Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندوی

  1. Home
  2. حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندوی

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندوی

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • اکتوبر 26, 2025
  • 0 Comments

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی
از : مولانا آدم علی ندوی


حالات زندگی
حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ۱۹۲۹ء کو اس خانوادہ میں ہوئی جس کی دینداری و تقوی، عالی نسبی و عالی ہمتی کی تعریف حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے فرمائی ، جس کو ایمان و عزیمت کی وراثت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ سے ملی ، جہاں بچوں کو یہ لوریاں سنائی جاتی تھیں۔
الہی ہو مجھ کو شہادت نصیب
یہ بہتر سے بہتر عبادت نصیب
حضرت کی تعلیم و تربیت ڈاکٹر سید عبد العلی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی زیر سایہ ہوئی، دارالعلوم ندوۃ العلماء ، دار العلوم دیوبند اور مظاہر العلوم کے نورانی ماحول میں تعلیم کی تکمیل ہوئی۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃاللہ علیہ کی شفقتوں نے اس میں مزید نکھار پیدا کر دیا ، مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی توجہات نے داعیانہ مزاج کی تشکیل کی اور مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے ملی وقومی مسائل پر تحلیل و تجزیہ کا ہنر دیا اور مولانا عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے تزکیہ و تربیت سے قلب کو سلیم بنادیا۔
ندوۃ العلماء کی تدریسی خدمات سے لے کر اہتمام و نظامت تک کی ذمہ داریاں آپ نے انجام دیں، مسلم پرسنل لا بورڈ ، رابطہ ادب اسلامی کی صدارت آپ کے حصہ میں آئیں۔
آخر کار ملت اسلامیہ کا مرشد، علم وادب کا سر پرست ۱۳/اپریل ۲۰۲۳ ء کو اپنے خالق سے جاملا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
امتیازی خصوصیات
حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ میں فکری توازن و اعتدال، علمی گہرائی ، دین کے لئے جانثاری، تصنیفی ذوق ، نرمی وتحمل مزاجی ، دیانت و تقوی یہ وہ خصوصیات ہیں جو آپ کو ورثہ میں ملیں اور آپ کی خاندانی امتیازات میں شامل ہیں لیکن تواضع وانکساری میں آپ کا کوئی ہم پلہ نہیں۔
اسی طرح دوسرے تمام علماء و مفکرین سے جو خصوصیت آپ کو ممتاز کرتی ہے وہ آپ کی عصری آگہی ہے، جس میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ، طوفان سے پہلے طوفان کو بھانپ لیتے ، ہوا کا رخ دیکھ کر بارش کا پتہ دیتے ، چہرہ دیکھ کر دل کی عبارت پڑھ لیتے۔
عصری آگہی میں معاون عناصر
حضرت مولا ناسید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ چونکہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے سب سے زیادہ قریب رہے اور ان کے اسفار میں برابر شریک رہے ہیں ، جس کی وجہ سے اہم شخصیتوں اور حکمرانوں سے ملاقات اور تبادلہ خیال کا کثرت سے موقع ملا ، اس لئے مولانا کو حقیقتِ حال اور مسائل کی نزاکت سے واقفیت کا جو موقع ملا وہ بہت کم لوگوں کو حاصل ہوا۔
