Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
16.04.2026
Trending News: نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
16.04.2026
Trending News: نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

برف باری حسن ہے کشمیر کا

  1. Home
  2. برف باری حسن ہے کشمیر کا

برف باری حسن ہے کشمیر کا

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جنوری 8, 2025
  • 0 Comments

۔ از : الطاف جمیل شاہ سوپور کشمیر

حرف اول ۔۔۔

( امسال موسم سرما کے تیور کچھ الگ ہی محسوس ہوئے نئی پود کو تو چلہ کلاں نے حیران کردیا پانی کے نل جم گے منہ دھونے کے لئے بھی گھروں میں پانی کی آوا جاہی رکی رہی اکثر گھروں میں مرد و خواتین نے ایسی تکلیف محسوس کی جس کا انہیں اندازہ نہ تھا سبب یہ تھا کہ کئی سال سے موسم سرما نے اپنی اصل چھوڑ کر کچھ خیر سے اپنے لمحات گزار لئے تھے سو اہلیان وادی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ چلو اب چلے کلاں کا موسم بھی خشک ہی گزر جاتا ہے اور اہلیان وادی اب گرم علاقوں کے رہنے والوں کی طرح بود و باش اختیار کر رہے تھے کہ امسال چلہ کلاں نے آتے ہی ادھم مچا دی اور لوگوں کو احساس ہوا کہ یہ تو اب تک ویسا ہی ہے خیر اسی دوران کل یوم جمعہ پر نماز سے فارغ ہوتے ہی برف باری شروع ہوئی اور ہمارے بچپن کی یادیں تازہ ہوگی سو سوچا آپ کو یاد دلاؤں)

کشمیر دنیا کا ایک ایسا خوبصورت اور دلکش مناظر سے مالا مال خطہ ارضی ہے جس کا حسن جس کے آبشار و کہسار اس کے سینے پر رواں بہتے ندی نالے اس کے ماتھے کا جومر ڈل نامی پانی کا ایک پیارا سا جھیل جو اپنے حسن و جمال کا ثانی رکھے بنا دعوت نظارہ دیتا ہے یہاں کے بہتے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے جھرنے عجب دلکش نظارہ پیش کرتے ہیں جنہیں دیکھ کر بڑے سے بڑا عقل و دانش کا مالک بھی ورطہ حیرت میں پڑھ جاتا ہے پر اس سے آگئے بڑھ کر دیکھئے تو وادی کشمیر میں موسم سرما کے ساتھ جو برف باری ہوتی ہے یہ برف باری کہنے والوں کے مطابق پانی کی مقدار کو بر قرار رکھنے کے لئے لازم ہے اب جتنی برف باری ہوگئی اسی قدر پانی کی مقدار بڑھ جائے گی مجھے دنیا کے بقیہ ممالک کے بجائے اپنی وادی سے ہی انسیت اور محبت ہے اس لئے اسی کی بات کرتا ہوں یہاں کے کسان پیشہ لوگ تب خوشیاں مناتے ہیں جب باری برف باری ہوتی ہے وہ کہتے ہیں کہ اس سے ہمارے کھیتوں کی پیاس بجھ جاتی ہے اور فصل کی پیداوار کے لئے یہ ایک نیک شگون ہے اب چلتے ہیں بچوں کی دنیا میں کہ وہ برف باری سے کیسے لطف اندوز ہوتے ہیں

