Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
04.08.2026
Trending News: مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
04.08.2026
Trending News: مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

ماڈرن ’دین ابراہیمی‘ دین الہی کا نیا ایڈیشن

  1. Home
  2. ماڈرن ’دین ابراہیمی‘ دین الہی کا نیا ایڈیشن

ماڈرن ’دین ابراہیمی‘ دین الہی کا نیا ایڈیشن

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جولائی 27, 2025
  • 0 Comments

از : ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

دنیا کے ’’تہذیبی‘‘ افق پر ایک نئی اصطلاح ابھری ہے:’’الديانۃ الإبراهيميۃ‘‘Abrahamic religion ، بہ ظاہر یہ ایک لطیف سا دعوتی و مکالماتی تصور ہے، جو امن، رواداری، اور انسانی اخوت کے بلندبانگ نعروں کے ساتھ سامنے آیا ہے؛ مگر اس کی تہہ میں جھانکیں تو ہمیں ایک گہری سیاسی چال، مذہبی استشراق، اور تہذیبی تسلط کی سرنگیں دکھائی دیتی ہیں، یہ کوئی نیا دین نہیں، بلکہ ایک خاص حکمت عملی کے تحت دین اسلام کی تشکیل جدید ہے،یہ اقوام کی وحدت نہیں،ادیان کی وحدت کا وسیلہ ہے،جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں،اس کا مقصدعقائد میں اسلام کی مرکزیت، نبوتِ محمدی ﷺ پر ختم نبوت کی قطعیت، اور امت مسلمہ کی فکری خودمختاری کو تحلیل کر دینا ہے،کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز اوسلو معاہدہ سے ہی ہوگیا تھا،لیکن ابھی تازہ ابراہیمی معاہدوں Abraham Accords میں ٹرمپ نے عرب اسرائیل تعلقات کی نوعیت سے متعلق جو شقیں رکھی ہیں ،ان سے اس تحریک میں تیزرفتاری نظر آرہی ہے،در اصل ان کوششوں سےیہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام تینوں بڑے مذاہب اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے جد امجد patriach ہیں ہی، تو کیوں ناہم اختلافات کو مٹاکر جنگ وجدل میں وقت برباد کرنے سے بہتر ایک ہوجائیں، سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرمصری نژاد پروفیسر عصام عبد الشافی کا کہنا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے یہ منصوبے ایک مربوط اور طویل المیعاد سازش کا حصہ ہیں، جن کی بنیاد 1993 میں اوسلو معاہدے کے بعد رکھی گئی، اس وقت کے اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے’’نیا مشرق وسطیٰ‘‘ کے نام سے ایک نظریہ پیش کیا، اورThe New Middle East کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی، یہ منصوبہ بیس سے زائد مختلف اصطلاحات کے ساتھ آج عالمی سیاسی قوتوں، اداروں، جامعات اور تحقیقاتی مراکز کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے،پروفیسر عبد الشافی کے مطابق’’المسار الإبراهیمي‘‘Abraham Path یا دیگر مشابہہ اصطلاحات گزشتہ پانچ برسوں یا 2020 کے ابراہام معاہدوں کے نتیجے میں وجود میں نہیں آئیں، بلکہ یہ ایک طویل المدت منصوبہ ہے جس پر دس سال پہلے سے علمی و تحقیقی سطح پر کام ہو رہا ہے، انہوں نے اشارہ دیا کہ 2013 میں ہارورڈ یونیورسٹی سے ’’مسار ابراہیم‘‘ کے عنوان سے ایک اہم دستاویز سامنے آئی، اور2015 میں فلوریڈا یونیورسٹی نے ایک سرکاری رپورٹ جاری کی جس میں ’’ وفاق ابراہیمی‘‘Abrahamic Federal Union کا تصور پیش کیا گیا، اسی طرح 2013 میں امریکی وزارت خارجہ میں ایک خصوصی شعبہ قائم کیا گیا جس کا نام تھا’’اسٹریٹیجک ڈائیلاگ برائے سول سوسائٹی‘‘، اور اُس وقت وزارت خارجہ کی سربراہی ہیلری کلنٹن کے ہاتھ میں تھی۔ غور کیا جائے تو ’’میسا‘‘MESA اتحاد کی

