Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
19.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
19.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگالکا قضیہ حقائق کی روشنی میںمیرا مطالعہ

  1. Home
  2. امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگالکا قضیہ حقائق کی روشنی میںمیرا مطالعہ

امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگالکا قضیہ حقائق کی روشنی میںمیرا مطالعہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • مئی 24, 2025
  • 0 Comments


مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال ایک متحرک وفعال تنظیم ہے۔ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد اس کے محرک تھے۔ انہوں نے امارت شرعیہ کا خاکہ تیار کیا ، اکابر علماء، خانقاہوں کے سجادہ نشیں، دانشوران اور مولانا ابوالکلام آزاد سے ملاقات کرکے امارت شرعیہ کے قیام کے لئے راہ ہموار کی۔ اس زمانہ میں مولانا ابوالکلام آزاد رانچی میں نظر بند تھے، اس لئے قیام امارت کا معاملہ ٹلتا رہا۔ جب ۱۹۲۰ء میں نظر بندی ختم ہوئی، تو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نے ۲۶؍ جون ۱۹۲۱ء کو پٹنہ کے محلہ پتھر کی مسجد میں اس سلسلے کی ایک میٹنگ بلائی۔ مولانا آزاد کے زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے کم وبیش پانچ سو علماء و دانشوران جمع ہوئے اور ۲۶؍جون ۱۹۲۱ء کو امارت شرعیہ بہار واڈیشہ موجودہ امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کا قیام عمل میں آیا۔
موجودہ وقت میں امارت شرعیہ کو ۱۰۰؍ سال پورے ہوچکے ہیں، یہ ملک کا ایک اہم اور باوقار ادارہ ہے، اس نے ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک کی بھی رہنمائی کی ہے۔ اس کا نظام قضاء بہت مقبول ہوا۔ امارت شرعیہ کے نظام قضاء کے مطابق تقریباً پورے ملک میں درالقضاء کاقیام عمل میں آیا اور کام کررہا ہے، جس سے مسلمانوں کو عائلی معاملات کو حل کرنے میں بڑی آسانی ہورہی ہے۔ اس نظام قضاء سے ہندوستان کے علاوہ بہت سے ممالک نے استفادہ کیا ہے، جس کی وجہ سے امارت شرعیہ ،بہار ،اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کی مقبولیت بہت بڑھ گئی ہے۔
امارت شرعیہ کو سمجھنے کے لئے اس کے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کا مطالعہ ضروری ہے۔اس لئے امارت شرعیہ کے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کے ضروری دفعات کا مطالعہ پیش ہے۔
امارت شرعیہ کا باضابطہ دستور ہے، جس کے مطابق یہ ادارہ چل رہا ہے، اس کے زیر انتظام کئی ادارےقائم کئے گئے، تو ضرورت کے پیش نظر اس کو ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعہ رجسٹرڈ کرادیا گیا، البتہ ٹرسٹ ڈیڈ میں دستور کی نکات کو باقی رکھا گیا، اس طرح ٹرسٹ ڈیڈ میں امارت شرعیہ کے پرانے دستور کی دفعات کو شامل کرتے ہوئے جائیدادوں کی حفاظت کے لئے ٹرسٹیوں کا اضافہ کیا گیا اور امارت شرعیہ کے تمام شعبہ جات کا نگراں امیر شریعت کو قرار دیا گیا۔
امارت شرعیہ کے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق امارت شرعیہ کی مجلس شوریٰ ،مجلس عاملہ، مجلس ارباب حل وعقد اور بورڈ آف ٹرسٹیز چار کمیٹیاں ہیں، دستور میں سبھی کے اختیارات کا بھی ذکر ہے۔ دستور وٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق امارت شرعیہ میں سب سے اہم عہدہ امیرشریعت کا ہے، یہ امارت شرعیہ کا سب سے اہم اور بااختیار عہدہ ہے، اس کی وضاحت دستور وٹرسٹ کی دفعہ ۵؍ میں ہے:
دفعہ ۵-امیرشریعت کو نظام امارت شرعیہ میں نقطۂ مرکز کی حیثیت حاصل رہے گی اور ان کا فیصلہ واجب الاطاعت ہوگا۔
دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ میں اوصاف امیر، انتخاب امیر اور عزل امیر کے لئے بھی مکمل رہنمائی موجود ہے۔