آج سے تقریبا تیس سال پہلے کی بات ہے ۱۹۹۰ کے آس پاس جب پہاڑی علاقوں میں بہت زیادہ برف باری ہوئی میں تب بچہ تھا ہمارے ایک پیارے سے چچا تھے قد کے لحاظ سے سب سے قدآور اور بچوں کے لئے عالم کے سب سے لمبے آدمی کیونکہ ہ۔ہماری نظر محبت یا ان کی مار پیٹ کے سبب نظر عداوت ان کے چہرے تک پہنچتی نہ تھی وہ اس برف باری کے دن جب زیادہ برف باری ہوئی اپنے گھر کی چھت سے برف ہٹا رہے تھے کہ برف میں دھنس گئے اور ہم تھے کہ ہنس رہے تھے کیونکہ وہ سر تک برف میں سما گئے تھے خیر اتنی زیادہ برف باری بھی وبال جان ہی بنتی ہے ان غریب اور دور دراز علاقہ جات میں رہنے والوں کے لئے جنہیں کوئی ضرورت ہو وہ مہینوں تک سفر کرنے کی کوشش تو کیا ارادہ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ اکثر راستے برف باری کے نتیجے میں ناقابل عبور و مرور ہوجاتے ہیں اب گر بارف باری ہلکی پھلکی ہو تو یہ بچوں کے لئے خوب مزے کی بات ہوتی بچے لوگ خوب کھیلتے ہیں کوئی گھر کا برتن جس کا منہ پڑا اس ہو لے کر نکلتا ہے اور اسی برتن کو استعمال کرنے کے لئے اس پر بیٹھ کر اپنے پیر آگئے پڑھ کر کسی اونچی جگہ پر برتن رکھ دیتا ہے کوئی دوسرا بچہ اس بچے کی مدد کرنے کے لئے برتن کو دھکا دے دیتا ہے اور سوار بچہ اسی برتن کو پکڑے اچھلتا گرتا پڑتا نیچے چلا جاتا ہے یا آجکل کی نئی تیکنیک استعمال کرتے ہوئے پالتھین پر بیٹھ کر ایسا ہی مزہ لیا جاتا ہے ایسے ہی بچے برف جمع کر لیتے ہیں اور دن بھر خوب اس برف کے نقش و نگار سے تصاویر بناتے ہیں کبھی کسی بچے کی یا مرد و عورت کی اور اس پر خوب کوشش کرتے ہیں کہ یہ کام کمال کا ہو کچھ لوگ کسی جانور کے نقشے بنا دیتے ہیں ان بچوں کی یہ سب سے بڑی تخلیق ہوا کرتی ہے جو یہ اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے ہیں ان معصوم بچوں کے ہاتھ کتنے بھی سردی سے سکڑ جائیں پر یہ اپنے کھیل پر اس کے سبب اپنا کھیل کھیلنے سے باز نہیں آتے بلکہ ہاتھوں کو کبھی منہ کی پھونک سے تو کبھی اپنے فرن سے رگڑ کر گرم کرتے رہتے ہیں کبھی تو یہ معصوم بچے اسی برف باری سے لطف اندوز ہوتے ہوئے چھوٹے چھوٹے سے کمرے بنا دیتے ہیں اور پوری طرح اس کمرے کو سجا دیتے ہیں اس کھیل میں لڑکے اور لڑکیاں برابر کی ماہر ہوتی ہیں کبھی کبھار کچھ بڑے نوجوان بھی آپس میں اس برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لئے برف کے چھوٹے چھوٹے گولے بنا کر ایک دوسرے پر پھینک دیتے ہیں اور خوب ہلہ گلہ کرتے ہیں بڑے بوڑھے بھی اس نظارے کو دیکھ کر آہین بھرتے ہیں بچپن کے دنوں کو یاد کر کرکے

