Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

برف باری حسن ہے کشمیر کا

  1. Home
  2. برف باری حسن ہے کشمیر کا

برف باری حسن ہے کشمیر کا

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جنوری 8, 2025
  • 0 Comments

۔ از : الطاف جمیل شاہ سوپور کشمیر

حرف اول ۔۔۔

( امسال موسم سرما کے تیور کچھ الگ ہی محسوس ہوئے نئی پود کو تو چلہ کلاں نے حیران کردیا پانی کے نل جم گے منہ دھونے کے لئے بھی گھروں میں پانی کی آوا جاہی رکی رہی اکثر گھروں میں مرد و خواتین نے ایسی تکلیف محسوس کی جس کا انہیں اندازہ نہ تھا سبب یہ تھا کہ کئی سال سے موسم سرما نے اپنی اصل چھوڑ کر کچھ خیر سے اپنے لمحات گزار لئے تھے سو اہلیان وادی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ چلو اب چلے کلاں کا موسم بھی خشک ہی گزر جاتا ہے اور اہلیان وادی اب گرم علاقوں کے رہنے والوں کی طرح بود و باش اختیار کر رہے تھے کہ امسال چلہ کلاں نے آتے ہی ادھم مچا دی اور لوگوں کو احساس ہوا کہ یہ تو اب تک ویسا ہی ہے خیر اسی دوران کل یوم جمعہ پر نماز سے فارغ ہوتے ہی برف باری شروع ہوئی اور ہمارے بچپن کی یادیں تازہ ہوگی سو سوچا آپ کو یاد دلاؤں)

کشمیر دنیا کا ایک ایسا خوبصورت اور دلکش مناظر سے مالا مال خطہ ارضی ہے جس کا حسن جس کے آبشار و کہسار اس کے سینے پر رواں بہتے ندی نالے اس کے ماتھے کا جومر ڈل نامی پانی کا ایک پیارا سا جھیل جو اپنے حسن و جمال کا ثانی رکھے بنا دعوت نظارہ دیتا ہے یہاں کے بہتے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے جھرنے عجب دلکش نظارہ پیش کرتے ہیں جنہیں دیکھ کر بڑے سے بڑا عقل و دانش کا مالک بھی ورطہ حیرت میں پڑھ جاتا ہے پر اس سے آگئے بڑھ کر دیکھئے تو وادی کشمیر میں موسم سرما کے ساتھ جو برف باری ہوتی ہے یہ برف باری کہنے والوں کے مطابق پانی کی مقدار کو بر قرار رکھنے کے لئے لازم ہے اب جتنی برف باری ہوگئی اسی قدر پانی کی مقدار بڑھ جائے گی مجھے دنیا کے بقیہ ممالک کے بجائے اپنی وادی سے ہی انسیت اور محبت ہے اس لئے اسی کی بات کرتا ہوں یہاں کے کسان پیشہ لوگ تب خوشیاں مناتے ہیں جب باری برف باری ہوتی ہے وہ کہتے ہیں کہ اس سے ہمارے کھیتوں کی پیاس بجھ جاتی ہے اور فصل کی پیداوار کے لئے یہ ایک نیک شگون ہے اب چلتے ہیں بچوں کی دنیا میں کہ وہ برف باری سے کیسے لطف اندوز ہوتے ہیں

