Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
20.06.2026
Trending News: معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلت
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
20.06.2026
Trending News: معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلت
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگالکا قضیہ حقائق کی روشنی میںمیرا مطالعہ

  1. Home
  2. امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگالکا قضیہ حقائق کی روشنی میںمیرا مطالعہ

امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگالکا قضیہ حقائق کی روشنی میںمیرا مطالعہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • مئی 24, 2025
  • 0 Comments


مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال ایک متحرک وفعال تنظیم ہے۔ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد اس کے محرک تھے۔ انہوں نے امارت شرعیہ کا خاکہ تیار کیا ، اکابر علماء، خانقاہوں کے سجادہ نشیں، دانشوران اور مولانا ابوالکلام آزاد سے ملاقات کرکے امارت شرعیہ کے قیام کے لئے راہ ہموار کی۔ اس زمانہ میں مولانا ابوالکلام آزاد رانچی میں نظر بند تھے، اس لئے قیام امارت کا معاملہ ٹلتا رہا۔ جب ۱۹۲۰ء میں نظر بندی ختم ہوئی، تو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نے ۲۶؍ جون ۱۹۲۱ء کو پٹنہ کے محلہ پتھر کی مسجد میں اس سلسلے کی ایک میٹنگ بلائی۔ مولانا آزاد کے زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے کم وبیش پانچ سو علماء و دانشوران جمع ہوئے اور ۲۶؍جون ۱۹۲۱ء کو امارت شرعیہ بہار واڈیشہ موجودہ امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کا قیام عمل میں آیا۔
موجودہ وقت میں امارت شرعیہ کو ۱۰۰؍ سال پورے ہوچکے ہیں، یہ ملک کا ایک اہم اور باوقار ادارہ ہے، اس نے ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک کی بھی رہنمائی کی ہے۔ اس کا نظام قضاء بہت مقبول ہوا۔ امارت شرعیہ کے نظام قضاء کے مطابق تقریباً پورے ملک میں درالقضاء کاقیام عمل میں آیا اور کام کررہا ہے، جس سے مسلمانوں کو عائلی معاملات کو حل کرنے میں بڑی آسانی ہورہی ہے۔ اس نظام قضاء سے ہندوستان کے علاوہ بہت سے ممالک نے استفادہ کیا ہے، جس کی وجہ سے امارت شرعیہ ،بہار ،اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کی مقبولیت بہت بڑھ گئی ہے۔
امارت شرعیہ کو سمجھنے کے لئے اس کے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کا مطالعہ ضروری ہے۔اس لئے امارت شرعیہ کے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کے ضروری دفعات کا مطالعہ پیش ہے۔
امارت شرعیہ کا باضابطہ دستور ہے، جس کے مطابق یہ ادارہ چل رہا ہے، اس کے زیر انتظام کئی ادارےقائم کئے گئے، تو ضرورت کے پیش نظر اس کو ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعہ رجسٹرڈ کرادیا گیا، البتہ ٹرسٹ ڈیڈ میں دستور کی نکات کو باقی رکھا گیا، اس طرح ٹرسٹ ڈیڈ میں امارت شرعیہ کے پرانے دستور کی دفعات کو شامل کرتے ہوئے جائیدادوں کی حفاظت کے لئے ٹرسٹیوں کا اضافہ کیا گیا اور امارت شرعیہ کے تمام شعبہ جات کا نگراں امیر شریعت کو قرار دیا گیا۔
