Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
06.06.2026
Trending News: فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
06.06.2026
Trending News: فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

  1. Home
  2. فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • جون 6, 2026
  • 0 Comments

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داری
از: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)


آج ہندوستان و پاکستان کے متعدد اہلِ علم حضرات نے مجھے توجہ دلائی کہ فلاں شخص کو گمراہ قرار دینے کی مہم چلائی جائے، اسے بے اعتبار کر دیا جائے، بلکہ اس کے کفر کا فتویٰ صادر کیا جائے، اس نوع کی تحریک وقت کا اہم فریضہ اور سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے۔


کیا کسی کو گمراہ یا کافر قرار دینا بھی کوئی فریضہ اور کارنامہ ہے؟ کیا واقعی ہماری عقلوں کے دریچے اس طرح کچکچا کر بند ہو گئے ہیں کہ ہم اس غلاظت کے علاوہ کوئی اور دینی و علمی فریضہ نہیں سوچ سکتے؟ حیف اس کند ذہنی پر! دریغ اس پست عقلی پر! لعنت اس تنگ نظری پر! کیا ہم نے حدیث کی کتابوں میں نہیں پڑھا کہ یہی وہ خصلتِ شنیعہ ہے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا: ’’دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ‘‘۔ یہ بدبو دار اور گندی چیز ہے، اس سے دور رہیں۔ کیا ہمیں سنت و فقہ کا یہ سبق یاد نہ رہا کہ کسی مسلمان کو گمراہ یا کافر کہنا گناہِ کبیرہ اور جرمِ عظیم ہے؟


جب مسلمانوں کے فرقے ایک دوسرے پر گمراہی کی تہمت دھرتے ہیں تو ان میں سے کسی کی جیت نہیں ہوتی، بلکہ دونوں ہارتے ہیں اور بری طرح ہارتے ہیں، ان کے اندر ایک دوسرے سے نفرت بڑھتی ہے، دشمنی کا بازار گرم ہوتا ہے، اور انتقام کی ایسی آگ بھڑکتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی، اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہنستے ہیں اور اس دین کا مذاق اڑاتے ہیں، اور بہت سے مسلمان نوجوان ہم سے اتنا بدظن بلکہ بیزار ہو جاتے ہیں کہ وہ یا تو اسلام چھوڑ دیتے ہیں، یا پھر منافقانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔


انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں ہر سمت تکفیر و تفسیق کا ہنگامہ تھا، مسلمان اپنے مذہبی اختلافات کے تصفیے ہندو راجاؤں اور انگریز حکمرانوں کی عدالتوں میں کرا رہے تھے، ان کی تفصیلات سے اس وقت کے پرچے اور کتابیں پُر ہیں۔ کچھ درد مند اہلِ علم و دانش نے متفکر ہو کر ندوۃ العلماء کی بنیاد رکھی، جس کا مقصدِ اعظم تھا فرقہ واریت کو ختم کرنا۔ اس تحریک کو بڑی حد تک کامیابی ملی، اور اس سے وابستہ علماء نے اتحادِ امت اور اصلاحِ معاشرہ کو اپنا مشن بنایا۔
ان نیک دل اور پاک طینت علماء نے دین و ملت کو درپیش چیلنجوں کے مقابلے کے لیے نہ یہ کہ تکفیر و تفسیق کا نجس طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ اس کی مخالفت کی اور ہمیشہ اسے کریہ و مبغوض سمجھا۔ اس تنگ و تاریک گلی کو چھوڑ کر انہوں نے دو پاکیزہ شاہراہوں کا انتخاب کیا، جن پر چل کر انہیں حیرت انگیز کامیابی ملی، اور مخالفین نے بھی ان کی شرافتِ نفسی اور بلند ہمتی کا اعتراف کیا۔


یہ دو پاکیزہ شاہراہیں کیا ہیں؟


1- گمراہ کن خیالات کا سنجیدہ علمی تعاقب:

اسکندریہ کے کتب خانے کے جلانے کا الزام مسلمانوں پر لگایا گیا تو علامہ شبلی نے اس موضوع پر ایک نہایت عالمانہ مقالہ لکھ کر اس فتنے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ اسی طرح انہوں نے جزیہ وغیرہ موضوعات پر علمی انداز سے مستشرقین کے شبہات کا جواب دیا، جرجی زیدان کی کتاب ’’تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ کا رد لکھا۔ ان کی کتاب ’’الانتقاد‘‘ کو علامہ رشید رضا نے سراہا اور اسے شائع کیا۔ اسی قبیل سے شیعیت اور قادیانیت کی تردید میں مفکرِ اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتابیں ہیں۔


