Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
05.08.2026
Trending News: بینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
05.08.2026
Trending News: بینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

ملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میں

  1. Home
  2. ملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میں

ملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میں

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • نومبر 12, 2025
  • 0 Comments

ملک وملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط

مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ کی تحریروں کی روشنی میں

(منورسلطان ندوی (استاذ فقہ ،دارالعلوم ندوۃ العلماء، )ورفیق علمی مجلس (تحقیقات شرعیہ،ندوۃ العلماء لکھنؤ)

مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کی اٹھان اپنے خاندانی پس منظر،اوراپنے مخصوص مزاج نیزدارالعلوم ندوۃ العلماء میں تدریسی وعلمی اشتغال کے تناظر خالص علمی شخصیت کے طورپرہوئی،رائے بریلی اوردارالعلوم ندوۃ کے علمی ماحول اورپرسکون فضامیں خاموشی کے ساتھ علم وادب کی گرانقدرخدمت انجام دے رہے تھے،علمی پختگی ،عربی زبان پرمہارت ،تحریر کااسلوب،تصنیفی ودعوتی ذوق ومزاج اورادب وشائستگی آئندہ علمی میدان میں ’مقام بلند‘کی نشاندہی کررہی تھی، اور یقینا ایسا ہوا بھی،لیکن اسی کے ساتھ آپ کی شخصیت میں ایک دوسراپہلوبھی ہے، جب ملک کے حالات خراب ہوئے،مسلمان مصائب وآلام سے دوچارہوئے توآپ کی طبیعت بے چین ہوگئی،مسلمانوں کے دردکواپنے دل میں محسوس کیااورپھرمیدان عمل میںآگئے، شہرشہر دورے کئے،مسلمانوں کوتسلی دی،ملت کے امراض کی نشاندہی کی،اوران کاحل بتایا، مسلمانوں کوان کابھولاہواسبق یاددلاتے رہے،انسانیت کاپیغام سناتے رہے۔

ملکی تناظرمیں مسلمانوں کے حالات ،ان کے مسائل،باعزت زندگی کاطریقہ، جیسے موضوعات پرحضرت مولاناؒ نے بے شمارتحریریں لکھیں، سینکڑوںتقریریں کیں،ان تقاریراوررسائل میں ملت کابے پناہ دردہے،ان تحریروں سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ آپ کے الفاظ نہیں بلکہ دل کی دھڑکنیں ہیں، سامعین کے سامنے آپ باربار اپناکلیجہ نکال کررکھ رہے ہیں،آپ نے مسلمانوں کی ذبوں حالی کے اسباب بھی بتائے،امراض کی نشاندہی بھی کی اورپھرلائحہ عمل بھی بتایا،آپ کے افکارکی بنیادپربعض تحریکیں بھی وجودمیں آئیں اوربہت سی تجاویزاوررہنماخطوط آج بھی عمل کی راہ دیکھ رہی ہیں،ضرورت ہے کہ ان افکاروخیلات اورآپ کی تجویزکردہ رہنماخطوط کوسامنے لایاجائے،مسلمانوں کویہ سبق باربارسنایاجائے ،آپ کی تجویزکردہ لائحہ عمل ملت کے لئے نسخہ کیمیاہے،اوراس میں کامیاب زندگی اورباعزت زندگی کارازمضمرہے۔

ملکی حالات کاصحیح شعور و آگہی

ایک قائدکے لئے سب سے ضروری چیزحالات سے صحیح باخبری اورزمانہ شناسی ہے، حالات کی نبض پرانگلی ہوتبھی مسائل کاصحیح حل سوچا جاسکتا ہے، حضرت مولاناؒکی تحریروں میں ملکی حالات کاصحیح شعوراورمکمل آگہی صاف محسوس کی جاسکتی ہے،آپ نے تاریخ کے مطالعہ کی روشنی میں ملکی مسائل کابے لاگ تجزیہ فرمایااوراپنی خدادادصلاحیت اور بصیرت ودوراندیشی کے ساتھ راہ عمل کی نشاندہی کی،ذیل کے دواقتباس سے اس کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے:

آپ تحریرفرماتے ہیں:

’’اس وقت ہماراملک اورہماری ملت دونوں ایسے خطرات ومصائب اورایسی صورت حال سے دوچارہیں جوملکوں اورملتوں کی زندگی اورتاریخ میں بعض اوقات صدہابرس کے بعداوربعض اوقات اس سے بھی زائدعرصہ کے بعدپیش آتی ہے،اگراس کی جلدخبرنہ لی گئی ،توپہلے یہ ملت اپنے تشخص ،اپنی مذہبی آزادی ،اپنی ثقافت وتہذیب اوراپنے عزیزسرمایہ معابدومدارس ،علمی ذخیرہ اورزبان وادب سے محروم ہوگی ،پھریہ وسیع اورشاندارملک مکمل طریقہ پرتباہ ہوکررہ جائے گا،بغض وعناد،بدگمانی اوربے اعتمادی کی فضا،انسانی جان اورعزت وآبروکی بے وقعتی،مردم آزاری وآدم بیزاری،عقل پرجذبات کی حکمرانی ،دوراندیشی پرکوتاہ اندیشی کاغلبہ ،ملکی مفادپرذاتی اغراض کی ترجیح،جذبات کے پیچھے بہہ جانے اورکھوکھلے نعروں کے پیچھے دیوانہ بن جانے کی عادت، ایک ایسازہر ہے جوبڑی سے بڑی قوم اورملک کی ہستی کاخاتمہ کردیتاہے اوراس کوموت کے گھاٹ اتاردیتاہے،فرقہ وارانہ فسادات،تنگ نظری،مفادپرستی،حدسے بڑھاہوا احساس برتری،جذبات سے مغلوب ہوجانے ،روئی کی طرح جلدآگ پکڑلینے اوربارود کی طرح بھک سے اڑجانے کی صلاحیت،کسی ایک میدان میں محدوداورکسی ایک فرقہ کے ساتھ مخصوص نہیں رہ سکتی،نفرت واقتدارکی بڑھتی ہوئی ہوس کی آگ کواگرجلانے کے لئے ایندھن نہ ملے تووہ خودکھانے لگتی ہے۔‘‘(ملک وملت دونوں خطرہ میں،ص:۱،۲)

مسلم مجلس مشاورت کے ایک جلسہ میں حالات کی ناگفتی کویوں بیان فرماتے ہیں:

’’اس وقت پوراعالم اسلام خاص طورپرہماراملک ہندوستان (جوصدیوں تک اسلامی اقدار،عزت وشرف اوراسلامی علوم وفنون کامرکزرہاہے اورجہاں ایسی ذبردست اصلاحی تحریکیں ،مصلحین اورعلماء ربانیین پیداہوئے جن کی دعوت واثرات عالم اسلام کے دوردرازملکوں تک پہونچے)ایک ایسے آزمائشی دورسے گزررہاہے جس کی نظیرتاریخ میں صدیوں تک نہیں ملتی،اس دورآزمائش میں مسلمانوں کاصرف ملی تشخص ،دین کی دعوت وتبلیغ کے مواقع وامکانات اورملک ومعاشرہ کوصحیح راستہ پرلگانے اوراس کائنات کے خالق ومالک کی صحیح معرفت اورعبادت اوردین صحیح کی طرف رہنمائی کی صلاحیت اوراستطاعت بڑی چیزہے ،کم سے کم اس ملک ہندوستان میں ان کی زندگی کاتسلسل ،جسمانی وجود،عزت وآبرو،مساجدومدارس اورصدیوں کادینی علمی اثاثہ وقیمتی سرمایہ بھی خطرمیں پڑگیاہے۔(موجودہ حالات میں مسلمان کیاکریں؟ص:۷)

حالات ضرور بدلیں گے!