امارت شرعیہ کے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق امارت شرعیہ کی مجلس شوریٰ ،مجلس عاملہ، مجلس ارباب حل وعقد اور بورڈ آف ٹرسٹیز چار کمیٹیاں ہیں، دستور میں سبھی کے اختیارات کا بھی ذکر ہے۔ دستور وٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق امارت شرعیہ میں سب سے اہم عہدہ امیرشریعت کا ہے، یہ امارت شرعیہ کا سب سے اہم اور بااختیار عہدہ ہے، اس کی وضاحت دستور وٹرسٹ کی دفعہ ۵؍ میں ہے:
دفعہ ۵-امیرشریعت کو نظام امارت شرعیہ میں نقطۂ مرکز کی حیثیت حاصل رہے گی اور ان کا فیصلہ واجب الاطاعت ہوگا۔
دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ میں اوصاف امیر، انتخاب امیر اور عزل امیر کے لئے بھی مکمل رہنمائی موجود ہے۔
اوصاف امیر کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۰- امیر میں حسب ذیل اوصاف لازم ہوں گے۔
(۱) عالم باعمل ہو یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے معانی اور حقائق کا معتدبہ علم رکھتا ہو۔ اغراض ومصالح شریعت اسلامیہ وفقہ اسلامی وغیرہ سے واقف ہو اور احکام شریعت پر عمل پیرا ہو۔
(۲) سیاسیات ہند و سیاسیات عالم اسلامیہ سے واقفیت رکھتا ہو اور حتی الامکان تجربہ سے اکثر صاحب الرائے ثابت ہوچکا ہو۔
(۳) ذاتی قابلیت ووجاہت سے عوام وخواص کے اکثر طبقات کے ایک معتدبہ جماعت پر اس کا اثر ہو۔
(۴) حق گو ،حق شنو اور صاحب عزیمت ہو۔
(۵) فقہی تعبیر میں اس کی ذات ایسی نہ ہو جس سے امارت شرعیہ کا مقصد ختم ہوجائے۔
انتخاب امیر کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۱- جب امیر کا منصب خالی ہو تو تین ماہ کے اندر نئے امیر کا انتخاب لازمی ہے۔
دفعہ ۱۲- انتخاب امیر کا حق مجلس ارباب حل وعقد کو ہوگا۔
دستور و ٹرسٹ میں عزل امیر، وجوہ عزل اور طریقۂ عزل کے لئے بھی رہنمائی درج ہے۔
عزل امیر کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۳- عزل امیر کا اختیار مجلس ارباب حل وعقد کو ہوگا۔
وجوہ عزل کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۴- عزل امیر کے لئے مندرجہ ذیل وجوہ میں سے کسی ایک کا پایا جانا ضروری ہے۔
(۱) امیر شریعت سے خدا نخواستہ کفر بواح کا ظہور ہو، تو خود بخود معزول قرار دیا جائے گا۔
(۲) امیر شریعت کے اعمال میں اس حدتک تغیر ہوجائے کہ محارم متفق علیہا کا ارتکاب کرنے لگے تو مستحق عزل ہوگا اور تنبیہ کے بعد بھی اس سے باز نہ آئے تو معزول کیا جائے گا۔
(۳) اگر امیر شریعت اپنے فرائض کے انجام دہی میں قاصر وعاجز ثابت ہو، بسبب عدم اہلیت یا بسبب غفلت یا بسبب مرض تو اس سے مستحق عزل ہوگا۔
طریقۂ عزل کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۵- عزل امیر کے لئے مندرجہ ذیل طریقہ اختیار کیا جائے گا۔
(۱) اگر امیر شریعت کے اندر وجوہ عزل پایا جائے اور مجلس شوریٰ امارت شرعیہ کے کل ارکان میں سے کم ازکم دو تہائی اس پر متفق ہوں تو نائب امیر ارباب حل وعقد کا جلسہ طلب کریں، تاکہ عزل امیر پر غور کیا جائے یا اس کے حکم پر ناظم امارت شرعیہ جلسہ بلائیں گے۔
