Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
19.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
19.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

🔰جذبات سے نہیں ہوشمندی سے فیصلہ کیجئے

  1. Home
  2. 🔰جذبات سے نہیں ہوشمندی سے فیصلہ کیجئے

🔰جذبات سے نہیں ہوشمندی سے فیصلہ کیجئے

  • hira-online.comhira-online.com
  • فکر و نظر
  • نومبر 22, 2024
  • 0 Comments

از : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی🖋

ایک اہم واقعہ غزوۂ بنو مصطلق کے نام سے آیاہے ،بنو مصطلق قبیلۂ بنو خزاعہ کی ایک شاخ تھی ، یہ ’ مریسیع ‘ نامی مقام پر آباد تھے ، جو مدینہ منورہ سے نو منزل کے فاصلہ پر واقع تھا ، حارث بن ابی ضرار اس قبیلہ کی قیادت کرتا تھا ، صلح حدیبیہ سے پہلے کا واقعہ ہے کہ اس قبیلہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ، آپ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوگئی ، آپ ﷺ نے مزید تحقیق کے لئے اپنے ایک نمائندہ کو بھیجا ، انھوں نے یہاں آکر تحقیق حال کیا اور اس خبر کی تصدیق ہوئی ، اس پس منظر میں یہ بات ضروری محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کو اس قریبی دشمن سے محفوظ رکھا جائے اور حملہ کرکے ان کو مطیع بنایا جائے ؛ چنانچہ مدینہ منورہ سے ایک فوج روانہ ہوئی ، آپ ﷺ بنفس نفیس اس میں شریک تھے ۔

قبیلہ کے اکثر لوگوں کو تو مجاہدین کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہوئی اور انھوں نے راہِ فرار اختیار کی ، مگر کچھ تیر اندازوں نے جم کر تیر برسائے ، بہت سے لوگ قید ہوئے ، ان ہی قیدیوں میں حضرت جویریہؓ بھی تھیں ، جو قبیلہ کے سردار حارث کی بیٹی تھیں ، ان کے مقام و مرتبہ کا لحاظ کرتے ہوئے خود ان کی خواہش پر حضور ﷺ انھیں اپنے نکاح میں لے آئے اور اس طرح یہ سعادت بخش اسیری نے انھیں ’’ اُم المومنین ‘‘ ہونے کا شرف بخشا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ ؓ نے دفعتاً تمام اسیرانِ جنگ کو آزاد کردیا ، کہ ہم رسول اﷲ ﷺ کے سسرالی اعزہ کو کیوں کر اپنا غلام وباندی بناکر رکھ سکتے ہیں ؟ اور بالآخر یہی واقعہ اس قبیلہ کے قبول اسلام کا باعث ہوا ۔

اس غزوہ کا ایک سبق آموز پہلو یہ ہے کہ جن منافقین نے غزوۂ اُحد جیسے نازک موقعہ پر مسلمانوں کو اپنی پیٹھ دکھائی تھی ، مخالف فوج کی کمزوری اور تعداد کی کمی کو دیکھتے ہوئے اور مالِ غنیمت کی طمع میں وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوگئے ، ایک جگہ جب لوگوں نے پڑاؤ کیا ، تو پانی لینے کے مسئلہ پر حضرت عمر ؓ کے غلام اور ایک انصاری میں معمولی سی لڑائی ہوگئی ، حضرت عمر ؓکے غلام نے اپنی مدد کے لئے مہاجرین کو آواز دی، انصاری نے انصار کو پکارا ، دونوں طرف سے لوگ جمع ہوگئے ، منافقین کا سردار عبداﷲ بن ابی ایسے موقع کی تاک میں رہتا تھا ، اس نے اس واقعہ کو اور بھی شہ دیا ، اور انصار سے کہا کہ یہ سب تمہارا اپنا کیا ہوا ہے ، تم نے مہاجرین کو اپنے یہاں پناہ دی ، ان کو سہولتیں پہنچائیں اور اب ان کی جرأتیں اس قدر بڑھ گئی ہیں ! —

مہاجرین کے ساتھ تمہاری مثال عربی زبان کے اس محاورہ کی ہے کہ اپنے کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرو — کہ وہ تم ہی کو کاٹ کھائے ، ’’ سمن کلبک یأکلک ‘‘ نتیجہ یہ ہوا کہ وقتی طور پر مہاجرین اور انصار کے درمیان ایک طرح کی دل شکستگی پیدا ہوگئی ، انصار چوں کہ عبدﷲ بن ابی کے نفاق ، اسلام ، پیغمبر اسلام اور اُمت ِمسلمہ سے اس کی خفیہ عداوت اور اندرونی عناد سے واقف نہیں تھے ، اس لئے سادہ لوح لوگ اس کی چال کو سمجھ نہیں سکے ، عبداﷲ بن ابی نے یہ بھی کہا کہ اب مدینہ سے باعزت لوگ ذلیل لوگوں کو نکال باہر کریں گے ۔

