ عملی اور صلیبی جنگوں کا پس منظر بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

اس کے بعد کتاب میں عالمِ اسلام پر سامراجی اثرات، ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی و تہذیبی تبدیلیاں، اور ان چیلنجوں کے مقابلے میں ابھرنے والی اسلامی بیداری کی تحریکات و جماعتوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ "اسلامی بیداری سے مراد عموماً وہ اسلامی تحریکیں لی جاتی ہیں جو تیرہویں صدی ہجری مطابق انیسویں صدی عیسوی میں اسلامی ممالک میں ظاہر ہوئیں، اور جنہوں نے اسلام کے مخالف تمام عادات و اطوار اور رسوم و رواج کی شدت سے مخالفت کی، اور اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت کی بھرپور کوشش کی، تاکہ مسلمان اس دین پر عمل کرنے لگیں جس پر صحابۂ کرامؓ اور خود نبی کریم ﷺ عمل پیرا تھے، اور بدعات و خرافات اور گمراہیوں کو ترک کرکے سلف صالحین سے منقول صحیح دین اور صحیح مذہب کی جانب رجوع کریں۔ اسی سلسلے میں حجاز کے شہر نجد میں شیخ محمد بن عبد الوہاب کی سلفی تحریک، لیبیا کے شہر برقہ میں سنوسی دعوت، سوڈان میں مہدی تحریک اور مصر میں اخوان المسلمون کی تحریک کا ظہور ہوا۔” (ص 178)

اسلامی بیداری کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کے قلب میں واقع عظیم علمی اداروں—جامعۃ الازہر، جامع زیتونہ اور جامعہ قرویین—کا تذکرہ بھی ہے۔ اسی طرح او آئی سی، رابطۂ عالمِ اسلامی، عالم اتحاد برائے علمائے اہلِ اسلام اور ان کی ذیلی تحریکات کے مقاصد، اہداف اور سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

کتاب کا ایک بڑا حصہ دنیا کے مختلف براعظموں میں پھیلی ہوئی مسلم اقلیتوں کی تاریخ، ثقافت اور درپیش مسائل پر مشتمل ہے۔ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم، ان کے اسباب و علل اور جبر کے محرکات کو بے نقاب کیا گیا ہے، اور ان سے نبرد آزما ہونے کی فکری و عملی تدابیر بھی بیان کی گئی ہیں۔ مصنف برما کے روہنگیا مسلمانوں کی حالت پر افسوس کرتے ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لائحۂ عمل پیش کرتے ہیں، ناروے کے واقعے کا ذکر کرتے ہیں اور فلپائن میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

کتاب کا آخری حصہ مسئلۂ فلسطین سے متعلق ہے، جو اس پورے قضیے کو شرح و بسط کے ساتھ سمجھنے میں معاون ہے۔ یہودیوں کی حکمتِ عملی، سوئٹزرلینڈ میں ہرٹزل کی سرگرمیاں، سلطان عبد الحمید ثانیؒ کا تاریخی موقف، صہیونی منصوبہ بندی، امت کی کمزوریاں، فلسطین فروشی، ارضِ فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام تک کا دردناک سفر پوری تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

آخر میں مصنف مسائل کے حل کی طرف آتے ہیں اور کچھ اصول و طریقے پیش کرتے ہیں جن پر عمل کر کے امتِ مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار واپس حاصل کر سکتی ہے۔ امت کی اصل کمزوری نہ وسائل کی کمی ہے اور نہ افرادی قلت، بلکہ فکری انتشار، اعتقادی کمزوری اور روحانی زوال ہے؛ اور جب تک ان بنیادوں کی اصلاح نہ کی جائے، کوئی سیاسی یا عسکری تدبیر دیرپا ثمرات پیدا نہیں کر سکتی۔ آپ لکھتے ہیں کہ "لہٰذا شدید ضرورت ہے کہ امتِ مسلمہ صحیح اسلامی عقیدے کی پابند ہو، باہمی اتحاد و اتفاق اور اسلامی وحدت کا نمونہ بنے۔ اسی نسخے سے اس امت کی شوکت و عظمت رفتہ کی بحالی ہو سکتی ہے۔ یہی ایسا معنوی ہتھیار ہے جو تمام مادی اسلحہ اور وسائل سے زیادہ طاقتور ہے، امت کے قائدی و رہنما علمائے اسلام، داعیان کرام اور ملت کے روشن مستقبل اور ملی شناخت کی فکر رکھنے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امت کے نوجوانوں کے دلوں میں از سرِ نو ایمان و اسلام کی شجرکاری کریں، ان کے دینی جذبات کو بیدار کریں، اسلامی میراث اور سلف صالحین سے ان کو مربوط کرنے کی سعی کریں، اسلام کی صحیح اقدار و قیم، تعلمیات واحکام اور صحیح فہم سے ان کو روشناس کرائیں، اور ان کے اندر یہ اعتماد پیدا کریں کہ دنیوی و اخروی سعادت و فلاح اور کامیابی و کامرانی کا یہی ایک راستہ ہے اور اسلام ہی پر عمل پیرا ہوکر سلف صالحین کی طرح وہ انسانیت کی رہبری اور و قیادت کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں ” (ص 394)

بحثیتِ مجموعی 408 صفحات پر مشتمل یہ کتاب اس لائق ہے کہ سطر بہ سطر پڑھی جائے۔ امت کا ایک بڑا طبقہ ان مسائل سے ناواقف ہی نہیں بلکہ اجتماعی بے حسی کا شکار بھی ہے؛ ان کے لیے یہ کتاب فہمِ مسائل کی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ کتاب بہت پہلے آنے والی تھی۔ راقمِ سطور کو یاد ہے کہ استادِ محترم سے ملاقات کے وقت اس کا تذکرہ کیا جاتا تھا؛ بہرحال دیر آید درست آید کی مصداق، اب یہ کتاب سامنے ہے۔ سرورق کو مزید خوب صورت بنایا جا سکتا ہے، اور ابواب و فصول کی منظم تقسیم قاری کے لیے تفہیم میں معاون ہو سکتی ہے۔