گلمرگ ہو کہ کوئی اور سیاحتی مقام سیاح برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لئے اکثر ان جگہوں کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ بھی اپنے انداز سے اس برف باری میں کھیل کا حظ اٹھاتے ہیں عجب سماں ہوتا ہے عجب نظارے ہوتے ہیں آج جوں ہی میں گھر سے نکلا برف باری ہورہی تھی تو دیکھا کہ برف مچل مچل کر زمیں کو چھو رہی ہے پر ہماری مصیبت اس وقت دو بالا ہوجاتی ہے جب انتظامیہ یہاں کی عوام کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیتی ہے اکثر ایسا ہوجاتا ہے کہ نیشنل ہائے وے پر تو انتظامیہ متحرک جلد ہوجاتی ہے پر نیشنل ہائے وے تک آتے آتے کس قدر مشکلات لوگ سہتے ہیں وہ وہی لوگ جانتے ہیں جو دور دراز علاقوں کے مکین ہوا کرتے ہیں جہاں گر کوئی بیچارہ بیمار ہوجائے تو اکثر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اس بیمار کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر اسپتال لے جانے کی کوشش میں مصروف ہوجاتے ہیں گر کوئی خاتون درد زہ میں مبتلاء ہو تو اسے اسپتال لے جاتے ہوئے کئی بار ایسا بھی ہوا کہ خاتون نے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی برف کے اوپر ہی بچے کو یا تو جنم دیا یا اپنی اور اپنے آنے والے بچے سے ہی ہاتھ دھو بیٹھی اس برف باری کی ایک سزا یہ بھی ہوتی ہے کہ گراں بازی پہاڑی علاقوں میں آسمان کو چھوتی ہے یا پھر قلت سرمایہ کے سبب ان غریب اور لا چار لوگوں کو بھوکا رہنا پڑھتا ہے کیونکہ ان کی رسائی اناج کے حصول تک ناممکن ہوتی ہے گرچہ اخبار و رسائل میں انتظامیہ کی طرف سے اکثر ایسی خبریں بھی آتی رہتی ہیں کہ ہم نے ضروریات زندگی کی اشیاء کو فلاں فلاں جگہ پر بڑے بڑے ذخیرے کردیے ہیں پر وہ لوگ کیا کریں جو دن کو کما کر رات کو کھانے کے سوا کچھ بھی کر نہیں سکتے اب اس زاویہ سے دیکھا جائے تو کشمیر کی اکثریت انہی مزدور پیشہ افراد کی ہے جن کا اس کے سوا کوئی اور کمائی کا ذریعہ ہے ہی نہیں کیا انتظامیہ کبھی اس جانب متوجہ ہوجائے گئی کہ کم از کم ان مزدور پیشہ افراد کے لئے سرما کے ان ایام میں کوئی مدد کی جائے تاکہ وہ اپنے ان ایام میں کسی مصیبت کے شکار نہ ہوجائیں اسی طرح یہاں موسم سرما کے دوران دو ماہ ایسے آتے ہیں جب پانی اور انسان کی ملاقات کرنا خود ایک کمال ہوتا ہے مطلب پانی چلنے سے زیادہ رکنا پسند کرتا ہے سمجھے نا مطلب یہ جم جاتا ہے اس پانی کو منہ میں رکھنا یا اس سے ہاتھ منہ دھونا ایسا ہی ہے کہ کوئی انسان اپنی جان کا دشمن ہو اور کہئے مجھے میرے ہاتھ نہیں چاہئے اب اس موسم میں لوگ اکثر گرم پانی کا ہی استعمال کرتے ہیں جس کے لئے گر بجلی ہوتی تو ایک بہترین ذریعہ بن جاتا اس ٹھنڈے پانی سے نجات کے لئے پر ہمارے ہاں ہماری پیاری بجلی جو اکثر یہاں کے درختوں کے بوسے لیتے ہوئے مختلف درختوں ہر زبردستی خود کو سوار کر لیتی ہے غائب رہنا ہی پسند کرتی ہے کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ بیچاری بجلی بھی کیسے کیسے ان ننگی الیکٹرک ورز کے سہارے ہمارے گھروں تک تشریف لائے گی ممکن ہے یہ بھی موسم سرما مطلب چلہ کلاں کی مار برداشت نہ کرتے ہوئے اپنے آشیانہ میں ہی قیام کرنا پسند کرتی ہو تاکہ اس موسم میں کہیں پھنس کر جم نہ جائے اور پھر خود ہی خود کا گلا گھونٹ دے خیر اس بیچاری کا قصور بھی زیادہ نہیں کیونکہ جہاں لوگوں کی اکثریت اپنے ماہنانہ بل ادا کرنے کے لئے صبح ہی صبح بینک جاکر بل کی رقم ادا کر دیتے ہیں وہیں کچھ ارباب اقتدار سے لے کر گاؤں کے وہ سیانے باشندے ہزاروں نہیں لاکھوں کی رقم والی بل کی قدر و قیمت سے لاپرواہ ہوکر اپنی دانشمندی کا اظہار کرتے ہیں پر اس سب کا خمیازہ بیچارے غریب عوام کو سہنا پڑتا ہے جب بجلی ملازمین بجلی کے کھبوں اور بجلی کی ترسیلی لائن نئے سرے سے لگانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ رقم نہیں ہے

اوہ بات ہورہی تھی برف باری کی چلئے صاحب پھر سے یہی بات چھیڑ دیتے ہیں کہ برف باری ہماری وادی کا سرمایہ افتخار ہے پر غریب کے لئے نوید مصیبت و اذیت