عام طورپرمسلمان حالات سے گھبراتے ہیں اورمایوس ہونے لگتے ہیں، اور بسااوقات ان کی زبان پریہ شکوہ بھی آجاتاہے کہ ہم کیسے دورمیں پیدا ہوگئے،حضرت مولاناؒ نے مسلمانوں کومایوسی کی اس کیفیت سے نکالا،اورانہیں بلندحوصلگی کاسبق دیا،آپ نے انہیں باورکرایاکہ حالات کابدلناانسان کے اختیارمیں نہیں بلکہ خالق کائنات کے اختیارمیں ہے،وہ جب چاہے گاحالات بدل جائیں گے،اس لئے مسلمانوں کومایوس ہونے کی قطعاضرورت نہیں ہے، آپ نے فرمایا:

’’یہ حالات یقیناصرف ایمانی ومذہبی غیرت اورپختہ دینی شعوررکھنے والوں کے لئے بلکہ حالات پرسطحی نظررکھنے والے عام مسلمانوں کے لئے بھی جوگردوپیش کے حالات کودیکھتا،اخبارات پڑھتااورخبریں سناہے سخت تشویش انگیزہیں،وہ کبھی مایوسی اوربعض اوقات حالات کے سامنے سپراندازہوجانے پربھی آمادہ کرتے ہیں،لیکن اس خدائے واحدپرایمان رکھنے والے مسلمان کے لئے جس کے ہاتھ میں اس کارخانہ عالم کی ڈورہے ،اپنے دین کامحافظ،حق کاحامی ،مظلوموں کی مددکرنے والااورخستہ حال کو اٹھانے والااورسرکش ومتکبرکونیچادکھانے والااورجس کی شان ہے ’الالہ الخلق والامر‘کوئی انقلاب اورتغیرِحال ناممکن نہیں‘‘۔(موجودہ حالات میں مسلمان کیاکریں؟ص:۱۱)

۱۹۸۳ء؁ میں مسلم یونیورسیٹی کے ہال میں خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:

’’یہ حقیقت ہے جسے ہمارے نوجوانوں کوخاص طورپرسمجھ لیناچاہیے کہ یہ بڑااہم ،بڑاقیمتی وقت ہے،ایسے زریں مواقع اقوام وملل کی تاریخ میں اورملکوں کی تاریخ میں کبھی صدیوں کے بعدآتے ہیں،یہ ایک زریں موقع خداکی طرف سے ہم کواورآپ کو دیا گیاہے،خداکاشکرہے،اس کااحسان ہے کہ آپ کواس دورمیں پیداکیا،لوگ توہمدردی کریں گے ،کہیں ہم کاش ایسے دورمیں نہ پیداہوئے ہوتے،لیکن جواں مردوں اور بلند ہمت لوگوں کے سوچنے کاطریقہ یہ نہیں،میں آپ کومبارک باددیتاہوں،یہاں کے مسلمانوںکومبارک باددیتاہوں،میں یہاں کے تمام خیرپسندعناصرکواورانسانیت دوست جماعتوں اوردماغوں کومبارک باددیتا ہوں کہ خدانے ان کوایک ایسے دورمیں پیدا کیا اور ایک ایساموقع عطاکاجسے ہمارے اسلاف بڑی بڑی عبادتوں سے حاصل نہیں کرسکتے تھے،وہ رات رات بھرجاگ کرنہیں حاصل کرسکتے تھے،وہ دن بھرروزہ رکھ کرنہیں حاصل کرسکتے تھے،آج وہ موقع ہم کوحاصل ہے کہ ہم آج انسانیت کی بے لوث خدمت کرکے اورملک کوبچانے کی لئے جان لڑاکراس ملک کوخطرہ کے دہانے سے، اژدہے کے منہ سے نکال سکتے ہیں‘‘۔(ملک کاخطرناک رخ اوردانشورطبقہ کی ذمہ داری،ص:۱۹)

مسلمان اپنے فریضہ منصبی کو یاد رکھیں

حضرت مولاناؒنے مسلمانوں کوبیدارکرنے کی کوشش کی،ملی شعورکوجگانے اورپروان چڑھانے کے لئے زبان وبیان کی پوری طاقت صرف کردی، آپ نے مسلمانوں کی بے حسی اوربے حمیتی پرکاری ضرب لگائی ،انہیں ان کافریضہ منصبی یاد دلایا، آپ نے اپنے چشم بصیرت سے اس حقیقت کاادراک کرلیاتھاکہ ہندوستان کے مسلمانوں کے بہت سے مسائل کاحل اسی میں ہے کہ مسلمان غفلت کی نیندسے اٹھیں اور اپنافریضہ منصبی اداکرناشروع کردیں،اسی طریقہ سے مسلمان ملک میں باعزت زندگی گزار سکیں گے۔

حضرت مولانا ؒاس بات کواپنی بیشترتقریروں میں پیش کرتے تھے،۱۹۸۷ء؁ میں حیدرآبادمیں منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ اس ملک میں ہم تنہاوہ ’’ملت‘‘ہیں جوخداکاواضح پیغام رکھتی ہے ،جوآخری آسمانی کتاب کی حامل ہے،سیرت نبوی کی دولت اس کے پاس ہے،نوع انسانی کے لئے رحمت وہدایت کاعظیم سرمایہ،اسوہ نبوی ،حیات صحابہ اورمثالی ومعیاری انسانوں کے کرداروعمل کاعظیم ذخیرہ موجودہے،وہ اس سیرت اورطرززندگی کاعملی مظاہرہ کرسکتے ہیں،اوربھٹکی ہوئی انسانیت کی ہدایت کافریضہ انجام دے سکتے ہیں،یہ وہ ملت ہے جس کے پاس ہرعہدمیں کسی ڈوبتے ہوئے معاشرہ کو،کسی بجھتے ہوئے چراغ کو،کسی بربادہوتے ہوئے ملک کو،کسی روبزوال نہیں جاں بلب ملک یا معاشرہ کوبچالینے والاپیغام رہاہے،اس نے پہلی اوردوسری صدی ہجری(ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی) میںرومی،ایرانی اوروسط ایشیاکے برسراقتدارترکستانی معاشرہ کو اورساتویں آٹھویں صدی ہجری(تیرہویں صدی عیسوی)میں نیم وحشی اورخون آشام چینی وترکی نسل کی تاتاری قوم کوایک نیادین وعقیدہ ، مقصدزندگی،روحانیت،ترقی یافتہ تہذیب وثقافت ،جامع ومکمل معاشرتی تمدنی وانتظامی قانون اورنوبہ نوعالمی پیمانہ کی افادیت وامتیازعطاکیا،اوران کوزندگی کی ایک نئی قسط عطاکردی…یہ وہ ملت ہے جو ڈوبتے ہوئے سفینہ کوساحل تک پہونچاسکتی ہے اورکسی گرتے ہوئے معاشرہ کوجوزمین میںبالکل دھنس رہااوردلدل میں پھنس رہاہواورجوخودکشی اورخودسوزی پرآمادہ ہے، بچاسکتی ہے۔(مسلمانان ہندکے لئے صحیح راہ عمل،ص:۱۲)

