Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
19.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
19.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ کی کتاب تاریخ ندوہ العلماء پر ایک طائرانہ نظر!نقی احمد ندوی

  1. Home
  2. ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ کی کتاب تاریخ ندوہ العلماء پر ایک طائرانہ نظر!نقی احمد ندوی

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ کی کتاب تاریخ ندوہ العلماء پر ایک طائرانہ نظر!نقی احمد ندوی

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • اکتوبر 8, 2025
  • 0 Comments

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ کی کتاب تاریخ ندوہ العلماء پر ایک طائرانہ نظر!
نقی احمد ندوی


تاریخ نویسی ایک ایسا فن ہے جس کے ساتھ انصاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ تاریخ نویس کا ذاتی تجربہ، اسکا میلان اور لگاو، اس کی فکر اور آراء اکثروبیشتر تاریخ نویسی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ دنیا میں وہی تاریخ نویس قابل اعتماد مانے گئے ہیں جنھوں نے حتی الامکان ان سے بچتے ہوئے حقائق پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
حال ہی میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کی ایک نئی کتاب (تاریخ ندوہ العلماء) شائع ہوئی ہے جو ہندوستان کے مشہور اسلامی درسگاہ دارالعلوم ندوہ العلماء کی تاریخ اور اسکی خدمات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب ایک زود نویس قلمکاراور مصنف ہیں جن کا بنیادی موضوع حدیث رہا ہے۔ ہم ڈاکٹر صاحب کی اس کوشش کی ستائش کرتے ہیں کہ انھوں نے عالم عرب میں ندوہ کا تعارف کرانے کی پہل کی ہے، جس کی ضرورت بہت دنوں سے میں شدت سے محسوس کررہا تھا۔ یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں بارہ سو اڑتالیس صفحات ہیں۔ کتاب پر سرسری نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے دارالعلوم ندوہ العلماء کی ایک خوبصورت تصویر عربوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو انکی اپنے ادارہ سے لگاو، اپنے بزرگوں اور اساتذہ سے والہانہ محبت اور اپنی مادر علمی کے تئیں فکر اور اس کے لئے کچھ کرنے کے نیک عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ کتاب پندرہ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں تحریک ندوہ العلماء کا ذکر ہے۔ دوسرے باب میں دارالعلوم کی تاسیس سے لیکر مولانا محمد علی مونگیری تک کا عہد ہے۔ تیسرے باب میں مسیح الزمان شاہ جہاں پوری اور خلیل الرحمن سہارنپوری کے دور کا ذکرہے۔ چوتھے باب میں علامہ سید عبدالحی حسنی اور امیر سید علی حسن خان کے دور میں ندوہ کی ترقی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پانچویں باب ڈاکٹر عبدالعلی حسنی کے عہد پر مشتمل ہے، چھٹا باب مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے دور میں ندوہ کی ترقی کو پیش کرتا ہے تو ساتواں باب مولانا رابع حسنی ندوی کے دور میں ندوہ کی تعمیروترقی سے بحث کرتا ہے۔ آٹھویں باب میں ندوہ کے ڈپارٹمنٹ کا ذکر ہے تو نویں باب میں ندوہ کے اندر جاری نصاب اور درسی کتابوں کی تفصیل ہے۔ دسویں باب میں ندوہ سے شائع ہونے والے رسائل وجرائد پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس باب میں مصنف نے دارالمصنفین کے قیام اور اس کے کارناموں کامفصل ذکر کیا ہے، پھر مجلس تحقیقات ونشریات کا ذکر کیا ہے۔ تفصیل سے باور ہوتا ہے کہ دارالمصنفین بھی ندوہ اور اہل ندوہ کے کارناموں میں سے ایک ہے، حالانکہ دارالمصنفین کاقیام اس وقت عمل میں آیا جب علامہ شبلی ندوہ سے نکال دئے گئے، گرچہ وہ اس کو ندوہ میں قائم کرنا چاہتے تھے مگر اہل ندوہ نے اس خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا، اس بنیاد پر ندوہ کی تاریخ میں ندوہ کی خدمات اور کارناموں میں دارالمصنفین کا شمار کرنا انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ مجموعی طورپر جلد اول نے ندوہ کی تاریخ پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے تجربات، تاثرات اور ذاتی خیالات کا اظہار کیا ہے۔قاری کبھی کبھی کنفیوزہوجاتاہے کہ وہ ندوہ کی تاریخ پڑھ رہا ہے یا کسی شخصیت کی گراں قدرآپ بیتی۔ اگراپنے نجی معاملات سے صرف نظر کیا گیا ہوتا تو مناسب ہوتا۔
جہاں تک دوسری جلد کا تعلق ہے تو اس میں گیارہ سے لیکر پندرہویں باب تک درج ذیل عناوین ہیں:
گیارہواں باب۔ تالیف علماء الندوہ فی مختلف الموضوعات: اس میں ندوہ اوراہل ندوہ کی علمی اور تصنیفی خدمات کی تفصیل ہے۔ مصنف نے علامہ شبلی، حمید الدین فراہی، حسن خان ٹونکی اور ایسے دیگر علماء اور مصنفین کا ذکر کیا ہے اور انکی خدمات کو ندوہ کی خدمات میں شمار کیا ہے جب کہ وہ ندوہ کے فارغین نہیں تھے۔ بعض نے ندوہ میں اپنی بیش بہا خدمات انجام دیں تو بعض نے صرف کچھ لکچر وغیرہ دیے، مگر انکی خدمات کو اس ادارہ کی خدمات میں شمار کرنے سے قارئین کے ذہن میں یہ غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے کہ یہ سب بھی ندوہ کے پروڈکٹ تھے اور ندوہ کے کارناموں میں انکی علمی خدمات بھی شامل ہے جو حقیقت اور تاریخ نویسی کے اصول وضوابط کے خلاف ہے۔ جہاں تک ندوی فضلاء کی علمی خدمات کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام ندوی فضلاء کی تصنیفات کا احاطہ ایک کتاب میں کرنا بہت مشکل ہے۔ شاید اسی لئے مصنف نے بہت اختصار کے ساتھ مختلف موضوعات کے تحت کتابوں کا ایک تعارف پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو قابل تعریف ہے۔ مگر کتابوں کے تعارف میں کہیں بہت ہی اختصار تو کہیں بہت ہی طوالت سے کام لیا گیاہے۔ مثلا علامہ شبلی، علامہ سلیمان ندوی وغیرہ کی کتابوں کا تعارف مختصر ہے تو مولانا علی میاں ؒ اور مولانا رابع حسنی ندوی صاحب اور مولانا واضح رشید ندوی صاحب ؒ کی کتابوں کے تعارف پر تفصیل زیادہ ہے۔ اسی طرح مصنف نے اپنی کتابوں کا بھی بھرپور تعارف کرایا ہے۔ مثلا قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ جہاں جہاں مولانا واضح رشید ندوی صاحب کی تصنیفات کا ذکر ہے تو مصنف کے کئی کئی صفحے رقم کئے ہیں جو شاید انکے تعلق اور محبت کی غماز ہے، مگراس کے مقابلہ میں علامہ شبلی، علامہ سلیمان ندو ی وغیرہ کی کتابوں کے تعارف میں بہت اجمال سے کام لیا گیا ہے۔ حق تو یہ تھا کہ اکابر ندوہ کے علمی خدمات اور انکی کتابوں پر زیادہ روشنی ڈالی جاتی اور مراتب کے لحاظ سے تفصیل واجمال کا فیصلہ کیا جاتا۔ اسی طرح جب مصنف نے صفحہ 883 سے 907 تک سفرناموں کا ذکر کیا ہے تو اپنے تیرہ سفرناموں کی تفصیلی رپورٹ پیش کردی ہے، جب کہ کئی نامور ندوی فضلاء کے سفرنامے اس فہرست میں نہیں آسکے ہیں۔ ایک تاریخ نویس کے لئے یہ زیبا نہیں دیتا کہ وہ اپنی تاریخ میں اس نوعیت کی کوتاہی کرے۔ بہتر یہ ہوتا کہ سارے مصنفین کے تعارف کا ایک ہی خاکہ،ایک ہی طرز اور ایک ہی معیار ہوتا جس کا فقدان اس کتاب میں محسوس ہوتا ہے۔
دوسری طرف اس کتاب میں بہت سے نامور ندوی فضلاء جیسے مولانا سلمان حسینی ندوی، مولانا سجاد نعمانی ندوی، مولانا محسن عثمانی ندوی اور دیگر ندویوں کی علمی خدمات اور تصنیفات وتالیفات کا معمولی سا بھی ذکر نہیں ملتا۔ حالانکہ ایسے ندوی فضلاء کی تصنیفات کا ذکر ہے جو کسی بھی طرح انکے معیار کے نہیں۔مثال کے طور پر مولانا وثیق ندوی، مولانا فرمان ندوی اور دیگر اپنے ہم عصر ندوی فضلاء کاسوانحی خاکہ دیا ہے مگرعالمی شہرت یافتہ چند ندوی فضلاء کا ذکر سرے سے غائب ہے، جو بھی ندوہ اور ندوی فضلاء سے واقف ہے اسکو یہ باور ہوگا کہ شاید تعصب کی وجہ سے ان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، جو فاضل عالمی شہرت یافتہ مصنف کی شخصیت پرزک پہونچانے کا کام کرسکتا ہے۔ افکار وخیالا ت کا اختلاف اپنی جگہ پر مگر جب تاریخ لکھی جاتی ہے تو اس میں اپنے معاصر اور حریف سبھی کی خدمات کا ذکر ضروری ہوجاتا ہے خواہ وہ آپ کو پسند ہو یا نہ ہو۔یہاں بھی مصنف سے سہو ہوگیا ہے جو مصنف کی نیک نامی، انکی عالمی شخصیت اور انکی عظمت کے شایان شان معلوم نہیں ہوتا۔
اگر مجموعی طور پر ایک غیرجانبدار مورخ کی حیثیت سے ندوہ کے شعبہ حدیث، تفسیراور فقہ کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سو سال میں ندوہ اور ندوی فضلاء کسی بھی شاندار اور قابل ذکر کارنامے انجام دینے سے قاصر رہے ہیں۔ مثلا حدیث میں ایک دو کتابوں کو چھوڑ کر صرف حدیثیوں کو جمع کرکے چند کتابیں لکھی گئی ہیں جو حدیث کے شعبہ میں کسی قابل ذکر خدمات کے زمرہ میں نہیں آتیں۔ اسی طرح صرف تعلیق، تبویب اور حواشی کو عظیم الشان خدمات میں شمار نہیں کیا جاسکتا، حدیث کے شعبہ میں مولانا سلمان حسینی ندوی کی خدمات بھی قابل قدر ہیں جن کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ البتہ تاریخ میں ندوی فضلاء کا بہت قابل ذکر کارنامہ رہا ہے، اس لئے مصنف کو چاہئے تھا کہ وہ ایمانداری کے ساتھ ندوہ کی سو سالہ علمی اور تصنیفی خدمات، اس کے معیاراور اسکے اثرات کا جائزہ لیتے تاکہ اگر ایک طرف ندوہ اور اہل ندوہ اپنی کمیوں کے تدارک کی طرف دھیان دے پاتے تو دوسری طرف انکی کتاب مستند اور زیادہ قابل اعتماد ہوتی۔
بارہواں باب: العرب وندوہ العلماء
