Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

کتاب : قرآن و سنت کا باہمی تعلق

  1. Home
  2. کتاب : قرآن و سنت کا باہمی تعلق

کتاب : قرآن و سنت کا باہمی تعلق

  • hira-online.comhira-online.com
  • کتابی دنیا
  • نومبر 13, 2024
  • 0 Comments

کتاب : قرآن وسنت کا باہمی تعلق

مصنف : ڈاکٹر عمار خان ناصر

ناشر : المورد ادارہ علم وتحقیق صفحات

: 536قیمت : 500

تعارف نگار : معاویہ محب اللّٰہ

اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر عمار خان ناصر صاحب علم و تحقیق کا بہت ستھرا ذوق رکھتے ہیں، اس سے پہلے بھی آپ کے قلم سے کئی تحقیقی کاوشیں منظر عام پر آ چکی ہیں ؛ فقہ الحدیث میں فقہائے احناف کا منہج، فقہائے احناف اور فہم حدیث، براھین، حدود و تعزیرات، جہاد ایک مطالعہ۔ ماہنامہ الشریعہ کی ادارت آپ کی خدمات کا منھ بولتا ثبوت ہے، جب تک آپ الشریعہ کے مدیر رہے رسالہ کو انتہائی علمی و تحقیقی معیار پر پابندی کے ساتھ قائم رکھا۔زیرِ تعارف کتاب تو گویا آپ کے تحقیقی ذوق آئینہ ہے۔

قرآن وسنت کے درمیان باہمی تعلق کی بحث اپنی نوعیت کے لحاظ سے نہایت لطیف اور نازک ہے، صدیوں سے لیکر آج تک ہر زمانہ کے بہترین دماغوں نے اس بحث کو اپنی جد و جہد کا محور بنایا ہے، اس کی نزاکت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر مجتہد نے اپنے زاویۂ نظر سے دوسرے مجتہد کے رجحان پر نقد و تبصرہ کا حق ادا کیا ہے، اور اس کی خامیوں اور کمزوریوں کی طرف رہنمائی کرکے اصلاح کی کوشش کی ہے، یہاں تک کہ احناف آئمہ نے حنفی اصولیین کی اور شوافع ائمہ نے امام شافعی کے اصولی رجحان کی خامیوں کو تسلیم کیا ہے، چنانچہ اس بحث کو سنجیدگی اور گہرائی سے سمجھنے والے اہل علم دونوں کے وزن کو محسوس کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے کتاب میں اسی قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے رجحان کی تاریخی نوعیت کو بالتفصیل بیان کیا ہے، سب سے پہلے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تشریعی مقام اور اطاعت رسول کی اہمیت کو بیان کیا ہے، آپ کی عین ذات بحیثیت رسول احکام کا مآخذ تھی، قرآن مجید میں جا بجا اطاعت الٰہی کے ساتھ اطاعت رسول کو بیان کیا گیا ہے، اس کے باوجود خود دورِ نبوی اور دورِ صحابہ میں یہ رجحان عام تھا کہ فرمانِ رسول کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے، اور صحابہ کو جوں ہی قرآن کی کسی آیت کے مقابل رسول اللّٰہ کے قول سمجھنے میں دشواری ہوتی یا قرآن کی ایک آیت کو دوسری آیت کے مقابل سمجھنے میں پیچیدگی پیش آتی، دفعتاً اپنا اعتراض پیش کرتے، سیدنا عمر، عائشہ، ابن عباس (رضی اللّٰہ عنھم) نے مختلف احادیث کو قرآن کی روشنی میں رد و قبول کے معیار پر پرکھا ہے۔

دوسرے باب میں مذکور ہے کہ ابتدائی اسلامی تاریخ میں حدیث کے تعلق سے کیا کیا نقطاہائے نظر لائے جاتے تھے اور ان کا منھج کیا تھا ؟ خوارج اور معتزلہ کے یہاں قرآن مجید کے فہم میں حرفیت پسندی اور ظاہریت کی بنیاد پر بہت ساری احادیث کو عدمِ قبول کا رجحان عام ہے، اس وجہ سے بے شمار متفق علیہ روایتوں کو بظاہر قرآن کے مقابل ہونے کی وجہ سے رد کردیا گیا، انھیں میں بہت ساری روایات بھی ہیں جن کو احناف اور دیگر صحابہ نے بھی قوبل نہیں کیا ہے، لیکن دونوں گروہوں کے ورلڈ ویو میں بنیادی فرق ہے، ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں ؛