(۲) نائب امیر، مجلس شوریٰ ،امارت شرعیہ بہار ، جھارکھنڈ واڈیشہ کے دو تہائی ارکان کے اتفاق کے باوجود تین ماہ تک مجلس ارباب حل وعقد طلب نہ کریں، تو ان دو تہائی ارکان کو حق ہوگا کہ وہ مجلس ارباب حل وعقد اپنے دستخط سے میٹنگ بلالیں۔
بورڈ آف ٹرسٹیز کے ضمن میں تحریر ہے:
بورڈ آف ٹرسٹیز
(۱) ٹرسٹ اور اس کی جائیداد کا انتظام وانصرام بورڈ آف ٹرسٹیز کے اختیار میں ہوگا۔ امیر شریعت بحیثیت عہدہ بورڈ آف ٹرسٹیز کے صدر ہوں گے۔ بورڈ آف ٹرسٹیز کی تعداد کم سے کم ۱۱؍ اور زیادہ سے زیادہ ۲۱ ؍ ہوگی، جس میں سے امیر شریعت ، نائب امیر شریعت، ناظم امارت شرعیہ، انچارج بیت المال، قاضی امارت شرعیہ اور مفتی امارت شرعیہ بحیثیت عہدہ ٹرسٹی ہوں گے۔ بقیہ حضرات تاحیات ٹرسٹی ہوں گے۔
خلاصہ یہ کہ تمام کمیٹیوں کے اختیارات الگ الگ درج ہیں، تاکہ کسی طرح کا فتنہ برپا نہ ہو۔
امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی کے وصال کے بعد امارت شرعیہ کے امیر کا انتخاب ہونا تھا، اس وقت انتخاب کو لے کر ہنگامی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔ امیرشریعت کے انتخاب کے موقع پر میں بھی اس کی سرگرمیوں میں شریک رہا، اس لئے میں پورے حالات سے واقف ہوں۔ اسی کی روشنی میں چند حقائق پیش ہیں:
(۱) سال ۲۰۲۱ءمیں کورونا کا زور تھا، اسی زمانہ میں مولاسید محمد ولی رحمانی امیر شریعت کا انتقال ہوگیا، کورونا کی شدت کی وجہ سے لاک ڈائون لگا ہوا تھا، اس لئے بروقت امیر شریعت کے انتخاب کی کارروائی شروع نہیں ہوئی، جب انتخاب کی کارروائی شروع ہوئی ،تو امیر شریعت کے دوڑ میں بہت سے چہرےسامنے آرہے تھے۔ تنازع کو ختم کرنے کے لئے اتفاق رائے سے ایک انتخابی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں گیارہ ممبران تھے۔امیر شریعت کے لئے مجوزہ امیدواروں میں ایک ایسے امیدوار کا بھی نام آرہا تھا، جس کے بارے میں لوگ سوشل میڈیا اور پریس میڈیا میں یہ بیان دے رہے تھے کہ امارت شرعیہ کے دستور کے مطابق وہ عالم نہیں ہیں، چونکہ امیر شریعت کے اوصاف میں تحریر ہے کہ امیرشریعت وہی ہوگا جو عالم باعمل ہوگا۔ چنانچہ جب انتخابی کمیٹی کی تشکیل ہوگئی تو انتخابی کمیٹی نے عالم یا غیر عالم کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی بنائی جس میں دونوں گروپ کے علماء شامل تھے۔ علماء کمیٹی نے ان کو عالم تسلیم کیا ، پھر اس کے بعد انہیں انتخاب میں حصہ لینے کا موقع دیا گیا۔ انتخابی کمیٹی نے حالات کے پیش نظر انتخاب کی تیاری کرلی تھی، چونکہ حالات سے ایسا پتہ چل رہا تھا کہ اتفاق رائے سے امیرشریعت کا انتخاب نہیں ہوسکے گا۔ باضابطہ ووٹنگ کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