امسال بھی ۴ جنوری سے برف باری ہماری وادی میں شروع ہوئی اور کہسار سے لے کر کھیت کیھلیاں سفید چادر میں لپٹ گئے ہر طرف ہر جگہ صرف اسی سفید برف کی حکمرانی ہے اسی کی دلکشی و خوبصورتی ہے اور اس کا گرنا جاری و ساری ہے یہ برف باری کا نظارہ تب بھی قابل دید ہوتا ہے جب چھوٹی چھوٹی گاڑیاں اپنی پوری قوت لگا کر بھی اس سے ہار جاتی ہیں اور ایک گھنٹے کا سفر اس برف کے سنگ تین چار گھنٹوں تک پہنچ جاتا ہے ہم خوش ہیں کہ امسال برف باری شروع ہوئی پر اللہ کرے یہ برف باری کسی مصیبت کی نوید نہ ہو بلکہ اس سے صرف ہمارا فائدہ ہو فائدہ مطلب یہی کہ زراعت و باغبانی کا فائدہ اب رہا وہ کھیل کود کا زمانہ جو ہمارے کلچر کا ایک حصہ تھا اسے نفرتوں نے اپنے دامن نفرت کے سایہ میں کہیں غائب ہی کردیا اب بچے کھیل کم اور خوف زدہ زیادہ ہوتے ہیں جیسے کہ پچھلے ایام سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کشمیر اپنی تہذیب و ثقافت کے حوالے سے بہت پیچھے کی طرف دوڑ لگائے ہوئے ہے اور اہل کشمیر خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں تو صاحب چلئے برف باری کا لطف اٹھائیں نہ کہ غم کی دنیا میں جاکر غمگین ہوا جائے

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

تربیت اسے کہتے ہیں ۔
اردو تدریس کی موجودہ صورت حال -مسائل اور حل

Related Posts

قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات
  • hira-online.comhira-online.com
  • جادو
  • جادو کی حقیقت
  • اپریل 12, 2026
  • 0 Comments
قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات

قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات ​اسلامی عقیدے کے مطابق جادو محض ایک وہم یا افسانہ نہیں ہے، بلکہ قرآن کریم نے اس کے وجود اور اس کے انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جادو ایک شیطانی فن ہے جو انسان کے ایمان اور دنیا دونوں کے لیے مہلک ہے۔ ​جادو کی حقیقت اور نقصان ​قرآن کریم نے جادو کو ایک ایسے علم کے طور پر متعارف کرایا ہے جس کا سیکھنا سراسر نقصان کا باعث ہے۔ سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:​”وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ”(اور وہ ایسی چیز سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچاتی ہے اور انہیں نفع نہیں دیتی۔)​اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جادو کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کے روحانی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ جادوگر اپنے ناپاک مقاصد کے لیے شیاطین کا سہارا لیتا ہے، جو اسے اللہ کی بندگی سے دور کر کے کفر کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔​ نظر بندی اور تخیلاتی جادو ​جادو کی ایک قسم وہ ہے جس میں جادوگر انسانی حواس، بالخصوص نظر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسے "سحرِ تخئیل” یا نظر بندی کہا جاتا ہے۔ اس کی بہترین مثال قرآن نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے جادوگروں کے مقابلے کی صورت میں دی ہے:​”يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ”(ان کے جادو کے زور سے موسیٰ علیہ السلام کے خیال میں یہ بات آئی کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔)​یہاں جادوگروں نے رسیوں کو سانپ نہیں بنایا تھا بلکہ لوگوں کی آنکھوں پر ایسا اثر کیا تھا کہ انہیں وہ رسیاں دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جادو انسان کی نفسیات اور ادراک کو متاثر کر سکتا ہے۔ ​خاندانی بگاڑ اور میاں بیوی میں تفریق ​جادو کا ایک بدترین سماجی پہلو یہ ہے کہ اسے انسانی رشتوں کو توڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق جادوگر ایسے عمل سیکھتے ہیں جن کے ذریعے وہ میاں بیوی جیسے مقدس اور…

Read more

Continue reading
🔰حقیقی گھر کی طرف واپسی
  • hira-online.comhira-online.com
  • حقیقی گھر واپسی
  • گھر واپسی
  • اپریل 10, 2026
  • 0 Comments
🔰حقیقی گھر کی طرف واپسی