آج سے تقریبا تیس سال پہلے کی بات ہے ۱۹۹۰ کے آس پاس جب پہاڑی علاقوں میں بہت زیادہ برف باری ہوئی میں تب بچہ تھا ہمارے ایک پیارے سے چچا تھے قد کے لحاظ سے سب سے قدآور اور بچوں کے لئے عالم کے سب سے لمبے آدمی کیونکہ ہ۔ہماری نظر محبت یا ان کی مار پیٹ کے سبب نظر عداوت ان کے چہرے تک پہنچتی نہ تھی وہ اس برف باری کے دن جب زیادہ برف باری ہوئی اپنے گھر کی چھت سے برف ہٹا رہے تھے کہ برف میں دھنس گئے اور ہم تھے کہ ہنس رہے تھے کیونکہ وہ سر تک برف میں سما گئے تھے خیر اتنی زیادہ برف باری بھی وبال جان ہی بنتی ہے ان غریب اور دور دراز علاقہ جات میں رہنے والوں کے لئے جنہیں کوئی ضرورت ہو وہ مہینوں تک سفر کرنے کی کوشش تو کیا ارادہ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ اکثر راستے برف باری کے نتیجے میں ناقابل عبور و مرور ہوجاتے ہیں اب گر بارف باری ہلکی پھلکی ہو تو یہ بچوں کے لئے خوب مزے کی بات ہوتی بچے لوگ خوب کھیلتے ہیں کوئی گھر کا برتن جس کا منہ پڑا اس ہو لے کر نکلتا ہے اور اسی برتن کو استعمال کرنے کے لئے اس پر بیٹھ کر اپنے پیر آگئے پڑھ کر کسی اونچی جگہ پر برتن رکھ دیتا ہے کوئی دوسرا بچہ اس بچے کی مدد کرنے کے لئے برتن کو دھکا دے دیتا ہے اور سوار بچہ اسی برتن کو پکڑے اچھلتا گرتا پڑتا نیچے چلا جاتا ہے یا آجکل کی نئی تیکنیک استعمال کرتے ہوئے پالتھین پر بیٹھ کر ایسا ہی مزہ لیا جاتا ہے ایسے ہی بچے برف جمع کر لیتے ہیں اور دن بھر خوب اس برف کے نقش و نگار سے تصاویر بناتے ہیں کبھی کسی بچے کی یا مرد و عورت کی اور اس پر خوب کوشش کرتے ہیں کہ یہ کام کمال کا ہو کچھ لوگ کسی جانور کے نقشے بنا دیتے ہیں ان بچوں کی یہ سب سے بڑی تخلیق ہوا کرتی ہے جو یہ اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے ہیں ان معصوم بچوں کے ہاتھ کتنے بھی سردی سے سکڑ جائیں پر یہ اپنے کھیل پر اس کے سبب اپنا کھیل کھیلنے سے باز نہیں آتے بلکہ ہاتھوں کو کبھی منہ کی پھونک سے تو کبھی اپنے فرن سے رگڑ کر گرم کرتے رہتے ہیں کبھی تو یہ معصوم بچے اسی برف باری سے لطف اندوز ہوتے ہوئے چھوٹے چھوٹے سے کمرے بنا دیتے ہیں اور پوری طرح اس کمرے کو سجا دیتے ہیں اس کھیل میں لڑکے اور لڑکیاں برابر کی ماہر ہوتی ہیں کبھی کبھار کچھ بڑے نوجوان بھی آپس میں اس برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لئے برف کے چھوٹے چھوٹے گولے بنا کر ایک دوسرے پر پھینک دیتے ہیں اور خوب ہلہ گلہ کرتے ہیں بڑے بوڑھے بھی اس نظارے کو دیکھ کر آہین بھرتے ہیں بچپن کے دنوں کو یاد کر کرکے