چنانچہ جب اتفاق رائے سے امیرشریعت کا انتخاب ممکن نہیں ہوسکا تو جمہوری طریقہ پر باضابطہ ووٹنگ کے ذریعہ انتخاب کرایا گیا۔ انتخاب میں ممبران مجلس ارباب حل وعقد نے حصہ لیا۔ ان لوگوں نے بھی حصہ لیا جنہیں ان کے عالم نہ ہونے پر اعتراض تھا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ تمام لوگوں نے ان کو عالم تسلیم کیا، کسی نے انتخاب کی مجلس میں ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ انتخاب میں مولانا احمد ولی فیصل رحمانی منتخب قرار دیئے گئے، تمام لوگوں نے ان کو امیرشریعت مان لیا۔
پھر تین سال کے بعد عجیب اتفاق ہے کہ اسی گروپ کے لوگ جو مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کو امیر شریعت بنانے میں پیش پیش تھے اور وہ لوگ موصوف میں امیر شریعت کے تمام اوصاف دیکھ رہے تھے اور شمار کررہے تھے ، اسی گروپ کے لوگ ان کے خلاف کھڑے ہوگئے اور پھر وہی لوگ ان ہی خرابیوں کا تذکرہ کر کے ہنگامہ برپا کرنے لگے کہ وہ عالم نہیں ہیں اور غیر ملکی ہیں ، جبکہ انتخاب کے وقت اس کا فیصلہ ہوچکاہے ، پھر ٹرسٹ کے چند ممبران کے ساتھ میٹنگ کر کے منتخب امیر شریعت کو معزول بھی کردیا اور دوسرے امیر شریعت کا انتخاب کر کے متوازی امارت شرعیہ کا اعلان بھی کردیا ، جس کا انہیں کوئی اختیار نہ تھا اور نہ ہے۔
آپ نے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کا مطالعہ کیا، منتخب امیر شریعت کو معزول کرنے کی وجوہات کا ذکر امارت شرعیہ کے دستور میں موجود ہے ، معزول کی وجوہات کے ذکر کے بعد معزول کرنےکے طریقہ کا بھی ذکر ہے ۔ دستور و ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق عزل کی وجوہات کی دفعات میں مندرجہ ذیل باتیں تحریر ہیں:
دفعہ۱۴ -عزل امیر کے لئے مندرجہ ذیل وجوہ میں سے کسی ایک کا پایا جانا ضروری ہے:
(۱) امیرشریعت سے خدا نخواستہ کفر بواح کا ظہور ہوتو خود بخود معزول قرار پائے گا۔
(۲) امیر شریعت کے اعمال میں اس حدتک تغیر ہوجائے کے محارم متفق علیہا کا ارتکاب کرنے لگے ،تو مستحق عزل ہوگا اور تنبیہ کے بعد بھی اس سے باز نہ آئے تو معزول کیا جائے گا۔
(۳) اگر امیرشریعت اپنے فرائض کی انجام دہی میں قاصر وعاجز ثابت ہو بہ سبب عدم اہلیت یا بہ سبب غفلت یا بہ سبب مرض تو اس صورت میں مستحق عزل ہوگا۔
پھر اس کے بعد دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ میں عزل کا طریقہ مذکور ہے:
(۱) اگر امیر شریعت کے اندر وجوہ عزل پائے جائیں اور مجلس شوریٰ امارت شرعیہ کے کل ارکان میں سے کم ازکم دو تہائی ارکان اس پر متفق ہوں تو نائب امیر ارباب حل وعقد کا جلسہ طلب کریں گے تاکہ عزل امیر پر غور کیا جائے، یا ان کے حکم پر ناظم امارت شرعیہ جلسہ بلائیں گے۔
(۲) نائب امیر مجلس شوریٰ امارت امارت شرعیہ بہار، جھاکھنڈ واڈیشہ کے دوتہائی ارکان کے اتفاق کے باوجود تین ماہ تک مجلس ارباب حل وعقد طلب نہ کریں تو ان دوتہائی ارکان کو حق ہوگا کہ وہ مجلس ارباب حل وعقدکی میٹنگ اپنے دستخط سے بلائیں ۔