غرض وغایت بھی کچھ اس سے مختلف نہیں،اس کو جب امریکہ نے ’’عرب نیٹو‘‘ کے طور پر متعارف کرایا، تو اس کی ظاہری توجیہ یہ کی گئی کہ ایران کے جوہری خطرے سے خلیجِ عربی کا تحفظ کرنا مقصود ہے ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل، جو عرب سرزمین کو اب تک’’خلیجِ فارس‘‘ کہہ کر پکارنے سے باز نہیں آتا، واقعی اس خطے کا محافظ بن سکتا ہے؟ کیا وہ جس کی بنیاد ہی فلسطینیوں کی جڑوں کو کاٹ کر رکھنا ہے، امن و سلامتی کا پیامبر بن سکتا ہے؟ یہ اتحاد دراصل اسرائیل کو خطے کی سیکورٹی اسٹرکچر میں باقاعدہ داخل کرنے کی ایک چال ہے؛ تاکہ عرب اقوام کو نہ صرف دفاع کے میدان میں اس پر انحصار کرنا پڑے بلکہ فکری طور پر بھی اسے تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے،یاد ہوگا کہ کورونا وبا کے دوران امارات میں’’صلاۃ الأخوۃ الإنسانیۃ‘‘ یا ’’الصلاۃ من أجل الإنسانیۃ‘‘ کی خبر سامنے آئی،جس میں شیخ ازہر اور واٹیکن کے پوپ جمع ہوئے،اپنے اپنے قبلے کی جانب پہلو بہ پہلو نماز ادا کی گئی اور ایک ساتھ کورونا وبا کے خاتمے کی دعائیں مانگی گئیں، یہ2020 کی بات ہے،اس سے قبل2010 میں عراق میں ایک کلیسا پر ہوئے حملے کے تناظر میں قیام امن کے لیے ’’الحوار الشعائري‘‘ کا عنوان اختیار کیا گیاکہ زبانی مذاکرات سے بہتر ہےشعائر ادیان کی مشترکہ پریکٹس کی جائے،اس طرح مسلمان اور عیسائی ایک ساتھ نماز ادا کرکے تمام کتب مقدسہ کی برکتیں حاصل کریں۔ کیا

