Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
19.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
19.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

کبیر داس برہمنواد کا باغی اور محبت کا داعی

  1. Home
  2. کبیر داس برہمنواد کا باغی اور محبت کا داعی

کبیر داس برہمنواد کا باغی اور محبت کا داعی

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جون 12, 2025
  • 0 Comments

🖋 احمد نور عینی

استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

آج ۱۱ جون (۲۰۲۵) کو کبیر جیتنی منائی جا رہی ہے، کبیرداس پندہویں صدی کےایک انقلابی شاعر، سماجی مصلح ومفکر،اور محبت کے عظیم مبلغ گذرے ہیں، اترپردیش کی جلاہا ذات سے ان کا تعلق تھا، یہ ذات ماقبل اسلام زمانے سے ہی کپڑے بننے کا کام کرتی آرہی ہے، انھیں کوری کہا جاتا تھا، اسلام قبول کرنے کے بعد یہ جلاہا سے متعارف ہوئے، ادھر ماضی قریب میں انصاری سے موسوم ہوئے، شیخ انصاری سے امتیاز کرنے کے لیے انھیں مومن انصاری بھی کہا جاتا ہے۔

یہ ذات اسلام قبول کرنے سے پہلے ہندو سماج میں نیچ اور کمتر سمجھی جاتی تھی، اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی سماجی حیثیت میں کچھ تبدیلی تو ضرور آئی مگر یہ سچ ہے کہ انھیں برابری اور عزت وافتخار کا وہ مقام نہ مل سکا جو اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر انھیں ملنا چاہیے تھا، کبیر نے ذات پات کی تفریق کو اپنی سر کی آنکھوں سے دیکھا اور اونچ نیچ کے جذبات کو اپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کیا، سماج کی طبقاتی تقسیم اور ذات پات کی لعنت نیز ہندو مسلم تصادم کا حل تلاش کرنے اور انسانیت کی بنیاد پر انسانی سماج کو ایک دیکھنے کے لیے انھوں نے کافی غور وخوض کیا، انھیں ان سارے مسائل کا حل ایک لفظ ’محبت‘ میں ملا، اور کیوں نہ ہو کہ ایک لفظ محبت کا اتنا سا فسانہ ہےسمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے کبیر نے ذات پات اور برہمنواد پر کھل کر ہلہ بولا ہے اور جم کر حملہ کیا ہے۔

برہمنیت پر وار کرتے ہوئے انھوں نے اپنے دوہوں میں برہمن لفظ کو استعمال کرنے سے کوئی گریز نہیں کیا۔انھوں نے انسانیت اور مساوات کی قدر کو بہت زیادہ اہمیت دی، ان کے دوہوں کا مطالعہ کرنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے انسانیت، مساوات اور محبت کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ مذہب کی حیثیت ثانوی ہوگئی، جب کہ سچے مذہب اور ان اقدار میں کوئی تعارض نہیں ہوتا، مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کبیر کے نزدیک مذہبی وابستگی میں تصلب ایک منفی قدر ہے، اس سے دو مذہب کے ماننے والوں کے بیچ دیوار اٹھتی ہے اور دراڑ پڑتی ہے، اسی وجہ سے کبیر وحدت دین کے بجائے وحدت ادیان پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔

کبیر کے تصور مذہب سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا، لیکن جس مقصد کے لیے انھوں نے یہ تصور اپنایا وہ مقصد یقینا بہت اہم ہے، وہ مقصد ہے انسانوں کے درمیان مساوات قائم کرنا، نفرت کی دیواریں گرانا، محبت کی شمع جلانا، ذات پات کا خاتمہ کرنا،طبقاتی نظام کو زمین بوس کرنا اور ہندو مسلم دونوں قوموں کے بیچ کی خلیج پاٹنا۔