ایک نو عمر انصاری صحابی — جو اس کی ان زہرناک باتوں کو سن رہے تھے — نے حضور ﷺ سے پوری صورتِ حال بیان فرمائی ، آپ ﷺنے انصار و مہاجرین کو سمجھایا اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں اور ابھی سے تم عصبیت ِجاہلیہ کی بات کرنے لگے ہو ، پھر آپ ﷺنے فوج کو فوراً کوچ کرنے کا حکم دیا ، حضرت عمر ؓ کو جب واقعہ کی اطلاع ہوئی تو حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ کسی کو حکم دیا جائے کہ اس منافق کی گردن اُتار لائے ، رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : کیا تم چاہتے ہوکہ لوگ کہیں کہ محمد ﷺ خود اپنے رفقاء کو بھی قتل کرانے لگے ہیں ؟ یعنی لوگ عبداﷲ بن ابی کے نفاق سے واقف نہیں ہیں ، اگر ان کے قتل کا حکم دیا گیا تو لوگ سمجھیں گے کہ پیغمبر اسلام ﷺ اب خود اپنے اصحاب کے قتل کا حکم دے رہے ہیں ، حضرت عمر ؓ خاموش ہوگئے ۔فوج نے کوچ کیا ، معمولِ مبارک یہ تھا کہ صبح کو سفر شروع ہوتاتو شام میں کہیں پڑاؤ کیا جاتا اور رات بھر آرام کرنے کے بعد صبح میں دوبارہ سفر شروع کیا جاتا اور شام میں سفر شروع ہوتا تورات بھر سفر کرکے صبح دم کسی منزل پر توقف کیا جاتا ؛ لیکن خلافِ معمول آج دن بھر اوررات بھر سفر جاری رہا ، پھر اگلی صبح بھی پڑاؤ نہیں کیا گیا ، یہاں تک کہ دوپہر ہوگئی ، اب آپ ﷺنے ایک مقام پر فوج کو خیمہ زن ہونے کا حکم دیا ، ابن ہشام اور دوسرے سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ سفر کی درازی اور اس کی مشقت لوگوں کو تھکادے ، مہاجرین وانصار کے درمیان جو تلخی پیدا ہوگئی تھی ، وہ ذہن سے محو ہوجائے اور لوگ اس قدر تھک جائیں کہ آرام اور ضروریات کی فکر کریں ۔

اس کے بعد دو عجیب واقعے پیش آئے ، ایک یہ کہ مدینہ کے قریب پہنچ کر عبداﷲ بن ابی کے صاحبزادہ جو مخلص مسلمان تھے ، کھڑے ہوئے اور انھوں نے اس وقت تک اپنے والد کو مدینہ میں داخل ہونے سے روک دیا ، جب تک حضور ﷺ اجازت نہ دے دیں ، یہ عبداﷲ بن ابی کی اس بات کا جواب تھا کہ مدینہ کے باعزت لوگ ذلیل و کمتر لوگوں کو نکال باہر کریں گے ، ظاہر ہے کہ ذلیل و کمتر سے اس منافق کی مراد مسلمان اور خاص کر مہاجرین سے تھی ۔

دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ مدینہ میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ رسول اﷲ ﷺعبداﷲ بن ابی کے قتل کا حکم صادر کرنے والے ہیں ، انصار بھی عام طورپر اس کے نفاق سے واقف ہوچکے تھے ، اسی دوران عبداﷲ بن ابی کے صاحبزادے خدمت ِاقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : سنا ہے کہ آپ میرے والد کے قتل کا حکم دینے والے ہیں ، اگر آپ یہ حکم دیں تو بے جا نہیں ہوگا ، لیکن مشکل یہ ہے کہ مجھے اپنے والد سے بڑی محبت ہے اور میں ان کے قاتل کو دیکھ نہیں سکتا ، پھر یہ بات اچھی نہیں ہوگی کہ ایک کافر کی وجہ سے ایک مسلمان کا قتل ہو ؛ اس لئے اگر آپ واقعی ایسا حکم دینے والے ہیں ، تو مجھے حکم فرمائیں ، میں اپنے والد کا سرقلم کرکے آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ، آپ ﷺنے فرمایا : نہیں میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے ، جب تک کوئی شخص بظاہر مسلمان ہوگا ، میں اس کے ساتھ مسلمان کا ساہی معاملہ کروں گا ؛ بلکہ میں تو عبداﷲ بن ابی کے ساتھ حسن سلوک کروں گا ۔پھر آپ ﷺنے حضرت عمر ؓ کو بلایا کہ اگر اُس وقت عبداﷲ بن ابی کے قتل کا حکم دیا جاتا تو حضراتِ انصار کے دل میں خلش ہوسکتی تھی ، وہ سمجھتے کہ ہمارے سردار کو قتل کرا دیا گیا ہے ؛ لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ خود ان کے صاحبزادے ان کا سرقلم کرنے کو تیار ہیں ، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : میں نے جان لیا کہ رسول اﷲ ﷺ کی رائے میں میری رائے سے زیادہ برکت ہے : لقد واﷲ علمت لأمر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم أعظم برکۃ من أمری (البدایہ والنہایہ لابن کثیر : ۴؍۱۵۸)

سیرتِ نبوی ﷺکے اس اہم واقعہ کی روشنی میں جو سبق ہمیں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ جوش کے ساتھ ہوش اور جرأت کے ساتھ حکمت کا امتزاج ضروری ہے ، عواقب و نتائج کو سوچے اور انجام پر نظر رکھے بغیر وقتی جوش اور جذبات کی بنا پر کوئی قدم اُٹھانا مفید سے زیادہ مضر ہوتا ہے اور افراد و اشخاص اور اقوام و ملل کو بد انجامی کی طرف لے جاتا ہے ، رسول اﷲ ﷺ کی سیرت میں بار بار اس حقیقت کی طرف اشارہ موجود ہے ، مکہ میں آپ ﷺ تیرہ سال رہے اور مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ، ایسے وقت میں آدمی سوچتا ہے کہ بار بار مرنے سے ایک بار مرجانا بہتر ہے ؛ اس لئے بہت سے صحابہ ؓ جہاد کی اجازت کے ملتجی ہوتے تھے ؛ لیکن آپ ﷺ نے انھیں اس کی اجازت نہیں دی ، صلح حدیبیہ کے بعد حضرت ابو بصیر مسلمان ہوکر آئے تو آپ نے معاہدہ کے مطابق انھیں واپس کردیا ، انھوں نے اہل مکہ کے نمائندہ کو کیفر کردار تک پہنچایا اور ایک کا تعاقب کرتے ہوئے مدینہ آپہنچے اور حضور ﷺ سے کہا کہ آپ اپنا وعدہ پورا کرچکے ہیں ؛لیکن حضور ﷺ نے انھیں پھر واپس کیا اور خفگی کا اظہار بھی فرمایا کہ تم جنگ کی آگ بھڑکانا چاہتے ہو۔

صلح حدیبیہ کے موقع سے چودہ سو جانباز آپ ﷺکے ساتھ تھے ، یہ وہ لوگ تھے جنھیں خدا کے راہ میں جان دینا جان بچانے سے زیادہ عزیز تھا ، لیکن آپ ﷺنے اہل مکہ کی شرطوں پر ان سے معاہدہ فرمایا ؛ حالاںکہ بہت سے صحابہ ؓ اسے اپنی ہزیمت سمجھ رہے تھے اور انھوں نے اس صلح کو محض آپ ﷺ کی اطاعت میں قبول کیا تھا ، ورنہ دل اس پر آمادہ نہیں تھا ، صلح حدیبیہ ہی کے موقع پر چالیس مشرکین مکہ کے ایک جھنڈ نے مسلمانوں پر ہلہ بول دیا ، مسلمانوں نے انھیں گرفتار کرلیا ؛ لیکن آپ ﷺ نے انھیں یوں ہی رہا کردیا کہ کہیں لوگ یہ نہ سمجھیں کہ مسلمانوں نے حرم کے احترام کو بھی پامال کرنا شروع کردیا ہے اور اس طرح یہ عربوں میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث نہ بنے ۔