آپ کے بڑے ماموں ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنی رحمۃ اللہ علیہ نے نئے موضوعات پر خصوصا جدید علوم جغرافیہ وغیرہ پر مطالعہ و کام کرنے کے لئے ابھارا اور رہنمائی کی اور اس میدان کا ہیرو بنا دیا۔
اسی طرح عالم عربی کے ان ممتاز ادیبوں اور صحافیوں سے حضرت کا برابر ربط رہا جو ملت کا درد رکھتے تھے اور ملت کو پیش آنے والے مسائل اور خطرات ، ملت کے خلاف ہونے والی عالمی سازشوں سے واقف تھے، چونکہ تعلیم سے فراغت کے بعد ۱۹۵۱ء میں تقریبا ایک سال مستقل آپ نے وہاں قیام کیا اور وہاں کی بڑی شخصیات سے استفادہ کیا اور اور حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ان ممالک میں آتے جاتے رہے ، اس لئے وہاں کے حالات و مسائل کو سمجھنے میں بڑی آسانی ہوئی ، اور آپ خلیجی ممالک کے لئے خبیر و بصیر ہو گئے ۔
ہندوستان کے مسلمانوں کے مسائل سے واقفیت اور ان کے حل کے اسباب و وسائل کا علم بھی حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ سے منسلک رہنے اور ان کی صحبت و تربیت کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے سنِ شعور سے ہی برابر سیاسی و سماجی قائدین ، علماء و دانشوران ، ہر سطح کے لوگوں سے ملاقات و تبادلہ خیال کا برابر آپ کو موقع ملتا رہا ، اور یہ آپ کی ملی و عصری بصیرت و آگہی میں بڑا معاون ثابت ہوا۔
ندوہ کی آب و ہوا اور عربی واردو صحافت سے آپ کی وابستگی نے اس میں چار چاند لگا دیئے ، ایک جگہ مولانا تحریر فرماتے ہیں:
"ملکی و بیرونی جرائد و مجلات کے مطالعہ سے بہت فائدہ ہوا جو ثقافتی فکری اجتماعی سیاسی اور زمانہ کے حالات و تقاضے کو سمجھنے میں بہت معاون ہوا”۔ ( اوراق زندگی (١٠٤)
نیز آپ جس دور سے گزر رہے تھے وہ مشرقی ممالک کے مغرب سے آزادی کا وقت تھا ، آپ کے الفاظ میں "مغلوب ممالک کی یہ حالت کہ جیسے کوئی پرندہ اپنے قفس سے نکلنے کی امید میں زور لگاتا ہے ، اس حالت کو محسوس کرنے کا موقع مل رہا تھا۔”
عرب ممالک ، وہاں کے مسائل و حالات ، جغرافیہ وسماجی زندگی کو سمجھنے میں آپ کے لئے معاون وہاں کی زبان و ثقافت سے آپ کی دلچسپی بھی ہے، آپ نے اس کا اظہار بھی فرمایا:
"خاص طور پر عرب ممالک جہاں کی زبان و ثقافت میرا اصل موضوع تھا ، لہذا وہاں کے حالات سے مجھے واقف ہونے کا موقع مل رہا تھا” ( عالم عربی اور سامراجی نظام )
۱۹۵۹ء میں الرائد آپ نے نکالا اور اس میں حالات حاضرہ اور عالمِ اسلام ، خصوصا خلیجی ممالک کے حالات پر علمی و تحلیلی تبصرہ و تجزیہ کا سلسلہ شروع کیا جو وہاں بڑی وقعت کے ساتھ پڑھے جاتے تھے۔
عالمِ اسلام
خلیجی ممالک کی سیاسی تبدیلی ، سلاطین کی بے راہ روی ، ملک کی اقتصادی و دفاعی کمزوری ، اخلاقی انارکی پر حضرت صرف لکھتے ہی نہ تھے، بلکہ کڑھتے اور تڑپتے تھے اور پھر اسی خونِ دل کو تحریر کی شکل میں صفحۂ قرطاس پر اتار دیتے ، رہبری و رہنمائی کرتے اور سامراجی طاقتوں کی چالبازیوں سے ہوشیار و متنبہ کرتے اور ان سے بچنے کی تدبیریں بتاتے، فلسطینی مسلمانوں اور بیت المقدس کے لئے برابر فکر مند رہتے ، اپنے مضامین و مشوروں کے ذریعہ اس کا حل بتاتے اور
بازیابی کی مثبت کوششوں میں شریک رہتے۔ ترکی کی بیداری اور وہاں کی حالیہ بہتری میں آپ کا بھی حصہ ہے۔
ترکی کے سلسلہ میں یہ شعر کوڈ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