” اس سوال پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں بنیادی فرق نتیجے میں نہیں، بلکہ ذہنی رویے میں ہے، خوارج کا طرزِ فکر قرآن کے مقابلے میں احادیث سے بے اعتنائی کے رویے کا غماز تھا، جس میں ان کی سادہ فکری اور تفقہ کے فقدان نے ایک خاص طرح کی شدت بھی پیدا کردی تھی ” (72)

امام ابن حزم اور اصحاب ظواھر کے علاؤہ تقریبا تمام علمائے امت کے یہاں قرآن مجید کو مآخذِ احکام میں اصل و بنیاد اور سنت رسول کو شرح و وضاحت کا درجہ دینا مسلّم ہے، نیز قرآن مجید کا من و عن قطعی الثبوت ہونا اور اخبار آحاد کا ظنی الثبوت ہونا مسلم حقیقت ہے، اسی پیراڈائم کو مد نظر رکھتے ہوئے امام شافعی رحمہ اللّٰہ نے سب سے پہلے کلامی انداز میں کتاب اللہ کے لئے سنت کا تشریح و تبیین ہونا متنوع حیثیات سے بیان فرمایا ہے ؛ (1) مجمل کی تفصیل (2) محتمل کی تعیین (3) ظاہری مفہوم میں توسیع (4) فروع و لوازم کی توضیح (5) قرآن سے استنباط اور (6) عام کی تخصیص۔ یہی عام کی تخصیص ہے جس میں امام شافعی نے اپنی حیرت انگیز ذہانت و فطری صلاحیت کا ثبوت پیش کیا ہے، اور قرآن وسنت کے باہمی تعلق کو بالکل منفرد انداز میں بیان فرمایا ہے۔

احناف بھی تشریح و تبیین کے ضمن میں ؛ (1) مجمل کی تفصیل(2) محتمل کی تعیین کے سلسلے میں امام شافعی کے ساتھ ہے، لیکن احناف اور امام شافعی کے درمیان نقطۂ اختلاف نسخ القرآن بالسنہ کے اوپر آکر واضح ہوجاتا ہے، امام شافعی کے نزدیک سنت قرآن کی ناسخ نہیں بن سکتی، جبکہ احناف کے یہاں خبر متواتر، خبر مشہور اور وہ خبر واحد جسے تلقی بالقبول حاصل ہو جائے اس سے نسخ القرآن بھی درست ہے۔بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ احناف کے یہاں عام کی تخصیص کا اسلوب نسخ، تغییر اور تبدیل کے زمرے میں آتا ہے جبکہ امام شافعی کے نزدیک عام کی تخصیص بھی تشریح و تبیین ہی کا درجہ رکھتی ہے۔

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے امام طحاوی کے موقف کی وضاحت کی ہے جنہوں نے احناف اور امام شافعی دونوں کے اصولی رجحان سے استفادہ بھی کیا ہے اور اختلاف بھی کیا ہے۔

البتہ امام ابن حزم رحمہ اللّٰہ کا نقطۂ نظر پوری امت کے علماء و فقہاء کے بر خلاف منفرد رجحان پر قائم ہے، ان کے نزدیک کتاب اور سنت دونوں وحی الٰہی پر مبنی ہے، ان میں قطعی و ظنی کا سوال ہی بے معنی ہے، یہاں تک کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کی جو ذمہ دوری لی ہے وہ در اصل وحی الٰہی کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ صحیح حدیث ہو اور اس کی حفاظت کا سامان نہ کیا گیا ہو، چنانچہ امام ابن حزم کے یہاں مآخذ احکام میں قرآن و سنت دونوں کا یکساں مقام ہے، انہوں نے بعض باتوں میں امام شافعی اور احناف سے اختلاف بھی کیا ہے اور اتفاق بھی، اس کی روشنی میں اپنے نقطۂ نظر کو حیرت انگیز انداز میں پیش کیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے ” جمہور اصولیین اور احناف کا مکالمہ ” کے عنوان کے تحت دونوں کے اصولی موقف میں خامیوں اور خوبیوں کو اجاگر کیا ہے، مثلا ؛ احناف کے رجحان میں یہ کہ ؛ جن دلائل سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کہاں اسلوبِ عموم سے اللّٰہ تعالیٰ کی مراد عام ہے اور کہاں نہیں، ان میں عقلی قرائن اور لفظ کے محتمل ہونے کے علاؤہ ایک اہم دلیل یہ بھی ہے کہ ظاہری عموم کے مراد نہ ہونے پر علمائے سلف کا اتفاق ہو یا ان کے مابین اجتہادی اختلاف واقع ہوا ہو، اور انہوں نے اس اختلاف پر کوئی نکیر نہ فرمائی ہو۔ چنانچہ مذکورہ موقف میں آیت کے اپنے اسلوب اور قرائن کے لحاظ سے دلالتِ عموم کے قطعی ہونے میں حدیث جو کہ خارجی قرینہ ہے؛ سے استفادہ نہیں کیا، پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ علمائے سلف کے اجماعی فہم یا باہمی اختلاف کی صورت میں عدمِ نکیر کو(جو خارجی قرائن ہے)کیونکر قبول کیا جاتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ امام طحاوی، علماء ماوراء النھر اور اخیر دور میں علامہ انور شاہ کشمیری نے بھی اسلوبِ عام کے ہر وقت قطعی ہونے میں تردد کا اظہار فرمایا ہے۔