حضرت مولاناؒ نے مسلمانوں کوبتایاکہ آج ملک کومسلمانوں کی ضرورت ہے، مسلمان آج بھی اس ملک کودینے کی پوزیشن میں،مسلمانوں کے پاس جودولت ہے اس سے یہ ملک خالی ہے،آپ نے فرمایا:

’’میرے محدودمطالعہ میں اس ملت کی حیات اوراس کے طویل سفراورتجربوں میں یہ بالکل انوکھی مثال ہے کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں ،ہم عظیم ترین اقلیت میں ہیں،یہ اتنی بڑی اقلیت ہے کہ اگروہ اپنی امتیازصلاحیت کاثبوت دے،اکثریت سے زیادہ محنت کرے،اوراپنی اہلیت وافادیت،اپنے خلوص وصداقت کامظاہرہ کرے تووہ قیادت کا مقام بھی حاصل کرسکتی ہے، اور اگریہ نہیں توکم ازکم ملک کارخ تبدیل کرسکتی ہے اور صاحب اقتدارجماعت کواپنی ضرورت وافادیت تسلیم کرنے پرمجبورکرسکتی ہے، پھراسی کے ساتھ اس میں حقیقی زندگی کی وہ رمق باقی ہے (میں اس کوزندگی کی رمق ہی کہوں گا) جو دنیا کی اکثرملتیں کھوچکی ہیں، روحانی حیثیت سے،ایمانی حیثیت سے،اوراحتساب نفس کے لحاظ سے وہ ملتیں اس آخری اخلاقی شعوراورضمیرکی زندگی وبیداری سے محروم ہوچکی ہیں، جس کوزندگی کی رمق کہاجاناچاہیے،یہ ملت اپنی ساری کمزوریوں کے ساتھ اس رمق کی محافظ ہے‘‘ ۔ (مسلمانان ہندکے لئے صحیح راہ عمل،ص:۱۳)

حضرت مولانانے مسلمانوں کوان کی ذمہ داریاںیادلاتے ہوئے انہیں باورکرایاکہ ان کی زندگی کامقصدخوشحالی زندگی کاحصول نہیں،بلکہ ان کویہاں داعیانہ کرداراداکرناہے،اوراسی کام میں ان کی باعزت زندگی کارازمضمرہے،آپ نے فرمایا:

ــ’’آپ کی یہ حیثیت نہیں کہ آپ کوکچھ آسانیاں چاہیں،کچھ آسامیاں چاہیں، آپ ملک کے نجات دہندہ ہیں،آپ اس ملک کی آخری امیدہیں،اس ملک کے باشندوں کوہم عدل کاپیغام دیں،عقل سلیم کاپیغام دیں،خداترسی اورانسان دوستی کاپیغام دیں،اوراس میں اس کالحاظ رکھیں کہ وہ پیغام ہمارے اسلامی عقیدہ اورایمانی جذبہ کے ساتھ مربوط اورجڑاہواہو،یہاں تک کہ ذہین لوگ جن کواللہ تعالی نے خاص طرح کی قوت شامہ عطافرمائی ہے ،اس عمومی انسانی دعوت میں ہمارے ایمان کی خوشبواورمہک پائیں،وہ یہ محسوس کریں کہ یہ خودغرضی کاپیغام نہیں،نفسانیت کاپیغام نہیں،اس کے پیچھے سیاسی یااقتصادی مقاصدنہیں،یہ وہ پیغام ہے جس کوان لوگوں کے ایمان باللہ وتعلیمات اسلامی نے پیداکیااورجلااورطاقت دی ہے،اس پیغام کاسرچشمہ اوراس کامحرک وداعی ان کاخدا اور خداکے آخری رسول سے رابطہ ہے،اگرہم یہ کام کرلیںگے توصرف یہی نہیں کہ ہم اس ملک میں عزت کے ساتھ رہ سکیں گے بلکہ اس ملک کی قیادت ہم کوتلاش کرے گی،حضرت یوسف جیل گئے،اورایک ایسے الزام میں گئے جس کے بعدایسے اسیرزنداں کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا،اوروہ آدمی منھ دکھانے کے قابل نہیں رہتا،لیکن انہوں نے اپنے کردارسے،اپنی علمی صلاحیت سے ،اپنی معجزانہ ایمانی طاقت سے ،اپنی انسان دوستی سے جیل کے اندررہ کربھی یہ ثابت کردیاکہ وہ مصرمیں تنہاآدمی ہیں جن کے پاس ایمان ہے،جن کے پاس کردارکاجوہرہے،جن کے اندرعلمی صلاحیت ہے،انسان دوستی کاجذبہ اورامانت ودیانت ہے‘‘۔(مسلمانوں کے لئے صحیح راہ عمل،ص:۱۸)

انفرادی ضرورتوں کواجتماعی ضرورتوں پرقربان کرنے کی دعوت

حضرت مولاناؒ نے اپنی پوری طاقت سے مسلمانوں کے دلوں پردستک دی، انہیں جھنجھوڑا،اورانہیں ذاتی زندگی کے خول سے نکل کرملی اوراجتماعی زندگی میں موثر کردار اداکرنے پرآمادہ کیا،مسلمانوں کوخوداحتسابی کی دعوت دی،آپ نے سرائے میرمیں منعقدہ مشاورت کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جس درداورتڑپ کا اظہار کیا وہ پڑھنے اورسننے سے تعلق رکھتاہے،اتناسخت اندازاورایسا اسلوب آپ نے کم استعمال کیا،مگرمسلمانوں کی بے عملی اورگفتارکے غازیوں کوعمل پرآمادہ کرنے کے لئے آپ نے یہ اسلوب بھی اختیارفرمایا،آپ نے فرمایا:

’’اگریہ اکثریت واقلیت کامسئلہ حل بھی ہوجائے اوراگریہ ساری پیچیدگیاں ختم بھی ہوجائیں توآپ اپنے ہاتھوں سے ذلیل ہوں گے،بہت کمزورلوگوں سے ذلیل ہوں گے،خالی حکومت پرتنقیدکرنے سے کوئی فائدہ نہیں،اتنابڑامجمع خداکی امانت ہے،میں ان کے کان کھولناچاہتاہوں،آپ کس بات کی شکایت کرتے ہیں،آپ خودمجرم ہیں،آپ اپنا جائزہ لیجئے،جوقوم کوئی مسئلہ حل نہ کرسکے ،جوانگریزی کاایک اخبارنہ نکال سکے،جوادنی خطرہ نہ مول لے سکے ،جومحض اس خیال سے کہ بچے کاکیریرخطرے میں نہ پڑجائے اردونہ پڑھائیں،جوتعمیری کاموں کے لئے سرمایہ نہ دے سکیں اس کودوسروں سے کہنے کاکیاحق ہے۔