اس لئے حیات ِمحمدی ﷺ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کا کام محض جوش وجذباتیت پر مبنی نہ ہو ، وہ کس قدر بھی مظلوم و ستم رسیدہ ہوں اور ان کے حالات کتنے ہی ناگفتہ ہوں ، فراست ِ ایمانی اور حکمت ِنبوی ﷺ کا دامن ان کے ہاتھوں سے چھوٹنے نہ پائے ، وہ دنیا میں ہدایت کا مینار اور روشنی کا چراغ ہیں ، کفر کی ظلمتیں اور اندھیرے کی نمائندہ طاقتیں ان سے برسرپیکار ہیں اور وہ انھیں ہر سطح پر نہ صرف مظلوم بناکر رکھنا چاہتے ہیں ؛بلکہ انھیں ذلیل ورسوا بھی کرنے کے درپے ہیں ، ایسی صورت میں ہماری انفرادی اور اجتماعی ناعاقبت اندیشی غیر معمولی نقصانات کا باعث بن سکتی ہے ، دشمن کی طاقت ، اس کے عزائم ، اس کے مزاج اور اپنی صلاحیت و قوت کا اندازہ کئے بغیر جب ہم کوئی قدم اُٹھائیں گے تو ہوسکتا ہے کہ ہم دو چار افراد کو گرفتار کرلیں ، ۲۵، ۵۰ کو قتل کردیں ؛ لیکن یہی اقدام اُمت کی بہت سی عورتوں کے سہاگ لٹ جانے ، بچوں کے یتیم ہونے ، نوجوانوں کے زندگی سے محروم ہونے اور چند اشخاص کے لئے پورے ملک کے تباہ و برباد کردیئے جانے کا باعث ہو ، ایسے مواقع کے لئے سیرتِ نبوی ﷺکے کس پہلو کو اسوہ بنانا مناسب ہوگا یہ اہل علم و دانش اور اصحابِ فکر و نظر کے سوچنے کی بات ہے !۰ ۰ ۰

جذبات اور فیصلےجذباتی فیصلے کے نقصاناتجذباتی لوگوں سے بچےفیصلہ کیسے کریںفیصلے کرنے کے اصول

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

فرقہ پرستوں کو ہری جھنڈی
*یوگی حکومت کا ظلم اور مسلم نوجوانوں کا قتل*

Related Posts

اُس بازار میں : شورش کاشمیری
  • hira-online.comhira-online.com
  • اُس بازار میں : شورش کاشمیری
  • شورش کاشمیری
  • فروری 6, 2026
  • 0 Comments
اُس بازار میں : شورش کاشمیری

اُس بازار میں : شورش کاشمیری از : معاویہ محب اللہ اس کتاب میں جابجا خوبصورت جملے اور اقتباسات بکھرے پڑے ہیں کہ جن میں غربت، بے وفائی، معاشرتی خرابی، عصمت فروشی، آزادہ روی اور شوقِ تفریح ہے، معاشرے کی اکھڑی ہوئی چولیں بھی ہیں، رقص و سُرود، غنا و موسیقی، تال و سُر اور حسنِ ادب کا دلنشین انداز بھی ہے، دردِ زیست، لُچّوں کا قہقہہ، سگریٹ کا دھواں اور تھرکتے جسم کی داستان المناک بھی ہے جن سے آنکھیں بہہ پڑتی ہیں۔دوسری طرف نفسیات کی گتھیاں سطر سطر پہ سلجھ رہی ہیں، معلومات کا دریا ہے، آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل الفاظ ہی نہیں گویا نگینے ہیں، زندگی کے سبق ہیں، میں ہرگز کسی کو آمادہ نہیں کرتا کہ وہ یہ کتاب مطالعہ کریں، لیکن چند اقتباسات ضرور پڑھتے جائیں، ہر اقتباس محض چند الفاظ و معانی کا سنگھم نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہے، ایک فکر ہے، سوچنے کا ایک زاویہ ہے ؛ٹھہر چشمِ تماشا! دیکھ اس حوّا کی بیٹی کو!کہ اس کے حال پر بے درد راہی مسکراتے ہیںلرزتے آنسوؤں کا سُرمئی آنکھوں میں پانی ہےگھنی پلکوں میں ناگفتہ فسانے تلملاتے ہیں(دلنشین اقتباسات)‘‘عام خیال یہ ہے کہ گناہ افلاس کی کُوکھ سے پیدا ہوتا ہے، میرا معاملہ اس کے برعکس تھا، خالی جیب نے گمراہ ہونے سے بچا لیا’’ (صفحہ ۳۰)"کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ زندگی کے سبق ہمیں اُس وقت ملتے ہیں جب وہ ہمارے لئے بیکار ہو جاتے ہیں” (صفحہ ۷۰)"سورج جاگتا ہے قحبہ سو جاتی ہے اور اگر کچھ رہ جاتا ہے تو حکایتِ شبینہ کے غیر مرئی حروف جن سے چہروں پر ایک تھکن سی ہوتی ہے”(صفحہ ۹۹)‘‘ آدمی نے کبھی دوسروں کے تجربہ سے فایدہ نہیں اٹھایا وہ ہمیشہ خود تجربہ کرتا ہے، ہم کرتے ہیں غلطیاں اور نام رکھتے ہیں تجربہ’’ (صفحہ ۱۸۱)’’ عورتیں تصویر ہوتی ہیں اور مرد معمّہ، اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ عورت کا واقعی کیا مطلب ہے، تو اس کی طرف دیکھو، اس کی سنو نہیں: آسکروائلڈ ‘‘ (صفحہ ۲۱۲) ’’ ان رازوں ہی کی ٹوہ میں…