یہ باب انتہائی قیمتی معلومات پر مشتمل ہے۔ اس سے عرب قارئین کے ذہن میں ندوہ کی اچھی اور مثبت تصویر پیدا ہوگی۔ ا س باب میں عرب اساتذہ جنھوں نے ندوہ میں تعلیم دی انکا تفصیلی ذکر ہے، ساتھ ہی ان عرب فضلاء کا ذکر بھی ہے جنھوں نے ندوہ میں تعلیم حاصل کی، پھرجن عرب علماء کرام اور مشہور ہستیوں نے ندوہ میں کوئی لکچر دیا یا ندوہ کی زیارت کی اور اپنے تاثرات پیش کئے ان سب کا ذکر ہے، مگر کہیں کہیں بلاوجہ غیر ضروری تفصیلات ہیں جو کتاب کو بلاوجہ مزید ضخیم بنادیتی ہیں۔ جیسے علامہ رشید رضا کے ضمن میں کئی صفحات لکھے گئے ہیں جو ضروری نہیں تھے۔ اس میں شیخ محمد طیب مکی، شیخ محمد حسین انصاری، ڈاکٹر تقی الدین ہلالی، شیخ عبد الفتاح غدہ، ڈاکٹر یوسف القرضاوی، استاذ محمد المجذوب، شیخ خلیل یمانی، علامہ محمد رشید رضا، علامہ عبدالعزیز الثعالبی التونسی، مفتی امین حسینی، شیخ ابراہیم الجبالی، شیخ عبد الوہاب نجار، سعودی شہزادہ امیر مساعد بن عبد الرحمن، استاذ سعید رمضان، شیخ عبدالحلیم محمود، شیخ علی طنطاوی، شیخ احمد عبدالعزیز المبارک، شیخ عبد الرحمن رافت باشاوغیرہ کے نام شامل ہیں۔
تیرہواں باب۔ اسانید ندوہ العلماء: میرے خیال میں علم حدیث سے شغف ہونے کے باعث مصنف نے اسانید کا بھی ذکر کردیا ہے، حالانکہ اسانید کے ذکرکی کوئی خاص ضرور ت تاریخ میں نہیں ہوا کرتی، اس سے کتا ب کی ضخامت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
چودہوں باب۔ الاربعون الندویات المتباینات: مصنف لکھتے ہیں کہ مختلف کتابوں سے لی گئی مختلف ابواب پر مشتمل ندویوں کی چالیس احادیث کے سند کا ذکر ہے۔ یہ باب بھی غیر ضروری طوالت کا باعث ہے۔ اس کا ذکر احادیث اور اسناد کی کتابوں میں ہونا چاہئے۔
پندرہواں باب۔ دور الندوہ فی عالمنا المعاصر: اس میں ندوی فضلاء نے جن دانشگاہوں اور تعلیمی اداروں کو قائم کیا ہے اس کا ذکر ہے۔ جن میں بعض مدارس کا ذکر ہے جیسے دار العلوم تاج المساجد، جامعہ اسلامیہ بھٹکل، کاشف العلوم اورنگ آباد، مدرسہ ضیاء العلوم اور فلاح المسلمین وغیرہ۔ مگر ان مدارس کے تعلیمی معیار پر ایک تاریخ نویس کی حیثیت سے کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی ہے۔ جب کہ جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان مدراس کے تعلیمی معیار کو جانچنے، ان کو ندوہ کے اسٹیندرڈ پر لانے اور ان کے محاسبہ کا کوئی نظم نہیں ہے، جس کے نتیجہ میں ندوہ کے معیار میں گرواٹ اور ندوی فارغین کی علمی صلاحیت میں مسلسل کمی آرہی ہے۔
اس کے بعد ایک ذیلی عنوان المرتبطون بالحرکات الاسلامیہ کے تحت بعض تحریکوں سے وابستہ ندوی فضلاء کا ذکر ہے، جیسے مولانا ابواللیث ندوی، مولانا مسعود عالم ندوی، ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی۔ حیرت ہے کہ مصنف نے انجمن شباب اسلام کے بانی مولانا سلمان ندوی اور تبلیغی جماعت سے منسلک مولانا سجاد نعمانی کے ذکر خیر سے کیوں گریز کیا جب کہ یہ دونوں بھی تحریکوں سے وابستہ ہیں۔ پھر مختلف یونیورسٹیوں کے ندوی پروفیسر حضرات کا ذکر کیا ہے اور چند کا تعارف پیش کیا ہے۔ میرے خیال سے دنیا کی بہت ساری یونیورسٹیوں میں ندویوں کی اتنی بڑی تعداد درس وتدریس میں مشغول ہے کہ اس کے لئے ایک الگ تحقیق کی ضرورت ہے، بہتر ہوتا کہ ان کے نام سے گریز کیا جاتا کیونکہ بعض سینئر ندوی پروفیسرحضرات اپنا نام نہ آنے کی وجہ سے مصنف سے بدظن ہوسکتے ہیں اس لئے اس کو نہ شامل کرنا زیادہ بہتر ہوتا۔ اور یوں بھی اس سے ندوہ کی کوئی خاص اہمیت واضح نہیں ہوتی، دوسرے مدارس جیسے اصلاح وغیرہ کے کہیں زیادہ فضلاء یونیورسٹیز میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس میں ایک اضافہ یہ بھی کیا جاسکتا تھا کہ جو ندوی فضلاء گورمنٹ کے اونچے عہدوں پر اپنے دینی تعلیمی بیک گراونڈ کے باوجودفائز ہیں ان کا ذکر بھی مناسب تھا، جیسے آئی اے ایس اور سول سروسز سے میں کام کرنے والے بعض ندوی فضلاء۔ اس کے بعد ذیلی عنوان کے تحت عرب ممالک میں کام کرنے والے بعض ندوی فضلاء کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ محمد اجمل بن محمد ایوب الاصلاحی، مولانا وقار عظیم ندوی، ڈاکٹر علی احمد غلام ندوی، مولانا شکیل احمد اعظمی،مولانا وزیر احمد اعظمی کا تعارف پیش کیا ہے، مگر ان کے علمی کارناموں اور تصنیفی خدمات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اس کے بعد دیگر ممالک کے ندوی فضلاء کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان اور بنگلہ دیش کے ندوی فضلاء کا ذکر کیا ہے، پھر انڈونیشیا اور ملیشیا کے مولانا فہمی زمزم، مولانا عبدالماجد غوری، ترکی کے محمد یوسف صالح قراجہ جاپان کے مولانا سلیم الرحمن خان ندوی، آسٹرئلیا کے ڈاکٹر محمد انس ندوی، جنوبی افریقہ کے مولانا سلمان ندوی اور شیخ علی آدم بنوری، امریکہ کے ڈاکٹر محمد مزمل صدیقی ندوی اور برطانیہ میں مقیم ندوی فضلاء میں اپنے نام کا ذکر کیا ہے۔ ہندسے باہر مقیم ندوی فضلاء کے بارے میں مختصر تعارف سے ندوہ کی تاریخ کا کوئی خاص تعلق نہیں معلوم ہوتا کیونکہ جن شخصیات کا ذکر خیر ہے اللہ ان سے دین وملت کا کام لے، ان سے کہیں زیادہ علمی، دینی اور دعوتی کاموں میں مصروف دیگر ندوی فضلاء بھی موجود ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
ایک مورخ اور تاریخ نویس کے لئے مناسب نہیں کہ اس سے اس نوعیت کی سہو ہو جائےاور خاص طور پر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کے قلم سے جب کوئی بات نکلتی ہے تو علمی حلقہ اسے قبول کرتا ہے، اس لئے ڈاکٹر صاحب کو ان نکات کو پیش نظر رکھنا چاہیے تھا۔
کتاب کی زبان مجموعی طور پر بہت اچھی اور سلیس ہے، مصنف کی اپنی مادر علمی سے لگاؤ اور محبت کی کی غماز ہے۔ بلاشبہ یہ کتا ب ندوہ کا عالم عرب میں تعارف کرانے میں ممدومعاون ثابت ہوگی مگر فنی طور پر اس کتاب کو تاریخ نویسی کے دائرہ میں رکھنا مشکل ہے۔ابھی بھی ایک ایسے مورخ کی ضرورت ہے جو بغیر کسی لگاؤ اور جھکاؤ کے ندوہ کے عظیم الشان کارناموں اور امت اسلامیہ پر اس کے گہرے اثرات کا جائزہ لے اور تاریخٰی حقائق کو اس انداز میں پیش کرے جو ایک مورخ کے شایان شان ہوتا ہے۔
نقی احمد ندوی، ریاض، سعودی عرب

