قرآن کا پیغام
قارونی صفت
محمد عارف ندوی
مدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔علی گڑھ
قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ ۚ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ(سورۃ الزمر: 49)
انسان کہتا ہے: یہ نعمت تو مجھے میرے علم کی بنا پر ملی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک آزمائش ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو آرام گاہ نہیں بلکہ امتحان گاہ بنایا ہے۔ یہاں ہر انسان کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا ہے۔ کسی کو نعمت دے کر آزمایا جاتا ہے اور کسی کو نعمت سے محروم رکھ کر۔ اصل کامیابی نعمت کی کثرت یا قلت میں نہیں، بلکہ بندے کے رویّے میں ہےیہ آیت انسان کی ایک عام کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے۔ جب انسان کو دولت، عزت، منصب، طاقت، صحت یا کوئی بڑی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے:یہ سب میرے علم، میری محنت، میری قابلیت کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: نہیں!یہ نعمت تمہارا کمال نہیں بلکہ آزمائش ہے، مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو سمجھ نہیں پاتے۔
یاد رکھیے! اگر کسی شخص کو دنیا میں کثرتِ مال، عیش و آرام، صحت اور سکون مل جائے تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کے نزدیک محبوب ہے۔اور اگر کوئی شخص فقر، تنگی، بیماری اور محرومی کی زندگی گزار رہا ہو تو یہ بھی اس بات کی علامت نہیں کہ وہ اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ہے۔اللہ کے نزدیک اصل معیار ایمان، صبر اور شکر ہے۔جس بندے کو نعمت ملے اور وہ اس پر شکر گزار بن جائے، اللہ تعالیٰ اسے مزید نعمتیں بھی عطا فرماتا ہے اور اپنا قرب بھی نصیب کرتا ہے۔اور جس بندے کو آزمائش اور محرومی نصیب ہو، مگر وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب بن جاتا ہے۔
قرآن کافر اور مومن کے رویّے کا فرق بھی واضح کرتا ہے،کافر کا رویّہ یہ ہے کہ جب اسے مال، منصب یا طاقت ملتی ہے تو وہ اسے اپنی محنت، قابلیت اور علم کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ قارون نے بھی یہی کہا تھا، جس کا ذکر سورۂ قصص میں موجود ہے۔اور مومن کا رویّہ یہ ہے کہ وہ ہر کامیابی کو اللہ کا فضل، اس کی عطا اور اس کا احسان سمجھتا ہے، اور اسی نسبت سے عاجزی اختیار کرتا ہے۔
یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ دنیا میں جو کچھ انسان کو ملتا ہے، وہ صرف اس کی صلاحیت کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر کے مطابق ملتا ہے۔انسان کا کام صرف کوشش کرنا ہے، جبکہ دینا، نہ دینا اور کتنا دینا ہے — یہ اللہ کی مشیت پر منحصر ہے۔وہ مال جو غرور، تکبر اور اپنی قابلیت کے گھمنڈ پر کھڑا ہو، جیسا کہ قارون کا مال تھا،وہ بالآخر ظلم اور حق تلفی کا سبب بنتا ہے۔اسی لیے قرآن نے اس کے بارے میں فرمایا﴿فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ﴾یعنی اس نے اپنی قوم پر سرکشی کی۔ایسے مال کا انجام دنیا میں تباہی اور آخرت میں حسرت و ندامت ہے۔
اگر اللہ نے ہمیں نعمتیں دی ہیں تو شکر گزار بنیں، اور اگر آزمائش میں رکھا ہے تو صبر اختیار کریں۔یقین جانیے! اللہ کے قرب کا راستہ مال سے نہیں بلکہ صبر و شکر سے ہو کر گزرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ، شکر گزار دل اور صابر نفس عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