ہم ڈاکٹر شاکر فرخ ندوی حفظہ اللہ کو اس فکری اور بصیرت افروز تصنیف پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ آئندہ بھی اس نوع کی مزید علمی و فکری کتابیں منظرِ عام پر آئیں گی، ان شاء اللہ۔

عالم اسلامنام کتاب: عالم اسلام

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

ندوه اور علم كلام
عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود

Related Posts

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 20, 2026
  • 0 Comments
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری: دو ملاقاتیں بقلم: ڈاکٹر محسن عتیق خان (مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند)   13 جولائی 2026 کو پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری صاحب، سابق صدر شعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی، کے انتقال کی خبر ملی تو جہاں ایک طرف مجھے آپ کی وفات پر انتہائی صدمہ لگا، وہیں دوسری طرف میں خود کو اپنی تساہلی پر کوسنے لگا۔ آج چار سال ہو گئے میری کتاب A Hostoy of Bais Rajputs کو شائع ہوئے مگر آپ سے ملنا تو دور ابھی تک آپ کی خدمت میں اس کا ایک نسخہ تک نہ ارسال کر سکا تھا۔ آپ کا حق تو یہ بنتا تھا کہ نہ صرف اُسکا نُسخہ بطور تشکر و امتنان کے آپ کو بھیجا جاتا بلکہ اس کی رونمائی بھی آپ سے کرائی جاتی کیونکہ آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اس پر ایک وقیع مقدمہ لکھا تھا جو کتاب کے موضوع کے تعلق سے اپنے اندر بہت سی قابل ذکر معلومات سموئے ہوئے تھا۔ یہ سن 2020 کے اوائل کی بات ہے، میری کتاب کا مسودہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا مگر میں ابھی بھی تشنگی محسوس کر رہا تھا اس لیے تقریباً سات سال تک اس موضوع پر کام کرنے کے باوجود کچھ نہ کچھ تحقیق و جستجو کا سلسلہ ابھی بھی چل رہا تھا۔ اس دوران مجھے پروفیسر جعفری صاحب کے کئی مضامين ملے جن میں اودھ کے زمینداروں اور بیس راجپوتوں کا تذکرہ تھا۔ میں نے جعفری صاحب کے بارے میں تھوڑا سا سرچ کیا تو پتہ چلا کہ آپ ہندوستان کے ممتاز مؤرخ، دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق صدر، اور انڈین ہسٹری کانگریس کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ آپ کو ایک ایسے مؤرخ کے طور پر جانا جاتا ہے جن کی علمی تحقیق مضبوط آرکائیوی شواہد پر مبنی ہے اور جو عام لوگوں کی سماجی و معاشی زندگی کو سمجھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی جہاں آپ نے معروف مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل…

Read more

Continue reading
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 18, 2026
  • 0 Comments
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

لمحۂ فکریہ جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی                      کلیم الدین ندوی  مدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔علی گڑھ   امریکہ میں نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی کی تاریخی کامیابی نے نہ صرف امریکی سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر جمہوریت کے تصور کو نئے سوالات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔   زہران ممدانی ایک مسلمان، سوشلسٹ اور عوام دوست سیاست دان ہیں جنہوں نے اس تاثر کو توڑ دیا کہ اقتدار ہمیشہ دولت، نسل یا اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ان کی جیت اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اب روایتی سیاست، نمائشی جمہوریت اور چند خاندانوں کی اجارہ داری سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کے متلاشی ہیں جہاں وہ صرف ووٹر نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں شریکِ اقتدار ہوں۔   یہ بیداری صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ آج ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک اسی بحران سے گزر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نمائندہ جمہوریت واقعی عوام کی آواز بن سکی ہے؟ کیا منتخب نمائندے واقعی عوامی مفاد کے ترجمان ہیں؟ یا جمہوریت ایک رسمی رسمِ انتخاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟   امریکہ بھر میں تقریباً ستر لاکھ افراد نے "No to Kings – بادشاہوں کو نہیں” کے نعرے کے ساتھ 2600 سے زائد شہروں میں مظاہرے کیے،یہ نعرہ دراصل اس عوامی احساس کی ترجمانی ہے جو طاقت کے ارتکاز کے خلاف ابھر رہا ہے۔ امریکی پالیسی سازی ہمیشہ سے چند مخصوص گروہوں کے ہاتھ میں رہی ہے — خواہ وہ منتخب نمائندے ہوں یا غیر منتخب ماہرین۔ یہ طبقہ اکثر اجتماعی فہم کے نام پر ایسے فیصلے کرتا ہے جو عوامی مفاد کے برعکس ہوتے ہیں۔   صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت نے اس تضاد کو مزید نمایاں کر دیا۔ وہ خود کو عوام کا نمائندہ کہتے تھے، مگر ان کی طرزِ حکمرانی میں فردِ واحد کی آمریت جھلکتی تھی۔ انہوں نے کئی مواقع پر مطلق العنان حکمرانوں کی تعریف کی اور کھلے عام کہا…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ 29.07.2026
  • اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟ 29.07.2026
  • کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟ 29.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے 20.07.2026
  • پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں 20.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ 18.07.2026
  • جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی 18.07.2026
  • عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد 10.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟
فقہ و اصول فقہ

اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟
فقہ و اصول فقہ

کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
مضامین و مقالات

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ
مضامین و مقالات

جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی
اسلامیات

عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد

  • hira-online.com
  • جولائی 10, 2026
عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top