اس قسم کے ڈرامے محض روحانی جذبے سے ہیں؟ نہیں،یہ وہ سیاسی پروگرام ہیں جن کے ذریعے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان عقائد کے فرق کو مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے؟ تاکہ اسلام کا انضمام ہوجائےاور اس کا توحیدی امتیاز باقی نہ رہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام، قرآن کے مطابق، ’’حنیف مسلم‘‘تھے، نہ وہ یہودی تھے، نہ عیسائی، نہ کسی’’تیسرے دین‘‘ کے نمائندہ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی؛بلکہ شرک سے بیزار اللہ کے فرمانبردار تھے،اور مشرکوں میں سے نہیں تھے‘‘(آل عمران: 67)، یہ آیت محض ایک تاریخی اعلان نہیں، بلکہ ایک عقائدی سرحد ہے، جو اسلام کو دیگر ادیان سے الگ اور منفرد بناتی ہے،’’ابراہیمی دین‘‘ کے نام پر جو مذہبی معجون مرکب پیش کیا جا رہا ہے،اور عرب ممالک اس کے آلۂ کار اورمخلص ووفادار بنتے جارہے ہیں، وہ قرآن کی تصریحات کی صریح خلاف ورزی ہے،آج مذہب کو سافٹ پاورکے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے،’’روحانی سفارت کاری‘‘Spiritual Diplomacy، مذہبی قیادت، تصوف، اور رواداری جیسی اصطلاحات کو استعمال کر کے مسلم معاشروں کو نظریاتی طور پر نرم کرنے ، ان سے توحید کی حساسیت کو چھین لینے کی نامحمودکوشش ،اور ابلیس کی مجلس شوری کی تجویز ہے:میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خوابمیں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں اسلامی نصوص کی نئی قراءت، مشترکہ عبادت گاہیں، بین المذاہب ہاؤسز اورمختلف مذاہب کے نوجوانوں کو مشترکہ رہائش فراہم کرنے جیسے منصوبے بظاہر رواداری کے مظہر ہیں، مگر حقیقت میں یہ ’’تطبیع‘‘ normalizationکی پالیسی کاحصہ ہیں، جن کا مقصد اسرائیل کو مذہبی سطح پر بھی قبول کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے، ابوظہبی کا’’ابراہیمی فیملی ہاؤس‘‘ Abrahamic Family House اس پورے منصوبے کا عملی مجسمہ ہے،یہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں مسجد، چرچ، اور یہودی معبد ایک ہی احاطے میں قائم کیے گئے ہیں،گویا عبادت گاہ نہیں،مذہب کا ’’افیون‘‘ اتارنے کا نشہ مکتی کیندر ہو، یہ مراکز نہ صرف دینی شعور کی تشکیل کر رہے ہیں، بلکہ تعلیمی اداروں، میڈیا اور ثقافتی پالیسیوں کے ذریعے نئی نسل کو ایک ایسے بیانیے سے روشناس کرا رہے ہیں جس میں اسلام کو ایک محدود حقیقت، اور دین کو ایک ثقافتی ماڈل کے طور پر سمجھا جائے،حضرت ابراہیمؑ کی جائے پیدائش ’’اُر‘‘Ur کو مقدس مقام قرار دینا، بیت المقدس میں معبد سوم اور ’’جبل ہیکل‘‘ کی بازگشت جس سے مراد قبۃ الصخرہ یا مسجد اقصی ہی ہے، اور’’ صلاۃ الأخوۃ‘‘ کی آڑ میں مسجد اقصیٰ کو یہودیوں کے لیے عبادت کی جگہ ماننا،یہ سب اسلام کے مقدسات پر نظریاتی قبضے کی راہیں ہموار کر رہے ہیں، یہ’’ابراہیمی دین‘‘ دراصل وہی صدی کی ڈیل یا ’’صفقۃ القرن‘‘2020 Trump Israel–Palestine plan کا مذہبی چہرہ ہے، جس کے ذریعے فلسطینی کاز کو تاریخی تنازعے کی جگہ ایک ثقافتی غلط فہمی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ فوکویاما نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’تاریخ کا خاتمہ‘‘ میں یہ