کبیر نے پوری زندگی پریم کے دیپ جلائے، اور جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا۔ کبیر کے چراغ سے کئی چراغ جلے، سماج ان کی تعلیمات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، دیکھتے ہی دیکھتے ان کا ایک ’پنتھ‘ بن گیا۔ کبیر کی پوری تحریک برہمنواد کے خلاف تھی، برہمنواد یہ سب ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کر سکتا تھا، اس نے جب دیکھا کہ اس شخصیت کا دائرۂ اثر بڑھتا ہی جا رہا ہے اور اس کو دبانا آسان نہیں ہے تو اس نے اپنی پالیسی کے مطابق کبیر کو برہمنوادی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی، اور وہ اپنی کوشش میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوا، اس نے کبیر کو برہمنوادی مفاد میں استعمال کرنے کے لیے ایک افواہ تو یہ پھیلائی کہ کبیر خود برہمنی کے شکم سے پیدا ہوئے، اور یہ چوں کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اس لیے ان کی ماں نے بدنامی کے ڈر سے انھیں تالاب کے کنارے پھینک دیا، پھر انھیں مسلم جولاہے خاندان کے ایک جوڑےنے اٹھا کر اپنی پرورش میں لیا۔ یہ پوری کہانی گھڑی ہوئی ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور اس کہانی سے خود کبیر کی بے عزتی ہوتی ہے، برہمنواد نے یہ پوری کہانی یہ ثابت کرنے کے لیے گھڑی کہ کبیر نسلا برہمن تھے، اور کبیر کے ذریعہ جو اتنا بڑا سماجی اصلاح کا انقلاب برپا ہوا وہ ایک برہمن نے ہی برپا کیا تھا۔

برہمن کے دماغ نے زیب داستاں کے لیے جو یہ بے بنیاد حکایت گھڑی ہے اس کے جواب کے لیے وہ دوہے کافی ہیں جن میں کبیر نے اپنے کو جلاہا کہا ہے، مثلا وہ کہتے ہیں:جاتی جلاہا نام کبیرا، اجہو پتیجو ناہی(گرنتھاولی: 270)ایک دوہے میں وہ برہمن کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:تو برہمن میں کاسی کا جلاہا، چینہ نہ مور گیانا (گرنتھاولی: 250)اگر کبیر برہمن نسل کے ہوتے تو وہ یوں کہتے کہ تو اگر برہمن ہے تو میں بھی برہمن ہوں، اور کوئی عام برہمن نہیں؛ کاشی کا برہمن ہوں، بجائے اس کے وہ کہتے ہیں کہ تو اگر برہمن ہے تو میں کاشی کا جلاہا ہوں۔

کبیر کو برہمنوادی رنگ میں رنگنے اور ان کی تعلیمات کی انقلابیت پر زد لگانے کے لیے برہمنواد نے جو دوسرا کام کیا وہ یہ کہ کبیر کو برہمن گرو رامانند کا چیلا (مرید) بتایا، اور اس کے لیے بھی ایک خوبصورت حکایت گھڑی جس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور اس دعوی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ان کا یہ دوہہ پیش کیا جاتا ہے کہ ’’ کاشی میں ہم پرکٹ بھییے، رامانند چیتائے‘‘۔ یہ دوہہ بہت مشہور کیا گیا، اور اس بنیاد پر کبیر کے رامانند کے چیلا ہونے کی بات اتنی زیادہ چلائی گئی کہ وہ ایک حقیقیت کے طور پر قبول کرلی گئی، اورکبیر پر لکھنے یا بولنے والا یہ مان کر چلتا ہے کہ کبیر داس ویشنوی گرو رامانند کے چیلے تھے۔ جہاں تک اس دوہے کی بات ہے تو یہ دوہہ کبیر کی شاعری کے مستند مراجع میں نہیں ملتا ہے، کبیر کے دوہوں کے دو ہی مستند مراجع ہیں: ایک گرو گرنتھ صاحب، دوسرے کبیر گرنتھاولی۔ رامانند والا دوہہ ان دونوں میں نہیں ملتا۔ اور جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ کبیر نے رامانند سے رام نام لیا تھا، تو اس کے لیے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ آیاکبیر کی ملاقات رامانند سے ہوئی بھی ہے یا نہیں، ملاقات کے ثبوت پر کوئی دلیل نہیں ملتی، اگر معاصرت کو ملاقات کے امکان کے لیے کافی مان لیں تو بھی یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ رامانند کی حیات میں کبیر اس عمر کو پہنچ گئے تھے جس عمر میں نِرگرو ہونے (بے پیری کے رہنے) کا احساس انسان کو بے چین رکھتا ہے اور سچے گرو کی تلاش میں وہ سرگرداں رہتا ہے۔

