اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کوئی بھی قوم جو اپنی نشاة ثانیہ اور ترقی و عروج کی خواہش رکھتی ہے اسے اپنی شناخت بنانی ہوتی ہے، اور اسی کی بنیاد پر اس کی ترقی و تنزل کے فیصلے ہوتے ہیں، شناخت سے مراد کسی قوم کی وہ تشخصات، ما بہ الامتیاز صفات، ترجیحات، دستور حیات، اور اس کی وہ تاریخی خصوصیات ہوتی ہیں جو اسے دوسری قوموں سے ممتاز کرتی ہیں، امت مسلمہ کی شناخت کی بات کی جائے تو اس سے مراد نہ تو نہ قومی شناخت ہے نہ نسلی، نہ لسانی، اور نہ علاقائی،جس کے عفریت کو قابو کرنا محال ہوچکا ہے، یہاں گفتگو اس کلیدی شناخت کی ہے جس میں یہ ایک مسلمان کی پہچان کی یہ تمام جہتیں آکر سمٹ جاتی ہیں، وہ ہے اسلامی شناخت جو ہر شناخت سے بڑھ کر اور برتر ہے، اور تنہا یہی وہ شناخت ہے جو معتبر ہے، بقیہ شناخت کے نام پر جو کچھ ہے اس کی حیثیت چٹیل میدان میں چمکتی ہوئی ریت کی طرح ہے کہ جس کو پیاسا پانی خیال کرتا ہے؛ یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جاتا ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں پاتا،اور وہاں اسے یہ آواز آتی ہے:
اس سرابِ رنگ وبو کو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ اے ناداں! قفَس کو آشایں سمجھا ہے تو
تاریخی اعتبار سے غور کریں تو اسلامی شناخت کواس وقت شدید صدمہ پہنچا جب مغرب پرستی،مذہب بیزاری کے احیا(Secularisation)، اور اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی مہم اٹھارہویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے آغاز میں خاص طور پر مصر میں شروع ہوئی، جب فرانسیسی سپہ سالار نپولین بونا بارٹ نے ١٧٩٧ء میں مصر پر حملہ کیا،محمد علی پاشا برسر اقتدار آئے اور مصر کے ”خدیو” یا والی بنے تو مغربی تہذیب کو مصری معاشرہ میں نفوذ کا موقع ملا، اور سرکش سیلاب کی مانند اس نے سماج کی تہوں میں اپنی جگہ بنالی، اور مصریوں میں قومیت و وطنیت کی تخم کاری شروع ہوگئی، غیر اسلامی نظریات عالم اسلام کے ممالک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئے، ایسے بھی حوصلہ مند کھڑے ہوئے جنہوں نے اس فکر کی آبیاری شام و لبنان کے علاقوں میں کی،ا ور وہاں کی فضاؤں کو بھی اس زہر ہلاہل سے مسموم کیا،یہیں سے قومیت عربیہ کے فتنہ نے سر اٹھایا،اس عرب قومیت کے تعصب سے حجاز بھی محفوظ نہیں رہا، ترکوں کے خلاف مسلح بغاوت شروع ہوگئی، اور١٩١٦ء میں”الثورة العربیة الکبری”(عرب بغاوت یاArab Revolt)کا آغاز شریف مکہ حسین ابن علی کے ذریعہ کرایا گیا جس کا مقصد سلطنت عثمانیہ سے آزادی حاصل کر کے حلب(شام)سے عدن( یمن) تک ایک واحد عرب ریاست قائم کرنا تھا،اس کے بعد بے شمار ایسے اہل قلم مفکرین و دانشوران عرب جو مغرب کے خوان یغما کے خوشہ چیں رہے تھے،عربی معاشرہ میں مغربی اقدار و روایات کو عام کرنے کے لیے مختلف اسلامی ممالک میں چھاپہ مار دستوں کی طرح پھیل گئے:
بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگر چہ پیر ہے آدم، جواں ہیں لات و منات