دعویٰ کیا کہ سرد جنگ کے بعد دنیا نظریاتی کشمکش سے آزاد ہو چکی ہے اور اب انسانیت سرمایہ دارانہ جمہوریت پر متفق ہو چکی ہے؛ لہٰذا کوئی متبادل نظام اب ابھرنے والا نہیں، لیکن ان کے استاد ہنٹنگٹن نے اس تصور کو چیلنج کرتے ہوئے ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ کا نظریہ پیش کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ دنیا اگرچہ ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، مگر تہذیبی، مذہبی اور ثقافتی شناختیں نہ صرف زندہ ہیں بلکہ کسی بڑے عالمی تصادم کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہیں؛ کیونکہ انسان اپنی تہذیب کو صرف جدیدیت کی قیمت پر نہیں چھوڑتا،اور مغربی غلبے کو ہر قوم خاموشی سے قبول کرنے پر آمادہ نہیں،جب کہ معروف امریکی ماہر سیاسیات، بین الاقوامی امور کے محقق، اور’’ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل اسٹڈیز‘‘ کے سابق صدر جیمس روزینو کے مطابق، دنیا کا مستقبل عالمی امن پر مبنی ہوگا جو’’ ابراہیمی دین‘‘ اور عقائد کے باہمی انضمام کے ذریعے حاصل کیا جائے گا؛ وہ اسے بین الاقوامی تعلقات میں تنازعات کے حل کا ایک نیا فریم ورک قرار دیتے ہیں، جس کی بنیاد رواداری، انسانی اخوت، محبت اور ہم آہنگی جیسے روحانی تصورات پر ہوگی۔ اس صورت حال کو سامنے رکھیں اور دین الہی کو یاد کریں جس کومغل
تاجدار جلال الدین اکبرنے ہندوستان جیسے کثیر المذاہب معاشرے میں اتحاد، ہم آہنگی اور شاہی اقتدار کو مستحکم بنانے کے دعووں پر قائم کیا تھا، اس نئے مذہب میں اسلام، ہندو مت، مسیحیت، زرتشت اور سکھ مت جیسے مذاہب کے بظاہر’’خالص اور عمدہ اصولوں‘‘ کو یکجا کر کے ایک ایسی اخلاقی و روحانی ساخت تشکیل دی گئی تھی جو کسی خاص وحی یا شریعت پر مبنی نہیں تھی، بلکہ ایک انسان ساختہ ’’تہذیبی ترکیب‘‘ تھی، جس میں سب کچھ تھا سوائے اُس ربانی صداقت کے جو نبوت و وحی کی اساس پر استوار ہو؛ اکبر نے اس تحریک کو فروغ دینے کے لیے فتح پور سیکری میں ’’عبادت خانہ‘‘ قائم کیا، جہاں مختلف مذاہب کے علما کو اکٹھا کر کے مکالمے اور مباحثے کا ماحول بنایا گیا، رفتہ رفتہ اہل حق بالخصوص مجدد الف ثانی شیخ احمدسرہندی فاروقیؒ کی کوششوں سے اس کا خاتمہ ہوا اور ایک ایسا دور بھی آیا جب اسی مغل امپائر میں اورنگ زیب جیسے خدا ترس بادشاہ سریر آرائے سلطنت ہوئے، اور کھل کر اپنے پردادا اکبر کے بارے میں کہا: ’’جد ما اکفر بود‘‘ ۔ یہ وقت محض تماشائی بننے کا نہیں، بلکہ فکری مزاحمت، دینی بیداری، اور تہذیبی خودی کو پھر سے جگانے کا ہے؛ ہمیں صاف اور بے خوف لہجے میں کہنا ہوگا کہ ہم حضرت ابراہیمؑ کے دین پر ہیں،مگر وہ دین کوئی ابراہیمی مرکب نہیں، صرف اسلام ہے؛ نہ ہم توحید کے خالص مفہوم کو کسی بین المذاہب معجون میں گم ہونے دیں گے، نہ اپنی شریعت کو عالمی مفاہمت کے نام پر گروی رکھیں گے؛ جو امن وسلامتی کا پیغام عدل و صداقت، اور وحی ورسالت کے احترام پر قائم ہو، ہم اس کے محافظ ہیں، لیکن جو’’دین ابراہیمی‘‘ کے نام پر صہیونی استعمار کا نیا چہرہ ہے، ہم اس کے منکر اور مزاحم ہیں،ہماراشافی وکافی اللہ ہے،اور ساقی رسول اللہ ہیں:یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