2- گمراہ کن مصنفین کی کتابوں سے بلند تر معیار کی علمی تحقیقات پیش کرنا:

مستشرقین نے نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو مطعون کیا اور خدشہ بڑھا کہ مسلمانوں کی نئی نسل اس موضوع پر مستشرقین کی کتابیں پڑھ کر گمراہ ہوگی۔ علامہ شبلی نے اس خطرے کو محسوس کیا اور ’’سیرت النبی‘‘ جیسی عظیم کتاب لکھی، جسے ان کے مایۂ ناز شاگرد علامہ سید سلیمان ندوی نے مکمل کیا۔ ’’الفاروق‘‘، ’’النعمان‘‘ وغیرہ بھی اسی قبیل کی کوششیں ہیں۔
میں ان بزرگوں کی خاکِ پا کے برابر بھی نہیں، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دی۔ مغرب کا ایک اہم اعتراض تھا کہ مسلمان عورتوں کی تعلیمی پسماندگی کا ذمہ دار خود ان کا مذہب ہے۔ آکسفورڈ کے ایک مستشرق نے لکھا تھا کہ اگر مسلمان اپنی تاریخ سے پانچ پڑھی لکھی عورتوں کے نام پیش کر دیں تو ہم تسلیم کر لیں گے کہ اسلام نے عورتوں پر ظلم نہیں کیا۔ اس موضوع پر میں نے کام کیا۔ ایک دن آکسفورڈ ہی کا ایک مستشرق میرے پاس آ کر کہنے لگا کہ اب یہ اعتراض ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا۔ اگر آپ پانچ نام پیش کرتے تو پھر بھی لوگ اعتراض کا کوئی نہ کوئی پہلو نکال لیتے، آپ نے اتنے ہزار نام پیش کر دیے ہیں، اب کوئی اشکال کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ چند سالوں پہلے ایک انسائیکلوپیڈیا نے اعتراف کیا کہ ہم عورتوں کے تئیں جب مذاہب و ادیان کو مطعون ٹھہراتے ہیں تو اسلام اس سے مستثنیٰ ہے۔


ان سب سے زیادہ کامیاب اور بابرکت کام مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ انہوں نے اس دین اور قرآنِ کریم پر کیے گئے اعتراضات کا مناظرانہ انداز سے جواب نہیں دیا، بلکہ سنجیدگی کے ساتھ محققانہ علمی متبادل پیش کیے۔ اس وقت صرف ان کا ایک کارنامہ بیان کرتا ہوں۔ یورپ کے مصنفین قرآنِ کریم پر ایک بڑا اعتراض یہ کرتے تھے کہ قرآن میں کوئی ترتیب نہیں، سورتوں کی تقسیم بے معنی ہے، کسی بھی سورت میں کوئی بھی بات کہہ دی گئی ہے۔ مولانا فراہی نے تیس سال لگا کر وہ کتابیں لکھیں جو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کرتی ہیں کہ پورا قرآن مرتب ہے، ہر سورت کا ایک مرکزی مضمون ہے، اور اس سورت کی تمام آیات اس مرکزی مضمون سے مربوط ہیں۔ اس وقت یورپ و امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں مولانا فراہی کے نظریے پر تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ میں نے خود آکسفورڈ میں دیکھا کہ قرآنیات سے اشتغال رکھنے والے مستشرقین مولانا فراہی کی عبقریت کے سامنے انگشت بدنداں ہیں۔
یہ وہ کوششیں ہیں جو ہمارے عہد میں برصغیر میں ہوئیں۔ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں علمائے عظام نے علمی تحقیق کے ذریعے مخالفین پر اپنی برتری ثابت کی۔ امام غزالی کی ’’تہافت الفلاسفہ‘‘، امام ابن تیمیہ کی ’’الرد علی المنطقیین‘‘، ’’درء تعارض العقل والنقل‘‘، اور شاہ ولی اللہ دہلوی کی ’’ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء‘‘ اسی قبیل کی ہیں۔


