نام کتاب : ترواشِ قلم
مصنف: پروفیسر محسن عثمانی ندوی
صفحات : 464
قیمت: ۵۰۰ روپے
ناشر: مکتبہ نشان راہ ، دہلی
تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی
ملنے کے پتے :مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ،مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی
” ترواشِ قلم” کتاب کا نام ہے، نام کی ندرت وجدت تخلیقیت کی دلیل ہے،صرف کتاب کے نام میں ہی ندرت نہیں ، بلکہ پوری کتاب ہی ندرت و جدت ، فکر و تدبر اور عمق و استدلال سے معمور تحریروں کا مجموعہ ہے، کتاب کی مثال ایسی ہے گویا کسی کے سامنے یکبارگی مختلف خوش رنگ پھول یکجا رکھ دیے جائیں، وہ کبھی ایک کے رنگ سے آنکھیں چار کرے اور کبھی دوسرے کی خوشبو سے مشام جاں معطر کرے، نہ دیکھنے سے دل بھرے نہ خوشبو سے سیرابی ہو، جی ہاں ! یہ کتاب اپنے دامن ایسے ہی متنوع خوش رنگ پھول رکھتی ہے، اس کتاب میں پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کچھ اپنی کتابوں کے مقدمے ، کچھ دوسروں کی کتابوں پر لکھے گئےاپنے مقدمات اور کچھ متفرق مضامین جمع کر دیے ہیں، عربی میں مقدمات جمع کرنے کی روایت معروف ہے، اردو میں تبصرے جمع کیے جاتے رہے ہیں لیکن مقدمات کا یہ پہلا مجموعہ ہے جو اس وقت راقم کے سامنے ہے، اس کی ہر تحریر رہنما اور شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے، کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، اسلامیات، ادبیات ، شخصیات اور متفرقات، اہل علم جانتے ہیں کہ کتاب کا مقدمہ دراصل موضوع کتاب کا نچوڑ ہوا کرتا ہے، اس پہلو سے یہ کتاب پروفیسر عثمانی کے علمی سفر، تحقیقی ذوق ، تنقیدی مزاج ، اسلوب نگارش، خیالات و افکار اور اہداف قلم کی آئینہ دار اور پوری علمی زندگی کا نچوڑ ہے، کتاب کے آغاز میں پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے ایک طویل پیش لفظ لکھا ہے، انھوں نے نہ صرف کتاب کا مختلف پہلوؤں سے بھرپور جائزہ پیش کیا ہے بلکہ اردو نثر کے "محسن قلم” کی عظمتوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں قطعاً کسی بخل سے کام نہیں لیاہے، اعتراف ِمحاسن میں معاصرت کا آڑے نہ آنا بھی اخلاص و کمال کی علامت ہے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اردو نثر کے "محسن قلم” سے نکلی ان تحریروں میں علمی رنگ ، فکری شعور اور ادبی چاشنی کے ساتھ ساتھ غیرت دینی اور شکوہ "عثمانی” جا بجا بکھرا نظر آتا ہے ۔
ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی محسن شخصیات، علم و ادب کے خدام ، اور علماء و دانشوران کی زندگی میں ان کے محاسن کا اعتراف کرتے ہیں نہ ان سے خاطرخواہ فائدہ اٹھاتے ہیں، ہاں پسِ مرگ ماتم کے لیے مضمون پہلے سے تیار رکھتے ہیں، مردہ قوموں کا یہی وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ زندہ شخصیات سے آنکھیں چراتی ہیں، یا خود کو تعصبکے خول اور گرد ہی حصار میں محصور کر لیتی ہیں، کسی فکر و نظریہ سے اختلاف ہو تو سارے محاسن پر پانی پھیر دیتی ہیں، حالانکہ زندگی کی علامت یہ ہے کہ قابل قدر شخصیات کی زندگی میں ہی ان کی خدمات اور ان کے محاسن کا اعتراف کیا جائے، انھیں زندگی جینے کا حوصلہ دیا جائے، قلم کی عظمتوں اور فکر کی رفعتوں کو بار بار سلامی دی جائے بلکہ یقین دلایا جائے کہ ہم زندہ قوم کے افراد ہیں اس لیے اپنی قوم کے لائقِ ذکر افراد کو پس ِمرگ بھی زندہ رکھیں گے، پروفیسر عثمانی کی اس کتاب کا اسی طرح اعتراف ہونا چاہیے، یہ رہنما تحریریں اہل علم و طلبہ تحقیق کے لیے انھوں نے عمر کے اس پڑاؤ پر یکجا کی ہیں جب انھیں خود اضحلال قوی کا شدید احساس ہے اور وہ بچشم خود کاروانِ عمر رفتہ کے نشان دیکھنے لگے ہیں۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ پروفیسر عثمانی عربی کے استاد رہے، عربی میں بھی ان کی کئی کتابیں شائع ہوئیں، لیکن انھوں نے اپنے لیے مستقل اظہارِ خیال کا ذریعہ اردو کو بنایا اور پھر اپنی نثر نگاری سے اگر اُردو کے دامن کو مالا مال کیا تو افکار و خیالات کی رعنائی سے اپنے مخاطبین کے قلب و نظر کو جلا بخشی، اس کتاب پر نظر ڈالیے تو آپ یہ اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکیں گےکہ پروفیسر عثمانی کثیر المطالعہ ہیں، ان کے یہاں صرف موضوعات کا تنوع نہیں،مطالعہ کہ وسعت و گہرائی بھی ہے ، عناوین کے انتخاب میں ندرت کے ساتھ ساتھ مضمون میں فکر و نظر کی گہرائی بھی ہے ، پر شکوہ الفاظ، جاذب اسلوب، پرکشش تعبیرات کے ساتھ فکر کی رعنائی بھی ہے، انھوں نے جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے بھرپور لکھا ہے ، اس کتاب کے قاری کے لیے یقینا یہ فیصلہ کر پانا مشکل ہوگا کہ وہ عربی ادب کے ناقد ہیں یا اردو ادب کے؟ وہ ایک بہترین مفکر اور سلیم الفکر دانشور ہیں یا ایک باکمال و ذی علم عالم دین ؟ اس لیے کہ کہیں وہ اقبال و شوقی کا موازنہ کرتے نظر آتے ہیں، کہیں نجیب محفوط اور میخائل نعیمہ پر نقد کرتے ہیں، کہیں شمس الرحمن فاروقی کے ناول پر نقد و تبصرہ لکھتے ہیں، کہیں عالم اسلام کے حالات پر تڑپتے ہیں، کبھی قلم جمالیاتی حسن کا مصور ہو جاتا ہے تو کبھی جوالا مکھی بن جاتا ہے، کہیں دعوت دین کی گہار لگاتا اور انبیائی مشن کی یاد دلاتا ہے، کبھی اسلام کے نظام حکمرانی کا بھولا ہوا سبق یاد دلاتا ہے، موجودہ حکمرانوں کو آئینہ دکھاتا ہے اور کاسہ لیسی کرنے والے درباری مزاج مذہبی لوگوں کے چہرے سے نقاب اٹھاتا ہے، کبھی اسلام اور تلوار کو موضوع بناکر دلائل کا انبار لگاتا ہے تو کبھی اعجاز قرآن کے جلوے دکھاتا ہے، موضوعات متنوع ہیں مگر جو شے مشترک ہے وہ صاحب کتاب کی جمالیاتی حس ، پرکشش اسلوب نگارش اور تحریر کی سحر انگیزی، موضوع اور مضمون کوئی ہو ، لیکن پڑھنا شروع کیجئے تو الفاظ کی بندش، تعبیرات کا حسن اور پیرایہ بیان کی ندرت اس طرح گرفت بناتی ہے کہ مکمل کیے بغیر نہیں رہا جاتا، راقم نے پروفیسر عثمانی کی کئی کتابوں پر تبصرے لکھے ہیں، جو ایک کتاب میں انھوں نے جمع کر دیا ہے، ایک تبصرہ میں لکھا تھا کہ راقم ان لوگوں میں سے ہے جو پروفیسر عثمانی کی نثر پڑھ کے پروان چڑھا ہے ، ان تبصروں میں پروفیسر عثمانی کی متعدد جہتوں اور خصوصیات پر اظہار خیال کیاگیا، یہاں ایک خاص بات ذکر کرتے ہوئے گفتگو تمام کرتا ہوں، ان تمام مقدمات کو پڑھ کر نہ صرف یہ خصوصیات مزید نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے بلکہ یہ کتاب پروفیسر عثمانی کے دعوے کی طاقتور دلیل بھی بن جاتی ہے ۔