رامانند کے سن وفات اور کبیر داس کے سن پیدائش دونوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، پھر بھی اگر ہم رامانند کی وفات کو کھینچ تان کر ۱۴۶۷ء تک لے کر جائیں اور کبیر داس کی پیدائش کو کھینچ تان کر ۱۴۵۶ء تک لے کر آئیں تو بھی رامانند کے انتقال کے وقت کبیر داس کی عمر ۱۱؍ سال کی ہوتی ہے، اور پیری والی داستان اس عمر کو زیب نہیں دیتی۔ اور اگر ہم رامانند کی وفات کے تعلق سے دوسرے اقوال لے لیں تو ان کی وفات کبیر کی پیدائش سے قبل ہی ہو جاتی ہے۔تاریخی پہلو کے علاوہ اگر ہم نظریاتی وفکری پہلو سے غور کریں تو دونوں کے راستے واضح طور پر جدا نظر آتے ہیں، بنیادی بات یہ ہے کہ رامانند ورن آشرم دھرم کو سماجی نظام میں اساسی حیثیت دیتے ہیں، جب کہ کبیر داس اس نظام کی جڑیں کھودتے ہیں، اسی طرح رامانند مورتی پوجا کا عقیدہ رکھتے ہیں ، اوتار واد کو تسلیم کرتے ہیں، وید کو مقدس مانتے ہیں، ویدک دھرم کے پر جو ش مبلغ ہیں، ذات واجب الوجود ہستی کو سگن اورساکار مانتے ہیں، جب کہ کبیر مورتی پوجا کا کھنڈن کرتے ہیں، اوتار واد کا انکار کرتے ہیں، وید پر سخت تنقید کرتے ہیں، ویدک دھرم کے سخت مخالف وناقد ہیں، خدا کو نراکار مانتے ہیں۔ ہاں رام کا ذکر کبیر کے یہاں ملتا ہے، جس سے ان کا رشتہ رامانند سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس طور پر کہ رامانند ویشنوی فرقوں میں اس فرقہ کے گرو مانے جاتے ہیں جو رام کی محبت، عقیدت اور عبادت پر زیادہ زور دیتا ہے، مگر غور کرنے پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کبیر کے رام اور رامانند کے رام میں فرق ہے، کبیر کا رام نرگن نراکار ہستی ہے، جب کہ رامانند کا رام سگن برہم وشنو دیوتا کا اوتار ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسا چیلا ہے جو اپنے گرو کے راستے کو نہ اپنا سکا اور یہ کیسا گرو ہے جو اپنے چیلے کو اپنے راستے پر نہ لگا سکا۔ یہاں اس بات کا ذکر بے فائدہ نہ ہوگا کہ کبیر کو رامانند کا چیلا بتانے سے برہمنواد کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بھکتی تحریک کا بہ آسانی برہمنی کرن کر دیا گیا۔ بھکتی تحریک ذات پات اور انسانی عدم مساوات کے خلاف شروع ہوئی تھی، وہ صوفی تحریک سے واضح طور پر متاثر تھی، اور صوفی تحریک اسلامی تعلیمات کا نتیجہ تھی، یعنی بھکتی تحریک اس ملک میں اسلام کی آمد سے پیدا ہونی والی ایک مثبت تبدیلی تھی، یہ اگر کامیاب ہوجاتی تو صوفی تحریک کی لگائی کھیتی لہلہا اٹھتی اور برہمنواد کا نشیمن بلکہ سارا گلشن خاکستر ہوجاتا، اس لیے اس کو بے اثر کیے بغیر برہمنواد چین کی نیند نہیں سو سکتا تھا، بے اثر کرنے کے لیے اس نے جو حربہ اپنایا وہ یہ کہ اس نے بھکتی تحریک کے سنتوں کو برہمن گرووں کا مرید بنا دیا، اور ان کے فرمودات میں برہمنی دیوی دیوتا اور سناتنی معتقدات گھسا دیے، یوں جس تحریک کے سہارے شودر اور اتی شودر سماج سے آنے والے سَنتوں نے دبے کچلے مولنواسی سماج کو برہمنواد سے آزادی کے لیے بیدار کیا اس تحریک کو برہمنواد نے سنتوں کے برہمن کرن کے ذریعہ اپنی گود میں تھپکی دے کر سلا دیا۔خزینۃ الاصفیاء میں کبیر کے بارے میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ وہ شیخ علی متقی کے مرید تھے، (دیکھیے محولہ کتاب: ۱/۴۴۶)۔