امارت شرعیہ کے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کے مذکورہ بالا دفعات سےیہ واضح ہے کہ منتخب امیر شریعت کو معزول کرنے کی وجوہات سے مجلس شوریٰ کے دو تہائی ممبران کا متفق ہونا ضروری ہے،لیکن بورڈ آف ٹرسٹیز کے چند ممبران نے ازخودمنتخب امیرشریعت کو معزول کرکےدوسرے امیرشریعت کو منتخب کرکے اعلان کردیا، جس کا انہیں کوئی اختیار نہیں تھا، بلکہ امیر شریعت کے معزول کرنے کی وجوہات سے مجلس شوریٰ کے دوتہائی ارکان کا متفق ہونا ضروری تھا، پھر مجلس شوریٰ کی دعوت پر مجلس ارباب حل وعقد کو امیرشریعت کو معزول کرنے اور دوسرے امیر شریعت کے انتخاب کا اختیار تھااور ہے ۔ چنانچہ امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کی مجلس شوریٰ کا اجلاس مورخہ ۱۳؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو منعقد ہوا، اس میں استصواب رائے کیا گیا ، جس میں مجلس شوریٰ کے ارکان نے اجلاس میں منتخب امیرشریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی پر اعتماد کا اظہار کیااور ان کے امیر شریعت ہونے کی توثیق کی۔ اس طرح امارت شرعیہ ان کی زیرقیادت اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔
جہاں تک الزامات کی بات ہے ،تو میں نے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چند ممبران کے ذریعہ منتخب امیرشریعت کو معزول کرنے کی وجوہات کا جائزہ لیا، تو اس میں دوباتیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عالم نہیں ہیں، دوسرے یہ کہ وہ ہندوستانی شہری نہیں ہیں۔
جہاں تک عالم نہ ہونے کی بات ہے تو اس کے لئے انتخاب سے پہلے علماء کمیٹی نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ وہ عالم ہیں، اس پر موافقین اور مخالفین سبھی کا اتفاق ہوچکا ہے، اس لئے اب اس معاملے کو اٹھانا اتفاق رائے کے خلاف ہے۔
جہاں تک ہندوستانی شہری نہ ہونے کی بات ہے، تو یہ قانونی معاملہ ہے، میں نے اس سلسلے میں کئی اہم ماہرین وکلاء سے مشورے کئے، انہوں نے بتایا کہ امارت شرعیہ ایک این جی او ہے اور این جی او کے عہدیدار ہونے کے لئے ہندوستان کا شہری ہونا ضروری نہیں ہے۔ پھر میں نے او سی آئی قوانین کا مطالعہ کیا ، اس میں اوسی آئی کارڈ ہولڈر کو چند معاملات کو چھوڑ کر ملک کے تمام معاملات میں ہندوستانی شہری کی طرح اختیارات حاصل ہونے کا تذکرہ ہیں۔ اس طرح کے کارڈ ہولڈر کو غیرملکی نہیں کہا جاسکتا ہے۔
یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ ان کی بہت سی باتیں دین وشریعت کے خلاف ہوتی ہیں، تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ میں نے ان ویڈیوز کو سنا ہے، مختلف مسائل میں علماء کے مختلف رائیں ہیں، ان کو سمجھانےکے لئے اختلافات کی نوعیت کو لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے یا عوام کو سمجھانے کے لئے اس طرح کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس طرح کے ویڈیو سے دین سے انحراف واضح نہیں ہوتا ہے اور نہ ثابت ہوتا ہے۔
مذکورہ تجزیہ کی روشنی میں امارت شرعیہ کے منتخب امیر کو مجلس ارباب حل وعقد کے سوا کسی دوسری مجلس کو معزول کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ میرے مطالعہ کے مطابق ان پر لگائے گئے الزامات کی بھی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے، اس لئے امارت شرعیہ کی حفاظت اور اس کے وقار کو برقرار رکھنا ملت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو شر اور فتنے سے حفاظت فرمائے۔

