Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
18.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
18.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

*_عورت و مرد کی برابری کا مسئلہ_*

  1. Home
  2. *_عورت و مرد کی برابری کا مسئلہ_*

*_عورت و مرد کی برابری کا مسئلہ_*

  • hira-online.comhira-online.com
  • قرآن و علوم القرآن
  • اکتوبر 11, 2025
  • 0 Comments

از : محمد صابر حسین ندوی

Table of Contents

  • عورت و مرد کی برابری کا مسئلہ
    • اسلام سے پہلے اور مغربی عروج کے بعد عورت کی حیثیت
      • مذہب اسلام نے عورت کو مردوں کے برابر کھڑا کیا
  • : اسلام میں عورتوں کی حیثیت

عورت و مرد کی برابری کا مسئلہ


*قرآن مجید کا صرف یہی ایک امتیاز لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے اور منطقی و عقلی اعتبار سے یہ سمجھا دیا جائے؛ کہ کس طرح اس نے مرد و عورت کو برابری عطا کی ہے، ان کے ثواب و عقاب میں کوئی کمی و بیشی نہیں رکھی، اگر مرد قوام بنایا گیا تو اسے اس قوام کو پیدا کرنے والی، پالنے پوسنے اور اپنے سینے سے ۔ دودھ کا قطرہ قطرہ پلا کر پروان چڑھانے والی ایک نایاب مخلوق بنایا گیا،

اسلام سے پہلے اور مغربی عروج کے بعد عورت کی حیثیت

اسلام سے پہلے اور سچ کہئے تو مغربی عروج کے بعد بھی عورت سوائے ایک سامان کے کچھ نہیں رہی، وہ لذتوں کی دیوی بن کر رہ گئی، حسن پرستی اور نسل پرستی، گورے اور کالے کا امتیاز تو تھا ہی؛ اس سے کہیں زیادہ بحیثیت عورت اسے کمزور، پچھڑا ہوا، دبا کچلا اور دنیا کا ایک شئی لاحاصل بنا کر مارکیٹ میں رکھ دیا گیا، تاکہ اس کے جسم، ہنر، احساس اور بناوٹ کی بولی لگے، اور جو نہ بن بکنے کے لائق ہو اسے جوتیوں کی نوک پر رکھ کر غلامی کی دہلیز پر پٹک دیا دیا گیا، آج بھی کھلی نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ کس طرح انہیں اونچی اور نچلی ذات میں تقسیم کیا جاتا ہے، بالخصوص مذہبی طبقوں نے تو ایسا مزاق بنایا ہے؛ کہ اسے ایک مخلوق کہنا بھی گوارا نہیں کرتے، اس کی قدرتی کمزوریوں کو اچھال کر دنیا کا ایک حقیر و ادنی؛ بلکہ گھٹیا روپ بتاکر ہنسی ٹھٹھولا کرتے ہیں، چھوا چھوت اور معاشرتی بائیکاٹ کے ذریعے سماج میں دراڑ ڈالتے ہیں،

مذہب اسلام نے عورت کو مردوں کے برابر کھڑا کیا

یہ تو اسلام ہے جس نے اسے ہم پلہ قرار دیا ہے، انسانیت میں معزز بنایا ہے، محبت و جذبات اور احساسات کا پلندہ بتا کر حسن سلوک اور رواداری کا حکم دیا ہے، اسے کسی آن کمزور، مردوں سے کم اور عملاً ثواب سے محروم نہیں بتایا، دنیا پر انہیں ایک محسن، مربی اور رب مجازی کے طور پر دیکھا گیا ہے، ذرا قرآن کریم کی یہ آیت پڑھئے اور دیکھئے کیسے رب ذوالجلال نے قدم بقدم انہیں مردوں کے ساتھ کھڑا کیا ہے، وہ کوئی ناقص مخلوق نہیں، محض کسی کی تکمیل کا باعث نہیں، صرف دنیا کی سجاوٹ کا سامان بلکہ وہ حقدار اور مؤثر شخصیت کی مالک ہیں، اگرچہ ان کا عملی میدان الگ ہے مگر جو ان کا خاصہ وہاں تک دوسرے نہیں پہنچ سکتے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَہُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا _(احزاب:٣٥) _”یقیناً مسلمان مردوں اور عورتوں، ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں، فرمانبردار مردوں اور عورتوں، سچے مردوں اور عورتوں، صبر کرنے والے مردوں اور عورتوں، اللہ سے ڈرنے والے مردوں اور عورتوں، صدقہ کرنے والے مردوں اور عورتوں، روزہ رکھنے والے مردوں اور عورتوں اپنی Amritsar کی حفاظت کرنے والے مردوں اورعورتوں اور اللہ کو خوب یاد رکھنے والے مردوں اور عورتوں کے لئے ہم نے بخشش اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے ۔”*
*اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دس اوصاف کا ذکر فرمایا ہے کہ جو کسی شخص کے سچے اور پکے مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے، اس آیت کے نازل ہونے کا پس منظر یہ نقل کیا گیا ہے کہ حضرت اُم عمارہ انصاریہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ قرآن میں ہر جگہ مردوں ہی کا ذکر ہے ، خواتین کے لئے کچھ کہا ہی نہیں گیا ہے، اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی، جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ مستقل طورپر عورتوں کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے، (ترمذی: کتاب تفسیر القرآن عن رسول اللہ ﷺ، باب سورۃ الاحزاب : ۳۲۱۱)