ایسے ہی احناف کا دوسرا نقطۂ نظر یہ کہ ” بیان کے مقارن ہونے ” پر بھی فقہاء نے تنقیدیں کی ہیں۔

نیز شوافع ائمہ نے امام شافعی کے موقف کی علمی الجھنوں کی وضاحت فرمائی ہے ؛ اسلوبِ عموم ہر وقت قابلِ احتمال ہوتا ہے، اور وہ ظنی ہونے کے ساتھ تخصیص کا محتاج ہوتا ہے۔ اسی طرح جوازِ نسخ پر بھی شوافع ائمہ میں؛ امام الحرمین الجوینی، الکیا الہراسی وغیرہ نے اختلاف کا اظہار کیا ہے، یہاں تک کہ جمہور اصولیین ؛ رازی، غزالی، آمدی اور زرکشی وغیرہ نے اسی موقف کی تائید کی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے آٹھویں باب میں امام شاطبی کے منھج ؛ مقاصدِ شریعت کی روشنی میں باہمی تعلق کی نوعیت کو اجاگر کیا ہے، احکام میں مقاصدِ شریعت کی بہت زیادہ اہمیت ہے، امام شاطبی کے یہاں تشریع کے مقاصد اور احکام شرعیہ میں ملحوظ انسانی مصالح کا تصور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، شاطبی مقاصد شریعت کی روشنی میں مآخذ میں قطعیت و ظنیت کی بحث کو حل کرتے ہیں، اس بحث میں ڈاکٹر عمار ناصر صاحب نے پہلے مقاصد شریعت اور مصالح کا مختصر خلاصہ پیش کیا ہے، اس کے بعد ذکر کیا ہے کہ ؛ امام شاطبی کے یہاں نصوص اپنے ثبوت اور دلالت دونوں اعتبار سے قطعی اور ظنی میں منقسم ہیں۔ نیز شاطبی کے نزدیک شریعت کلیات و اصول اور جزئیات و فروع پر مشتمل ہے، کلیات سے مراد اجتماعی مصالح و مقاصد ہیں اور تمام کلیات قطعی دلائل سے ماخوذ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ کلیات ثبوت اور دلالت دونوں اعتبار سے قطعی دلائل پر منحصر ہوتے ہیں، اس بحث میں ڈاکٹر صاحب نے الموافقات سے امام شاطبی کے موقف کی بہترین وضاحت کی ہے۔

امام شاطبی کے نزدیک اخبار آحاد کا ظنی ہونا جس پر فروعات و جزئیات کا انحصار ہوتا ہے، اسے بھی حیرت انگیز نظام کے تحت جوڑتے ہیں، کلیات کے قطعی ہونے کے بعد جزئیات کے ظنی ہونے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے، اس کے لئے انہوں نے ظنی دلائل کی قبولیت کے لئے مذکورہ معیار قائم کیا ہے ؛ (1) ظنی دلیل کسی قطعی اصول کی طرف راجع ہو تو قبول ہے (2) قطعی دلیل کی طرف راجع تو نہ ہو البتہ قطعی دلیل کے معارض نہ ہو تو قبول ہے (3) ظنی دلیل کسی ایک قطعی کے معارض تو ہو لیکن دوسری قطعی دلیل کے تحت آجاتی ہو تو قبول ہے (4) ظنی دلیل قطعی اصول سے معارض ہو اور دوسری قطعی اس کے مؤید نہ ہو تو ایسی ظنی دلیل کو رد کرنا واجب ہے اور ناقابل قبول ہے۔ غرض ڈاکٹر عمار ناصر صاحب نے امام شاطبی کے موقف کی دلنشین وضاحت کی ہے، یہ باب علم و فن سے دلچسپی رکھنے والے ہر طالب علم کے لئے نہایت قیمتی ہے۔

اسی مقاصد شریعت کے پس منظر میں شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی کے نقطۂ کو واضح کیا ہے، اور حجۃ اللّٰہ البالغہ سے کتاب وسنت کے باہمی تعلق کے خطوط کی تعیین کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