اوصاف امیر کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۰- امیر میں حسب ذیل اوصاف لازم ہوں گے۔
(۱) عالم باعمل ہو یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے معانی اور حقائق کا معتدبہ علم رکھتا ہو۔ اغراض ومصالح شریعت اسلامیہ وفقہ اسلامی وغیرہ سے واقف ہو اور احکام شریعت پر عمل پیرا ہو۔
(۲) سیاسیات ہند و سیاسیات عالم اسلامیہ سے واقفیت رکھتا ہو اور حتی الامکان تجربہ سے اکثر صاحب الرائے ثابت ہوچکا ہو۔
(۳) ذاتی قابلیت ووجاہت سے عوام وخواص کے اکثر طبقات کے ایک معتدبہ جماعت پر اس کا اثر ہو۔
(۴) حق گو ،حق شنو اور صاحب عزیمت ہو۔
(۵) فقہی تعبیر میں اس کی ذات ایسی نہ ہو جس سے امارت شرعیہ کا مقصد ختم ہوجائے۔
انتخاب امیر کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۱- جب امیر کا منصب خالی ہو تو تین ماہ کے اندر نئے امیر کا انتخاب لازمی ہے۔
دفعہ ۱۲- انتخاب امیر کا حق مجلس ارباب حل وعقد کو ہوگا۔
دستور و ٹرسٹ میں عزل امیر، وجوہ عزل اور طریقۂ عزل کے لئے بھی رہنمائی درج ہے۔
عزل امیر کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۳- عزل امیر کا اختیار مجلس ارباب حل وعقد کو ہوگا۔
وجوہ عزل کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۴- عزل امیر کے لئے مندرجہ ذیل وجوہ میں سے کسی ایک کا پایا جانا ضروری ہے۔
(۱) امیر شریعت سے خدا نخواستہ کفر بواح کا ظہور ہو، تو خود بخود معزول قرار دیا جائے گا۔
(۲) امیر شریعت کے اعمال میں اس حدتک تغیر ہوجائے کہ محارم متفق علیہا کا ارتکاب کرنے لگے تو مستحق عزل ہوگا اور تنبیہ کے بعد بھی اس سے باز نہ آئے تو معزول کیا جائے گا۔
(۳) اگر امیر شریعت اپنے فرائض کے انجام دہی میں قاصر وعاجز ثابت ہو، بسبب عدم اہلیت یا بسبب غفلت یا بسبب مرض تو اس سے مستحق عزل ہوگا۔
طریقۂ عزل کے ضمن میں تحریر ہے:
دفعہ ۱۵- عزل امیر کے لئے مندرجہ ذیل طریقہ اختیار کیا جائے گا۔
(۱) اگر امیر شریعت کے اندر وجوہ عزل پایا جائے اور مجلس شوریٰ امارت شرعیہ کے کل ارکان میں سے کم ازکم دو تہائی اس پر متفق ہوں تو نائب امیر ارباب حل وعقد کا جلسہ طلب کریں، تاکہ عزل امیر پر غور کیا جائے یا اس کے حکم پر ناظم امارت شرعیہ جلسہ بلائیں گے۔
(۲) نائب امیر، مجلس شوریٰ ،امارت شرعیہ بہار ، جھارکھنڈ واڈیشہ کے دو تہائی ارکان کے اتفاق کے باوجود تین ماہ تک مجلس ارباب حل وعقد طلب نہ کریں، تو ان دو تہائی ارکان کو حق ہوگا کہ وہ مجلس ارباب حل وعقد اپنے دستخط سے میٹنگ بلالیں۔
بورڈ آف ٹرسٹیز کے ضمن میں تحریر ہے:
بورڈ آف ٹرسٹیز
(۱) ٹرسٹ اور اس کی جائیداد کا انتظام وانصرام بورڈ آف ٹرسٹیز کے اختیار میں ہوگا۔ امیر شریعت بحیثیت عہدہ بورڈ آف ٹرسٹیز کے صدر ہوں گے۔ بورڈ آف ٹرسٹیز کی تعداد کم سے کم ۱۱؍ اور زیادہ سے زیادہ ۲۱ ؍ ہوگی، جس میں سے امیر شریعت ، نائب امیر شریعت، ناظم امارت شرعیہ، انچارج بیت المال، قاضی امارت شرعیہ اور مفتی امارت شرعیہ بحیثیت عہدہ ٹرسٹی ہوں گے۔ بقیہ حضرات تاحیات ٹرسٹی ہوں گے۔
خلاصہ یہ کہ تمام کمیٹیوں کے اختیارات الگ الگ درج ہیں، تاکہ کسی طرح کا فتنہ برپا نہ ہو۔
امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی کے وصال کے بعد امارت شرعیہ کے امیر کا انتخاب ہونا تھا، اس وقت انتخاب کو لے کر ہنگامی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔ امیرشریعت کے انتخاب کے موقع پر میں بھی اس کی سرگرمیوں میں شریک رہا، اس لئے میں پورے حالات سے واقف ہوں۔ اسی کی روشنی میں چند حقائق پیش ہیں:
(۱) سال ۲۰۲۱ءمیں کورونا کا زور تھا، اسی زمانہ میں مولاسید محمد ولی رحمانی امیر شریعت کا انتقال ہوگیا، کورونا کی شدت کی وجہ سے لاک ڈائون لگا ہوا تھا، اس لئے بروقت امیر شریعت کے انتخاب کی کارروائی شروع نہیں ہوئی، جب انتخاب کی کارروائی شروع ہوئی ،تو امیر شریعت کے دوڑ میں بہت سے چہرےسامنے آرہے تھے۔ تنازع کو ختم کرنے کے لئے اتفاق رائے سے ایک انتخابی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں گیارہ ممبران تھے۔امیر شریعت کے لئے مجوزہ امیدواروں میں ایک ایسے امیدوار کا بھی نام آرہا تھا، جس کے بارے میں لوگ سوشل میڈیا اور پریس میڈیا میں یہ بیان دے رہے تھے کہ امارت شرعیہ کے دستور کے مطابق وہ عالم نہیں ہیں، چونکہ امیر شریعت کے اوصاف میں تحریر ہے کہ امیرشریعت وہی ہوگا جو عالم باعمل ہوگا۔ چنانچہ جب انتخابی کمیٹی کی تشکیل ہوگئی تو انتخابی کمیٹی نے عالم یا غیر عالم کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی بنائی جس میں دونوں گروپ کے علماء شامل تھے۔ علماء کمیٹی نے ان کو عالم تسلیم کیا ، پھر اس کے بعد انہیں انتخاب میں حصہ لینے کا موقع دیا گیا۔ انتخابی کمیٹی نے حالات کے پیش نظر انتخاب کی تیاری کرلی تھی، چونکہ حالات سے ایسا پتہ چل رہا تھا کہ اتفاق رائے سے امیرشریعت کا انتخاب نہیں ہوسکے گا۔ باضابطہ ووٹنگ کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
چنانچہ جب اتفاق رائے سے امیرشریعت کا انتخاب ممکن نہیں ہوسکا تو جمہوری طریقہ پر باضابطہ ووٹنگ کے ذریعہ انتخاب کرایا گیا۔ انتخاب میں ممبران مجلس ارباب حل وعقد نے حصہ لیا۔ ان لوگوں نے بھی حصہ لیا جنہیں ان کے عالم نہ ہونے پر اعتراض تھا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ تمام لوگوں نے ان کو عالم تسلیم کیا، کسی نے انتخاب کی مجلس میں ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ انتخاب میں مولانا احمد ولی فیصل رحمانی منتخب قرار دیئے گئے، تمام لوگوں نے ان کو امیرشریعت مان لیا۔
پھر تین سال کے بعد عجیب اتفاق ہے کہ اسی گروپ کے لوگ جو مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کو امیر شریعت بنانے میں پیش پیش تھے اور وہ لوگ موصوف میں امیر شریعت کے تمام اوصاف دیکھ رہے تھے اور شمار کررہے تھے ، اسی گروپ کے لوگ ان کے خلاف کھڑے ہوگئے اور پھر وہی لوگ ان ہی خرابیوں کا تذکرہ کر کے ہنگامہ برپا کرنے لگے کہ وہ عالم نہیں ہیں اور غیر ملکی ہیں ، جبکہ انتخاب کے وقت اس کا فیصلہ ہوچکاہے ، پھر ٹرسٹ کے چند ممبران کے ساتھ میٹنگ کر کے منتخب امیر شریعت کو معزول بھی کردیا اور دوسرے امیر شریعت کا انتخاب کر کے متوازی امارت شرعیہ کا اعلان بھی کردیا ، جس کا انہیں کوئی اختیار نہ تھا اور نہ ہے۔
آپ نے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کا مطالعہ کیا، منتخب امیر شریعت کو معزول کرنے کی وجوہات کا ذکر امارت شرعیہ کے دستور میں موجود ہے ، معزول کی وجوہات کے ذکر کے بعد معزول کرنےکے طریقہ کا بھی ذکر ہے ۔ دستور و ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق عزل کی وجوہات کی دفعات میں مندرجہ ذیل باتیں تحریر ہیں:
دفعہ۱۴ -عزل امیر کے لئے مندرجہ ذیل وجوہ میں سے کسی ایک کا پایا جانا ضروری ہے:
(۱) امیرشریعت سے خدا نخواستہ کفر بواح کا ظہور ہوتو خود بخود معزول قرار پائے گا۔
(۲) امیر شریعت کے اعمال میں اس حدتک تغیر ہوجائے کے محارم متفق علیہا کا ارتکاب کرنے لگے ،تو مستحق عزل ہوگا اور تنبیہ کے بعد بھی اس سے باز نہ آئے تو معزول کیا جائے گا۔
(۳) اگر امیرشریعت اپنے فرائض کی انجام دہی میں قاصر وعاجز ثابت ہو بہ سبب عدم اہلیت یا بہ سبب غفلت یا بہ سبب مرض تو اس صورت میں مستحق عزل ہوگا۔
پھر اس کے بعد دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ میں عزل کا طریقہ مذکور ہے:
(۱) اگر امیر شریعت کے اندر وجوہ عزل پائے جائیں اور مجلس شوریٰ امارت شرعیہ کے کل ارکان میں سے کم ازکم دو تہائی ارکان اس پر متفق ہوں تو نائب امیر ارباب حل وعقد کا جلسہ طلب کریں گے تاکہ عزل امیر پر غور کیا جائے، یا ان کے حکم پر ناظم امارت شرعیہ جلسہ بلائیں گے۔