: اسلام میں عورتوں کی حیثیت

اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اسلام میں عورتوں کی بھی مستقل حیثیت ہے ، ایسا نہیں ہے کہ وہ مردوں کے تابع محض ہیں؛ اسی لئے عورت خود اپنے مال کی مالک بن سکتی ہے، اپنی ملکیت میں تصرف کرسکتی ہے، اس کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوسکتا، اسے اپنی زکوٰۃ خود ادا کرنی ہے، جب کہ بیشتر مذاہب میں عورت کو مستقل شخصیت کا درجہ حاصل نہیں تھا اور وہ پوری طرح مردوں کے تابع سمجھی جاتی تھیں؛ البتہ چوں کہ عورتوں میں حتی المقدور پردہ پوشی مطلوب ہے، یہ عورتوں کے اندر پائی جانے والی فطری حیاء کے بھی مطابق ہے اور اس میں پردہ بھی ہے، اس لئے قرآن مجید نے عام طورپر عورتوں کا نام بنام ذکر نہیں کیا ہے؛ بلکہ ذکر بھی کیا گیا تو ان کے شوہر کی طرف نسبت کرتے ہوئےجیسے: فرعون کی بیوی، حضرت نوح کی بیوی ، حضرت لوط کی بیوی ، صرف حضرت مریم کا نام لیا گیا ؛ کیوں کہ ان کے کوئی شوہر نہیں تھے، جن کی نسبت سے ان کا تعارف ہو، ( خلاصہ از: معارف القرآن: ۷؍۱۴۳۵) یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ خاص طورپر اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ ” کثیراً ” کا لفظ لایا گیا، یعنی بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے مرد اور عورت ، اس کے علاوہ اوربعض مواقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے ذکر کا حکم دیتے ہوئے کثرت کی ترغیب دی ہے، (دیکھئے: احزاب : ۴۱، جمعہ: ۱۰) مفسرین نے اس کی حکمت یہ بتائی ہے کہ دوسری عبادتوں میں خصوصی اہتمام کی ضرورت پڑتی ہے، ہر جگہ اور ہر حالت میں یہ عبادت نہیں ہوسکتی، جیسے نماز ہے؛ لیکن ذکر یعنی زبان سے اللہ تعالیٰ کا نام لینا یا دل سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا ایسی عبادت ہے جو ہر جگہ اور ہر حال میں کی جاسکتی ہے؛ اسی لئے قرآن مجید میں ایک اور موقع پر نیک بندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ وہ کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے اور اپنے پہلو پر لیٹے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے ہیں، ( آل عمران: ۱۹۱) اسی لئے ذکر کی کثرت میں نہ کوئی دشواری ہے نہ کوئی رکاوٹ ۔* ( مفاتیح الغیب : ۲۴؍۵۹۵_ دیکھئے:آسان تفسير قرآن مجید)

✍ *محمد صابر حسین ندوی*


hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

سورہ زمر : الوہیت کا عظیم مظہر

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • فروری 22, 2026
  • 0 Comments
جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصد

جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصد ​قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا وہ کلام ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ امام ابو حامد الغزالی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز تصنیف "جواہر القرآن” میں قرآن کے گہرے مطالعے کے بعد اس کے تمام تر مقاصد اور جوہر کو چھ بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ ان تمام مقاصد کا محور ایک ہی نکتہ ہے: بندوں کو ان کے اصل معبود، "جبارِ اعلیٰ” کی طرف بلانا۔ ​امام غزالی ان چھ مقاصد کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں: اصولی مقاصد اور تکمیلی مقاصد۔ ​اول: تین بنیادی اور اہم اصول (السوابق والاصول)​یہ وہ بنیادی ستون ہیں جن پر دین کی پوری عمارت قائم ہے:​معرفتِ الٰہی (تعریف المدعو إليہ): قرآن کا سب سے پہلا اور اہم مقصد انسان کو اس کے خالق و مالک کی پہچان کروانا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور اس کے افعال کا بیان شامل ہے تاکہ بندہ جان سکے کہ وہ کس کی بندگی کر رہا ہے۔ ​صراطِ مستقیم کی پہچان: اللہ کی پہچان کے بعد دوسرا قدم اس راستے کو جاننا ہے جو اس تک لے جاتا ہے۔ قرآن وہ طریقہ کار اور ضابطہ حیات واضح کرتا ہے جس پر چل کر انسان اپنے رب کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔​انجامِ سفر کی حقیقت: جب انسان اللہ کی طرف سفر شروع کرتا ہے، تو قرآن اسے بتاتا ہے کہ منزل پر پہنچنے کے بعد (یعنی مرنے کے بعد اور قیامت کے دن) اس کے حالات کیا ہوں گے۔ یہ جنت، دوزخ اور لقائے الٰہی کی کیفیات کا بیان ہے۔ ​دوم: تین تکمیلی اور متمم اجزاء (الروادف والتوابع)​یہ اجزاء پہلے تین اصولوں کی وضاحت اور ان پر عمل پیرا ہونے میں مدد فراہم کرتے ہیں:​قبول کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں کے احوال: قرآن میں جہاں انبیاء اور صالحین کے قصے ہیں (تاکہ لوگ ان کی پیروی کریں)، وہیں ان لوگوں کا تذکرہ بھی ہے جنہوں نے حق کو ٹھکرایا، تاکہ انسان ان کے انجام سے عبرت…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • علوم القرآن
  • علوم قرآن
  • فروری 14, 2026
  • 0 Comments
قرآن کے پانچ اساسی علوم

قرآن کے پانچ اساسی علوم حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اپنی معرکہ آراء کتاب "الفوز الکبیر فی اصول التفسیر” میں قرآن مجید کے تمام مضامین اور علوم کو پانچ بنیادی علوم میں تقسیم کیا ہے۔ ان کے نزدیک پورا قرآن ان ہی پانچ علوم کے گرد گھومتا ہے۔​شاہ صاحب کی یہ تقسیم قرآنی مطالعہ کو انتہائی سہل اور منظم بنا دیتی ہے: ​1. علم الاحکام (Science of Rulings) ​اس علم میں وہ تمام احکامات شامل ہیں جو انسان کی عملی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔​عبادات: نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ۔​معاملات: خرید و فروخت، نکاح و طلاق، وراثت۔​سیاست و عدل: حدود و تعزیرات اور حکمرانی کے اصول۔​مقصد: اس کا مقصد انسانی افعال کی اصلاح اور ایک منظم معاشرے کی تشکیل ہے۔ ​2. علم المخاصمہ (Science of Disputation) ​اس سے مراد وہ مباحث ہیں جو قرآن نے باطل نظریات رکھنے والے چار بڑے گروہوں کے رد میں بیان کیے ہیں:​یہود: جنہوں نے احکامِ الہیٰ میں تحریف کی۔​نصارٰی: جنہوں نے شرک اور غلو سے کام لیا۔​مشرکین: جو اللہ کی ذات و صفات میں دوسروں کو شریک کرتے تھے۔​منافقین: جو ظاہر میں مسلمان اور باطن میں کافر تھے۔​مقصد: باطل عقائد کی تردید اور اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنا۔ ​3. علم التذکیر بآلاء اللہ (Reminders of God’s Favors) ​اس علم میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور اس کے احسانات کا ذکر ہے۔​آسمان و زمین کی تخلیق، بارش کا برسنا، انسانوں کی پیدائش اور کائنات کا مربوط نظام۔​مقصد: انسان کے دل میں اللہ کی عظمت، محبت اور شکر گزاری کا جذبہ پیدا کرنا۔ ​4. علم التذکیر بایام اللہ (Reminders of God’s Historical Days) ​”ایام اللہ” سے مراد تاریخ کے وہ اہم واقعات ہیں جب اللہ نے قوموں پر انعام کیا یا انہیں عبرت کا نشان بنایا۔​انبیاء کرام کے واقعات اور ان کی قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں۔​فرعون، قارون اور قومِ عاد و ثمود کے انجام کا تذکرہ۔​مقصد: اس کا مقصد تاریخ سے سبق حاصل کرنا اور اللہ کے قانونِ مکافاتِ عمل کو سمجھنا ہے۔ ​5. علم التذکیر بالموت و ما بعد الموت (Reminders of Death…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • وضو کے فرائض 10.03.2026
  • وضو کا مسنون طریقہ 10.03.2026
  • گھر میں اعتکاف 09.03.2026
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ 09.03.2026
  • اعتکاف ، احکام و آداب 09.03.2026
  • صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟ 09.03.2026
  • زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں 08.03.2026
  • ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟ 08.03.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

وضو کے فرائض

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کے فرائض
فقہ و اصول فقہ

وضو کا مسنون طریقہ

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کا مسنون طریقہ
Blog

گھر میں اعتکاف

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

اعتکاف ، احکام و آداب

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
اعتکاف ، احکام و آداب
فقہ و اصول فقہ

صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟
فقہ و اصول فقہ

زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026
فقہ و اصول فقہ

ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top