ہندوقوم نے ایک ہزاربرس ہندی کواپنے سینے سے لگائے رکھا،ہندی رسم الخط اورلڑیچرکے محفوظ رہنے کی ضمانت نہیں تھی، آٹھ سوبرس تک اس نے فارسی پڑھی،اپنے بچوں اورعورتوں کوہندی رسم الخط سکھایا،آٹھ سوبرس کاجودریاتھااس کوپارکرگئی،لیکن جنہیں اردوسے محبت کادعوی ہے،چندبرسوں میں یہ حال ہے کہ محض عارضی فائدے اورملازمتوں کی ہوس میں اردوزبان سے دست بردارہورہے ہیں،وہ ادارے جواس زبان کی بقاکے لئے جدو جہد کررہے ہیں آپ کی بے اعتنائی سے دم توڑرہے ہیں، آپ کوصرف بول بولنے آتے ہیں، آپ کوباتیں بناناآتی ہیں،سراٹھاکرچلناآتاہے،ابھی آپ میں سے حکومت کے بل نہیں گئے،بیشک ان لوگوں کوآزادی ملنی تھی جنہوں نے اپنے کوجیلوں میں بھردیا،آپ کے لئے جیل بھرناکیاادنی درجہ کاخطرہ برداشت کرنے کے لئے بھی آپ تیارنہیں ہیں،آپ ہرگز غریب نہیں،کلکتہ،کالی کٹ، مدراس، بمبئی، بنگلور کے مسلمانوں کوجاکردیکھ لیجئے،صرف لکھنؤاورکانپورکے سرمایہ کاادنی حصہ پورے پورے مسئلہ کوحل کرسکتاہے،آپ باتیں سننے اور باتیں بنانے کے عادی ہیں،آپ نے کون سامسئلہ حل کیاہے،ایک قائداخبارآپ کاترجمان ہے،وہ زندہ نہ رہ سکے ،ڈوب مرنے کی بات ہے،آپ کس کے سامنے باتیں بناتے ہیں، آپ کوزندہ رہنے کاحق ہے؟آپ خداکاشکرکیجئے کہ آپ کوبازاروں میں ذلیل نہیں کیا جارہا ہے،آپ تواس قابل ہیں کہ آپ کے گلے میں رسی باندھ کرطویلے میں رکھاجاتا،آپ دنیامیں بے عمل ترین قوم ہیں،بے توفیق قوم ہیں،چھ سات کروڑکی قوم کے پاس انگریزی کا پریس نہ ہو،جوتہمتوں کی تردیدکرسکے،جوالزامات کی صفائی تک دینے کی پوزیشن میں نہ ہوپھر غلط بیانیوں کی شکایت ہے،حق ہے انڈین اکسپریس کو،ہندوستان ٹائمزکو،آرگنائزرکوکہ وہ جوچاہیں لکھیں،جوالزام چاہیں لگائیں،آپ کی یہی سزاہے،راوڑکیلا، جمشیدپور میں سینکڑوں ہزاروں قتل ہوجائیں اورآپ صحیح بات کااظہارنہ کرسکیں،اورآپ دوسروں کے منھ پرہاتھ رکھتے ہیںکہ وہ کچھ نہ کہیں،کس قرآن میں لکھاہے کہ آپ انگریزی کااخبارنہ نکالیں ،علماء نے انگریزی کی مخالفت …وہ مخصوص باتیں تھیں جن کااس وقت تفصیل کاموقع نہیں،کیامیں خودطبقہ علماء کاایک فردنہیں ہوں اوربرابرآپ سے کہہ رہاہوں کہ دنیامیں جینے کاقانون ہے،زندگی سرتاپاجدوجہدہے،زندگی کاثبوت دیناپڑتاہے،زندگی کی بھیک نہیں ملتی،ضعیف کی سزاموت ہے، دنیامیں بے عمل کی یہی سزاہے،دنیامیں جوقومیں بے عمل ہوجاتی ہیں ان کو طرح طرح کی سزائیں بھگتنی پڑتی ہیں‘‘۔(راہ عمل ،ص:۱۰تا۱۲ ، شائع کردہ مسلم مجلس مشاورت،کانپور)

مسلمانان ہندکے لئے چھ نکاتی ہدایات

۱۹۹۰ء میں گجرات فسادات کے وقت جب مسلمان مایوس ہورہے تھے، حضرت مولانانے مسلمانوں کی ڈھارس بندھائی اوراپنے موثراسلوب میں اسلامی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے اپناحال دل ’موجودہ حالات میں مسلمان کیاکریں ؟‘ کی شکل میں پیش فرمایا۔اس رسالہ میں حضرت مولاناؒ نے حالات کی تبدیلی اوران خطرات سے بچنے کاطریقہ قرآن وحدیث ،سیرت نبوی اوراسوہ صحابہ کی روشنی میں پیش فرمایا،یہ چھ نکات اس طرح ہیں:

دعاء واستغفار

۱۔اس وقت دنیاکے تمام مسلمانوں اورخصوصیت کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں کاسب سے پہلافرض اورضروری کام رجوع الی اللہ ،انابت، توبہ واستغفار، اور دعاء وابتہال ہے۔اس کے بعدمتعددقرآنی آیات واحادیث نقل فرمائی ہیں۔

گناہوں سے توبہ

۲۔دوسری شرط اورضروری اورفوری قدم یہ ہے کہ معصیتوں سے توبہ کی جائے،گناہوں سے اجتناب برتاجائے،حقوق کی ادائیگی ہو،اس سلسلہ میں حضرت مولاناؒ نے حضرت عمرکاایک فرمان نقل کیاہے جوانہوں نے افواج کے قائدکوبھیجاتھا،اس فرمان کاایک حصہ اس طرح ہے:

’’امیرالمومنین ان کوحکم دیتے ہیں کہ وہ اپنے اورپنے ساتھیوں کے لئے دشمن سے زیادہ اللہ کی معصیت سے ڈریں،کیونکہ گناہ دشمن کی تدبیرسے بھی زیادہ انسان کے لئے خطرناک ہے،ہم اپنے دشمن سے جنگ کرتے ہیں اوران کے گناہوں کی وجہ سے ان پرغالب آجاتے ہیں،اگرہم اوروہ دونوں معصیت میں برابرہوجائیں تووہ قوت اور تعداد میں ہم سے بڑھ کرثابت ہوں گے ،اپنے گناہوں سے زیادہ کسی کی دشمنی سے چوکنا نہ ہوں، جہاں تک ممکن ہواپنے گناہوں سے زیادہ کسی چیزکی فکرنہ کریں‘‘۔