گلمرگ ہو کہ کوئی اور سیاحتی مقام سیاح برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لئے اکثر ان جگہوں کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ بھی اپنے انداز سے اس برف باری میں کھیل کا حظ اٹھاتے ہیں عجب سماں ہوتا ہے عجب نظارے ہوتے ہیں آج جوں ہی میں گھر سے نکلا برف باری ہورہی تھی تو دیکھا کہ برف مچل مچل کر زمیں کو چھو رہی ہے پر ہماری مصیبت اس وقت دو بالا ہوجاتی ہے جب انتظامیہ یہاں کی عوام کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیتی ہے اکثر ایسا ہوجاتا ہے کہ نیشنل ہائے وے پر تو انتظامیہ متحرک جلد ہوجاتی ہے پر نیشنل ہائے وے تک آتے آتے کس قدر مشکلات لوگ سہتے ہیں وہ وہی لوگ جانتے ہیں جو دور دراز علاقوں کے مکین ہوا کرتے ہیں جہاں گر کوئی بیچارہ بیمار ہوجائے تو اکثر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اس بیمار کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر اسپتال لے جانے کی کوشش میں مصروف ہوجاتے ہیں گر کوئی خاتون درد زہ میں مبتلاء ہو تو اسے اسپتال لے جاتے ہوئے کئی بار ایسا بھی ہوا کہ خاتون نے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی برف کے اوپر ہی بچے کو یا تو جنم دیا یا اپنی اور اپنے آنے والے بچے سے ہی ہاتھ دھو بیٹھی اس برف باری کی ایک سزا یہ بھی ہوتی ہے کہ گراں بازی پہاڑی علاقوں میں آسمان کو چھوتی ہے یا پھر قلت سرمایہ کے سبب ان غریب اور لا چار لوگوں کو بھوکا رہنا پڑھتا ہے کیونکہ ان کی رسائی اناج کے حصول تک ناممکن ہوتی ہے گرچہ اخبار و رسائل میں انتظامیہ کی طرف سے اکثر ایسی خبریں بھی آتی رہتی ہیں کہ ہم نے ضروریات زندگی کی اشیاء کو فلاں فلاں جگہ پر بڑے بڑے ذخیرے کردیے ہیں پر وہ لوگ کیا کریں جو دن کو کما کر رات کو کھانے کے سوا کچھ بھی کر نہیں سکتے اب اس زاویہ سے دیکھا جائے تو کشمیر کی اکثریت انہی مزدور پیشہ افراد کی ہے جن کا اس کے سوا کوئی اور کمائی کا ذریعہ ہے ہی نہیں کیا انتظامیہ کبھی اس جانب متوجہ ہوجائے گئی کہ کم از کم ان مزدور پیشہ افراد کے لئے سرما کے ان ایام میں کوئی مدد کی جائے تاکہ وہ اپنے ان ایام میں کسی مصیبت کے شکار نہ ہوجائیں اسی طرح یہاں موسم سرما کے دوران دو ماہ ایسے آتے ہیں جب پانی اور انسان کی ملاقات کرنا خود ایک کمال ہوتا ہے مطلب پانی چلنے سے زیادہ رکنا پسند کرتا ہے سمجھے نا مطلب یہ جم جاتا ہے اس پانی کو منہ میں رکھنا یا اس سے ہاتھ منہ دھونا ایسا ہی ہے کہ کوئی انسان اپنی جان کا دشمن ہو اور کہئے مجھے میرے ہاتھ نہیں چاہئے اب اس موسم میں لوگ اکثر گرم پانی کا ہی استعمال کرتے ہیں جس کے لئے گر بجلی ہوتی تو ایک بہترین ذریعہ بن جاتا اس ٹھنڈے پانی سے نجات کے لئے پر ہمارے ہاں ہماری پیاری بجلی جو اکثر یہاں کے درختوں کے بوسے لیتے ہوئے مختلف درختوں ہر زبردستی خود کو سوار کر لیتی ہے غائب رہنا ہی پسند کرتی ہے کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ بیچاری بجلی بھی کیسے کیسے ان ننگی الیکٹرک ورز کے سہارے ہمارے گھروں تک تشریف لائے گی ممکن ہے یہ بھی موسم سرما مطلب چلہ کلاں کی مار برداشت نہ کرتے ہوئے اپنے آشیانہ میں ہی قیام کرنا پسند کرتی ہو تاکہ اس موسم میں کہیں پھنس کر جم نہ جائے اور پھر خود ہی خود کا گلا گھونٹ دے خیر اس بیچاری کا قصور بھی زیادہ نہیں کیونکہ جہاں لوگوں کی اکثریت اپنے ماہنانہ بل ادا کرنے کے لئے صبح ہی صبح بینک جاکر بل کی رقم ادا کر دیتے ہیں وہیں کچھ ارباب اقتدار سے لے کر گاؤں کے وہ سیانے باشندے ہزاروں نہیں لاکھوں کی رقم والی بل کی قدر و قیمت سے لاپرواہ ہوکر اپنی دانشمندی کا اظہار کرتے ہیں پر اس سب کا خمیازہ بیچارے غریب عوام کو سہنا پڑتا ہے جب بجلی ملازمین بجلی کے کھبوں اور بجلی کی ترسیلی لائن نئے سرے سے لگانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ رقم نہیں ہے

اوہ بات ہورہی تھی برف باری کی چلئے صاحب پھر سے یہی بات چھیڑ دیتے ہیں کہ برف باری ہماری وادی کا سرمایہ افتخار ہے پر غریب کے لئے نوید مصیبت و اذیت

امسال بھی ۴ جنوری سے برف باری ہماری وادی میں شروع ہوئی اور کہسار سے لے کر کھیت کیھلیاں سفید چادر میں لپٹ گئے ہر طرف ہر جگہ صرف اسی سفید برف کی حکمرانی ہے اسی کی دلکشی و خوبصورتی ہے اور اس کا گرنا جاری و ساری ہے یہ برف باری کا نظارہ تب بھی قابل دید ہوتا ہے جب چھوٹی چھوٹی گاڑیاں اپنی پوری قوت لگا کر بھی اس سے ہار جاتی ہیں اور ایک گھنٹے کا سفر اس برف کے سنگ تین چار گھنٹوں تک پہنچ جاتا ہے ہم خوش ہیں کہ امسال برف باری شروع ہوئی پر اللہ کرے یہ برف باری کسی مصیبت کی نوید نہ ہو بلکہ اس سے صرف ہمارا فائدہ ہو فائدہ مطلب یہی کہ زراعت و باغبانی کا فائدہ اب رہا وہ کھیل کود کا زمانہ جو ہمارے کلچر کا ایک حصہ تھا اسے نفرتوں نے اپنے دامن نفرت کے سایہ میں کہیں غائب ہی کردیا اب بچے کھیل کم اور خوف زدہ زیادہ ہوتے ہیں جیسے کہ پچھلے ایام سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کشمیر اپنی تہذیب و ثقافت کے حوالے سے بہت پیچھے کی طرف دوڑ لگائے ہوئے ہے اور اہل کشمیر خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں تو صاحب چلئے برف باری کا لطف اٹھائیں نہ کہ غم کی دنیا میں جاکر غمگین ہوا جائے