(۲) نائب امیر مجلس شوریٰ امارت امارت شرعیہ بہار، جھاکھنڈ واڈیشہ کے دوتہائی ارکان کے اتفاق کے باوجود تین ماہ تک مجلس ارباب حل وعقد طلب نہ کریں تو ان دوتہائی ارکان کو حق ہوگا کہ وہ مجلس ارباب حل وعقدکی میٹنگ اپنے دستخط سے بلائیں ۔
امارت شرعیہ کے دستور اور ٹرسٹ ڈیڈ کے مذکورہ بالا دفعات سےیہ واضح ہے کہ منتخب امیر شریعت کو معزول کرنے کی وجوہات سے مجلس شوریٰ کے دو تہائی ممبران کا متفق ہونا ضروری ہے،لیکن بورڈ آف ٹرسٹیز کے چند ممبران نے ازخودمنتخب امیرشریعت کو معزول کرکےدوسرے امیرشریعت کو منتخب کرکے اعلان کردیا، جس کا انہیں کوئی اختیار نہیں تھا، بلکہ امیر شریعت کے معزول کرنے کی وجوہات سے مجلس شوریٰ کے دوتہائی ارکان کا متفق ہونا ضروری تھا، پھر مجلس شوریٰ کی دعوت پر مجلس ارباب حل وعقد کو امیرشریعت کو معزول کرنے اور دوسرے امیر شریعت کے انتخاب کا اختیار تھااور ہے ۔ چنانچہ امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کی مجلس شوریٰ کا اجلاس مورخہ ۱۳؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو منعقد ہوا، اس میں استصواب رائے کیا گیا ، جس میں مجلس شوریٰ کے ارکان نے اجلاس میں منتخب امیرشریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی پر اعتماد کا اظہار کیااور ان کے امیر شریعت ہونے کی توثیق کی۔ اس طرح امارت شرعیہ ان کی زیرقیادت اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔
جہاں تک الزامات کی بات ہے ،تو میں نے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چند ممبران کے ذریعہ منتخب امیرشریعت کو معزول کرنے کی وجوہات کا جائزہ لیا، تو اس میں دوباتیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عالم نہیں ہیں، دوسرے یہ کہ وہ ہندوستانی شہری نہیں ہیں۔
جہاں تک عالم نہ ہونے کی بات ہے تو اس کے لئے انتخاب سے پہلے علماء کمیٹی نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ وہ عالم ہیں، اس پر موافقین اور مخالفین سبھی کا اتفاق ہوچکا ہے، اس لئے اب اس معاملے کو اٹھانا اتفاق رائے کے خلاف ہے۔
جہاں تک ہندوستانی شہری نہ ہونے کی بات ہے، تو یہ قانونی معاملہ ہے، میں نے اس سلسلے میں کئی اہم ماہرین وکلاء سے مشورے کئے، انہوں نے بتایا کہ امارت شرعیہ ایک این جی او ہے اور این جی او کے عہدیدار ہونے کے لئے ہندوستان کا شہری ہونا ضروری نہیں ہے۔ پھر میں نے او سی آئی قوانین کا مطالعہ کیا ، اس میں اوسی آئی کارڈ ہولڈر کو چند معاملات کو چھوڑ کر ملک کے تمام معاملات میں ہندوستانی شہری کی طرح اختیارات حاصل ہونے کا تذکرہ ہیں۔ اس طرح کے کارڈ ہولڈر کو غیرملکی نہیں کہا جاسکتا ہے۔
یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ ان کی بہت سی باتیں دین وشریعت کے خلاف ہوتی ہیں، تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ میں نے ان ویڈیوز کو سنا ہے، مختلف مسائل میں علماء کے مختلف رائیں ہیں، ان کو سمجھانےکے لئے اختلافات کی نوعیت کو لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے یا عوام کو سمجھانے کے لئے اس طرح کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس طرح کے ویڈیو سے دین سے انحراف واضح نہیں ہوتا ہے اور نہ ثابت ہوتا ہے۔
مذکورہ تجزیہ کی روشنی میں امارت شرعیہ کے منتخب امیر کو مجلس ارباب حل وعقد کے سوا کسی دوسری مجلس کو معزول کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ میرے مطالعہ کے مطابق ان پر لگائے گئے الزامات کی بھی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے، اس لئے امارت شرعیہ کی حفاظت اور اس کے وقار کو برقرار رکھنا ملت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو شر اور فتنے سے حفاظت فرمائے۔