١٩٢٤ء میں اس وقت مغرب پرستی اور تنویری الحاد کی مہم جوئیاں عروج پر پہنچ گئیں جب مصطفیٰ کمال نے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کا اعلان کیا،اس کے ساتھ ہی وہ اسلامی ریاست جو اسلامی تشخص اور اس کے روشن تاریخی ورثہ کے تحفظ میں مدد فراہم کررہی تھی، ضائع ہوگئی،اس کے بعد نہ صرف مغربی تہذیب نے بال وپر پھیلائے، بلکہ اسلامی ممالک پر ناجائز غیر ملکی قبضوں اور جبر و استبداد کا بدترین دور شروع ہوا، اس وقت سے ہم اپنے معاشروں میں رہی سہی اسلامی شناخت کا تصور کھو چکے ہیں، عام طور پر ہمارے درمیان ملک، براداری ، ذات پات کے رشتوں سے بُنے ہوئے تعلقات یا فرقہ وارانہ وابستگیاں عام ہوگئیں،اور مسلم ممالک کا وہ حال ہوا جو آج ہمیں نظر آرہا ہے کہ وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ استعماری طاقتوں کے رحم وکرم پر ہیں،ان کا اسلامی تشخص تو کیا،اب مزعومہ وطنی یا قومی تشخص بھی جاتا رہا جس کے جھانسہ میں آکر انہوں نے اسلامی شناخت پر سمجھوتہ یا اس کا سودا کیا تھا۔
ہمارے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے گم ہونے کی یا دوسری تہذیبوں میں ضم ہونے کی کئی شکلیں ہیں:
ـ مذہب کو ریاست سے الگ کرکے سیکولرزم کو اختیار کرنا جس سے اسلامی ریاست کی شناخت مسخ ہوکر رہ جاتی ہے،اور اس کے نتیجہ میں معاشرہ کے اقدار اور اصولوں کی نمائندگی کرنے والی ایک واضح اسلامی شناخت کے اثرات ختم ہوکر رہ جاتے ہیں،اور اسلامی ترجیحات دم توڑ جاتی ہیں،اس حادثہ کو تو ایک صدی گزر گئی۔
ـ معاشرہ کے کچھ افراد خاص طور سے نوجوانوں کا نظام زندگی کے طور پر مغربی نظریات کی طرف راغب ہونا، اور زندگی کی رونق وبہار کے لیے مغربی فیشن کو آئیڈیل سمجھنا ،یہ روگ بھی مسلم نوجوانوں کو دیمک کی طرح کھاتا چلا گیا،آرائش و نمائش پر حد سے زیادہ توجہ،اور قدم بہ قدم مغربی انداز و پندار کو اختیار کرکے انہوں نے اپنی شناخت کھو دی،ا ور دنیا کی بھیڑ میں کھو گئے،رسول اللہۖ کی یہ پیشن گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی:” تم لوگ پہلی امتوں کے طریقوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے، ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ!کیا پہلی امتوں سے آپ کی مراد یہود و نصاری ہیں؟ آپۖنے فرمایا: پھر کون ہو سکتا ہے؟”(بخاری:کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة،باب قول النبیۖ:لتتبعن سنن من کان قبلکم،حدیث نمبر:٦٩٢٨)۔
ـ ہمارے معاشرہ میں کچھ نام نہاد دانشوروں کی طرف سے اسلامی شناخت کے خلاف بڑے پیمانے پر تنقید و تردید کی روش، اسے پسماندہ اور رجعت پسندانہ قرار دینے کی کوشش، اور مغربی ممالک سے در آمد کی ہوئی شناخت کا مطالبہ جس کا ہمارے معاشرہ کی ہیئت ترکیبی،اس کی بنیادوں اور اس کی تاریخ سے کوئی جوڑ نہیں بیٹھتا ہے۔
ہر شخص کو اس سر زمین سے محبت ہوتی ہے جہاں وہ نشوونما پاتا ہے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سر زمین سے اس کا تعلق اس کے اندر علاقائی،نسلی یا لسانی تعصب پیدا کردے،اور اس کے اندر ان کھوکھلے مظاہروں کی بنیاد پر جنونی کیفیت پیدا ہوجائے، مغرب سے درآمد کی جانے والی اصطلاحات جیسے قومی شناخت یا قوم پرستی نے نسلی بنیادوں پر لوگوں کو تقسیم کیا، ان میںبے جا جوش وحمیت اور جذبۂ افتخار پیدا کیا، ان میں تعصب کے جذبات کو فروغ دیا،ان میں عدم رواداری کی حوصلہ افزائی کی اور اسلامی دنیا کے افراد کے مابین تفریق پیدا کردی،ان کو مصری ، ترکی یا شامی بنادیا،ان سے مسلم کا نام سلب کرلیا جو اللہ نے انہیں عطا کیا تھا،اسلام کی ابتدائی صدیوں میں اور اس کے بعد بھی عرصۂ دراز تک ایسی سوچ عالم اسلام میں موجود نہیں تھی،اسلامی اخوت ہمارے تعلقات کی بنیاد تھی،اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کے مابین اقتدار کی جنگیں ضرور ہوئیں لیکن اس کی وجوہات کچھ اور تھیں۔