🔰حقیقی گھر کی طرف واپسی 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎ گزشتہ دنوں مشہورنام نہاد سماجی تنظیم آرایس ایس کے قائد جناب موہن بھاگوت صاحب نے بھارت کے مسلمانوں اورعیسائیوں کو ’’گھرواپسی‘‘کی دعوت دی ہے، گھرواپسی سے ان کی مراد ہے: اِن مذہبی اکائیوں کا ہندو دھرم اورنئی اصطلاح میں ’’سناتن دھرم‘‘ کو قبول کرلینا، ملک کے دستور میں جو مذہبی آزادی کا حق رکھاگیاہے، اس کے تحت ہرشخص کو اپنی پسند کے مطابق مذہب اختیار کرنے کا حق دیاگیاہے؛ لیکن اس سے یہاں کےفرقہ پرست عناصر کو بہت تکلیف ہے، وہ جس مذہب کی پیروی کرتے ہیں، وہ انسانوں کے درمیان نابرابری پر مبنی ہے، اس میں عورتوں کو سماجی حقوق سے محروم رکھاگیاہے، مذہبی فرائض کو صرف برہمن اور اعلیٰ ذات کے افراد ہی انجام دے سکتے ہیں، دوسرے لوگ مذہبی رہنمائی کا فریضہ تو کیاانجام دیں گے، وہ بعض مندروں میں بھی داخل نہیں ہوسکتے، اس کی تعلیمات قدم قدم پر عقل اورفطرت سے ٹکراتی ہیں، جو مورتیاں بولنے سے اورحرکت کرنے سے محروم ہیں، اور خود اپنے آپ سے ایک مکھی کو نہیں بھگاسکتیں، ان کو خداقراردیتے ہیں، جو عورت بیوہ ہوجائے، خواہ وہ کتنی ہی کم عمر ہو، اس پر نکاح کا دروازہ بند کردیاجاتاہے، انسانوں کےایک طبقہ کو اتنا حقیر سمجھاجاتاہے کہ اگر کھانے یاپانی کے برتن میں ان کا ہاتھ لگ جائے تو اس کو ناپاک اورناقابل استعمال باور کیاجاتاہے، ظاہر ہے کہ ایسے مذہب کے بارے میں کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ نئے اورسمجھ دار لوگ اس کوقبول کریں گے! اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صدیوں سے بہت سے پرانے لوگ اس گھر سے باہر آتے رہے ہیں اورنئے لوگ اس ’’گھر‘‘میں داخل نہیں ہورہے ہیں ،ایران وافغانستان سے لے کر مشرقی ایشیاانڈونیشیا، ملیشیا،کمبوڈیا، تائیوان وغیرہ کو دیکھیں تو لاکھوں لوگوں نے اپنی مرضی سے اس گھر کو چھوڑ دیاہے، اورجولوگ اس گھر میں ہیں، وہ کسی عقل اورمنطق کے تحت نہیں ہیں؛ بلکہ موروثی روایت کے تحت ہیں، یہ صرف موجودہ ہندوازم کا معاملہ نہیںہے؛بلکہ تاریخ میں تمام بت پرست قوموں کے پاس اپنے عمل…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں) 13.04.2026
  • نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی) 13.04.2026
  • قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات 12.04.2026
  • 🔰حقیقی گھر کی طرف واپسی 10.04.2026
  • ایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندی 10.04.2026
  • اسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانی 06.04.2026
  • منفی سوچ اور اس کے نقصانات 06.04.2026
  • وضو کے فرائض 10.03.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)

  • hira-online.com
  • اپریل 13, 2026
فقہ و اصول فقہ

نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)

  • hira-online.com
  • اپریل 13, 2026
مضامین و مقالات

قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات

  • hira-online.com
  • اپریل 12, 2026
قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات
مضامین و مقالات

🔰حقیقی گھر کی طرف واپسی

  • hira-online.com
  • اپریل 10, 2026
🔰حقیقی گھر کی طرف واپسی
مضامین و مقالات

ایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندی

  • hira-online.com
  • اپریل 10, 2026
ایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندی
مضامین و مقالات

اسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانی

  • hira-online.com
  • اپریل 6, 2026
اسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانی
مضامین و مقالات

منفی سوچ اور اس کے نقصانات

  • hira-online.com
  • اپریل 6, 2026
منفی سوچ اور اس کے نقصانات
فقہ و اصول فقہ

وضو کے فرائض

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کے فرائض

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top