Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
20.06.2026
Trending News: معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلت
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
20.06.2026
Trending News: معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلت
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

  1. Home
  2. اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • فروری 14, 2025
  • 0 Comments

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

بعض لوگ جہاں جاتے ہیں، اپنے ساتھ روشنی لے کر آتے ہیں، ان کی مسکراہٹ خلوص سے بھری ہوتی ہے، ان کے الفاظ دلوں میں اترتے ہیں، اور ان کی موجودگی ایسی ہوتی ہے جیسے کسی خزاں رسیدہ چمن میں بہار یا خشک سالی میں آبشار، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وجود سے دوسروں کو زندگی کا احساس دلاتے ہیں، جو خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھتے ہیں، جو دوسروں کے لیے باعثِ راحت ہوتے ہیں، جن کے قریب بیٹھنے سے انسان کو اپنے دکھ ہلکے محسوس ہوتے ہیں، اور جن کی صحبت میں رہ کر زندگی کی خوبصورتی اور اس کے بانکپن کا احساس ہوتا ہے، ایک پُر بہار شخصیت کسی موسم کی محتاج نہیں ہوتی، وہ ہر جگہ اور ہر حال میں اپنی خوشبو بکھیرتی ہے، لوگوں کے لیے باعثِ محبت بنتی ہے، اور دنیا میں خیر کا استعارہ بن جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ، وَلِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ، فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ، وَوَيْلٌ لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلشَّرِّ مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ” (سنن ابن ماجہ: 238).(یہ خیر خزانے کی مانند ہیں، اور ان خزانوں کی کنجیاں بھی ہیں، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجی، اور شر کا قفل بنا دیا ہو، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجی، اور خیر کا قفل بنایا ہو)۔

متاثر کن شخصیت وہ ہوتی ہے جس میں نرمی اور سختی، ہنسی اور سنجیدگی، مروت اور خود داری، وقار اور انکسار سب اعتدال کے ساتھ جمع ہوتے ہیں، ایسا شخص نہ تو ایسا پھول ہوتا ہے جو چھونے سے بکھر جائے اور نہ ایسا کانٹا جو ہر ایک کو زخمی کر دے، "شدة من غير عنف ولين من غير ضعف” (سختی ہو تشدد نہ ہو، نرمی ہو کمزوری نہ ہو)، اس میں وہ ٹھہراؤ ہوتا ہے جو دریا کے بہاؤ کو وقار عطا کرتا ہے، وہ گہرائی ہوتی ہے جو سمندر کی وسعت کو معنی عطا کرتی ہے، اور وہ خوشبو ہوتی ہے جو دور تک اپنا اثر چھوڑتی ہے، اور کہنے والے یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں:آپ کا ساتھ ساتھ پھولوں کاآپ کی بات بات پھولوں کیایسی شخصیت میں سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماحول کا اسیر نہیں بنتی بلکہ ماحول پر اثر انداز ہوتی ہے، وہ مایوسی میں امید کی کرن بن جاتی ہے، اور پژمردگی میں زندگی کی رمق جگا جاتی ہے، یہ شخصیت اپنی مجلس میں موجود ہر فرد کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ قیمتی ہے، اس کی موجودگی کا کوئی مقصد ہے، اس کے احساسات بے معنی نہیں، اور اس کے جذبات کی کوئی قدر ہے، وہ لوگوں کی طرف دیکھتی ہے تو ان کے اندر کے درد کو پڑھ لیتی ہے، وہ کسی کو سنتی ہے تو محض جواب دینے کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے کے لیے سنتی ہے۔ایسا شخص اگر کوئی بات کرتا ہے تو وہ براہ راست دل پر اثر انداز ہوتی ہے؛ کیوں کہ اس کے الفاظ محض زبان سے نہیں نکلتے، وہ اس کے خلوص کا عکس ہوتے ہیں، اس کی شخصیت کی سچائی کا ثبوت ہوتے ہیں، وہ کبھی کسی سے بناوٹ میں نہیں ملتا، اور نہ ہی اس کی ہنسی محض دکھاوا ہوتی ہے، اس کا مزاج ایسا ہوتا ہے کہ وہ نہ تو ہر وقت قہقہے لگا کر خود کو مذاق بناتا ہے اور نہ ہر وقت فکر وغم میں ڈوب کر ماحول کو بے کیف کردیتا ہے، وہ جانتا ہے کہ زندگی سنجیدگی اور لطافت دونوں کے امتزاج کا نام ہے، اور