یہ بات مشہور تو ہے مگر اس کی استنادی حیثیت کیا ہے اس بابت قبل از تحقیق کچھ کہا نہیں جا سکتا۔کبیر کے مسلم سماج سے ہونے بلکہ موحد ہونے میں کوئی شک نہیں، البتہ یہ بات محتاج تحقیق ہے کہ کیا ان کا عقیدۂ توحید عین اسلامی عقیدۂ توحید ہی تھا یا اس سے کچھ مختلف تھا، اسی طرح کیا کبیر دیگر اسلامی عقائد کو بھی اسی طرح مانتے تھے جس طرح انھیں ماننے کا حکم ہے یا ان کی ایمانیات کچھ الگ تھیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ کبیر کو ملحد یا گمراہ مان لیا جائے، وہ چوں کہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اس لیے جب تک ان کے مسلمان نہ ہونے کی یا غیر اسلامی عقائد کے حامل ہونے کی کوئی تحقیق کے ساتھ ثابت نہیں ہوجاتی تب تک ان کی تکفیر یا تضلیل سے احتراز کیا جانا چاہیے۔ ہاں ان کی طرف جو کلام منسوب ہے اس میں اگر کوئی بات خلاف اسلام ملتی ہے تو اس بات پر نکیر ضرور کی جانی چاہیے۔کبیر داس کی زندگی اترپردیش کے کاشی (بنارس) اور مگہر میں گذری، ان کا مزار مگہر (ضلع سنت کبیر نگر) میں آمی ندی کے کنارے واقع ہے، مزار کے بازو میں ہی ان کی سمادھی بھی بنی ہوئی ہے۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

امارت شرعیہ کی مجلس ارباب حل وعقد نے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی امارت اور قیادت میں شرعی زندگی گذارنے کا عہد پیمان کیا.
قربانی، ماحول اور مسلمان: عبادت سے ذمہ داری تک مولانا مفتی محمد اعظم ندوی

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟
  • مارچ 9, 2026
  • 0 Comments
زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ از : مولانا ابو الجیش ندوی ​عارفینِ حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زہد دراصل دل کا دنیا کے وطن سے کوچ کر جانا اور آخرت کی منزلوں کی طرف روانہ ہو جانا ہے۔ اسی بنیاد پر متقدمین (پچھلے علماء) نے زہد کے موضوع پر کتابیں تصنیف کیں، جیسے عبداللہ بن المبارک، امام احمد، وکیع اور ہناد بن السری رحمہم اللہ وغیرہ کی کتبِ زہد۔​زہد کے چھ بنیادی متعلقات​کسی بندے کے لیے ‘زاہد’ کا لقب اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک وہ درج ذیل چھ چیزوں میں زہد اختیار نہ کر لے:​مال و دولت​ظاہری صورتیں (حسن و جمال)​ریاست و منصب​لوگ (ان کی واہ واہ یا تنقید)​اپنی ذات (نفس)​اور اللہ کے سوا ہر چیز۔​زہد کا مطلب ترکِ دنیا نہیں​یہاں زہد سے مراد ان چیزوں کی ملکیت کو چھوڑ دینا نہیں ہے۔ اس کی چند نمایاں مثالیں ملاحظہ فرمائیں:​حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام: اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے، حالانکہ ان کے پاس مال، عورتیں اور عظیم سلطنت موجود تھی۔​نبی کریم ﷺ: آپ کائنات کے سب سے بڑے زاہد تھے، اس کے باوجود آپ کی نو ازواجِ مطہرات تھیں۔​صحابہ کرام: حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین بڑے زاہد تھے باوجود اس کے کہ ان کے پاس کثیر اموال تھے۔​حضرت حسن بن علیؓ: آپ بھی زاہدین میں سے تھے، حالانکہ آپ امت میں سب سے زیادہ نکاح کرنے والے اور مالدار ترین افراد میں شامل تھے۔​ائمہ کرام: عبداللہ بن المبارک زہد کے امام تھے مگر بہت مالدار تھے۔ اسی طرح لیث بن سعد اور سفیان ثوری بھی زہد کے امام تھے اور صاحبِ مال تھے؛ امام سفیان فرمایا کرتے تھے: "اگر یہ مال نہ ہوتا تو یہ (حکمران) ہمیں اپنا رومال بنا لیتے (یعنی ہمیں ذلیل کرتے)۔”​زہد کی بہترین تعریف​زہد کے بارے میں سب سے خوبصورت بات ابو مسلم الخولانی نے کہی ہے:​”دنیا سے زہد کا مطلب حلال کو حرام کر لینا یا مال کو ضائع کر دینا نہیں ہے، بلکہ زہد یہ ہے کہ:​جو…

