دار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمینار
محمد رضی الاسلام ندوی
دار العلوم (وقف) دیوبند کی حجۃ الاسلام اکیڈمی کے زیر اہتمام مولانا انور شاہ کشمیری پر دو روزہ (13 ، 14 دسمبر 2025) سمینار میں شرکت کرنے کا موقع ملا – مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی کی سرپرستی و سربراہی اور نائب مہتمم ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی کی نگرانی میں دار العلوم (وقف) الحمد للہ ترقی کے منازل طے کر رہا ہے – 2018 میں یہاں ایک بڑا سمینار خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی رحمہ اللہ پر منعقد ہوا تھا – اگلے برس مولانا انور شاہ کشمیری پر سمینار ہونا تھا ، لیکن کورونا کی وجہ سے تمام سرگرمیاں معطّل ہوگئی تھیں – بالآخر اس سمینار کا انعقاد اب ہوسکا – چند ماہ قبل استاذِ مدرسہ مولانا محمد اظہار الحق قاسمی مرکز جماعت اسلامی ہند تشریف لائے تھے اور امیر جماعت اور دیگر کو دعوت دے گئے تھے – چنانچہ امیر جماعت نے ایک وفد کے ساتھ شرکت کی ، جس میں مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نائب امیر جماعت ، جناب عبد الجبار صدیقی سکریٹری ، ڈاکٹر رضوان احمد رفیقی فلاحی اسسٹنٹ سکریٹری ، ڈاکٹر محی الدین غازی اور راقم سطور نے شرکت کی – علی گڑھ سے ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی کے سکریٹری مولانا اشہد جمال ندوی ایک وفد کے ساتھ شریک سمینار ہوئے –
حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ( 1875–1933ء) دار العلوم دیوبند کے نام ور فضلاء میں سے ہیں – وہ اس کے چوتھے صدر مدرس تھے ۔ 13 سال وہاں شیخ الحدیث کے عہدے پر فائز رہے ۔ پھر بعض اسباب سے دار العلوم دیوبند سے ان کا تعلق باقی نہ رہ سکا تو جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل (گجرات) چلے گئے ، جہاں آخرِ حیات تک تعلیم و تدریس اور تحقیق و تصنیف میں مصروف رہے –
مختلف اسلامی موضوعات پر ان کی عربی اور فارسی میں تقریباً دو درجن تصانیف ہیں ، جن میں فیض الباری علی صحیح البخاری ، العرف الشذی شرح سنن الترمذی اور مشکلات القرآن شہرت رکھتی ہیں – ردّ قادیانیت میں وہ بہت سرگرم رہے اور اعلیٰ پایے کی کئی کتابیں تصنیف کیں – ان کا شمار ہندوستان کے عظیم محدثین میں ہوتا ہے – 13 دسمبر کو صبح 9 بجے افتتاحی اجلاس منعقد ہوا – اس کے بعد پہلا اجلاس 12 بجے سے پونے تین بجے تک ، دوسرا اجلاس مغرب کے بعد سے ساڑھے دس بجے شب تک ، تیسرا اجلاس اگلے دن صبح 8 بجے سے 11 بجے تھے اور چوتھا اجلاس اس کے بعد 2 بجے تک منعقد ہوا – کنوینر اجلاس مولانا اظہار الحق نے بتایا کہ کل دو سو گیارہ مقالات موصول ہوئے تھے ، جن میں سے 167 مقالہ نگار شریکِ سمینار ہوئے اور انھیں اپنے مقالات کی تلخیص پیش کرنے کا موقع دیا گیا – تمام اجلاس دار الحديث کے ہال میں منعقد ہوئے – اتنی بڑی تعداد میں مقالات ، جب کہ ان کی پیش کش کے لیے صرف 4 اجلاس – چنانچہ کنوینر کو اعلان کرنا پڑا کہ ہر مقالہ نگار صرف تین منٹ میں اپنے مقالے کا خلاصہ پیش کرے – دار العلوم دیوبند ، دار العلوم (وقف) اور دیوبند و اطراف کے مدارس سے تعلق رکھنے والے مقالہ نگاروں سے خواہش کی گئی کہ وہ بہ حیثیت میزبان صرف ایک منٹ میں اپنے مقالے کا خلاصہ بیان کردیں ، بلکہ اگر وہ ڈائس پر آکر صرف اپنی صورت دکھادیں اور اپنے مقالے کا صرف عنوان بتادیں تو اچھا ہے – اندازہ ہوا کہ مقالہ نگار بہت محنت سے مقالے لکھ کر لائے تھے – حیاتِ انور کے مختلف پہلوؤں ، علوم و فنون سے متعلق حضرت کے افکار اور تالیفات کے تعارف و تجزیہ پر انھوں نے بہترین انداز میں خامہ فرسائی کی تھی – ان کی نمائندگی پورے ملک سے تھی – دوٗر دراز کی ریاستوں سے بھی وہ تشریف لائے تھے – لیکن انھیں اپنی تحقیقات کو پیش کرنے کے لیے صرف 3 منٹ کا وقت دینا عجیب سا لگا – سمیناروں میں تو مقالات کی پیش کش کے لیے خاصا وقت دیا جاتا ہے اور ان پر ڈسکشن اور مذاکرہ کے لیے بھی وافر وقت فراہم کیا جاتا ہے ، لیکن یہاں صرف مقالہ نگاروں کی روٗنمائی ہورہی تھی اور ان کے مقالات کی خوش بوٗ سنگھائی جارہی تھی – البتہ بار بار یہ اعلان کرکے ان کی تسلّی کی جارہی تھی کہ تمام مقالات شائع ہوں گے تب شائقین ان کا مطالعہ کرلیں گے – مقالات کی کثرت ہو تو متوازی نشستیں منعقد کردی جاتی ہیں – سمینار میں مقالہ نگاروں کے علاوہ دوسرے شرکاء اور مدرسے کے طلبہ بھی شریک تھے – سامعین کی قلّت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا ، پھر معلوم نہیں کیوں منتظمین نے متوازی نشستیں نہیں چلائیں؟ مقالات پر ڈسکشن کا موقع نہ ہونے کے باوجود بعض باتیں سامنے آئیں – معروف دانش ور پروفیسر محسن عثمانی نے اپنے مقالے میں لکھا تھا کہ علماء نے بہ شمول مولانا انور شاہ کشمیری حفاظتِ دین کا کام کیا ، لیکن اشاعتِ دین کی انھیں توفیق نہیں ہوئی – انھیں اپنا مقالہ پڑھنے کا موقع نہیں ملا ( انھوں نے کچھ کاپیاں تقسیم کروادیں) ، لیکن مولانا سلمان بجنوری نے اپنے تاثرات میں اس کا رد کرنا ضروری سمجھا – معروف محقق مولانا نور الحسن راشد نے یہ اظہارِ خیال کیا کہ مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا انور شاہ نے پانچ چھ برس وہاں بھی تعلیم حاصل کی ہے ، لیکن مولانا انور شاہ کے پوتے مولانا احمد خضر شاہ نے اپنے تاثرات میں اس کی قطعی تردید کی – مولانا اصغر علی امام مہدی امیر جمعیت اہل حدیث ہند نے افتتاحی اجلاس میں شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی پر مولانا انور شاہ کی سخت تنقید کو نادرست قرار دیا تو مولانا سلمان جنوری نے دوسرے اجلاس میں اپنے تاثرات میں کہا کہ حضرت نے جو کہا ، درست کہا – مولانا عتیق احمد بستوی سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی نے معروف مصنف مولانا عبد الحلیم چشتی کی یہ رائے نقل کی کہ حضرت کشمیری کا علمی معیار بہت بلند تھا – ان کے امالی مرتب کرنے والے شاگرد اس معیار کے نہ تھے ، اس لیے ان سے تسامحات ہوئے ہیں – اس طرح کی اور باتیں بھی سامنے آئیں –
مولانا انور شاہ کشمیری کی نسبت سے ایک بڑا مدرسہ جامعۃ الامام انور کے نام سے دار العلوم(وقف) سے تھوڑے فاصلے پر قائم ہے – اس کے منتظمین نے پہلے دن تمام مندوبینِ سمینار کو عشائیہ پر مدعو کیا اور لذّتِ کام و دہن کے ساتھ حضرت کی چند مطبوعات کا تحفہ بھی پیش کیا – سمینار کے منتظمین کی طرف سے بھی اس موقع سے طبع ہونے والی بہت سی کتابیں تحفۃً پیش کی گئیں – برادر مکرم محی الدین غازی نے دار العلوم دیوبند میں بھی داخلہ لے کر کچھ وقت گزارا ہے – کچھ وقت نکال کر ان کے ساتھ جاکر دار العلوم میں گھومے ٹہلے – عظیم الشان لائبریری کا معاینہ کیا ، جس کی تعمیر کا کام حکومتی پابندیوں کی وجہ سے رک گیا ہے – سمینار میں بہت سے احباب سے ملاقات ہوئی اور ان لوگوں سے بھی جنھیں میں نہیں جانتا تھا ، لیکن وہ میری تحریروں کی وجہ سے مجھ سے واقف تھے – ایسے پروگراموں میں شرکت کا اصل فائدہ یہی ہوتا ہے –