عالم اسلام میں ہمارے پاس ایک مضبوط اثاثہ ہے جو ایک ایسی امت کی تاریخ پر مبنی ہے جو١٤٠٠ سال سے زیادہ قدیم ہے، اگر ہم اس مٹی میں ایسے بیج نہیں ڈال سکتے جو اس کے موافق اور سازگار ہو،اس کے بجائے مغرب پرستی کے تخم ڈالتے جائیں گے، لادینیت اور قومیت کے سڑے ہوئے بیج،تو اس سے خوشنما پودے نہیں نکلیں گے،مرجھائے ہوئے پھول اور جھاڑ دار کانٹے نمودار ہوتے رہیں گے جو ہمارے معاشرہ کو تار تار کرتے رہیں گے،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہم اسے ترقی دینے اور اسے بہتر بنانے کی کتنی کوشش کرتے ہیں۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:”(آپ کہہ دیں) ہم نے اللہ کا رنگ قبول کرلیا ہے،اور اللہ سے بہتر کس کا رنگ ہوسکتاہے؟نیز ہم اسی کی بندگی کرتے ہیں)”(البقرة:١٣٨) اسلامی شناخت ہی وہ واحد نسخۂ اکسیر ہے جس میں یہ طاقت تھی کہ اس نے گذشتہ صدیوں میں بھانت بھانت کی نسلوں اور لوگوں کو ایک جھنڈے کے نیچے لاکر جمع کردیا تھا ، افسوس کہ آج ہم اپنے مسلم معاشرہ پر اس شناخت کے خاتمہ کے اثرات دیکھ رہے ہیں، کہ اس نے اس قوم کو یا توبے حد تنزلی ،اپنوں سے بیگانگی اور بغاوت کی طرف راغب کیا، یا انتہا پسندی اور غلو فی الدین کی طرف،خصوصا نوجوانوں میں یہ بے جا بے اعتدالیاں زیادہ بڑھتی چلی گئیں،جبکہ نوجوان ہی کسی قوم کی ترقی کے لیے بنیاد کے پتھر کی حیثیت رکھتے ہیں، اور جب تک ہم اپنی مستند اسلامی شناخت کے لیے تیار نہیں ہوں گے، ہم دوسری اقوام کی شناخت کے تابع رہیں گے اور ان سے وابستہ رہیں گے، اور ہم خود کو ان کے اثرات سے آزاد نہیں کرسکیں گے۔
آج دسیوں سالوں کے انحطاط کے بعد اگر کوئی چیز ہماری حیثیت کوکسی درجہ میں بحال کرسکتی ہے، اور سیکولرزم، اشتراکیت اور قوم پرستی جیسی الجھنوں سے نجات دلا سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف ہماری اسلامی شناخت ہے، جس میںپائیداری اور قوت وشوکت کا پیام ہے،بہ ظاہر حلات ایسے نہیں معلوم ہوتے کہ ہمارے مسلم ممالک سیاسی طور پر ان مغربی بندشوں سے جلد یا بدیر آزاد ہوسکیں گے، لیکن ہم اسلامی سماج کے افراد کی حیثیت سے اپنے دائرہ میں اسلامی شناخت کو بحال کرسکتے ہیں،ہم اپنے ناموں کے ساتھ ساتھ اپنے مثبت کاموں سے یہ شناخت بحال کرسکتے ہیں،اس ملک کی زعفرانی طاقتوں کی آنکھوں میں آج بھی مسلمانوں کی بچی کھچی ظاہری شناخت کانٹے کی طرح چبھتی ہے،اور دوسرے کسی سماج میں مسلمانوں کے بالکلیہ تحلیل نہ ہونے کا رویہ ان کو گراں گزرتا ہے،اگر اہم اپنے اخلاق،معاملات،روز مرہ کی عادتوں، اظہار مسرت اور اظہار غم کے طریقوں،صبح خیزی اور قرآن دوستی، اپنی وضع اور اپنے تمدن میں بھی حقیقی معنی میں مسلمان بن جائیں تو ہماری بہت بڑی فتح ہوگی اور آنے والا کل چیلنچوں سے مقابلہ کے لیے ہمارے اندر ایمانی حرارت، جذبۂ خدمت،اور جرأت پیدا کرے گا ،اور ہمیں یہاں اجنبی بننے سے محفوظ رکھ سکے گا:
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے،تو مصطفوی ہے
اسلام ترا دیس ہے، تو مصطفوی ہے از: محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد
Related Posts
جہاد ضرورت اور فضیلت