مراکش جا چکا ، فارس گیا اب دیکھنا یہ ہے
کہ جیتا ہے یہ ٹرکی کا مریض سخت جاں کب تک
"ترکی کا مریض سخت جاں بلب ہو چکا تھا اور آثار اچھے نہ تھے، لیکن خدا کی قدرت و حکمت کے سامنے سب ہیچ ہے ، وہ مردہ کو زندہ کر سکتا ہے، چنانچہ حالات نے کروٹ لینا شروع کیا اور ترکی کا قریب المرگ مریض صحت کی طرف مائل ہوتا نظر آنے لگا۔۔۔۔۔۔ ترکی عالم اسلام کا دھڑکتا ہوا دل رہا ہے ، اسی دھڑکتے ہوئے دل کو یورپ کی اسلام دشمنی و دسیسہ کاریوں نے مردہ بنانے کی کامیاب کوشش کی تھی لیکن اب حالات پلٹ رہے ہیں۔” (عالم اسلام اور سامراجی نظام – ۱۳۸-۱۳۹)
مرشدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ اپنے وسیع مطالعہ و تجربے کی بنیاد پر حالات کی سنگینی کے باوجود کبھی مایوس نظر نہیں آتے۔ لکھتے ہیں:
"حقیقتا امت مسلمہ ابتلا و آزمائش کی بھٹی میں تپ کر کندن بن جائے گی
اسلام کی فطرت میں قدرت نے پچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤ گے۔
مسلمانوں کی ترقی و عروج اور غلبہ کا وقت آ پہنچا ہے اور انشاء اللہ جلد ہی وہ اپنے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کر لیں گے اور عزت و وقار ، شان و شوکت کی بلندی پر فائز ہوں گے، جو ان کا طرہ امتیاز رہ چکا ہے۔” (عالمِ اسلام اور سامراجی نظام – ١٣٦)
آپ کا یقین تھا کہ دنیا دار الاسباب ہے ، یہاں کے انقلابات اور تبدیلیاں سب اسباب کے تابع ہیں ، اسی لئے ہمیشہ آپ ان اسباب و عوامل پر انگلی رکھتے جن کے ترک سے مسلمان شکست خوردگی اور پسپائی کا شکار ہوا ہے اور یورپ غالب آیا ہے اور ظاہری اسباب سے زیادہ معنوی اسباب کی طرف متوجہ کرتے جس میں ملک و معاشرہ کا ہر فرد مبتلا ہے، جو خدا کی ناراضگی اور اس کے قہر کو دعوت دیتے ہیں، چنانچہ ترکی کے آخری دور میں جبکہ وہ بہت مقروض تھا:”ترکی خلیفہ کے پاس یہودی نمائندہ گیا اور اس نے کہا کہ آپ کا جو قرض ہے ، ہم آپ کا سارا قرض ادا کر دیں گے، بس آپ ہم کو فلسطین ( بیت المقدس ) میں جگہ دیدیں ، ترکی خلیفہ کے ایمان کی بات ہے کہ یہ سنتے ہی ان کو دینی غیرت اتنی ہوئی کہ غصہ آگیا ، کہا : بیت المقدس تم کو دیدیں؟ کہا! اس کتے کو یہاں کون لایا ہے؟ نکالو اس کتے کو یہاں سے ، کہا! ہم فلسطین کی زمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑ سکتے ، یہ ہماری عزت اور دین کی علامت ہے۔
یہ تھی ایمان کی بات ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اسلامیت پر ہی ان کی مدد کی، صدیوں دنیا پر غالب رہے اور سب سے زیادہ طاقتور رہے۔(حالات حاضرہ اور مسلمان۔٢٩.٣٠)
ہندوستان کے مسائل اور حضرت کی حکمت عملی
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی ہندوستان کی تاریخ پر گہری نظر تھی ، اسلامی حکومت کے خاتمے اور انگریزوں کے غلبے کے اسبابِ ظاہری و معنوی سے خوب واقف تھے، آزادی کے بعد ہندوستان کے سنگین حالات کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کیا تھا، حضرت مدنی کے خاص شاگرد رہے تھے ، جمہوریت کی نزاکتوں اور کمزوریوں پر نگاہ تھی ، اقلیت واکثریت کی پیچیدگیوں سے اچھی طرح باخبر تھے، اسی وجہ سے ہندوستان کے موجودہ مسائل پر آپ بہت سنجیدہ تھے اور تعمیری و ٹھوس حکمت عملی اختیار کرتے تھے اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے اسٹیج سے ہمیشہ لوگوں سے یہی مطالبہ بھی کرتے تھے، جبکہ ناواقف کوتاہ بیں لوگ اس کو دوسرے ناحیہ سے دیکھتے تھے اور جذباتیت کی وجہ سے ماحول خراب کرتے تھے۔ ایک جگہ آپ تحریر فرماتے ہیں:
"حقیقتِ احوال کے سلسلہ میں ہم کو سنجیدہ اور تعمیری انداز اختیار کرنے کی ضرورت ہے، اس میں صرف حق تلفی کرنے والوں کے خلاف محض آواز اٹھانے سے مسئلہ بہت کم حل ہوتا ہے، آواز اٹھانا غلط نہیں ، البتہ اس سے زیادہ ٹھوس عملی کوششوں کی ضرورت ہے، اس کے لئے ہم کو تعلیم کے نجی ذرائع اور ذرائع ابلاغ کا بھر پور استعمال اور ہم وطنوں کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرنے والی غلط فہمیوں کے ازالہ کی کوشش کرنا چاہئے ۔ ( حالات حاضرہ اور مسلمان – ۲۱۵)
ایک بڑی حقیقت جو عموما لوگوں کے نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے اور بار بار ہمارے وقار کو مجروح کرتی ہے، وہ ہمارے مطالبہ کی عادت ہے، جو دشمن کو ہنسی اور زخم پر نمک چھڑکنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور برابر ہم زہر سے تریاق تلاش کرنے میں اپنی صلاحیتوں کو ضائع کرتے رہتے ہیں۔ حضرت اس حقیقت پر انگلی رکھتے ہیں:
"اقلیت کے افراد کو کمی سے سابقہ پڑتا ہے لیکن اس کمی کو اگر قانونی بنیاد پر وہ دور نہ کرا سکتے ہوں ( یا حکومت بالقصد اس کو پورا نہ کرنا چاہتی ہو ) تو اس کو اپنی نجی تدبیروں نیز توجہ اور فکر مندی سے پورا کر سکتے ہیں، دنیا کی بیدار مغز اور حوصلہ مند اقلیتیں اس ضرورت کو محسوس کرتی ہیں اور اپنی ملت کی ضرورتوں کے لئے اپنی نجی غیر حکومتی ذرائع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرگرم عمل ہوتی ہیں اور اپنی اس ہوشمندی سے اکثریت کے مقابلہ میں پیچھے نہیں رہتیں ، بلکہ بعض وقت آگے بڑھ جاتی ہیں ، اس کی مثالیں عہد حاضر میں بھی مختلف ملکوں میں دیکھی جاسکتی ہیں”(حالات حاضرہ اور مسلمان۔ ۲۱۳)
جب ہندوستان میں ایک خاص طبقہ کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کو تشدد پسند ثابت کرنے کی آخری کوشش کی گئی اور صاف ذہنوں کو بھی اس گندگی سے ان لوگوں نے نجس کر دیا اور اسلام کی غلط تصویر ہم وطنوں کے سامنے پیش کی جانے لگے تو حضرت بے چین ہو گئے اور ایک دو مضمون یا پمفلٹ نہیں بلکہ دو ضخیم کتابیں اپنی بیماری و صحت کی خرابی کے باوجود تیار کیں (۱) رہبرِ انسانیت (۲) قرآن رہبر کامل۔اور ہندی ،انگریزی میں اسے منتقل کراکے دانشوروں اور ہم وطنوں کے ذہن کو تبدیل کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔
صحافت
صحافت ہر زمانہ کی بڑی ضرورت ہوتی ہے ، مولانا کی پوری زندگی اس سے وابستہ رہی ہے، شروع سے ہی عربی واردو جرائد و مجلات سے جڑے رہے ، صبح صادق لکھنو ، رضوان ، ندائے ملت، تعمیر حیات کے ذریعہ تشنگانِ علم کی پیاس بجھاتے رہے،اور ١٩٥٩ءمیں الرائد نکالنا شروع کیا اور البعث الاسلامی میں برابر لکھتے رہے اور اپنے آسان سنجیدہ علمی اسلوب سے اردو و عربی صحافت کو مالا مال کر دیا اور لوگوں کے ذہن و فکر کو بدلنے میں بڑا کام کیا اور ایک کامیاب و موثر ٹیم تیار کی ، اور دار العلوم ندوۃ العلماء میں آپ ہی کی نظامت میں صحافت کی باقاعدہ تدریس وٹریننگ کا شعبہ کھولا گیا۔