غیر مسلموں میں اسلام کاتعارف

۳۔غیرمسلموں کواسلام سے متعارف کرانے کی کوشش کریں،اورکسی ایسے مواقع کوہاتھ سے نہ جانے دیں ،ہمارے پاس سب سے بڑی طاقت وہ فطری، معقول، پرکشش،اوردل ودماغ کوتسخیرکرنے والادین،قرآن مجیدکااعجازی صحیفہ اورنبی آخر الزماں ﷺ کی دلکش اوردل آویزسیرت اوراسلام کی قابل فہم اورقابل عمل اورعقل سلیم کو متاثرکرنے والی تعلیمات ہیں،جواگرکھلے دماغ اورصاف ذہن سے پڑھی جائے تواپنا اثرکئے بغیرنہیں رہ سکتیں،اورانہی دنیاکے وسیع ترین رقبہ اورمتمدن وذہین قوموں کو اپنا عاشق اوراپنے اوپرکاربندبنالیااورملک کے ملک (جواپنی صدہاسال کی تہذیبیں ،فلسفے اور حکومتیں رکھتے تھے)ان کے حلقہ بگوش اوران کے داعی ومبلغ بن گئے۔

بقائے باہم

۴۔اس سب کے ساتھ اس ملک میں جس میں صدہاسال سے مسلمان رہتے چلے آئے ہیں،اوربظاہران کواسی ملک میں رہناہے،بقائے باہم (Coxistence) انسانی اورشہری بنیادوں پراتحادوتعاون اورانسانی جان اورعزت وآبروکے تحفظ اورانسان کے احترام اوراس سے محبت کی تبلیغ اورتلقین ضروری ہے ،جو اس ملک کی فضاکومستقل طورپرمعتدل اور پرسکون بلکہ پرراحت اورباعزت رکھنے کی ضامن ہے،اورجس کے بغیر اس ملک کی (جس کے لئے مختلف مذاہب اورتہذیبوں کامرکزاوردیس ہونا مقدر ہوچکا ہے)ترقی اورنیک نامی الگ رہی،امن وامان اورسکون واطمینان کے ساتھ رہنابھی مشکل ہے۔

صلح پسندی اور صبر و تحمل

۵۔ایک اہم بات یہ کہ مسلمانوں میں(خاص طورپرجہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اوروہاں خطرات اورآزمائشوں کاامکان ہے)صلح پسندی،صبروتحمل بلکہ ایثاروفیاضی کے ساتھ عزم وہمت،صبروثبات،شجاعت ودلیری کی صفت ،راہ خدامیں مصائب برداشت کرنے اوراس پراللہ کے اجروثواب کی طمع اور جنت اورلقائے رب کاشوق اور شہادت فی سبیل اللہ کے فضائل کااستحضاربھی موجودرہناچاہیے۔

اس مقصدکے لئے حضرت مولانانے صحابہ کرام کے حالات اورداعیان اسلام کے کارناموں کامطالعہ کرنے اوران کاسنناسناناجاری رکھنے کامشورہ دیاہے جنہوں نے راہ خدامیں بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں،اورقربانیاں دیںاوراس کوافضل اعمال اورقرب خداوندوی اورحصول جنت کاسب سے بڑاذریعہ سمجھا۔

آئندہ نسل کی ایمان کی حفاظت کی فکر

۶۔بڑی ضرورت اورآخری بات یہ ہے اس وقت ہرگھرکے ذمہ داروں،بچوں کے والدین اورموجودہ نسل کے لوگوں کواپنے بچوں اوراپنی آئندہ نسل کودین کی ضروریات سے،اسلامی عقائد،دینی فرائض اوراسلامی اخلاق سے واقف کرانے اوربنیادی تعلیم دینے کی ذمہ داری خودقبول کرناہے اوران پرلازم ہے کہ اس کواپناایساہی انسانی واسلامی فرض سمجھیں جیسابچوں کی خوراک وغذاولباس وپوشاک، صحت اوربیماری کے علاج کی ذمہ داری کوسمجھتے ہیںاوراس کاانتظام کرتے ہیں،بلکہ حقیقت میں دین کی ضرورت ، عقائدکی تعلیم اورصحیح اسلامی عقیدہ کی حفاظت اورتقویت کاکام ان جسمانی وطبعی ضرورت کی تکمیل اور اسکے انتظام سے بھی زیادہ ضروری ہے،اوراس سے غفلت ان انسانی وجسمانی ضروریات کی تکمیل سے غفلت برتنے اوراس بارے میں سہل انگاری سے کام لینے سے زیادہ خطرناک اوربرائے دائمی نتائج کاسبب ہے۔‘‘(موجودہ حالات میں مسلمان کیا کریں؟ ص:۷تا۲۴،شائع کردہ سیداحمدشہیداکیڈمی، دارعرفات، رائے بریلی)

دینی تعلیم کاجال بجھانے کی ضرورت

حضرت مولاناؒ کوجن اجتماعی کاموں سے سب سے زیادہ ذہنی وفکری مناسبت تھی ان میں سرفہرست مذکورہ مسئلہ یعنی مسلمانوں کی دینی تعلیم کامسئلہ ہے،بات صرف تعلیم کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی آئندہ نسل کے ایمان وعقیدہ کی حفاظت کی ہے،حضرت نے اس کام کے لئے بہت زیادہ توجہ دلائی،یوپی میں دینی تعلیمی کونسل کاقیام اوراس کی سرگرمیاں اسی فکرکے گردگھومتی ہیں،حیدرآبادکی کانفرنس میں منجملہ دیگرکاموں کے اس کام کی طرف بھی خواص امت کی توجہ مبذول کرائی،آپ نے فرمایا:

’’ہمارافرض ہے کہ ہم مسلمانوں میں دینی شعوربیدارکریں،آپ کی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں میں دینی تعلیم کی ضرورت کااحساس پیداکریں،ہماری آئندہ نسلیں ارتدار کے خطرہ میں مبتلاہیں،تہذیبی اورذہنی ارتداد بالکل کھلی سی بات ہے،لیکن اعتقادی ارتدارکاخطرہ بھی سرپرآگیاہے،آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ قصبات میں ،گائوں میں ،شہروں میں،محلوں میں،گھروں اور برادریوں میں،بچوں کودینی تعلیم دینے کی ضرورت کااحساس پیداکریں،مدارس اورمساجدقائم کریں،شبینہ اورصباحی مدارس ومکاتب قائم کردیں،اوران کاجال بچھادیں۔(مسلمانان ہندکے لئے صحیح راہ عمل ،ص:۲۰)

دینی تعلیمی کونسل کی کانفرنس میں خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:

’’اگرمجھ سے کوئی پوچھے کہ ملت کے لئے صرف ایک پوسٹربناناہے،اورصرف ایک جملہ کی گنجائش باقی ہے،اوراس کے علاوہ کچھ نہیں،تومیں کہوں گا’’ماتعبدون من بعدی‘‘لکھ دو،پوسٹرکے نیچے لکھوکہ ہرمسلمان اپنی اولادسے دنیاسے جانے سے پہلے سوال کرے اورجب تک دنیامیں رہے اپناجائزہ لے ،محاسبہ کرے کہ اس کے نزدیک اس کی اہمیت ہے یانہیں؟وہ اپنے بچوں کے لئے،اپنی آئندہ نسل کے لئے یہ اطمینان کرناضروری سمجھتاہے یانہیں کہ ’’ماتعبدون من بعدی‘‘(میرے بعدتم کس کی عبادت کروگے؟)(آئندہ نسلوں کے اسلام کی ضمانت اورایمان کی حفاظت کی ذمہ داری)