—

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

یہود سے معاہدہ اور نقضِ عہد کی یہودی فطرت وتاریخ
امارت شرعیہ کی مجلس ارباب حل وعقد نے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی امارت اور قیادت میں شرعی زندگی گذارنے کا عہد پیمان کیا.

Related Posts

ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون
  • hira-online.comhira-online.com
  • ہجرت ایک عبادت ہے
  • ہجرت کا پیغام
  • جون 19, 2026
  • 0 Comments
ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون

ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون تحریر: شیخ ونیس مبروکترجمانی: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی نئے ہجری سال 1448 کے استقبال کے موقع پر مناسب نہیں کہ ہجرت نبوی ہمارے ذہنوں میں محض ایک تاریخی یادگار یا ماضی کا ایک عظیم واقعہ بن کر رہ جائے، جس کے اوراق ہم الٹتے پلٹتے رہیں یا جس کی تفصیلات سن کر متاثر ہوتے رہیں؛ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہجرت کو ایک زندہ فکر، ایک مشروع عبادت، ایک عظیم تربیتی درسگاہ، قوموں اور معاشروں کی زندگی میں جاری اللہ تعالیٰ کے اٹل قوانین میں سے ایک قانون کے طور پر سمجھیں۔ ہجرت ایک زندہ فکر ہے، محض ایک تاریخی سفر نہیں جو اپنے مسافروں کے ساتھ ختم ہوگیا ہو، یہ ایسی فکر ہے جو ہر اس وقت نئی زندگی کے ساتھ سامنے آتی ہے جب اہل ایمان پر حالات تنگ کر دیے جائیں، جب حق کے پیغام کو دبانے کی کوشش کی جائے، یا جب انسان کو اپنے دین، عزت اور ضمیر کے مطابق زندگی گزارنے سے روک دیا جائے، جو شخص اصول، پیغام اور اقدار سے وابستہ ہو، اسے ہر دور میں ظالموں، ارباب جبر واستبداد اور فساد پھیلانے والوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے وقت میں یا تو وہ ایسی جگہ تلاش کرتا ہے جہاں اپنے دین پر عمل کرسکے، اپنی عزت محفوظ رکھ سکے اور قرآن کے الفاظ میں: ﴿وَمَنْ يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً﴾ (النساء:100) (جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سی پناہ گاہیں اور وسعت پائے گا)؛ یا پھر وہ اپنی اقدار سے دستبردار ہوکر ذلت ورسوائی کو قبول کرلے اور ظلم، جبر اور ناانصافی کو خاموشی سے دیکھتا رہے۔ اس اعتبار سے ہجرت ذمہ داری سے فرار کا نام نہیں، بلکہ بے بسی کے ماحول سے نکل کر صلاحیت اور عمل کے میدان میں قدم رکھنے کا نام ہے؛ جبر کی فضا سے تعمیر کی فضا کی طرف سفر کا نام ہے؛ اور محض حالات کے بدلنے کا انتظار کرنے کے بجائے ایسا…

Read more

Continue reading
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات
  • hira-online.comhira-online.com
  • جون 16, 2026
  • 0 Comments
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت وقت ہے۔ انسان کی پوری زندگی وقت ہی کے مختلف حصوں کا مجموعہ ہے۔ جب ایک ہجری سال اختتام پذیر ہوتا ہے اور نیا سال شروع ہوتا ہے تو درحقیقت یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری عمر کا ایک حصہ کم ہو گیا اور ہم اپنی آخرت کے سفر میں ایک منزل مزید آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس لیے نئے اسلامی سال کا آغاز ہر مسلمان کے لیے غور و فکر، اصلاحِ احوال اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہے۔ ہجری سال کی بنیاد اور اس کا پیغام اسلامی کیلنڈر کی بنیاد ہجرتِ نبوی ﷺ پر رکھی گئی ہے۔ یہ وہ عظیم واقعہ ہے جس نے اسلامی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ مکہ مکرمہ میں ظلم و ستم کے باوجود رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دینِ اسلام پر ثابت قدمی اختیار کی اور اللہ کے حکم سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ ہجرت کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین، عقیدے اور اصولوں پر ثابت قدم رہے، خواہ اس راہ میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ پیش آئیں۔ اسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں برائیوں، گناہوں اور غلط عادات کو چھوڑ کر نیکی، تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی کی طرف ہجرت کرے۔ وقت کی اہمیت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر وقت کی قسم کھائی ہے، جو اس کی عظمت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو وقت گزر جاتا ہے وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ انسان مال و دولت دوبارہ حاصل کر سکتا ہے، لیکن ضائع شدہ وقت واپس نہیں لا سکتا۔ نئے سال کا آغاز ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم نے گزشتہ سال اپنے وقت کو کس حد تک اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کیا؟ کیا ہمارا وقت عبادت، علم، خدمتِ خلق اور نیک اعمال میں صرف ہوا یا فضول مشاغل اور غفلت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل 19.06.2026
  • گداگری اور ہمارا رویہ 19.06.2026
  • ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون 19.06.2026
  • نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات 16.06.2026
  • میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟ 16.06.2026
  • مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ 14.06.2026
  • عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں 12.06.2026
  • فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں 09.06.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل
اسلامیات

گداگری اور ہمارا رویہ

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
گداگری اور ہمارا رویہ
مضامین و مقالات

ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون
مضامین و مقالات

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات
مضامین و مقالات

میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟
مضامین و مقالات

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

  • hira-online.com
  • جون 14, 2026
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ
مضامین و مقالات

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جون 12, 2026
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حدیث و علوم الحدیث

فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

  • hira-online.com
  • جون 9, 2026
فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top