اخیر میں مکتب فراہی میں مولانا حمید الدین فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی کے نقطۂ نظر کی وضاحت کرنے کے بعد اپنے استاد غامدی صاحب کے موقف کا خلاصہ اور مذکورہ تاریخی ورثہ سے تقابل پیش کیا ہے، غامدی صاحب کتاب و سنت کے باہمی تعلق کی بحث کو تاریخ میں ہونے والی بحثوں سے کیسے استفادہ کرتے ہیں؟ بطور خلاصہ عرض ہے کہ سنت کے کتاب اللہ کی تشریح و تبیین اور نسخ القرآن بالسنہ میں امام شافعی سے اتفاق کرتے ہیں۔ مآخذ شریعت میں ظنی اور قطعی دلائل میں امام شاطبی سے استفادہ کیا ہے، لیکن شاطبی کے یہاں کلیات تمام کے تمام شریعت کے مجموعی نصوص پر مبنی ہوتے ہیں، جبکہ غامدی صاحب کے یہاں تواتر اور عدم تواتر کو بنیاد کی بحث پیدا ہوتی ہے، اور تواتر میں ان کے نزدیک قرآن مجید کے ساتھ سنت بھی شامل ہے۔(مکتب غامدی کے منھج سے اتفاق و اختلاف فی الحال میرا موضوع نہیں ہے، لیکن یہ بھی اپنی نوعیت کی منفرد داستان ہے)

غرض ” کتاب وسنت کا باہمی تعلق ” نہایت عمدہ اور علمی و تحقیقی مواد پر مشتمل ہے، اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ ایک اعتبار سے امام شافعی کی الرسالہ، امام ابو بکر جصاص کی الفصول فی الاصول، امام ابن حزم کی الإحکام فی اصول الأحکام، امام شاطبی کی الموافقات، شاہ ولی اللّٰہ کی حجت اللّٰہ البالغہ اور جاوید احمد صاحب کی میزان کے اکثر اصولی مباحث کی تلخیص کا گنجینہ ہے، قرآن اور حدیث کے ہر طالب علم کو میں اس بات کا مشورہ دوں گا کہ اس کتاب کو اپنے مطالعہ میں رکھیں ! اور بار بار پڑھیں ! حدیث اور تفسیر پڑھانے والے اساتذہ اس کتاب کے مباحث کو ازبر کرلیں تو سارا مسئلہ ہی حل ہوجاتا ہے۔ میں ڈاکٹر عمار ناصر صاحب کا بے حد ممنون ہوں کہ اس قدر نفیس تحقیقی کتاب پیش فرمائی ہے، یہ اس موضوع کا نقشِ اول ہے، لیکن نقش اول ہی ان مضبوط ستونوں پر قائم ہے کہ مستقبل میں اس موضوع لکھنے والوں کے لئے شاہ کلید ہے۔

✍️: معاویہ محب اللّٰہ

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

ناول : قسم اس وقت کی
کتاب ۔مسئلہ غلامی اور اسلام” تعارف اور تجزیہ

Related Posts

الوافی شرح اصول الشاشی
  • hira-online.comhira-online.com
  • الوافی شرح اصول الشاشی
  • جنوری 27, 2026
  • 0 Comments
الوافی شرح اصول الشاشی