آپ ہمیشہ اس موثر میدان میں مغرب اور غیروں کے آگے رہنے اور اس کے ذریعہ لوگوں کے ذہنوں پر حکمرانی کرنے اور اپنے لوگوں کے پیچھے رہنے اور اس کی اہمیت کو نہ سمجھنے پر شکوہ کناں رہے اور لوگوں کو اس میدان میں آگے آنے پر آمادہ کرتے رہے اور ابھارتے رہے، لکھتے ہیں:
"اسی طرح ہم نے نہ اسلامی ممالک اور نہ غیر اسلامی ممالک میں ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنے کی طرف توجہ دی ، اس میدان میں ہماری جدوجہد نہ ہونے کے برابر ہے”۔ (حالات حاضرہ اور مسلمان۔ ٤٦)
حضرت کے یہاں غیر سنجیدہ اور اشتہار کے لئے استعمال ہونے والی صحافت کا کوئی فائدہ نہیں، لکھتے ہیں :
"دیکھنے میں آیا کہ مسلمانوں کا اس وقت مزاج کام کرنے سے زیادہ نام کرنے کا بن گیا ہے ، جد و جہد سے زیادہ جد و جہد کا اعلان اور پروگرام پر عمل کرنے سے قبل اس کا بے تحاشا اعلان اپنا وطیرہ بنائے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ حال یہ ہے کہ تجاویز پاس کر دینا اور بیانات دے دینا ہمارے لئے زیادہ آسان ہو گیا ہے، ہم زبان کے دھنی ہیں اور اسی میں ہم کو مزہ آتا ہے اور خوشی ہوتی ہے اور اسی کی واہ واہی کے لئے ہم بزمیں سجاتے ہیں، اگر ان تمام تجاویز و بیانات کو جمع کر لیا جائے تو ایک نیا ہمالہ تیار ہو جائے ۔۔۔ ہمارے پاس ذرائع ابلاغ نہیں ، ہم وہ لٹریچر نہیں تیار کر پا رہے ہیں جس سے دوسروں کو سمجھا سکیں اور اسلام کی خوبیوں کو سامنے لاسکیں”۔ (عالم اسلام اور سامراجی نظام۔(۲۵۳ ۲۵۲،۲۰۱)
نئے مسائل اور حضرت کی فکرمندی
حضرت رحمۃ اللہ علیہ جہاندیدہ ، ہمہ گیر و ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے، عالمی تغیر و تبدیلی سے گہری واقفیت رکھتے تھے ،سائنس وٹکنالوجی کی ایجادات اور اس سے رونما ہونے والے مسائل کا اچھی طرح آپ کو اندازہ تھا ، اس کے لئے جہاں آپ نے فکری رہنمائی ورہبری فرمائی، وہیں فقہی رہنمائی بھی کی ، اسلامک فقہ اکیڈمی کے سیمیناروں میں شرکاء کو اجتہاد واستنباط پر ابھارتے اور رہنما خطوط واضح فرماتے ، اس کا اندازہ اسی میدان کے بڑے فقیہ خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کے ان الفاظ سے ہم کر سکتے ہیں:
"اس حقیر کو ان سے پچھلے دنوں ندوہ میں ایک حاضری پر تھوڑی دیر فقہ کے موضوع پر گفتگو کرنے کا موقع ملا اور بہت دیر تک مولانا نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ تہذیب و ثقافت کے تغیر اور ثقافتی احوال کی تبدیلی سے احکام فقہیہ میں کیا تبدیلی آتی ہے اور بہت سی مثالیں اس سلسلہ میں دیں، تو واقعی مجھے ایسا لگا کہ مولانا کی شخصیت کے اندر ایک اور شخصیت چھپی ہوئی ہے” ( ندوۃ العلماء کا فقہی مزاج ۔ منور سلطان ندوی۔ ۳۳۳)
ایک سیمینار میں فرمایا:
"یہ موجودہ تمدن ہے اور موجودہ ترقی ہے، سائنس کی ترقی اس نے مسائل پیدا کئے ، انقلابی صورت حال پیدا ہو گئی، اس وقت ہم کو اس طرح کی نئی باتوں میں اجتہاد کرنے کی ضرورت پڑے گی” ( مقاصد شریعت – ۸۷)
اس ضرورت کو واضح کرنے کے بعد اس کے طریقہ کار کی بھی رہنمائی فرمائی:
"ہمارے اسلاف نے جو اجتہاد کیا ہے اور جو انہوں نے طریقہ کار اختیار کیا ہے، جو اصول مقرر کئے ہیں، اجتہاد و استنباط ان اصولوں کی بنیاد پر کرنا ہوگا ، اسی لائن پر چلنا ہو گا، اسی دائرہ کے اندر رہ کر کرنا ہو گا۔ (فقہ اسلامی اور عصر جدید ۔ ۳۵)