پروفیسر عثمانی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنی علمی زندگی میں محض لفاظی، فضول نگاری اور قلمی عیاشی کو کبھی قریب نہ پھٹکنے دیا، جو کچھ لکھا کسی فکر و ہدف کے شعور کے ساتھ لکھا، جو قلم عطا ہوا اور جو قلمی صلاحیت ملی ہمیشہ اسکی ذمہ داری کے احساس کو ملحوظ کھا، پروفیسر عثمانی کا نظریہ یہ ہے کہ "ادیب جو لکھے وہ حیات آمیز ہو، حیات آموز اور حیات افروز ہو” زندگی بھر وہ اپنے اسی نظریہ پر قائم رہے اور ان کی تمام تر نثری کاوشیں اسی نظریہ کی عکاس رہیں، انھوں نے نہ صرف عمر کے آخری پڑاؤ پر ملت اسلامیہ کے ملّی و مذہبی قائدین اور عرب حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو کی، بلکہ جب ادبی موضوعات پر لکھا تو بھی مقصدیت کے تحت کھل کر لکھا ، نجیب محفوظ پر اسکے مشہور زمانہ ناول "اولاد حارثنا” کے حوالے سے تنقید لکھی تو یہاں تک لکھ دیا کہ” نہ وہ نجیب رہا نہ محفوظ” جس سیمینار میں یہ مقالہ پڑھا گیا اسکی رپورٹ جب عرب دنیا میں شائع ہوئی تو بات نجیب محفوظ تک پہنچی ، قصہ مختصر جب ہند میں مصرکے سفیر نے پروفیسر عثمانی سے رابطہ کیا تو ان کا جواب اور بھی پر لطف تھا، تفصیل سے قطع نظر انھوں نے قلم کی آبرو کا یہی پاس و لحاظ عمر کے ہر پڑاؤ پر رکھا ،وہ ہمیشہ لکھتے رہے ، اور اسی طرح لکھتے رہے ، عرب بہاریہ کے بعد جب انھوں نے ظلم و جبر اور طاغوتی نظام کے ٹھیکیداروں اور حاشیہ برداروں کے خلاف محاذ سنبھالا تو اپنے بھی خفا ہوئےاور بیگانے بھی ، سعودی سفارت خانہ میں شکایتیں کی گئیں اورقلم کو لگام دینے کے حربے اپنائے گئے ، لیکن پروفیسر عثمانی اپنی اس خصوصیت پر قائم رہے کہ جو حق سمجھا اس کا برملا اظہار کیا خواہ مسئلہ حادثہ کربلا کے دینی اور نظریاتی پس منظر کا ہو ، دینی تعلیم اور دعوت دین کا ہو ، عرب بہاریہ کا ہو یا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ، مولانا مودودی کا ہو یا شخصیات کے موازنہ کا ، مسئلہ عالم اسلام کاہو یا ملت اسلامیہ ہندیہ کا ، مسئلہ علم و تحقیق کا ہو یا نظریۂ ادب اور نظریاتی تنقید کا، پروفیسر عثمانی کی یہی وہ خصوصیت ہے جو انھیں اپنے معاصرین میں ممتاز ومنفرد مقام عطا کرتی ہے اور ان کا نام اردو کے نثر نگاروں کی تاریخ میں زندہ رکھنے کی ضمانت دیتی ہے ۔
پروفیسر عثمانی اہل علم کے یہاں معتبر ، اہل قلم میں لائق رشک اور مقبولِ عام مصنف ہیں ، ان کے مقدمات کا یہ مجموعہ افکار و معلومات کا گنجینۂ گراں مایہ ہے ، علم و تحقیق اور ادبی حسن و جمال کا بہترین امتزاج ہے ، ان تمام مقدمات میں فکر کی گہرائی، مطا لعہ کی وسعت ، معلومات کا تنوع ، علم کانور ، فکرِ سلیم کی ترجمانی ، حق گوئی کا بانکپن ، تحقیق کی سنجیدگی ، فکر و خیال آرائی، اسلوب نگارش کی رعنائی وبرجستگی ، دل لگتی اور خدا لگتی تعبیرات کا خزانہ جمع ہو گیا ہے ، اس میں ندوہ کی زبان ہوشمند کی خوب ترجمانی ہے ، فکر ارجمند کی پوری کتاب گواہ ہے اور کتاب کا بیشتر حصہ دلِ درمند کا آئینہ دار، ان تمام خصوصیات کے یکجاہونے کے بعد کسی کتاب کایاد گار اور منفردبن جانا یقینی ہوجاتاہے ، اہل علم کو اس کتاب کا نہ صرف استقبال کرنا چاہیے بلکہ اسکے شایان شان خراج تحسین پیش کرنا چاہیے ، مدارس و جامعات کے منتہی طلبہ کو پہلی فرصت میں اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے ، ممکن ہے کہ اس کتاب کا کوئی مضمون ان کی سمت سفر طے کر دے ، فکر و نظر کے نئے ابواب ان کے سامنے والاکر دے ، علم و تحقیق کی کسی نئی دنیا کے اکتشاف پر آمادہ کر دے ، مطالعہ و تحقیق کے لیے آمادہ کر دے ، ممکن ہے کہ یہ کتاب طلبہ کی محسن کتابوں میں شامل ہو جائے کہ اردو نثر کے ” محسن قلم ” کے محاسن ، مقصدیت اور تجلیات سے یہ عین متوقع ہے ۔