آپ جب دیکھیں کہ کسی کی فکر یا تحریر سے کوئی فتنہ رونما ہونے والا ہے تو آپ اس شخص کو برا بھلا کہنے یا اسے گمراہ اور کافر قرار دینے کے بجائے علمی دلائل کی روشنی میں اس کی غلطی واضح کر دیں، وہ فتنہ خود بخود مر جائے گا یا کمزور ہو جائے گا، اور اس سے بہتر یہ ہے کہ آپ اس موضوع پر اس سے بہتر کتاب تیار کریں۔ لوگ آپ کی کتاب پڑھنے لگیں گے اور وہ ضلال نامہ طاقِ نسیاں کے سپرد ہو جائے گا۔ ’’فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ‘‘۔
اگر آپ خلافت و ملوکیت کے موضوع پر کسی کی تحقیق سے ناخوش ہیں تو اس موضوع پر اس سے بہتر کوئی کتاب تیار کریں۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے لیے نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانا ضروری نہیں تو آپ جدید ترین علمی اسلوب میں یہ ثابت کریں کہ نبی اکرم ﷺ پر ایمان لائے بغیر نجات ممکن نہیں۔ اگر کسی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انتقال فرما چکے ہیں تو آپ یہ مبرہن کریں کہ وہ زندہ ہیں اور قربِ قیامت ان کا نزول ہوگا۔


یاد رکھیں کہ دلیل کی طاقت شمشیر و سناں سے بڑھ کر ہے۔ آپ کسی کی جان تو لے سکتے ہیں، لیکن اس کے خیالات و نظریات کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ گوشِ دل سے سن لیجیے کہ سب و شتم سے نہ کوئی مذہب پھیلتا ہے اور نہ کسی فکر کو فروغ ہوتا ہے۔ کسی کو گمراہ یا کافر قرار دینا آپ کی فکری قلاشی اور علمی بے مائیگی کا ثبوت ہے، اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔


اے غیورانِ ملتِ بیضاء! اے حامیانِ دینِ متین! اے ناصرانِ کتابِ مبین! آپ جس درد سے بیتاب ہیں وہ دلیل ہے آپ کے ایمان کی۔ اس درد کے مقتضا پر عمل کریں، اٹھیں اور عقل و خرد کو مخاطب کریں۔ علم و عقل کی بنیاد پر قائم کوئی فکر کبھی نہیں مرتی۔ علمی دلائل کا جواب تکفیر و تضلیل نہیں، بلکہ علمی دلائل ہیں۔ جس طرح شبلی نے ’’الانتقاد‘‘ لکھ کر جرجی زیدان کی کتاب کی سحر آفرینی ختم کر دی، اسی طرح آپ بھی عصرِ حاضر کے سامریوں اور کاہنوں کو بے وزن کر دیں۔ اللہ ہمیں ہدایت دے اور ہماری مدد کرے، آمین۔

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ

Related Posts

بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ
  • hira-online.comhira-online.com
  • بشیر بدر
  • بشیر بدر حیات و خدمات
  • مئی 28, 2026
  • 0 Comments
بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ

ڈاکٹر بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن بابایک تحقیقی و ادبی جائزہ تمہید اردو ادب کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض شاعر نہیں رہتیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تہذیبی احساس کی علامت بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر بشیر بدر انہی ممتاز شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو نہ صرف ایک نئی تازگی عطا کی بلکہ اسے عوامی سطح پر غیر معمولی مقبولیت بھی بخشی۔ ان کی شاعری محبت، تنہائی، انسانی رشتوں، سماجی تغیرات اور داخلی احساسات کی شاعری ہے۔ انہوں نے غزل کو روایتی پیچیدگیوں سے نکال کر سادہ، رواں اور عام فہم زبان عطا کی جس کی وجہ سے ان کے اشعار خواص و عوام دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔ ڈاکٹر بشیر بدر کا انتقال 28 مئی 2026ء کو ہوا اور ان کے ساتھ اردو غزل کا ایک روشن باب اختتام پذیر ہوگیا۔ ان کی وفات سے اردو دنیا ایک ایسے شاعر سے محروم ہوگئی جس نے غزل کو نئی نسل سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پیدائش اور ابتدائی زندگی ڈاکٹر بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ ان کی پیدائش 15 فروری 1935ء کو اتر پردیش کے تاریخی شہر ایودھیا میں ہوئی۔ بعض روایات میں کانپور کا ذکر بھی ملتا ہے، تاہم عمومی طور پر ایودھیا کو ان کی جائے پیدائش تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے والد سید محمد نظیر علمی و ادبی ذوق رکھتے تھے جس کا اثر بشیر بدر کی شخصیت پر بھی نمایاں ہوا۔ بچپن ہی سے انہیں شعر و ادب سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سات برس کی عمر میں پہلا شعر کہا۔ نوجوانی کے زمانے تک ان کی ادبی صلاحیتیں نمایاں ہو چکی تھیں اور وہ اپنے کلام کی اشاعت کے خواہش مند تھے۔ ان کا یہ خواب اس وقت پورا ہوا جب ان کے اشعار معروف ادبی جریدے “نگار” میں شائع ہوئے۔ تعلیم اور علمی خدمات ڈاکٹر بشیر بدر نے اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہوں نے اردو ادب میں…