یہود تاریخ کی ملعون قوم
خیانت کی 8صورتیں

Related Posts

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 20, 2026
  • 0 Comments
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری: دو ملاقاتیں بقلم: ڈاکٹر محسن عتیق خان (مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند)   13 جولائی 2026 کو پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری صاحب، سابق صدر شعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی، کے انتقال کی خبر ملی تو جہاں ایک طرف مجھے آپ کی وفات پر انتہائی صدمہ لگا، وہیں دوسری طرف میں خود کو اپنی تساہلی پر کوسنے لگا۔ آج چار سال ہو گئے میری کتاب A Hostoy of Bais Rajputs کو شائع ہوئے مگر آپ سے ملنا تو دور ابھی تک آپ کی خدمت میں اس کا ایک نسخہ تک نہ ارسال کر سکا تھا۔ آپ کا حق تو یہ بنتا تھا کہ نہ صرف اُسکا نُسخہ بطور تشکر و امتنان کے آپ کو بھیجا جاتا بلکہ اس کی رونمائی بھی آپ سے کرائی جاتی کیونکہ آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اس پر ایک وقیع مقدمہ لکھا تھا جو کتاب کے موضوع کے تعلق سے اپنے اندر بہت سی قابل ذکر معلومات سموئے ہوئے تھا۔ یہ سن 2020 کے اوائل کی بات ہے، میری کتاب کا مسودہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا مگر میں ابھی بھی تشنگی محسوس کر رہا تھا اس لیے تقریباً سات سال تک اس موضوع پر کام کرنے کے باوجود کچھ نہ کچھ تحقیق و جستجو کا سلسلہ ابھی بھی چل رہا تھا۔ اس دوران مجھے پروفیسر جعفری صاحب کے کئی مضامين ملے جن میں اودھ کے زمینداروں اور بیس راجپوتوں کا تذکرہ تھا۔ میں نے جعفری صاحب کے بارے میں تھوڑا سا سرچ کیا تو پتہ چلا کہ آپ ہندوستان کے ممتاز مؤرخ، دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق صدر، اور انڈین ہسٹری کانگریس کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ آپ کو ایک ایسے مؤرخ کے طور پر جانا جاتا ہے جن کی علمی تحقیق مضبوط آرکائیوی شواہد پر مبنی ہے اور جو عام لوگوں کی سماجی و معاشی زندگی کو سمجھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی جہاں آپ نے معروف مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل…

Read more

Continue reading
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 18, 2026
  • 0 Comments
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

لمحۂ فکریہ جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی                      کلیم الدین ندوی  مدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔علی گڑھ   امریکہ میں نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی کی تاریخی کامیابی نے نہ صرف امریکی سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر جمہوریت کے تصور کو نئے سوالات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔   زہران ممدانی ایک مسلمان، سوشلسٹ اور عوام دوست سیاست دان ہیں جنہوں نے اس تاثر کو توڑ دیا کہ اقتدار ہمیشہ دولت، نسل یا اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ان کی جیت اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اب روایتی سیاست، نمائشی جمہوریت اور چند خاندانوں کی اجارہ داری سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کے متلاشی ہیں جہاں وہ صرف ووٹر نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں شریکِ اقتدار ہوں۔   یہ بیداری صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ آج ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک اسی بحران سے گزر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نمائندہ جمہوریت واقعی عوام کی آواز بن سکی ہے؟ کیا منتخب نمائندے واقعی عوامی مفاد کے ترجمان ہیں؟ یا جمہوریت ایک رسمی رسمِ انتخاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟   امریکہ بھر میں تقریباً ستر لاکھ افراد نے "No to Kings – بادشاہوں کو نہیں” کے نعرے کے ساتھ 2600 سے زائد شہروں میں مظاہرے کیے،یہ نعرہ دراصل اس عوامی احساس کی ترجمانی ہے جو طاقت کے ارتکاز کے خلاف ابھر رہا ہے۔ امریکی پالیسی سازی ہمیشہ سے چند مخصوص گروہوں کے ہاتھ میں رہی ہے — خواہ وہ منتخب نمائندے ہوں یا غیر منتخب ماہرین۔ یہ طبقہ اکثر اجتماعی فہم کے نام پر ایسے فیصلے کرتا ہے جو عوامی مفاد کے برعکس ہوتے ہیں۔   صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت نے اس تضاد کو مزید نمایاں کر دیا۔ وہ خود کو عوام کا نمائندہ کہتے تھے، مگر ان کی طرزِ حکمرانی میں فردِ واحد کی آمریت جھلکتی تھی۔ انہوں نے کئی مواقع پر مطلق العنان حکمرانوں کی تعریف کی اور کھلے عام کہا…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری 01.08.2026
  • کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ 29.07.2026
  • اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟ 29.07.2026
  • کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟ 29.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے 20.07.2026
  • پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں 20.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ 18.07.2026
  • جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی 18.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

سیرت و شخصیات

مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

  • hira-online.com
  • اگست 1, 2026
مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری
فقہ و اصول فقہ

کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟
فقہ و اصول فقہ

اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟
فقہ و اصول فقہ

کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
مضامین و مقالات

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ
مضامین و مقالات

جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top