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

تربیت اسے کہتے ہیں ۔
اردو تدریس کی موجودہ صورت حال -مسائل اور حل

Related Posts

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جنوری 29, 2026
  • 0 Comments
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں مفتی محمد شمیم قاسمی مگہریمدرسہ عربیہ جامع العلوم گوپلا پور شاہ ، آنند نگر شبِ برات اسلامی سال کی اُن عظیم الشان اور بابرکت راتوں میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمتوں، مغفرتوں اور عنایات کو عام فرمایا ہے۔ یہ رات شعبان المعظم کی پندرھویں تاریخ کو آتی ہے۔ لفظ "برات” کے معنی نجات، خلاصی اور چھٹکارا کے ہیں۔ گویا یہ رات بندوں کو جہنم سے نجات اور گناہوں سے پاکیزگی عطا ہونے کی امید کی رات ہے۔ اہلِ سنت والجماعت دیوبند کا متفقہ اور معتدل مؤقف یہ ہے کہ شبِ برات کی اصل فضیلت احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، اور اس رات میں عبادت، توبہ، استغفار اور دعا کرنا مستحب ہے، مگر ایسے تمام طریقوں اور رسومات سے بچنا ضروری ہے جو شریعت سے ثابت نہیں یا جن میں افراط و تفریط پائی جاتی ہو۔ آیات قرآنیہ کی روشنی میں شبِ برات کا مفہوم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِیۡ لَیۡلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ ۚ اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ . فِیۡهَا یُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِیۡمٍ ۔(سورۃ الدخان)ترجمہ:ہم نے اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں، اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے۔ اگرچہ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد لیلۃ القدر ہے، لیکن بعض اکابر اہلِ علم نے فرمایا ہے کہ سال بھر کے فیصلوں کا اجمالی اندراج شبِ برات میں اور تفصیلی اندراج لیلۃ القدر میں ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شبِ برات بھی ایک عظیم اور بابرکت رات ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے شب برات کی فضیلتحضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَىٰ خَلْقِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ (ابن ماجہ)ترجمہ:اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • عقل کا دائرہ کار
  • عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود
  • جنوری 14, 2026
  • 0 Comments
عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود

عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود (کچھ لوگ اس وہم مين مبتلا ہیں کہ عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے، حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ عقل کبھی کسی متعین (definite) حقیقت کو ثابت نہیں کرتی، اللہ تعالیٰ اَعرَفُ المعارف ہیں، يعنى سارى متعين حقيقتوں سے زياده متعين ہیں، اور عقل کی ادراکاتی حدوں سے ماوراء، جب ہم عقل کو خدا کے وجود کو ثابت کرنے کا مکلف بناتے ہیں تو عقل، خدا کو اس کی خارجی اور حقیقی ذات سے الگ کرکے محض ایک کلی ذہنی تصور (concept) میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ تصور قابلِ حلول اور قابلِ اتحاد ہوتا ہے، کوئی نظام مسلسل ہو سکتا ہے، اور اس کا اطلاق متعدد مصادیق پر کیا جا سکتا ہے۔ اس تصور کے لیے توحید لازم نہیں، بلکہ اس کی طينت میں شرک داخل ہے۔ دوسرے لفظوں ميں عقل اس خدا کو ثابت نہیں کرتی جس كى دعوت قرآن مين ہے، اور جس پر مسلمانوں کا ایمان ہے۔ مزید یہ کہ خدا کو محض عقل کے ذریعے ثابت کرنے کا گمان قرآن سے متناقض ہے، اور یہ طرزِ فکر مسلمانوں کو کتابِ الٰہی میں حقیقی تدبر سے بھی روکتا ہے۔ اسی نکتے کی وضاحت کے لیے میں نے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، اور زیرِ نظر مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔) از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ9/1/2026 عقل انسانی ایک ایسی ادراکی قوّت ہے جو دیگر مداركـ سے اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ وہ جزوی مشاہدات سے کلی اور مجرد معانی اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، حسی ادراک اشیاء کو ان کے وقتی و مکانی تعیّن کے ساتھ حاصل کرتا ہے، اور محدود تجربے کی روشنی میں ان کی پہچان کرتا ہے، لیکن عقل ان جزئیات سے ایک عالی مرتبہ کا شعوری نقش اخذ کرتی ہے، اور انہیں عمومی تصورات کی شكل میں مرتب کر کے ایک فکری نظام قائم کرتی ہے۔ یہی وصف عقل کی طاقت بھی ہے اور اس کے حدود کا تعین بھی۔ عقل قادر ہے کہ وہ کلی اصول وضع کرے، ان…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top