ہر کیفیت کو اس کے وقت پر اپنانا ہی دانش مندی ہے۔

اس کی طبیعت میں توازن ہوتا ہے، نہ تو وہ اتنا خشک ہوتا ہے کہ لوگ اس کے قریب آتے ہوئے گھبرائیں اور نہ اتنا نرم کہ لوگ اس کا احترام کرنا چھوڑ دیں، وہ ایسا درخت ہوتا ہے جو سایہ بھی دیتا ہے اور اپنی جڑوں میں مضبوط بھی ہوتا ہے، وہ لوگوں کی باتوں میں الجھ کر اپنا راستہ نہیں بدلتا، وہ اپنی خوبیوں اور خامیوں کا بھی شعور رکھتا ہے، نہ وہ اپنی تعریفوں میں گم ہو جاتا ہے اور نہ تنقیدوں سے بکھر جاتا ہے، وہ زندگی کو سمجھ کر جیتا ہے، اس کا رویہ ہمیشہ مثبت اور امید سے بھرا ہوتا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ انسان اس کی محفل سے یہ کہتا ہوئے اٹھے:بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفلجو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلایہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کی باتوں میں چھپی تکلیف کو محسوس کر لیتے ہیں، جو مسکرانے والوں کی آنکھوں میں جھانک کر ان کے اندر کے چھپے غم کو جان لیتے ہیں، جو لفظوں کے پیچھے چھپے جذبات کو پہچان لیتے ہیں، ان کی سب سے بڑی طاقت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات سے کسی پر بوجھ نہیں بنتے، وہ دوسروں سے کم توقع رکھتے ہیں اور خود دوسروں کو زیادہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، وہ صبر اور شکر کے درمیان جیتے ہیں، اپنی محرومیوں کو دوسروں کے لیے غصے کا بہانہ نہیں بناتے، اپنی ناکامیوں کو دوسروں کے لیے طنز کا ذریعہ اور اپنی تکلیفوں کو دوسروں کے لیے اذیت کا سبب نہیں بناتے۔

ایسے لوگ کسی کے ساتھ وقتی تعلق نہیں بناتے، وہ رشتوں میں گہرائی کو پسند کرتے ہیں، وہ دوستی کرتے ہیں تو نبھانے کے لیے، وہ کسی کو قریب کرتے ہیں تو عزت دینے کے لیے، وہ کسی کے لیے کچھ کرتے ہیں تو صلہ لینے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے دل کی خوشی اور اجر وثواب کے لیے، ان کے تعلقات وقتی نہیں ہوتے، ان کی محبتوں میں خلوص ہوتا ہے، اور ان کی دعائیں صرف الفاظ نہیں ہوتیں، وہ دل سے نکلی ہوئی تمنائیں ہوتی ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اخلاق سے دوسروں کے دل جیتتے ہیں، جنہیں طاقت کے زور پر نہیں بلکہ محبت کے سحر سے عزت ملتی ہے، جن کی خوشبو ان کی موجودگی میں بھی محسوس کی جاتی ہے اور ان کی غیر موجودگی میں بھی، وہ جہاں ہوتے ہیں، وہاں روشنی ہوتی ہے، جہاں جاتے ہیں، وہاں چراغ جلتے ہیں، جہاں بیٹھتے ہیں، وہاں محبت کی ایک دنیا آباد ہو جاتی ہے، وہ اپنے نام کو محفلوں کی زینت بنانے کے لیے کچھ نہیں کرتے، لیکن لوگ انہیں خود بھول نہیں پاتے۔

ایسی شخصیت بننا ہو تو کسی مصنوعی طریقہ کی ضرورت نہیں، یہ کوئی اداکاری نہیں، بلکہ ایک فطری رویہ ہے جو اس وقت پروان چڑھتا ہے جب انسان اپنے اندر وسعت، صبر، حلم اور محبت پیدا کر لیتا ہے، جب وہ دوسروں کو بوجھ نہیں سمجھتا بلکہ اپنی زندگی کا حصہ سمجھتا ہے، جب وہ دوسروں کے غم کو بانٹنا اپنا فرض سمجھتا ہے، جب وہ دوسروں کی مسکراہٹ کو اپنی خوشی سمجھتا ہے، اور جب وہ دوسروں کی راحت میں اپنی کامیابی دیکھتا ہے۔

ایسے لوگ دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں، مگر جو ہوتے ہیں وہ ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں، وہ خزاں میں بہار بن جاتے ہیں، وہ اندھیروں میں چراغ بن جاتے ہیں، اور وہ زندگی کے سمندر میں وہ جزیرے بن جاتے ہیں جہاں سکون اور راحت میسر آتی ہے، وہ خود کے لیے نہیں جیتے، وہ سب کے لیے جیتے ہیں، اور یہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔

ان کی شخصیت ایک کتاب کی طرح ہوتی ہے، جسے جتنا پڑھو، اسی قدر اس سے نئے اسباق ملتے ہیں، جو جتنا قریب جائے، اتنا سیکھتا ہے، جو جتنا ساتھ چلے، اتنا فائدہ پاتا ہے، اور ان کے گرد لوگوں کا ہجوم شمع اور پروانوں کی کہانی پیش کرتا ہے:ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میںفقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیقاگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی ایسی شخصیت کے مالک بنیں، تو ہمیں اپنے رویہ میں نرمی، اپنی سوچ میں وسعت، اپنے دل میں محبت، اور اپنی طبیعت میں اعتدال پیدا کرنا ہوگا، ہمیں وقت کی طرح قیمتی بننا ہوگا، درخت کی طرح سایہ دار بننا ہوگا، خوشبو کی طرح مستقل ہونا ہوگا، اور چراغ کی طرح فروزاں بننا ہوگا، یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف ہمیں دوسروں کے لیے باعثِ راحت بنائے گا بلکہ ہمارے اپنے دل کو بھی ایک دائمی سکون عطا کرے گا۔

انسانی شخصیت کبھی جامد نہیں ہوتی، بلکہ وہ حالات، تجربات، اور سیکھنے کے عمل کے ذریعہ مسلسل ارتقا پذیر رہتی ہے، کچھ لوگ اپنی زندگی ایک منظم اور مرتب انداز میں جینے کو ترجیح دیتے ہیں، جب کہ کچھ افراد اسے فطری بہاؤ کے ساتھ گزارنا پسند کرتے ہیں، شخصیت کی دو بڑی اقسام ہیں: اصول پسند شخصیت (Judging Personality) اور لچک دار شخصیت (Perceiving Personality)، اول الذکر وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی میں نظم وضبط کو اولین ترجیح دیتے ہیں، ان کے نزدیک ہر چیز کا ایک مقررہ وقت اور اس کی ایک ترتیب ہونی چاہیے، اور وہ اپنی زندگی کی کامیابی کو ایک خاص فریم میں دیکھتے ہیں، ان کی سب سے بڑی خصوصیات یہ ہوتی ہیں کہ وہ فیصلہ کن (Decisive) ہوتے ہیں اور تذبذب میں نہیں رہتے، ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں، منصوبہ بندی کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے اور غیر متوقع تبدیلیاں انہیں پریشان کر دیتی ہیں، وقت کے سختی سے پابند ہوتے ہیں اور آخری وقت کے پابند deadline-oriented ہوتے ہیں، زندگی کو ایک واضح چیک لسٹ checklist کے مطابق جیتے ہیں، جہاں ہر چیز ترتیب سے مکمل ہوتی ہے۔دوسری طرف، کچھ لوگ زندگی کو ایک متحرک سفر dynamic journey سمجھتے ہیں، جہاں ہر چیز وقت کے ساتھ بدلتی ہے، اور اسے جمود کا شکار نہیں ہونا چاہیے، ان کے نزدیک سخت اصول وضوابط بوجھ کی مانند ہیں، جو زندگی کے حسن کو متاثر کر دیتے ہیں، ان کی نمایاں خصوصیات یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگ لچک دار اور حالات کے مطابق ڈھلنے والے flexible and adaptable ہوتے ہیں، اور کسی بھی صورت حال میں خود کو آسانی سے ڈھال سکتے ہیں، وہ منصوبہ بندی سے زیادہ spontaneity یعنی برجستگی کو پسند کرتے ہیں، اور لمحات کی قدر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اسلام ہمیں کسی ایک انتہا کی طرف جھکنے کے بجائے اعتدال اور توازن کی تعلیم دیتا ہے، نبی کریم ﷺ کی زندگی دیکھیں تو ہمیں اس میں ایک واضح اور منظم انداز structured approach نظر آتا ہے، ہر عمل ایک حکمت کے تحت کیا جاتا تھا، تاہم، اسلامی تعلیمات ہمیں سختی اور جمود کی قید میں بھی نہیں رکھتیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ” (صحیح بخاری: 6256) (اللہ ہر معاملہ میں نرمی کو پسند کرتا ہے”۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جہاں نظم وضبط ضروری ہے، وہیں موقع کی مناسبت سے نرمی برتنا اور حالات کے مطابق ڈھل جانا بھی ایک خوبصورت صفت ہے جب کہ اس میں شرعی قباحت نہ ہو۔مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ محبت بانٹتا ہے، دلوں کو جوڑتا ہے، اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، اس کے وجود سے راحت، اس کے اخلاق سے نرمی، اور اس کے عمل سے خیر جھلکتا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ”(مسند أحمد: 9198) (مومن الفت رکھنے والا ہوتا ہے، اور اس میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ خود محبت کرے اور نہ لوگ اس سے محبت کریں۔

یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو رشتوں میں گرہ نہیں ڈالتے بلکہ انہیں مضبوط کرتے ہیں، جو دوسروں کو خود سے قریب رکھتے ہیں، جن کی مجلسوں میں سکون ملتا ہے، اور جن کے اخلاق میں نرمی و شفقت کی روشنی ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ، أَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ، عَلَى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ سَهْلٍ ". (جامع ترمذی: 2488)(کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ آگ کس پر حرام ہے؟ آگ ہر اس شخص پر حرام ہے جو قریب، نرم خو اور آسانی پیدا کرنے والا ہو۔)

یہی وہ صفات ہیں جو ایک شخصیت کو باغ وبہار بناتی ہیں، جو انسان کو محبوب اور اس کی زندگی کو بامقصد بنا دیتی ہیں، ورنہ حال یہ ہے کہ:کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بد گماں حرم سےکہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

صحبتِ اہلِ صفا، نور وحضور وسرور(جامعۃ العلوم، گجرات کی ایک وجد آفریں محفل قراءت-روداد اور مبارک باد)
  فكر اسلامى كا مطالعه كس طرح كريں؟

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • جون 8, 2026
  • 0 Comments
ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام

ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام ڈاکٹر اسرار احمدؒ (26 اپریل 1932ء – 14 اپریل 2010ء) برصغیر کے ممتاز اسلامی مفکر، مفسرِ قرآن، داعیِ دین اور بانیِ تنظیمِ اسلامی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی قرآنِ حکیم کے فہم، دعوتِ دین اور اسلامی نظامِ حیات کے احیاء کے لیے وقف کر دی۔ اپنی علمی گہرائی، خطیبانہ انداز اور قرآنی فکر کے باعث آپ کو عالمِ اسلام میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ابتدائی زندگی اور تعلیم ڈاکٹر اسرار احمدؒ 26 اپریل 1932ء کو ضلع حصار (موجودہ ریاست ہریانہ، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد آپ کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔ آپ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، لاہور سے 1954ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں قرآن و اسلام کے گہرے مطالعے کے شوق نے آپ کو اسلامی علوم کی جانب متوجہ کیا اور آپ نے جامعہ کراچی سے اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ دینی و فکری خدمات زمانۂ طالب علمی میں آپ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور بعد ازاں جماعتِ اسلامی میں شامل ہوئے، تاہم بعض فکری اور سیاسی اختلافات کی بنا پر جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ آپ کا یقین تھا کہ اسلامی انقلاب اور معاشرتی اصلاح کا اصل ذریعہ قرآنِ مجید کی تعلیمات کی طرف رجوع ہے۔ اسی مقصد کے لیے آپ نے 1972ء میں انجمن خدام القرآن اور 1975ء میں تنظیمِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں تحریکِ خلافت پاکستان کا آغاز بھی کیا۔ آپ کی دعوت کا مرکزی نکتہ قرآنِ حکیم کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنانا تھا۔ بحیثیت مفسرِ قرآن ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو خصوصاً درسِ قرآن کے حوالے سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کے ہزاروں خطابات، دروس اور بیانات آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں محفوظ ہیں جن سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد مستفید ہوئے۔ آپ نے قرآنِ مجید کے پیغام کو عام فہم اور مؤثر انداز میں پیش کیا اور مسلمانوں کو قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی دعوت دی۔ علمی و تصنیفی خدمات آپ…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • اپریل 13, 2026
  • 0 Comments
نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)

نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں) نماز ایک نہایت اہم عبادت ہے، اس لیے ان امور کو جاننا ضروری ہے جن سے نماز فاسد (ٹوٹ) ہو جاتی ہے۔ ذیل میں تمام اہم صورتیں مختصر اور سادہ انداز میں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ ہر شخص آسانی سے سمجھ سکے:نماز توڑنے والی 38 اہم چیزیں

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل 19.06.2026
  • گداگری اور ہمارا رویہ 19.06.2026
  • ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون 19.06.2026
  • نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات 16.06.2026
  • میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟ 16.06.2026
  • مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ 14.06.2026
  • عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں 12.06.2026
  • فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں 09.06.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل
اسلامیات

گداگری اور ہمارا رویہ

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
گداگری اور ہمارا رویہ
مضامین و مقالات

ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون
مضامین و مقالات

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات
مضامین و مقالات

میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟
مضامین و مقالات

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

  • hira-online.com
  • جون 14, 2026
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ
مضامین و مقالات

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جون 12, 2026
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حدیث و علوم الحدیث

فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

  • hira-online.com
  • جون 9, 2026
فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top