اصلاحِ امتجہاد۔ضرورت و فضیلت آدم علی ندویمدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔ علی گڑھ جہاد امت کا اجتماعی فریضہ:اسلام ایک مکمل دین ہے جو صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اور عبادات اربعہ کی طرح اور بھی فرائض متعین کرتا ہے، انہی اہم فرائض میں سے ایک فریضہ جہاد فی سبیل اللہ ہے، جو قرآن و سنت متواتر کی روشنی میں قیامت تک امت پر لازم ہے۔جہاد کی فرضیت:قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”تم پر قتال فرض کیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔” (البقرہ: 216)یہ آیت بتاتی ہے کہ جہاد بھی اسی طرح فرض ہے جیسے روزہ یا نماز۔جہاد کی فرضیت و تاکید کے لئے "کتب علیکم القتال” کی تعبیر اسی طرح آئی ہے جیسے روزہ کی فرضیت کے لئے۔ اگرچہ یہ نفس پر بھاری معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ امت کی عزت، تحفظ اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جہاد قیامت تک باقی رہے گا۔” (ابو داود-33)اس کا مطلب ہے کہ یہ فرض کسی زمانے یا علاقے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر دور میں زندہ ہے۔ امت کو ہر وقت اپنی مادی اور روحانی طاقت کو تیار رکھنا چاہیے تاکہ دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے۔ جہاد صرف فوجی میدان تک محدود نہیں، بلکہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق اس فریضے میں شریک ہے:کچھ لوگ میدانِ جنگ میں لڑ کر۔کچھ اپنے مال کے ذریعے مدد کر کے۔کچھ قلم اور زبان سے اسلام کا دفاع کر کے۔نبی ﷺ نے فرمایا:”جو شخص نہ جہاد کرے اور نہ دل میں نیت رکھے، وہ نفاق پر مرتا ہے۔” (مسلم-4931)جہاد کا مقصد محض جنگ نہیں بلکہ:باطل کو ختم کرنا،دینِ حق کو غالب کرنا،امت کو ظلم سے بچانا،اور اسلام کی عزت قائم کرنا ہے۔قرآن نے واضح فرمایا:”ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔” (البقرہ: 193)جہاد ایک لازمی فریضہ ہے جس سے امتِ مسلمہ کو ہرگز غافل نہیں ہونا چاہیے۔…
Read moreخدا كا وجود اور كائنات كی شہادت
خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی گزشته دنوں ملك میں ایك اهم موضوع پر اهل علم كے درمیان مذاكره هوا، اور وه هے خدا كا وجود، جس كا مذهب سے گهرا تعلق هے، دنیا میں جو مذاهب پائے جاتے هیں، ان میں خدا كے وجود كا مشترك تصور هے، خدا كا یقین هی انسان كو ایك غیبی طاقت كا مطیع وفرمانبردار بناتا اور اس كے اندر جواب دهی كا یقین پیدا كرتا هے، اور یه بات اس كو خیروصلاح اور عدل وانصاف پر قائم ركھتی هے؛ مگر اس وقت مغربی تهذیب كی بنیادی دعوت خدا پرستی كے بجائے شهوت پرستی كی هے، اور اس فلسفه میں سب سے بڑی ركاوٹ خدا كا یقین هے، بدقسمتی سے مختلف صورتوں میں الحاد هماری نئی نسلوں میں بڑھتا جا رها هے؛ اسی لئے ضروری هے كه مسلمان اپنے بال بچوں كی تربیت میں اس پهلو كو ملحوظ ركھیں۔ الله تعالیٰ كے وجود كو ماننے سے یه یقین ركھنا مراد ہے کہ اگرچہ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے ہیں ؛ لیکن وہ موجود ہے ، اسی نے پوری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اسی کے حکم سے اس کا نظام جاری وساری ہے؛ اس لئے همیں اس كی اطاعت وفرماں برداری كرنی چاهئے۔غور كریں تو اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے وجود کی دلیل ہے ؛ لیکن چند اہم دلیلیں یہ ہیں :(الف) ہم دن و رات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر وجود میں نہیں آتی ، سوئی سے لے کر جہاز تک ہر چیز کسی صانع کے ذریعہ وجود میں آتی ہے ، اگر کوئی شخص کسی مکان کے بارے میں دعویٰ کرے کہ یہ از خود بن کر کھڑا ہوگیا ہے تو لوگ اسے پاگل سمجھیں گے ، تو یہ وسیع وعریض کائنات کسی خالق کے بغیر کیسے وجود میں آسکتی ہے ؟ قرآن مجید میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جیسے ارشاد ہے :اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۔ (ابراہیم: ۱۰)كیا…
Read more