—

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

یہود سے معاہدہ اور نقضِ عہد کی یہودی فطرت وتاریخ
امارت شرعیہ کی مجلس ارباب حل وعقد نے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی امارت اور قیادت میں شرعی زندگی گذارنے کا عہد پیمان کیا.

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟
  • مارچ 9, 2026
  • 0 Comments
زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ از : مولانا ابو الجیش ندوی ​عارفینِ حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زہد دراصل دل کا دنیا کے وطن سے کوچ کر جانا اور آخرت کی منزلوں کی طرف روانہ ہو جانا ہے۔ اسی بنیاد پر متقدمین (پچھلے علماء) نے زہد کے موضوع پر کتابیں تصنیف کیں، جیسے عبداللہ بن المبارک، امام احمد، وکیع اور ہناد بن السری رحمہم اللہ وغیرہ کی کتبِ زہد۔​زہد کے چھ بنیادی متعلقات​کسی بندے کے لیے ‘زاہد’ کا لقب اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک وہ درج ذیل چھ چیزوں میں زہد اختیار نہ کر لے:​مال و دولت​ظاہری صورتیں (حسن و جمال)​ریاست و منصب​لوگ (ان کی واہ واہ یا تنقید)​اپنی ذات (نفس)​اور اللہ کے سوا ہر چیز۔​زہد کا مطلب ترکِ دنیا نہیں​یہاں زہد سے مراد ان چیزوں کی ملکیت کو چھوڑ دینا نہیں ہے۔ اس کی چند نمایاں مثالیں ملاحظہ فرمائیں:​حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام: اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے، حالانکہ ان کے پاس مال، عورتیں اور عظیم سلطنت موجود تھی۔​نبی کریم ﷺ: آپ کائنات کے سب سے بڑے زاہد تھے، اس کے باوجود آپ کی نو ازواجِ مطہرات تھیں۔​صحابہ کرام: حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین بڑے زاہد تھے باوجود اس کے کہ ان کے پاس کثیر اموال تھے۔​حضرت حسن بن علیؓ: آپ بھی زاہدین میں سے تھے، حالانکہ آپ امت میں سب سے زیادہ نکاح کرنے والے اور مالدار ترین افراد میں شامل تھے۔​ائمہ کرام: عبداللہ بن المبارک زہد کے امام تھے مگر بہت مالدار تھے۔ اسی طرح لیث بن سعد اور سفیان ثوری بھی زہد کے امام تھے اور صاحبِ مال تھے؛ امام سفیان فرمایا کرتے تھے: "اگر یہ مال نہ ہوتا تو یہ (حکمران) ہمیں اپنا رومال بنا لیتے (یعنی ہمیں ذلیل کرتے)۔”​زہد کی بہترین تعریف​زہد کے بارے میں سب سے خوبصورت بات ابو مسلم الخولانی نے کہی ہے:​”دنیا سے زہد کا مطلب حلال کو حرام کر لینا یا مال کو ضائع کر دینا نہیں ہے، بلکہ زہد یہ ہے کہ:​جو…