فقہ اکیڈمی کے ایک سیمینار میں دوران گفتگو سوال اٹھایا کہ:
"آلات ربط اور انٹرنیٹ انسانوں کی عام زندگی میں داخل ہو چکے ہیں اور ان سے اس طرح فائدہ اٹھایا جانے لگا ہے جس طرح آپس میں براہ راست رابطہ قائم ہونے کی صورت میں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں شریعت اسلامی کی روشنی میں عقود و معاملات کو ان کے ذریعہ کسی حد تک عمل میں لایا جا سکتا ہے؟”(فقہ اسلامی اور عصر جدید – ۸۱)
قلب ماہیت کی مختلف صورتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
"فقہ اسلامی کو اس کے مختلف پہلوؤں اور شکلوں پر نظر ڈال کر شریعت اسلامی کی رہنمائی حاصل کرنا ہے۔” (فقہ اسلامی اور عصر جدید۔۸۲)
سودی نظام اور سودی بینک کاری جو اہم مسئلہ ہے اور جس میں ابتلاء عام ہے، اس کے مضرات کا تذکرہ کرنے کے بعد اس کا حل پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
"اس کے لئے رفاہی فنڈ یا مالی تعاون کے ادارے یا تجارتی طریقہ کار کے رکھنے والے توفیرِ مال کے ادارے قائم کرنے سے ایک خاصی حد تک وہ مقاصد پورے ہو سکتے ہیں ، جن سے بینک کاری سے مطلوب فوائد کے مساوی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں اور ان اداروں کے قیام سے اسلامی تصور کے مطابق ہمدردی و امداد کا مقصد بھی پورا ہو سکتا ہے، بیمہ اسکیموں کے بجائے مسلمان حکومت کے تعاون سے ایسی مالی تنظیمیں تشکیل دی جا سکتی ہیں جو بیمہ اسکیموں سے مطلوب فوائد کا اسلامی اور تعمیری بدل حسن بھی ہو سکتی ہیں۔
اس رخ پر اگر ہمارے علماء کرام اقتصادیات کے مسلمان ماہرین کے مشورہ سے یا اقتصایات کے ماہر مسلمان علماء کرام کے تعاون و مشورہ سے غور کریں تو نہایت صالح اور ستھرے نتائج برآمد ہونے کی بڑی توقع ہے۔ ( عالم اسلام اور سامراجی نظام۔١٧٤)
نفسیات کے ماہر اور حکمت و بلاغت کے پیکر
حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ یقینا پیغمبر نہیں تھے کہ خطا کا امکان نہ ہو، لیکن اپنی گہری واقفیت، وسیع تجربه و دوراندیشی ، نفسیاتِ انسانی اور تاریخِ انسانی سے دلچسپی ، تہذیب و ثقافت کے عمیق مطالعہ کی وجہ سے ہمیشہ صحیح نتیجہ تک پہنچتے تھے اور اپنی تحریر و تقریر میں حکمت و بلاغت کی وجہ سے غلطی و چوک سے عموما محفوظ نظر آتے ہیں۔
اسی لئے جن اداروں اور تنظیموں کو آپ کی سر پرستی حاصل رہی وہ بھی ہمیشہ مثبت و تعمیری کاموں میں لگے رہے۔
آپ کی اس خوبی و کمال کو آپ کی تحریروں و تقریروں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جذباتیت و شدت سے پاک اور حکمت و موعظت کا شاہکار ہیں۔ خصوصا آپ کی کتاب ”سماج کی تعلیم و تربیت” کا مطالعہ آپ کی نفسیات پر گہری نظر کو آشکار کر دیتا ہے۔
جغرافیہ
اس وقت صفِ علماء میں حضرت مولانا سید محمد رابع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو علمِ جغرافیہ پر جس قدر عبور حاصل تھا ، وہ کسی اور کو حاصل نہیں تھا ، اس سے قبل ڈاکٹر عبدالعلی صاحب کو اس میں امتیاز حاصل تھا اور آپ نے اس میدان میں مہارت ان ہی کی رہنمائی میں حاصل کی اور مسلسل تین سالوں تک محنت کرتے رہے اور پھر اسی محنت کا ایک جزء "جزیرة العرب” وجود میں آیا جو نصابِ تعلیم کا حصہ بنا اور تاریخ وسیرت کے طالب علموں کا مرجع ۔