🌴الوافی شرح اصول الشاشی🌴اساتذہ اور طلبہ کے لیے اصول الشاشی کی ایک بہترین عربی شرح. کتاب : الوافی شرح اصول الشاشی (اصول الشاشی کی عربی شرح)زبان : عربیصفحات : 206تالیف : حضرت مولانا مفتی محمد ذیشان احمد قاسمی صاحب مد ظلہ العالی۔(استاذ مدرسہ امداد العلوم حیدرآباد، انڈیا)واٹس ایپ :+91 9032100126ناشر : مکتبہ احیاء سنت، مدرسہ امداد العلوم، جامع مسجد ٹین پوش، حیدرآباد، تلنگانہ، انڈیا۔تعارف نگار: امدادالحق بختیار (استاذ حدیث وافتاء جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد انڈیا) بر صغیر میں دار العلوم دیوبند کے منہج اور نظام ونصاب کو اختیار کرنے والے بیشتر مدارس کے درسِ نظامی میں اصول فقہ کے مدخل، مبادی اور بنیادی اصطلاحات وتعریفات کے لیے سب سے پہلے’’ تسہیل الاصول ‘‘ پڑھائی جاتی ہے، بعض مدارس میں اس مقصد کے لیے دوسری کتابیں بھی شاملِ نصاب ہیں، بعد ازاں بالترتیب اصول الشاشی، نور الانوار اور حسامی کا درس دیا جاتا ہے، یہ تمام کتابیں اپنے موضوع اور مقصد میں بہت مفید ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ طلبہ کو اصولِ فقہ کے موضوع میں سب سے زیادہ جس کتاب سے فائدہ ہوتا ہے، وہ ’’ اصول الشاشی ‘‘ ہے، اس کتاب کی ترتیب ، منہج اور اسلوب بہت شاندار ہے، عبارت سلیس اور آسان ہے، یہ کتاب اصولِ فقہ کی تقریباً تمام بنیادی اصطلاحات، قواعد اور احکام کو جامع ہے، ا س کتاب میں اصول اور قواعد کے ساتھ ایک معتد بہ مقدار میں مثالیں پیش کی گئی ہیں، جس سے قاعدہ اور اس کی تطبیق بخوبی طلبہ کو ذہن نشیں ہو جاتی ہے؛ اسی لیے اصول فقہ کے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان یہ کتاب بہت مقبول ہے۔اردو میں بھی اس کتاب کی بہت سی شروحات لکھی گئی ہیں اور عربی میں بھی بعض مستقل شرحیں لکھی گئی ہیں اور متعدد حواشی لکھے گئے ہیں؛ تاہم اس کتاب کی کوئی ایسی عربی شرح دستیاب نہیں تھی، جو معاصر زبان، ترتیب اور اسلوب کے مطابق ہو، اور عصری تقاضوں کوپورا کرتی ہو، جس میں اصل کتاب کے تمام مضامین اور اجزاء کی شرح کی گئی ہو، اسی لیے طلبہ کے درمیان کے اس…

Read more

Continue reading
نام کتاب : تراوش قلم
  • hira-online.comhira-online.com
  • پروفیسر محسن عثمانی ندوی
  • تراوش قلم
  • دسمبر 22, 2025
  • 0 Comments
نام کتاب : تراوش قلم

نام کتاب : ترواشِ قلممصنف: پروفیسر محسن عثمانی ندویصفحات : 464قیمت: ۵۰۰ روپےناشر: مکتبہ نشان راہ ، دہلی تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی ملنے کے پتے :مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ،مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی ” ترواشِ قلم” کتاب کا نام ہے، نام کی ندرت وجدت تخلیقیت کی دلیل ہے،صرف کتاب کے نام میں ہی ندرت نہیں ، بلکہ پوری کتاب ہی ندرت و جدت ، فکر و تدبر اور عمق و استدلال سے معمور تحریروں کا مجموعہ ہے، کتاب کی مثال ایسی ہے گویا کسی کے سامنے یکبارگی مختلف خوش رنگ پھول یکجا رکھ دیے جائیں، وہ کبھی ایک کے رنگ سے آنکھیں چار کرے اور کبھی دوسرے کی خوشبو سے مشام جاں معطر کرے، نہ دیکھنے سے دل بھرے نہ خوشبو سے سیرابی ہو، جی ہاں ! یہ کتاب اپنے دامن ایسے ہی متنوع خوش رنگ پھول رکھتی ہے، اس کتاب میں پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کچھ اپنی کتابوں کے مقدمے ، کچھ دوسروں کی کتابوں پر لکھے گئےاپنے مقدمات اور کچھ متفرق مضامین جمع کر دیے ہیں، عربی میں مقدمات جمع کرنے کی روایت معروف ہے، اردو میں تبصرے جمع کیے جاتے رہے ہیں لیکن مقدمات کا یہ پہلا مجموعہ ہے جو اس وقت راقم کے سامنے ہے، اس کی ہر تحریر رہنما اور شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے، کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، اسلامیات، ادبیات ، شخصیات اور متفرقات، اہل علم جانتے ہیں کہ کتاب کا مقدمہ دراصل موضوع کتاب کا نچوڑ ہوا کرتا ہے، اس پہلو سے یہ کتاب پروفیسر عثمانی کے علمی سفر، تحقیقی ذوق ، تنقیدی مزاج ، اسلوب نگارش، خیالات و افکار اور اہداف قلم کی آئینہ دار اور پوری علمی زندگی کا نچوڑ ہے، کتاب کے آغاز میں پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے ایک طویل پیش لفظ لکھا ہے، انھوں نے نہ صرف کتاب کا مختلف پہلوؤں سے بھرپور جائزہ پیش کیا ہے بلکہ اردو نثر کے "محسن قلم” کی عظمتوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں قطعاً کسی بخل سے کام نہیں لیاہے، اعتراف…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top