Read more

Continue reading
اعتکاف ، احکام و آداب
  • hira-online.comhira-online.com
  • مارچ 9, 2026
  • 0 Comments
اعتکاف ، احکام و آداب

🔰اعتكاف، احكام وآداب 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎‏‎ انسان کا رشتہ اپنے خالق سے یہ ہے کہ خدا مالک ہے اور انسان اس کا مملوک ، خدا معبود ہے اور انسان اس کا عبد ، خدا آقا ہے اور انسان اس کا بندہ اور غلامِ بے دام ، غلام کا کمال یہ ہے کہ اس کا آقا اس سے خوش ہو ، مملوک کے لئے سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اسے مالک کی خوشنودی حاصل رہے ، عاشق کو اپنے معشوق کی راہ میں لٹ کر بھی ایک لطف آتا ہے اور محب اپنے محبوب کے لئے کھو کر بھی پانے کی لذت محسوس کرتا ہے ، اسی محبت اور غلامی اور بندگی کے احساس کو عملی پیکر دینے کے لئے عبادت کے طریقے مقرر کیے گئے اور ان کو انسان کا اصل مقصد وجود قرار دیا گیا :’’ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ ‘‘۔ اسلام میں عبادت کے جو طریقے مقرر کئے گئے ہیں ان میں قدم قدم پر اپنی بندگی ، نیستی اور خدا کے ساتھ محبت اور شیفتگی کا اظہار ہے ، نماز کی کیفیت کو دیکھئے کہ غلام اپنے آقا کے سامنے نگاہ نیچی کیے ہوئے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے ، بار بار اپنے خدا کی کبریائی کا نعرہ لگا تا ہے ، کبھی کمر تک جھکتا ہے ، کبھی نگاہ جھکائے دو زانو بیٹھتا ہے اور کبھی اپنی پیشانی زمین پر رگڑتا ہے ، زکوٰۃ دینا اپنی ذات اور اپنے مال پر خدا کی حکومت کا اعتراف کرنا ہے ، روزہ اور حج بھی خدا کی بندگی ہے ؛ لیکن اس میں خوف سے زیادہ اپنے مالک کی محبت کا اظہار ہے ، روزہ دار کو دیکھئے ! بھوکا ہے ، پیاسا ہے ، دُھوپ کی تمازت اور موسم کی شدت ہے ؛ لیکن خدا کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے سب کچھ گوارا ہے ، روزہ گویا اللہ تعالیٰ سے کمالِ محبت اور تمام علائق سے رشتہ ٹوڑ نے سے عبارت ہے ؛ لیکن بھو کے پیاسے رہنے کے باوجود روزہ کی حالت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • وضو کے فرائض 10.03.2026
  • وضو کا مسنون طریقہ 10.03.2026
  • گھر میں اعتکاف 09.03.2026
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ 09.03.2026
  • اعتکاف ، احکام و آداب 09.03.2026
  • صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟ 09.03.2026
  • زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں 08.03.2026
  • ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟ 08.03.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

وضو کے فرائض

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کے فرائض
فقہ و اصول فقہ

وضو کا مسنون طریقہ

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کا مسنون طریقہ
Blog

گھر میں اعتکاف

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

اعتکاف ، احکام و آداب

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
اعتکاف ، احکام و آداب
فقہ و اصول فقہ

صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟
فقہ و اصول فقہ

زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026
فقہ و اصول فقہ

ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top