چار نکاتی تجاویز

۱۹۸۰ء؁ میں بارہ دری لکھنومیں پیام انسانیت کنونشن میں خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے حضرت مولانانے چارتجاویزپیش کیں ،ان میں آخری تجویزپولیس کی اصلاح کے بارے میں ہے جوحکومت سے متعلق ہے،باقی تین تجاویزانتہائی اہم ہیں:

انسانی بنیادوں پر اجتماعات کا انعقاد

’’خالص مذہبی،اخلاقی ،انسانی بنیادپرعوام سے براہ راست رابطہ کرنے کی کوشش ،اوردوروں، وفود،ملاقاتوں، محلوں، بستیوں، گائوں اورقصبات کی سطح پرجلسوں اورخطابات کی تنظیم،جن میں انسان کی جان،اس کی عزت وآبرو،مال واملاک کی قیمت ذہن نشیں کرنے کی کوشش کی جائے،ان کے احترام وتحفظ کی ذمہ داری کااحساس دلایاجائے۔

نصاب اورخصوصا تاریخی موادکی اصلاح

پرائمری کے مرحلہ سے لیکر کالجوں اوریونیورسیٹیوں کے تعلیمی مرحلہ تک نصاب تعلیم بالخصوص تاریخ کے مضامین اوراس کے نصاب کی اصلاح جوملک کے دوبڑے فرقوں (مسلمانوں اورغیرمسلموں)کے دل ودماغ میں منافرت کے بیچ بونے کاذمہ دارہے ،چونکہ تعلیم وتلقین کایہ سلسلہ بچپن کے ابتدائی دورسے شروع ہوجاتاہے،اورکتاب میں پڑھی ہوئی باتوں کایقین (بالخصوص جب ان کوواقعات ،قصوں اورکہانیوں سے مستحکم کیاجائے،اوراستاذبھی اس کے پرجوش مبلغ ہوں)طالب علموں کے دلوں میں پیوست ہوجاتاہے،اوروہ ہرلکھی اورچھپی ہوئی بات کوادب واحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں توان کاذہن ودماغ اسی میں ڈھل جاتاہے،اوران کی پوری زندگی اسی کے سائے میں گزرتی ہے،یہی زہرہے جوآج ہمارے پورے معاشرہ میں پھیلاہواہے اورکسی وقت وہ ہانڈی کا ابال اورجذباتی اشتعال بن کرفرقہ وارانہ فسادات اورعملی تصادم کی شکل اختیار کرلیتاہے جب تک اس نصاب تعلیم کی اصلاح نہیں ہوگی،اس امن وآشتی ،باہمی اعتماد اوردونوں فرقوں کے درمیان خوش گوارتعلقات کی امیدنہیں کی جاسکتی۔

پریس میں اپنی ذمہ داری کااحساس پیداکرنے کی کوشش

ہندوستانی پریس میں اپنی ذمہ داری کااحساس پیداکرنے کی مؤثراورطاقت ور اورمنظم اورمخلصانہ کوشش،یہ اخبارات اپنے ہیجان انگیز مضامین، سنسی خیزخبروں اور تصویر کابالعموم ایک رخ پیش کرنے اورایک فرقہ کے ظلم اورایک فرقہ کی مظلومیت ہی نمایاں کرنے کے ذریعہ لاکھوں انسان کے دل میں نفرت وعداوت کی آگ بھڑکادیتے ہیں اورکسی فرقہ،جماعت،یاآبادی کے ایک عنصرکی طرف سے شکوک وبدگمانیوں کاایک بادل بنادیتے ہیں۔

میرے خیال میں ملک کے دانشوراوربہی خواہ حکومت کی مشنری مداخلت کے بغیربھی اخبارات کے ذمہ داران اورلکھنے والوں کواپناپوراخلوص دے کراورتعلقات کی پوری طاقت صرف کرکے اس پرآمادہ کرسکتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری کازیادہ احساس کریں،اوراپنے فرائض اوریگانہ قابلیت وذہانت کوتخریب وانتشارانگیزی میں صرف کرنے کے بجائے تعمیراوراتحادپروری میں صرف کریں،یہ کام ملک کے دانشور، ادیب، اہل قلم (جن میں خودممتازصحافی اورجرنلسٹ اورکالم نویس ہیں)بہترطریقہ پرانجام دے سکتے ہیں،اوران کواس میں زیادہ تاخیرنہیں کرنی چاہیے۔(ملک کاحقیقی مسئلہ اوراس کے لئے اصلی خطرہ،ص:۲۱تا۲۳)

مسلمان ملک کی سیاست میں مؤثرکرداراداکریں

حضرت مولانانے مسلمانوں کوسیاست میں مؤثرکرداراداکرنے کی دعوت دی،جمہوری ملک میں سیاست میں شرکت ضروری ہے،آپ نے فرمایا:

’’دوسری بات یہ ہے کہ یہ ملک جمہوری ہے،اس ملک کی سیاست میں ہمارا حصہ ہے ،اس ملک کی قانون سازی میں ہماراحصہ ہے،ہمارے لئے یہاں پوراموقعہ ہے کہ ہم ملک کے انتظامیہ (Administration)کونہ صرف متاثرکرنے میں ممدومعاون بلکہ بعض اوقات فیصلہ کن ثابت ہوں،ہم پاسنگ کابھی کام کرسکتے ہیں، اوراس ملک میں قانون سازی ہم کو نظرانداز کرکے رہ نہیں سکتی،اگرمسلمان اپنے شہری حقوق کاصحیح ،جراتمندانہ وآزادانہ استعمال کریں توایوان قانون ساز (Parliament) انتظامیہ(Adminstration)اورحکومت کرنے والی پارٹی(Ruling Party)کسی طرح مسلمانوں کونظراندازنہیں کرسکتی،وہ مسلمانوں سے مستغنی نہیں رہ سکتی ، اورمسلمان چاہیں تواس پرانقلاب انگیزاثرڈال سکتے ہیں اور اس کی ہیئت کذائی بدل سکتے ہیں۔‘‘(مسلمان ہندکے لئے صحیح راہ عمل ،ص:۱۰)

غیر مسلموں کواسلامی نظام حیات سے واقف کرانے کی ضرورت

حضرت مولاناؒ کواس بات کابڑااحساس تھاکہ اس ملک میں جہاں مسلمان صدیوں سے آبادہیں،وہاں مسلمانوں نے برداران وطن کواسلام سے واقف کرانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی،جس کے نتیجہ میں آج بھی بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں،اس بارے میں ایک انٹرویومیں آپ نے فرمایا:

’’دوسری ضرورت یہ ہے کہ مسلمان تعلیم یافتہ طبقہ اورملک کے دانشور اور حقیقت پسندغیرمسلموں کواسلام کے عائلی نظام کی برتری ،اس کے منصفانہ ،عقل سلیم اور فطرت انسانی کے مطابق ہونے کوعلمی انداز،ناقابل تردیددلائل اورمذاہب اور عائلی قوانین اورنظاموں کے تقابلی مطالعہ کے ساتھ انگریزی،اردو،ہندی اورعلاقائی زبانوں میں پیش کیاجائے،یوں تومجلس تحقیقات ونشریات اسلام ،ندوۃ العلماء ،مرکزی مسلم پرسنل لاآفس مونگیر،مکتبہ جماعت اسلامی دہلی اوربعض دوسری تصنیفی وتحقیقی اداروں کی طرف سے متعددوقیع چیزیں شائع ہوچکی ہیں لیکن اس میں وسعت وترقی اوراضافہ کی ضرورت ہے،اس موضوع پرصاحب نظر،صاحب ایمان،ماہرین قانون اوراہل قلم سے کتابیں لکھوائی جائیں‘‘۔( تحفظ شریعت کے لئے مسلمانوں کااتحادان کی بیداری کاپیش خیمہ،ص:۲۹،ص:۱۰،شائع کردہ یوپی ایکشن کمیٹی مسلم پرسنل لابورڈ۱۹۸۵ء)

مذہبی طبقہ کومیدان میں آنے کی دعوت

حضرت مولانانے دانشوراورمذہبی طبقہ کوگوشۂ عافیت سے نکلنے اورانسانیت کی جوت جگانے کی دعوت دی،آپ نے علی گڑھ یونیورسیٹی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’اس وقت ضرورت ہے کہ دانشوراورمذہبی انسان میدان میں آئیں،اس وقت ضرورت ہے کہ ہماری یونیورسیٹیوں سے،ہماری دانش گاہوں سے افرادنکلیں اورمعاشرہ کوبچانے کی کوشش کریں،مجھے ڈرمعلوم ہوتاہے کہ آئندہ کامورخ جب اس معاشرہ کی تاریخ لکھے گاجس میں ہم اورآپ سانس لے رہے ہیں توکہیں یہ نہ لکھے کہ یہ حادثہ اس وقت پیش آیاجب ملک میں مسلم یونیورسیٹی موجودتھی،دارالعلوم دیوبندموجود تھا، ندوۃ العلماء موجودتھا،اورجامعہ ملیہ موجودتھی،ان کی موجودگی میں بلکہ ان کی دیوار کے نیچے اور ان کے سایہ میں سب کچھ ہورہاتھا،اس وقت ضرورت ہے کہ آپ میدان میں آئیں اور بگاڑکا،بے اصولی کا،بددیانتی کا، رشوت خوری کا،اورذخیرہ اندوزی کا، اقرباپروری اور خویش پروری کا،سندگی کااور(مجھ معاف کریں)سب سے بڑھ کرسفاکی اوردرندگی کا جو دھارابہہ رہاہے اورملک تباہی وبربادی کے جس رخ پرجارہاہے اس کاراستہ روک کر کھڑے ہوجائیں۔(ملک کاخطرناک رخ اوردانشوران طبقہ کی ذمہ دار ی ،ص:۱۴،۱۵)

مسلمان ملک میں اپنا امتیاز ثابت کریں

حضرت مولاناؒ نے مسلمانوں کوملک میں اپناامتیازثابت کرنے کی دعوت دی،آپ کی رائے یہ ہے کہ اگرمسلمان حقیقی معنی میں مسلمان بن گئے تونہ صرف یہ کہ ان کے سارے مسائل خودبخودحل ہوجائیں گے بلکہ حکومت بھی ان کے قدموں میں ہوگی،آپ نے فرمایا:

’’مسلمان قوم کایہ امتیازاوراس ملک کاجمہوری نظام ،پھرمسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی،یہ ساری باتیں مواقع فراہم کرتی ہیں کہ ہم یہاں کے نظم ونسق پر اثر انداز ہوں، یہاں قانون بنانے میں ہماراحصہ ہوسکتاہے،پھراس ملک کے جمہوری ہونے کی وجہ سے اس ملک کی قیادت کامنصب بھی ہم حاصل کرسکتے ہیں،اگرہم اپنے کو اخلاقی طورپر،باطنی طورپر،ذہنی طورپربھی اورعملی طورپربھی ممتازوفائق ثابت کردیں تواس ملک کی قیادت کے ہم طالب نہیں ہوں گے ،ملکی کی قیادت خودہماری طالب ہوگی،ہمیں سورج کاچراغ لے کرڈھونڈھے گی،یہاں کی خاک کے ذرہ ذرہ ،درخت کے پتہ پتہ سے آوازآئے گی کہ اس ملک کوبچانے والے کہاں ہیں؟آئیں اوراس ملک کوبچائیں!‘‘۔(مسلمانان ہندکے لئے صحیح راہ عمل ،ص:۱۶)

مسلمانوں کے دوبنیادی امراض

حضرت مولاناؒ نے ایک انٹرویومسلمانوں کے دواہم امراض کی نشاندہی فرمائی جوملت کے لئے سم قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں،ان میں پہلی چیزمسلمانوں کی بے صبری، اور دوسری قائدین کے بارے میں بے اعتمادی ہے ،حضرت کے الفاظ میں:

’’مجھے سب سے بڑاخطرہ (جواب خطرہ نہیں رہابلکہ مشاہدہ بنتاجارہاہے) مسلمانوں کی ان دوکمزوریوں یابیماریوں سے ہے جودل پرپتھررکھ کرکہتاہوں کہ ہندوستان کی حدتک ملی مزاج بنتاجارہاہے،ایک عجلت وبے صبری ،وہ یہ کہ مسئلہ کتناہی طویل المیعاد، صبرآزمااورپیچیدہ ہو،یہاں کے مسلمان ہتھیلی پرسرسوں اگانے کے قائل ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ جومہم صبح شروع ہوئی ہے وہ سورج غروب ہونے سے پہلے کامیاب ہونی چاہیے،اوربیل منڈھے چڑھ جانی چاہیے،مسائل کوکامیابی سے حل کرنے میں ایک بڑافیکٹرصبروتحمل،قوت برداشت اوربلندحوصلگی ہے،مسلمانوں ہی کی تاریخ نہیں،تمام زندہ وفاتح قوموں کی تاریخ تلخ وشیریں،سردوگرم،نشیب وفرازکے مناظرکامجموعہ اور ایک طویل ،صبرآزما،زہرہ گدازجدوجہدکی رودادہے،تحریکات اورمہمات کی تاریخ بھی ہمیں یہ سبق دیتی ہے ،لیکن ہندوستانی مسلمانون کامزاج اس کے برخلاف معرکہ چٹکیوں میں فتح کرلینے کاقائل ہے۔‘‘