"حج و مقامات حج” بھی اسی سلسلہ کا تتمہ ہے اور "سمرقند و بخارا کی بازیافت” جو ایک سفرنامہ ہے، لیکن ان تاریخی علاقوں کا طبعی و عمرانی جغرافیہ بھی۔
جغرافیہ کا علم کسی علاقہ اور وہاں کے لوگوں کو سمجھنے میں بڑی اہمیت رکھتا ہے اور بغیر اس علم کے وہاں کی تہذیب و ثقافت کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے ، حضرت کو چونکہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی خلافت و جانشینی حاصل تھی اور پورے عالم میں کام کرنا تھا ، اس لئے اس کو موضوع بنایا اور اس کے ذریعہ پوری ملت اسلامیہ کی رہنمائی ورہبری کا کام لیا۔
حضرت مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے "ارض القرآن” لکھ کر ملت اسلامیہ پر جس طرح ایک بڑا احسان کیا اسی طرح حضرت نے جغرافیہ کو موضوع بنا کر اور قیمتی تصنیفات چھوڑ کر مسلمانوں پر عظیم احسان کیا ، حضرت نے اس علم کی طرف سے غفلت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے :
"افسوس کی بات ہے کہ اس ضرورت کو پورا کرنے والا علم جو جغرافیہ کے نام سے موسوم ہے، کم از کم عالم اسلام کے جغرافیہ کی حد تک بھی بہت کم مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہے”۔ (بین الاقوامی اسلامی جغرافیہ، الیاس بھٹکلی ندوی ، مقدمہ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ)

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی
ہیرا جو نایاب تھا

Related Posts

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور
  • hira-online.comhira-online.com
  • ڈاکٹر محمد منظور عالم
  • ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور
  • جنوری 13, 2026
  • 0 Comments
ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور از : مولانا ابو الجیش ندوی آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کچھ شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ ادارے بن جاتی ہیں، رجحانات کو جنم دیتی ہیں اور آنے والی نسلوں کی فکری سمت متعین کرتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ (1945–2026) ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے علم، تحقیق، ادارہ سازی اور ملت کی اجتماعی قیادت کو ایک وحدت میں پرو دیا۔ ان کی زندگی ایک ایسا سفر تھی جو جذباتی ردعمل سے ہٹ کر ڈیٹا پر مبنی فکر کی طرف مائل کرتی ہے۔ ابتدائی زندگی اور علمی تشکیل ڈاکٹر منظور عالمؒ 9 اکتوبر 1945 کو مدھوبنی، بہار میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا انتخاب کیا، جہاں سے معاشیات میں PhD حاصل کی۔ یہ وہی دور تھا جب ان کے اندر اسلامی فکر اور عصری سماجی علوم کے امتزاج کا وژن ابھرا۔ بعد میں سعودی عرب منتقل ہوئے، جہاں اسلامی معیشت پر تدریس و مشاورت کی اور سعودی وزارتِ خزانہ کے اقتصادی مشیر رہے۔ مدینہ منورہ کے King Fahd Qur’an Printing Complex میں قرآن ترجمہ کے قومی منصوبے کے چیف کوآرڈینیٹر کے طور پر ان کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (IOS): فکر کی ادارہ سازی 1986 میں نئی دہلی میں قائم ہونے والا Institute of Objective Studies (IOS) ڈاکٹر منظور عالمؒ کے فکری وژن کا عملی مظہر تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو جذبات کے بجائے تحقیق اور پالیسی پر مبنی سوچ کی ضرورت ہے۔ IOS نے:410 سے زائد تحقیقی منصوبے مکمل کیے400 سے زیادہ معیاری اشاعتیں شائع کیں1200 سے زائد کانفرنسیں، سیمینارز اور ورکشاپس منعقد کیںیہ ادارہ تعلیم، معاشیات، سماجی انصاف، اقلیتی حقوق، فرقہ واریت اور ثقافتی شناخت جیسے شعبوں میں ہندوستانی مسلم فکر کا معتبر مرکز بن گیا۔ انہوں نے تحقیق کو محض علمی ورزش نہیں بلکہ ملت کے اجتماعی فیصلوں کی بنیاد بنایا۔ آل انڈیا ملی کونسل: فکر سے عمل کی طرف IOS اگر فکر کا مرکز تھا تو آل انڈیا…

Read more

Continue reading
سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پرواز
  • hira-online.comhira-online.com
  • پرواز رحمانی
  • سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پرواز
  • جنوری 8, 2026
  • 0 Comments
سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پرواز

سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹرپرواز رحمانی کی آخری پرواز معصوم مرادآبادی میں ابھی ابھی سینئر صحافی اور ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی تدفین میں شرکت کرکے واپس آیا ہوں۔ان کی تدفین میں عوام وخواص کی خاصی بڑی تعداد شریک تھی اور ہر زبان پر ان کی صحافت اورشرافت کے یکساں چرچے تھے۔ بلاشبہ پرواز رحمانی جتنے ذہین، سنجیدہ اورباوقار صحافی تھے، اتنے ہی اچھے اور بااخلاق انسان بھی تھے۔ انھوں نے نصف صدی پر محیط اپنی صحافتی زندگی میں ہمیشہ صحافت کی اعلیٰ اقدار کی پاسبانی کی اور کبھی سنسنی خیزی یا زرد صحافت کو منہ نہیں لگایا۔ وہ اردو صحافیوں کی اس نسل کے آخری آدمیوں میں سے تھے جن کے نزدیک صحافت ایک پروفیشن سے زیادہ ایک مشن کا درجہ رکھتی تھی ۔ پرواز رحمانی کچھ عرصے سے صحت کے مسائل سے نبرد آزما تھے۔آخری دنوں میں انھیں برین ہیمریج کی وجہ سے اوکھلا کے الشفاء اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انھوں نے گزشتہ رات آخری سانس لی۔لوگوں کو امید تھی کہ وہ الشفاء اسپتال سے شفایاب ہوکر واپس آئیں گے، لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا اور وہ وہاں چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ان سے میرا تعلق اس زمانے سے تھا جب ’دعوت‘ کا دفتر پرانی دہلی کے سوئیوالان علاقہ میں واقع تھا۔ وہیں ان کی رہائش بھی تھی، لیکن جماعت اسلامی کے دفاتر کے ساتھ ’دعوت‘ کا دفتر بھی اوکھلا منتقل ہوا تو وہ بھی بادل نخواستہ اوکھلا چلے گئے، لیکن کافی عرصہ ان کی رہائش سوئیوالان کے پرانے مکان ہی میں رہی۔ وہ ڈی ٹی سی کی بس میں بیٹھ کر روزانہ اوکھلا جاتے تھے اور شام کو کام نپٹاکر گھر واپس آجاتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’دعوت‘ کے مستقل کالم ”خبرونظر“ کے معیارکو برقرار رکھنا تھا۔’دعوت‘ میں یہ کالم اس کے سابق ایڈیٹر محمد مسلم نے شروع کیا تھا۔ پرواز رحمانی کی صحافتی تربیت بھی محمدمسلم نے ہی کی تھی اور وہ انھیں صحافت میں اپنا رہنما تصور کرتے تھے۔ محمدمسلم کی خوبی یہ تھی کہ ان کا دائرہ بہت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top