Read more

Continue reading
اعتکاف ، احکام و آداب
  • hira-online.comhira-online.com
  • مارچ 9, 2026
  • 0 Comments
اعتکاف ، احکام و آداب

🔰اعتكاف، احكام وآداب 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎‏‎ انسان کا رشتہ اپنے خالق سے یہ ہے کہ خدا مالک ہے اور انسان اس کا مملوک ، خدا معبود ہے اور انسان اس کا عبد ، خدا آقا ہے اور انسان اس کا بندہ اور غلامِ بے دام ، غلام کا کمال یہ ہے کہ اس کا آقا اس سے خوش ہو ، مملوک کے لئے سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اسے مالک کی خوشنودی حاصل رہے ، عاشق کو اپنے معشوق کی راہ میں لٹ کر بھی ایک لطف آتا ہے اور محب اپنے محبوب کے لئے کھو کر بھی پانے کی لذت محسوس کرتا ہے ، اسی محبت اور غلامی اور بندگی کے احساس کو عملی پیکر دینے کے لئے عبادت کے طریقے مقرر کیے گئے اور ان کو انسان کا اصل مقصد وجود قرار دیا گیا :’’ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ ‘‘۔ اسلام میں عبادت کے جو طریقے مقرر کئے گئے ہیں ان میں قدم قدم پر اپنی بندگی ، نیستی اور خدا کے ساتھ محبت اور شیفتگی کا اظہار ہے ، نماز کی کیفیت کو دیکھئے کہ غلام اپنے آقا کے سامنے نگاہ نیچی کیے ہوئے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے ، بار بار اپنے خدا کی کبریائی کا نعرہ لگا تا ہے ، کبھی کمر تک جھکتا ہے ، کبھی نگاہ جھکائے دو زانو بیٹھتا ہے اور کبھی اپنی پیشانی زمین پر رگڑتا ہے ، زکوٰۃ دینا اپنی ذات اور اپنے مال پر خدا کی حکومت کا اعتراف کرنا ہے ، روزہ اور حج بھی خدا کی بندگی ہے ؛ لیکن اس میں خوف سے زیادہ اپنے مالک کی محبت کا اظہار ہے ، روزہ دار کو دیکھئے ! بھوکا ہے ، پیاسا ہے ، دُھوپ کی تمازت اور موسم کی شدت ہے ؛ لیکن خدا کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے سب کچھ گوارا ہے ، روزہ گویا اللہ تعالیٰ سے کمالِ محبت اور تمام علائق سے رشتہ ٹوڑ نے سے عبارت ہے ؛ لیکن بھو کے پیاسے رہنے کے باوجود روزہ کی حالت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • وضو کے فرائض 10.03.2026
  • وضو کا مسنون طریقہ 10.03.2026
  • گھر میں اعتکاف 09.03.2026
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ 09.03.2026
  • اعتکاف ، احکام و آداب 09.03.2026
  • صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟ 09.03.2026
  • زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں 08.03.2026
  • ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟ 08.03.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

وضو کے فرائض

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کے فرائض
فقہ و اصول فقہ

وضو کا مسنون طریقہ

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کا مسنون طریقہ
Blog

گھر میں اعتکاف

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

اعتکاف ، احکام و آداب

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
اعتکاف ، احکام و آداب
فقہ و اصول فقہ

صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟
فقہ و اصول فقہ

زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026
فقہ و اصول فقہ

ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top