’’مسلمانوں کی دوسری بڑی کمزوری جواب ایک نیشنل کیرکٹرکارنگ اختیارکرگئی ہے ، وہ ان کی اپنے قائدین کے بارے میں بے اعتمادی ،بدگمانی ،شدیداحتساب،بے ضرورت تنقید اورکردارکشی ہے،پھرافسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ برادران وطن کااپنے سیاسی ،تعلیمی،تعمیری رہنمائوں اورسماجی کام کرنے والوں کے بارے میں رویہ باکل مختلف ہے،اپنے رہنمائوں سے بلنداخلاقی معیار،ہرشک وشبہ سے بالاتردیانت کی توقع، اسلامی تعلیمات اوراسلامی تصورات کے عین مطابق ہے،لیکن اس میں اس حدتک افراط وغلوکہ ہرکام بدگمانی سے شروع کیاجائے،اورقائدوخادم ملت کوبے اعتمادی اوربے توقیری کی نظرسے دیکھاجائے اوراس پربڑے سے بڑاالزام لگانے میں پس وپیش نہ کیا جائے ، اس کے بارے میں بعیدازقیاس سے بعیدازقیاس بات کوفوراً باورکرلیا جائے ، افواہ پھیلانے اوران کومان لینے میں ذرابھی احتیاط وتامل سے کام نہ لیاجائے ،ایک ایسی مہلک بیماری ہے جوپورے شیرازہ ملت کودرہم برہم کرنے کے لئے کافی ہے‘‘۔(تحفظ شریعت کے لئے مسلمانوں کااتحادان کی بیداری کاپیش خیمہ،ص:۲۰،۲۳)

انفرادی ضرورتوں کو اجتماعی ضرورتوں پر قربان کرنے کی دعوتمفتی منور سلطان ندویملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںملکی حالات کا صحیح شعور و آگہیمولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی کی فکر و پیغام

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

کتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھو
بہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہار

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • ٹیکس
  • ٹیکس دینا کیسا ہے
  • اگست 5, 2026
  • 0 Comments
ٹیکس میں سود کی رقم دینا

ٹیکس میں سود کی رقم دینا ٹیکس جو حکومت عوام سے وصول کرتی ہے وہ دو طرح کے ہیں ۔ بعض منصفانہ ہیں اور خود اسلام میں ان کی گنجائش ہے مثلا پانی ، روشنی ، سڑک ، ہسپتال ، لائبریری اور پارک وغیرہ سہولتوں کے بدلے بلدیہ جو ٹیکس لیا کرتی ہے وہ اس کا فائدہ محسوس طور پر ہماری طرف لوٹا دیتی ہے ۔ دوسرے قسم کے ٹیکس ایسے ہیں جن کو غیر منصفانہ اور ناواجبی کہا جاسکتا ہے ۔ مثلا انکم ٹیکس جو بسا اوقات اسی فی صد تک پہنچ جاتا ہے شرعی اعتبار سے غیر منصفانہ ہونے کے علاوہ واقعہ ہے کہ اس قسم کے ٹیکس غیر معقول بھی ہیں کہ ایک شخص اپنے گاڑھے پسینہ سے جو کچھ حاصل کرے آپ اس کا اسی فی صد اجتماعی مفاد کے لئے وصول کر لیں۔ پہلی قسم کے ٹیکس میں بینک کی سودی رقم دینا درست نہ ہو گا اس لئے کہ وہاں سود دینا گویا اپنی ذات میں سود کا استعمال ہوگیا اس لئے کہ وہ بھی ان قومی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور فقہاء نے ایسے ٹیکس کی اجازت دی ہے جیسا کہ ابوالحسن مرغینانی کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے : فان اريد بها ما يكون بحق ككرى النهر المشترك واجر الحارس والموظف لتجهيز الجيش وفداء الاسارى وغيرها جازت الكفالة بها على الاتفاق – اگر اس سے وہ ٹیکس مراد ہیں جو جائز اور صحیح ہیں جیسے مشترک نہر کا کھودنا پولیس کی اجرت ، فوج کا انتظام کرنے والوں کی تنخواہ جو سب پر ڈال دی جائے یا قیدیوں کو کافروں کی قید سے چھڑانے کے لئے عطیات تو بالاتفاق ان کی کفالت کی جا سکتی ہے ۔ دوسری قسم کے ٹیکس میں یہ رقم دی جاسکتی ہے کہ اس طرح یہ مال حرام اس حکومت یا ادارہ کو پہونچتا ہے جس نے یہ مال امانت داروں کو سود کے نام سے دیا ہے ۔ جدید فقہی مسائل  : ج : 1 ص: (421 )

Read more

Continue reading
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 20, 2026
  • 0 Comments
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری: دو ملاقاتیں بقلم: ڈاکٹر محسن عتیق خان (مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند)   13 جولائی 2026 کو پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری صاحب، سابق صدر شعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی، کے انتقال کی خبر ملی تو جہاں ایک طرف مجھے آپ کی وفات پر انتہائی صدمہ لگا، وہیں دوسری طرف میں خود کو اپنی تساہلی پر کوسنے لگا۔ آج چار سال ہو گئے میری کتاب A Hostoy of Bais Rajputs کو شائع ہوئے مگر آپ سے ملنا تو دور ابھی تک آپ کی خدمت میں اس کا ایک نسخہ تک نہ ارسال کر سکا تھا۔ آپ کا حق تو یہ بنتا تھا کہ نہ صرف اُسکا نُسخہ بطور تشکر و امتنان کے آپ کو بھیجا جاتا بلکہ اس کی رونمائی بھی آپ سے کرائی جاتی کیونکہ آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اس پر ایک وقیع مقدمہ لکھا تھا جو کتاب کے موضوع کے تعلق سے اپنے اندر بہت سی قابل ذکر معلومات سموئے ہوئے تھا۔ یہ سن 2020 کے اوائل کی بات ہے، میری کتاب کا مسودہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا مگر میں ابھی بھی تشنگی محسوس کر رہا تھا اس لیے تقریباً سات سال تک اس موضوع پر کام کرنے کے باوجود کچھ نہ کچھ تحقیق و جستجو کا سلسلہ ابھی بھی چل رہا تھا۔ اس دوران مجھے پروفیسر جعفری صاحب کے کئی مضامين ملے جن میں اودھ کے زمینداروں اور بیس راجپوتوں کا تذکرہ تھا۔ میں نے جعفری صاحب کے بارے میں تھوڑا سا سرچ کیا تو پتہ چلا کہ آپ ہندوستان کے ممتاز مؤرخ، دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق صدر، اور انڈین ہسٹری کانگریس کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ آپ کو ایک ایسے مؤرخ کے طور پر جانا جاتا ہے جن کی علمی تحقیق مضبوط آرکائیوی شواہد پر مبنی ہے اور جو عام لوگوں کی سماجی و معاشی زندگی کو سمجھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی جہاں آپ نے معروف مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بینک کے سود کے مصارف 05.08.2026
  • ٹیکس میں سود کی رقم دینا 05.08.2026
  • بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا 05.08.2026
  • قسطوں پر سامان کی فروخت 05.08.2026
  • عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟ 05.08.2026
  • مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری 01.08.2026
  • کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ 29.07.2026
  • اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟ 29.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

بینک کے سود کے مصارف

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
مضامین و مقالات

ٹیکس میں سود کی رقم دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

قسطوں پر سامان کی فروخت

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

  • hira-online.com
  • اگست 1, 2026
مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری
فقہ و اصول فقہ

کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟
فقہ و اصول فقہ

اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top