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

مولانا نذیر احمد ندوی
بہنوں کو وراثت میں حصہ نہ دینے کے حربے

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • مارچ 9, 2026
  • 0 Comments
گھر میں اعتکاف

گھر میں اعتکاف محمد رضی الاسلام ندوی سوال :کیا کوئی عورت رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اپنے گھر میں اعتکاف کرسکتی ہے؟ کیا بوڑھے یا معذور مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنے کی اجازت ہے؟ کیا وہ شخص جو کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے، اعتکاف کرسکتا ہے؟ کیا وہ لڑکے اور لڑکیاں جو کالج میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، باقی اوقات میں اعتکاف کرسکتے ہیں؟ جواب :پہلی بات یہ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اعتکاف ماہِ رمضان کے پہلے عشرے میں کیا ہے، دوسرے عشرے میں بھی کیا ہے، لیکن پھر آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کو معمول بنالیا تھا۔دوسری بات یہ کہ آپ نے ہمیشہ اعتکاف مسجد میں کیا ہے۔ آپ کے ساتھ بعض صحابہ بھی اعتکاف کرتے تھے اور امہات المؤمنین کے بارے میں بھی مروی ہے کہ وہ مسجد نبوی میں اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ عہد نبوی میں کسی صحابی یا صحابیہ کا مسجد کے بجائے کہیں اور اعتکاف کرنا ثابت نہیں ہے۔ قرآن مجید میں بھی اعتکاف کا ذکر مسجد کے ساتھ خاص کیا گیا ہے: وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ [البقرة: 187]” اس حال میں کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔“فقہ حنفی میں چوں کہ عورتوں کا نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانا مکروہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے انھیں گھروں میں اعتکاف کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ گھر کی وہ جگہ جسے نماز پڑھنے کے لیے خاص کیا گیا ہو، وہاں عورت اعتکاف کرسکتی ہے۔مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنا جائز نہیں۔ وہ صرف مسجد میں اعتکاف کرسکتے ہیں۔ بوڑھے اور معذور افراد کے لیے بھی گھروں میں اعتکاف کرنے کی گنجائش نہیں۔رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کیے جانے والے مسنون اعتکاف کے لیے احناف اور مالکیہ کے نزدیک شرط ہے کہ اعتکاف کرنے والا روزے سے ہو۔ بغیر روزے کے اعتکاف درست نہیں ہوگا۔ اس لیے اگر کوئی شخص کسی عذر کی بنا پر روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو تو وہ اعتکاف بھی نہیں کرے گا۔ شوافع اور حنابلہ کے نزدیک اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں۔…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • مارچ 1, 2026
  • 0 Comments
روزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

روزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اسلام ایک جامع دین ہے، جس کی بنیاد چند ایسے مضبوط ستونوں پر رکھی گئی ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«بُنيَ الإسلامُ على خمسٍ…»اسلام کی عمارت پانچ ستونوں پر قائم کی گئی ہے، جن میں روزہ ایک بنیادی اور مرکزی ستون ہے۔ یہ محض بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، صبر اور اطاعتِ الٰہی کی عملی تربیت ہے۔رمضان اور روحانی فضاحضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«إذا جاء رمضان، فُتِّحت أبوابُ الجنة، وغُلِّقت أبوابُ النار، وصُفِّدت الشياطين»جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔ یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رمضان نیکی کے مواقع کا مہینہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کے لیے ہدایت، مغفرت اور قرب کے راستے آسان فرما دیتا ہے۔روزہ داروں کا خاص اعزازرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«إن في الجنة بابًا يقال له الريّان، يدخل منه الصائمون يوم القيامة…»جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریّان کہا جاتا ہے، اس میں صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔یہ روزہ داروں کے لیے ایسا خصوصی شرف ہے جو کسی اور عبادت کو حاصل نہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ روزہ اللہ کے نزدیک کس قدر محبوب عمل ہے۔مغفرتِ گناہ کا ذریعہصحیحین میں ہے:«من صام رمضان إيمانًا واحتسابًا غُفر له ما تقدّم من ذنبه»جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ یہ حدیث روزے کی نیت اور اخلاص کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ صرف رسم نہیں، بلکہ شعوری عبادت ہی نجات کا ذریعہ بنتی ہے۔روزہ: اللہ کے لیے خاص عبادتحدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:«كل عمل ابن آدم له إلا الصيام، فإنه لي وأنا أجزي به»ابنِ آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہے، مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔روزہ ایک مخفی عبادت ہے،…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • وضو کے فرائض 10.03.2026
  • وضو کا مسنون طریقہ 10.03.2026
  • گھر میں اعتکاف 09.03.2026
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ 09.03.2026
  • اعتکاف ، احکام و آداب 09.03.2026
  • صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟ 09.03.2026
  • زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں 08.03.2026
  • ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟ 08.03.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

وضو کے فرائض

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کے فرائض
فقہ و اصول فقہ

وضو کا مسنون طریقہ

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کا مسنون طریقہ
Blog

گھر میں اعتکاف

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

اعتکاف ، احکام و آداب

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
اعتکاف ، احکام و آداب
فقہ و اصول فقہ

صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟
فقہ و اصول فقہ

زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026
فقہ و اصول فقہ

ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top