Read more

Continue reading
ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر
  • hira-online.comhira-online.com
  • ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر
  • فروری 2, 2026
  • 0 Comments
ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر

ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر از : مولانا ابو الجیش ندوی تعارف: ایپسٹائن فائلز کیا ہیں؟ ​ایپسٹائن فائلز ان لاکھوں دستاویزات، تصاویر، ویڈیوز اور عدالتی بیانات پر مشتمل مجموعے کا نام ہے جو بدنام زمانہ امریکی فنانسر جیفری ایپسٹائن (Jeffrey Epstein) کے خلاف ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں منظرِ عام پر آئی ہیں۔ ایپسٹائن پر الزام تھا کہ اس نے دہائیوں تک امریکہ اور اپنے نجی جزیرے پر کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ اور استحصال کا ایک عالمی نیٹ ورک چلایا۔​ان فائلوں کی اہمیت محض ایک مجرمانہ ریکارڈ کی نہیں ہے، بلکہ ان میں دنیا کے طاقتور ترین افراد—بشمول سابق صدور، برطانوی شاہی خاندان کے ارکان، ارب پتی صنعت کار اور نامور سائنسدانوں—کے نام شامل ہیں۔ یہ فائلیں ایک ایسے "بلیک میلنگ سسٹم” کو بے نقاب کرتی ہیں جہاں اقتدار اور ہوس کا گٹھ جوڑ معصوم بچیوں کی زندگیوں سے کھیل رہا تھا۔ ​اسلامی فکر کی روشنی میں تجزیہ ​1. تزکیہ نفس کی کمی اور ‘ہوا پرستی’ ​قرآن حکیم نے انفرادی اور اجتماعی زوال کی بنیادی وجہ "اتباعِ شہوات” (خواہشات کی پیروی) کو قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفسانی کے پیچھے لگ گئے، سو عنقریب وہ بڑی گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے” (سورہ مریم: 59)۔​ایپسٹائن کا نیٹ ورک اس ‘ہوا پرستی’ کی انتہا تھا جہاں طاقتور طبقے نے خود کو ہر قسم کی اخلاقی پابندی سے آزاد سمجھ لیا۔ جب معاشرہ اللہ کے خوف (تقویٰ) اور آخرت کی جوابدہی سے عاری ہو جاتا ہے، تو وہ معصوم بچوں کے استحصال جیسی قبیح حرکت کو بھی اپنی لذت کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ ​2. سرمایہ داری کا وحشیانہ رخ (Commoditization of Humans) ​اسلامی فکر میں انسان "خلیفۃ اللہ” ہے، جس کی جان، مال اور عزت محترم ہے۔ اس کے برعکس، مغربی سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) نے ہر چیز کو "جنسِ بازار” (Commodity) بنا دیا ہے۔​ایپسٹائن فائلز یہ ثابت کرتی ہیں کہ اس نظام میں غریب کی بیٹی بھی ایک "پروڈکٹ”…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • وضو کے فرائض 10.03.2026
  • وضو کا مسنون طریقہ 10.03.2026
  • گھر میں اعتکاف 09.03.2026
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ 09.03.2026
  • اعتکاف ، احکام و آداب 09.03.2026
  • صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟ 09.03.2026
  • زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں 08.03.2026
  • ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟ 08.03.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

وضو کے فرائض

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کے فرائض
فقہ و اصول فقہ

وضو کا مسنون طریقہ

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کا مسنون طریقہ
Blog

گھر میں اعتکاف

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

اعتکاف ، احکام و آداب

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
اعتکاف ، احکام و آداب
فقہ و اصول فقہ

صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟
فقہ و اصول فقہ

زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026
فقہ و اصول فقہ

ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top