Read more

Continue reading
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلام
  • hira-online.comhira-online.com
  • ممتاز فقیہہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
  • مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی
  • مئی 23, 2026
  • 0 Comments
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلام

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلام تعارف مولانا خالد سیف اللہ رحمانی برصغیر کے اُن ممتاز علما میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے فقہ اسلامی، جدید فقہی مسائل، دعوت، تدریس اور تصنیف و تالیف کے میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں۔ آپ اپنی فقہی بصیرت، اعتدال پسند فکر، وسیع مطالعہ اور عصری مسائل پر گہری نظر کے باعث علمی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔آپ اس وقت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے جنرل سکریٹری، اور المعہد العالی الاسلامی کے بانی و سرپرست کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ فقہ اسلامی کے جدید تقاضوں کو سمجھنے اور ان کے شرعی حل پیش کرنے میں آپ کی خدمات کو علمی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پیدائش اور خاندانی پس منظر ( مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی) مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی پیدائش 5 نومبر 1956ء کو ریاست بہار کے ضلع دربھنگہ کے قصبہ جالے کے ایک علمی اور دینی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کا اصل نام “خالد سیف اللہ” رکھا گیا جبکہ تاریخی نام “نور خورشید” تھا۔آپ کا خاندان علم و دیانت کے اعتبار سے مشہور رہا ہے۔ آپ کے دادا مولانا عبد الاحد صاحب دار العلوم دیوبند کے فاضل اور اپنے زمانے کے معروف عالم تھے۔ اسی طرح آپ کے چچا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی برصغیر کے ممتاز فقہا اور ملی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ تعلیم و تربیت( مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی) مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر ہی سے حاصل کی۔ عربی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد اور خاندان کے دیگر اہلِ علم سے پڑھیں۔ بعد ازاں مدرسہ قاسم العلوم حسینیہ دوگھرا میں داخلہ لیا، پھر جامعہ رحمانیہ مونگیر میں متوسطات سے دورۂ حدیث تک تعلیم حاصل کی۔جامعہ رحمانیہ میں آپ کو مولانا منت اللہ رحمانی جیسے عظیم فقیہ سے استفادہ کا موقع ملا۔ اس کے بعد آپ نے دار العلوم دیوبند میں دورۂ حدیث مکمل کیا اور اکابر علما سے علم حدیث…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ) 06.06.2026
  • یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے 29.05.2026
  • بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ 28.05.2026
  • مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلام 23.05.2026
  • مولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامے 22.05.2026
  • سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری 22.05.2026
  • قربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟ 19.05.2026
  • موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار ! 19.05.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

سیرت و شخصیات

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

  • hira-online.com
  • جون 6, 2026
فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
مضامین و مقالات

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

  • hira-online.com
  • مئی 29, 2026
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
سیرت و شخصیات

بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ

  • hira-online.com
  • مئی 28, 2026
بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ
سیرت و شخصیات

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلام

  • hira-online.com
  • مئی 23, 2026
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلام
سیرت و شخصیات

مولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامے

  • hira-online.com
  • مئی 22, 2026
مولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامے
مضامین و مقالات

سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری

  • hira-online.com
  • مئی 22, 2026
سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری
فقہ و اصول فقہ

قربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟

  • hira-online.com
  • مئی 19, 2026
مضامین و مقالات

موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !

  • hira-online.com
  • مئی 19, 2026
موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top