رات ساڑے دس بجے ٹرین لکھنؤ سے روانہ ہوگئی اور پوری رات ٹرین میں ہی گزری، عین صبح کی پَو پھوٹتے ہی سہارنپور کے ریلوے اسٹیشن پر آموجود تھے، الحمد للہ یہ سفر بہت آسان، آرام دہ اور ہنسی وخوشی میں پورا ہوگیا، مظاہر العلوم سہارنپور میں ایسی گہری جان پہچان اور شناسائی تو کسی سے تھی نہیں لیکن اللہ تعالٰی کا فضل وکرم ہی تھا کہ مظاہر العلوم قدیم کے مہمان نواز جناب رفاقت علی صاحب نے بڑی دل داری فرمائی، مہمان خانہ میں ٹھیرایا، نلّی نہاری سے لے کر چائے وناشتہ تک کا معقول انتظام فرمایا۔
اس کے بعد مظاہرِ قدیم کے مہتمم صاحب مولانا محمد اللہ سعیدی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان سے دعائیں لیں کچھ علمی گفتگو ہوئی لیکن سوال وجواب کے بجائے صرف آپ ہی کی پند ونصائح پر اکتفا فرما لیا گیا، مولانا محمد اللہ سعیدی صاحب نے بڑی بصیرت افروز اور پتے کی بات کہی کہ عام طور سے سہارنپور دیکھنے والے جذبات کی رَو کا شکار ہوتے ہیں، انہیں بس اکابرین کے تبرکات وبقایات سے دلچسپی ہوا کرتی ہے، عقیدت کی حد تک تو یہ بھی درست ہے، اگر ایک عاشقِ محبوب اپنی معشوقہ کی گلیوں سے عشق کر بیٹھتا ہے، اس کے دیار کے رہنے والوں سے اسے انسیت واپنائیت ہوجاتی ہے، اس شہر کی خبروں میں وہ وہ شیرینی محسوس کرتا ہے جو کہیں نہیں، لہذا اگر کسی کو اپنی محبوب علمی ودینی شخصیت سے محبت وعقیدت ہے، جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ اس کے بقایا کو دیکھنے کی آرزو رہتی ہے، اس کے متروکات کی زیارت سے دل فرحت محسوس کرتا ہے، لیکن جب عقیدت میں اندھا ہوکر غلو کی حدود کراس ہونے لگے اور محبت وعقیدت کے بجائے اس پر دینی جذبات کے پھول نچھاور ہونے لگے، اس کے متروکات کے ساتھ عقیدت ومحبت، چومنے وچاٹنے کو کارِ ثواب سمجھانے جانے لگے تو یہ لمحۂ فکریہ ہے، ان کو وہ درجہ دے دینا جس سے غلو آمیز عقیدت، تبرکات وبقایات کے ساتھ وہ تمسک اختیار کیا جائے کہ غلو کی بُو محسوس ہونے لگے تو یہ خطرے کا آلارم ہے، مولانا سعیدی نے اس کا بھی اظہار فرمایا کہ ہمارے ناداں لوگ جب مظاہر العلوم کی زیارت کے لئے آتے ہیں تو قدیم مسجد میں داہنی سمت میں موجود حضرت مولانا الیاس صاحب کے حجرے میں نماز دوگانہ ادا کرتے ہیں، یہ وہ نحوست ہے جو سنت کو ترک کرنے کے بعد پیدا ہوئی ہے، یہ دستور رہا ہے کہ جب کہیں بدعت کا ظہور ہوتا ہے تو سنت کا جنازہ نکل جاتا ہے، بالکل ویسا ہی کچھ منظر یہاں بھی ہوا، مسجد میں داخل ہوتے ہی تحیۃ المسجد کا اہتمام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آپ کے صحابہ نے بھی فرمایا، نیز اس پر اجر وثواب کا وعدہ بھی ہے، لیکن اس کے باوجود عقیدت میں مغلوب، غلو آمیز تصورات کے حاملین اپنے اکابر ہی کی لکیروں کو پیٹتے رہتے ہیں، چنانچہ بہت سے لوگ اس حجرے میں تو نماز پڑھتے ہیں کیونکہ مولانا الیاس صاحب نے پڑھی ہے لیکن اس مسجد میں نہیں پڑھتے جہاں اکبر الاکابر، سید الکائنات، فخرِ دو عالم ذات محمد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت ادا فرمایا کرتے تھے، اسی کو کہتے ہیں بدعت کا ظہور اور سنت کا جنازہ !
مظاہر العلوم قدیم میں مفتی ناصر الدین مظاہری سے ملاقات ہوئی، مفتی صاحب کے نام سے اس وقت سے آشنا ہوں جب ناظرہ قرآن میں پڑھتا تھا، یہ تعجب کی بات معلوم ہوگی لیکن حقیقت یہی ہے، کیونکہ میرے گھر میں والد صاحب کی خریدی ہوئی چند دس اِک کتابیں : الفاروق (شبلی)، تاریخ اسلام (اکبر شاہ) ، سوانح مفتی مظفر حسینؒ (ناصر الدین مظاہری) تھیں، ان کتابوں میں سب سے پہلے میں نے اپنی زندگی میں الفاروق کا مطالعہ کیا تھا، کیا پڑھا اور کیا سمجھا وہ تو بس میں اور میرا خدا ہی جانتا ہے، الفاروق کا دوسرا حصہ کی گویا صرف ورق گردانی ہی کی تھی۔ اس کے بعد جس دوسری کتاب نے اپنا اسیر بنا دیا وہ مفتی ناصر الدین مظاہری کی تصنیف کردہ ” سوانح مفتی مظفر حسین رحمہ اللہ ” تھی، اس کتاب کو میں نے دس سال (تقریبا) کی عمر کے لڑکے کو گرویدہ بنا دیا تھا، آج بھی میری ذاتی لائبریری میں وہ تینوں کتابیں موجود ہے، چنانچہ گویا مفتی ناصر الدین مظاہری میرے ذوقِ مطالعہ کو مہمیز کرنے والے شبلی کے بعد دوسرے محسن ہیں، ان سے ملاقات کی خواہش کیوں نہ ہو ؟ نیز دو سال سے انتہائی علمی، ادبی اور فکری واٹس ایپ گروپ ” علم وکتاب ” میں بھی رفاقت رہی ہے، بہر حال بہت مختصر، جی ! بہت ہی مختصر سہی قدیم مسجد میں بیٹھ کر بات ہوئی، مفتی صاحب نے کہا : موبائل اس وقت علماء کے لئے بہت بڑی نعمت سے کچھ کم نہیں ہے، کیونکہ ذہن وقلب میں مضامین کا توارد اور نزول معلوم نہیں کس وقت ہوجاتا ہے، اگر پاس میں قلم وڈائری نہ ہو تو وہ طاقِ نسیاں میں چلا جاتا ہے، لیکن موبائل تو آدمی کی زندگی کا جزوِ لاینفک ہے، اسی میں اپنے مضامین کو قلم بند کرلینا چاہئے۔ الغرض ملاقات بہت ہی زیادہ مفید اور نتیجہ خیز رہی، اللہ تعالٰی مفتی صاحب کے علم ورزق میں برکت عطا فرمائے، اور قلم کا مسافر بلا تکلف میدانِ تحریر وکتابت میں اپنا جوہر دکھاتا رہے۔